BN

افتخار گیلانی



سمجھوتہ کیس کے ملزمان بری: ذمہ دار کون؟


بھارت میں ہریانہ صوبہ میں پنچکولہ کی اسپیشل کورٹ نے سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ کیس میں ملوث سبھی ملزمان سوامی اسیمانند، لوکیش شرما، کمل چوہان اور راجیندر چودھری کو بری کر دیا ۔ پچھلے کئی برسوں سے خصوصاً،2014ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد جس طرح عدالت میں اس کیس کی پیروی ہورہی تھی، یہ فیصلہ توقع کے عین مطابق ہی تھا۔ملزموں کا دفاع کوئی اور نہیں بلکہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی )کے لیگل سیل کے سربراہ ستیہ پال جین کر رہے تھے۔ بلاسٹ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کی 2007 ء
منگل 26 مارچ 2019ء

بھارتی انتخابات۔ اندیشے اور توقعات

منگل 19 مارچ 2019ء
افتخار گیلانی
بھارت میں 543رکنی پارلیمنٹ کیلئے عام انتخابا ت کا بگل بج چکا ہے۔ 11اپریل سے 19 مئی تک سات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائینگے۔ 23مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ حال ہی میں جس طرح حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پانچ صوبائی انتخابات با لخصوص مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے مصاحب خاص اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی )کے صدر امیت شاہ کی جوڑی کے ناقابل تسخیر ہونے کا امیج پاش پاش ہوگیا ، لگتا
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی پر پابندی…2

جمعه 15 مارچ 2019ء
افتخار گیلانی
1997ء میں ویسے تو جماعت نے عسکری جدوجہد سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ایسے حالات میں جب کہ جماعت اسلامی کشمیر عسکریت میں براہ راست یا بلواسطہ شریک بھی نہیں ہے اور تعلیمی ، تبلیغی او ررفاہی کاموں میں مشغول ہے، اس پر پابندی لگاناسمجھ سے باہر ہے۔ ایسی کارروائی ا ور پکڑ دھکڑ سے کشمیر میں حالات مزید خراب ہونے کااحتمال ہے۔بھارت نواز نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بھی پابندی کو غلط اقدام قرادے رہے ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوال اٹھایا ہے:’’حکومت دہلی کو آ خر جماعت اسلامی کشمیر
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی پر پابندی

منگل 12 مارچ 2019ء
افتخار گیلانی
0ء کی دہائی میں میرے چاچا ڈاکٹر مشتاق گیلانی (حال مقیم اسلام آباد) نے ہمارے آبائی قصبہ سوپور میں ایک تختی اور بستہ میرے کندھوں پر ڈال کر ہاتھ پکڑتے ہوئے محلہ مسلم پیر کی مرکزی درسگاہ میں پہلی جماعت میں درج کروایا۔ گو کہ امتداد زمانہ نے اکثر یادیں دھندلی کر دیں ہیں، مگر جن مشفق اساتذہ نے ہاتھ تھام کر تعلیم کا آغاز کروایا، وہ ابھی تک ذہن میں نقش ہیں۔ مگر بس د و سال بعد ہی اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کے درمیان ہوئے ایکارڈ کے بعد جب آخرالذکر وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے،
مزید پڑھیے


کشمیر :متشددانہ ڈاکٹرائن کی تجربہ گاہ

منگل 26 فروری 2019ء
افتخار گیلانی
پلوامہ میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملہ کے بعد دارالحکومت دہلی یا بھارت کے دیگر صوبوں میں مقیم شاید ہی کسی کشمیر ی طالب علم، تاجر یا فیملی نے سکون سے سانس لیا ہو۔ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات تو قیامت برپا تھی۔ کشمیر سے متواتر خبریں موصول ہو رہی تھیں کہ جنگی طیارے گھن گرج کے ساتھ فضا میں گشت کر رہے ہیں۔ شمالی کشمیر، جہاں فوج کا سب سے زیادہ جماوٗ ہے، بتایا گیا کہ سوپور، ہندواڑہ وغیرہ میں فوج بیرکوں سے نکل کر سڑکوں پر ٹینک او ربھاری اسلحہ کے ساتھ رواں دواںہے۔اس کے ساتھ ہی
مزید پڑھیے




پلوامہ خود کش حملہ اور جنگی جنون

منگل 19 فروری 2019ء
افتخار گیلانی
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے لیتہ پورہ۔ اونتی پورہ علاقہ میں عسکریت پسندوں کے خود کش حملے میں 40سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے ایک دن بعد دارالحکومت دہلی کے ویمن پریس کلب میں ایک کولیگ کی الوداعی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد باہر نکلا، تو دیکھا کہ اسکولوں کے نو خیز بچے ہاتھوں میں پرچم لئے پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے انڈیا گیٹ کی طرف رواں تھے۔میڈیا کے ایک حلقے کی جانب سے، جس میں الیکٹرانک میڈیا پیش پیش ہے، کشمیر کی تاریخ، جغرافیہ ،سیاسی تاریخ اور سیاست کے حوالے سے متواتر زہر
مزید پڑھیے


مقبول بٹ اور افضل گورو کیلئے دوہرا معیار کیوں

بدھ 13 فروری 2019ء
افتخار گیلانی
10 فروری 1984ء کو کپل سبل نے چیف جسٹس ، جسٹس چندرا چوڑ کی عدالت میںخصوصی اور فوری سماعت کیلئے عرضی دائر کی۔ سبل نے زور دار بحث کرکے دلیل دی کہ ہائی کورٹ کی طرف سے سزا کی توثیق کئے بنا ، سزائے موت پر عملدرآمدنہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی دستخط و مہر شدہ سند بھی پیش کی۔ اٹارنی جنرل کے پراساران نے دلائل کا جواب دیئے بغیر بس ایک سادہ ٹائپ شدہ کاغذ چیف جسٹس کے حوالے کیا ، جس پر کسی کے دستخط نہیں تھے، اور دعویٰ کیا کہ یہ جموں
مزید پڑھیے


مقبول بٹ اور افضل گورو کیلئے دوہرا معیار کیوں

منگل 12 فروری 2019ء
افتخار گیلانی
6فروری1984ء کی خنک آلود دوپہر جب دہلی سے انڈین ایئر لائنز کا طیارہ ریاست جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں ایئرپورٹ پہنچا، تو سانولے رنگ کا ایک پست قد شخص تیزی کے ساتھ سیڑھیاں طے کرتے ہوئے نیچے اترا۔ دیگر مسافر تو ایئرپورٹ بلڈنگ کی طرف روانہ ہوئے، یہ شخص ایک بریف کیس تھامے سیڑھی کے ساتھ ہی پارک کی گئی ایک ایمبسڈر کار میں بیٹھ گیا، جو فوراً ہی حرکت میں آگئی۔اس کی منزل سیکرٹریرٹ سے متصل جموں کا اسمبلی کمپلیکس تھا، جہاںجموں میں متعین بھارت کے خفیہ محکموں کے چند افراد پورچ میں بے چینی کے ساتھ
مزید پڑھیے


منفرد سیاستدان، جارج فرنینڈس اور کشمیر… :2

بدھ 06 فروری 2019ء
افتخار گیلانی
، ان کی سرکاری رہائش گاہ گیٹ کے بغیر تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی بنگلہ کے مقابل نرسمہا رائو حکومت میں وزیر داخلہ ایس بی چوان کی کوٹھی تھی۔ جب بھی وہ باہر نکلتے تھے تو پولیس راھگیروں کو کھدیڑ کر گلی کوچوں میں گھسنے پر مجبور کرتی تھی اور بقیہ تمام مکانوں کے گیٹ بند کرواتی تھی۔ جس سے خفا ہو کر انہوں نے اپنے بنگلہ کا گیٹ ہی اکھاڑ کر پھینک دیا۔ کچن میں چائے وغیرہ بنانے سے لیکر وہ اپنے کپڑے خود دھوتے تھے۔ تبت کے پناہ گزینوں سے لیکر، برما کے جمہوریت
مزید پڑھیے


منفرد سیاستدان، جارج فرنینڈس اور کشمیر

منگل 05 فروری 2019ء
افتخار گیلانی
سال 1990ء کشمیر کیلئے ایک قیامت تھا۔ 19جنوری کی رات جب جگموہن ملہوترہ نے گورنر ی کا چارج سنبھالا، سرینگر کے وسط میں گاوٗکدل علاقہ پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے نام پر 50افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ جنوری کے مہینے میں ہی وادی کے طول و عرض میں ایک اندازہ کے مطابق 300کے قریب افراد ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ اسی سال مئی میں میر واعظ مولوی محمد فاروق کے جنازہ کے جلوس پر فائرنگ سے 60افراد ہلاک ہوگئے۔ دہلی میں گو کہ ان دنوں کشمیر طلبہ کی تعداد نہایت قلیل تھی،
مزید پڑھیے