BN

افتخار گیلانی



قدرت اللہ شہاب سے شاہ فیصل تک


کشمیر کے آخری تاجدار یوسف شاہ چک کو جب مغل حکمرانوں نے پانچ صدی قبل قید اور بعد میں بسواک (بہار) جلاوطن کیا، محکوم و مجبور کشمیری قوم تب سے ہی کسی ایسی ہستی کی تلاش میں ہے، جو انکو بیدردی ایًام سے نجات دلاسکے۔ کشمیر کی آخری ملکہ حبہ خاتون (زون) کی دلدوز شاعری، جس میں دہلی کے حکمرانوں کی بد عہدی اور اپنے محبوب (یوسف شاہ) کی مصیبتوں کی داستان درج ہے، کشمیری لوک ریت کا ایک جزو ہے۔ اس مدت کے دوران اس مقہور قوم نے کئی ہستیوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا، مگر کچھ عرصہ کے
منگل 29 جنوری 2019ء

عام انتخابات کا بغل او ر پھیکا پڑتا مودی کا جادو…(2)

بدھ 23 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
یعنی اعلیٰ اور کفایتی میڈیکل سہولیات کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ علاج کروانے آتے ہیں۔ مگر خود عوام کی کیا حالت ہے؟ آکسفام کی رپورٹ کے مطابق صحت پر خرچوں کی وجہ سے ملک میں ہر سال 63ملین افراد غریبی کے دائرہ میں چلے جاتے ہیں۔ صرف 11فیصد اسپتال اور 16فیصد پرائمری ہیلتھ سینٹرز میں ہی باضابط علاج و معالجہ کی سہولیات میسر ہیں۔ عوام کے ان سوالات سے عاجز مودی حکومت اپنی زنبیل سے نئے انتخابی حربے نکالنے کی فکر میں ہے۔ حال ہی میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ہندو اعلیٰ ذاتوں کو لبھانے کیلئے نوکریوں
مزید پڑھیے


عام انتخابات کا بغل او ر پھیکا پڑتا مودی کا جادو

منگل 22 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
حال ہی میںبھارت میں حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جب پانچ صوبائی انتخابات میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، تو کسی نے تبصرہ کیا کہ حالیہ عرصہ میںپہلی بار کشمیر کی برف پوش چوٹیوں سے جنوبی صوبہ تامل ناڈو کے انتہائی کنارے کنہیا کماری تک کا سفر اب بی جے پی کے اقتدار والے صوبوں کو چھوئے بغیر کیا جاسکتا ہے۔ ان صوبوں با لخصوص مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے انتخابی نتائج سے جہاں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے مصاحب خاص اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی
مزید پڑھیے


سوپور کا قتل عام۔انصاف کا منتظر

بدھ 16 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
ستم ظریفی یہ ہے کہ پرکاش سنگھ اس وقت بھارت میں پولیس میں اصلاحات اور فورسز میں انسانی حقوق کے تئیں بیدار ی لانے کے بڑے نقیب ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن بھی دائر کی ہوئی ہے اور مختلف اخبارات میں پولیس ریفارمز پر لکھتے رہتے ہیں۔ کئی روز بعد دلّی سے مرکزی وزرا مکھن لال فوطیدار،غلام نبی آزاد کانگریس کی ریاستی شاخ کے صدر مرحوم غلام رسول کارکی معیت میں وارد ہوئے اور ہر ممکن امداد فراہم کرنے کاوعدہ کیا۔ لیکن سوپور کے باشندوں نے حکومتی امداد قبول نہیں کی، بلکہ عوامی
مزید پڑھیے


سوپور کا قتل عام۔انصاف کا منتظر

منگل 15 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
یوں تو کشمیر میں ماہ جنوری ہر سال کئی خونچکاں یادوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے، جس میں گائو کدل، مگھرمل باغ، ہندوارہ اور برسہلا (ڈوڈہ) میں ہوئے قتل عام شامل ہیں، مگر 6 جنوری1993ء کا دن تجارتی مرکز سوپور کیلئے ایک ایسی قیامت تھی، جو بھلائے بھی نہیں بھلائی جاسکتی۔ دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ دارلحکومت دہلی کے کئی علاقے بھی فسادات کی زد میں آگئے تھے۔ صحافت کے ابتدائی دن تھے۔ سوچا کہ سوپور میں گھر پر والدین کے ساتھ
مزید پڑھیے




صدر ٹرمپ، افغانستان اور بھارت …2

بدھ 09 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
2001ء سے بھارت نے افغانستان میں تقریباًتین بلین ڈالر کی رقوم امداد میں صرف کی ہیں۔ جن میں 290ملین ڈالر ہرات میں واقع سلمہ ڈیم پر، 90ملین ڈالر افغان پارلیمنٹ بلڈنگ کی تعمیر پر اور 135ملین ڈالر دلارام سے ایرانی سرحد زارنج ہائی وے کی تعمیر پر خرچ کئے ہیں۔ اسکے علاوہ پاور ٹرانسمیشن لائن وغیرہ بچھانے پر بھی بھارت نے خاصی رقوم خرچ کی ہیں۔ چونکہ مغربی ممالک کے برعکس بھارت کے فوجی برسرپیکار نہیں ہیں، اسلئے عوام میں ان ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک خیر سگالی تو موجود ہے۔ اسکے علاوہ بھارت ہر سال ایک ہزار افغان
مزید پڑھیے


صدر ٹرمپ، افغانستان اور بھارت

منگل 08 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
افغانستان میں بھارت کے رول اور اسکی ترقیاتی امداد پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے طنزیہ ریمارکس سے ایک ہفتہ قبل ہی بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسربتا رہے تھے کہ توقعات کے برعکس وزیر اعظم نریندر مودی اور ٹرمپ کی یارباشی میں جو گرمیاں اور شوخیاں ایک سال قبل نظر آرہی تھیں ، وہ مفقود ہوگئی ہیں۔ جس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ خارجہ تعلقات لیڈروںکی ذاتی یا نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ قومی مفادات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ وزارت خارجہ کی سال بھر کی کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے اعلیٰ افسر نے فارن
مزید پڑھیے


داعش اور بھارت۔سازش یا حقیقت

منگل 01 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
حال ہی میں بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی یعنی این آئی اے نے دہلی اور اترپردیش میں تقریباً16مقامات پر چھاپہ ماری کرکے 10افراد کو حراست میں لیا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش یا آئی ایس آئی ایس کے نئے ماڈل حرکت الحرب الاسلام کے بینر تلے یہ افراد 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی کے پولیس ہیڈکوارٹر اور ہندو انتہا پسندو ں کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اسی دوران سرینگر میں چند نقاب پوش نوجوانوں نے نماز جمعہ کے
مزید پڑھیے


بابری مسجد بنام لاہور کی شہید گنج مسجد۔کون ہے کتنا لبرل اور سیکولر

بدھ 26 دسمبر 2018ء
افتخار گیلانی
ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے اپنے طویل فیصلے میں مسلم حکمرانوں کے خلاف بھی ایک لمبا چوڑا تبصرہ کیا اور ان کے دور میں ہندو عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بھی اپنے فیصلے کا جواز بنایا۔ اگر یہ بات درست ہے تو ہندو حکمرانوں کے ذریعے لاتعداد بدھ خانقاہوں کی بے حرمتی اور ان کی مسماری کس کے کھاتے میں ڈالی جائے؟ کشمیر کے ایک ہندو بادشاہ ہرش دیو نے اپنے خالی خزانوں کو بھرنے کے لیے جنوبی کشمیر کے مندروں کو لوٹا اور جب پجاریوں نے مزاحمت کی تو ان کو تہہ تیغ کر
مزید پڑھیے


بابری مسجد بنام لاہور کی شہید گنج مسجد۔کون ہے کتنا لبرل اور سیکولر

منگل 25 دسمبر 2018ء
افتخار گیلانی
ایک امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوشن کے ایک حالیہ تجزیہ کے مطابق اگلے سال مئی 2019ء کے عام انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 543رکنی لوک سبھا میں 179نشستوں پر سمٹ جائیگی۔ یعنی اگر موجودہ عوامی رجحان برقرار رہتا ہے ، تو 2014ء کے مقابلے اسکی 107سیٹیں کم ہوجائیں گی۔ شاید وزیرا عظم کو بھی اس کا ادراک ہوچکا ہے، اسلئے وہ عندیہ دے رہے ہیں کہ 2019ء میں اقتدار میں واضع منڈیٹ کے ساتھ واپسی کی خاطر وہ کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔
مزید پڑھیے