BN

اقتدارجاوید


چن پچھے لْکّی ہوئی رات لہہ جانی اے


باپ کا نام بچوں کے نام کے ساتھ لاحقہ لگانا آج کل بہت مروج ہے۔از خود اپنے نام کے ساتھ لاحقہ لگا کر، اپنے پرانے نام کو تجنے کے مترادف ہے اور ایک نیا جنم لینا ہے۔تخلص اس کی عمدہ مثال ہے۔شاعر تخلص کے ایک نئے عہد اور ایک نئے جنم کا آغاز کرتا ہے۔ بچوں کے نام کے ساتھ باپ کا نام لگانا اب عام ہے لیکن والدین کی طرف برصغیر پاک و ہند میں اس کی ابتدا اپنے اقبالؒ نے آغازکیا۔انہوں نے جاوید کے ساتھ اقبال لگایا تو یہ نام پنجاب میں بہت مقبول ہوا۔اور ہر دسویں بچے
بدھ 30 نومبر 2022ء مزید پڑھیے

یوم اقبال

هفته 26 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
ہم نے یوم ِاقبال پر کچھ لکھا نہیں یا اپنا خون نہیں جلایا تو اس کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ جون پور کو ہندوستان کا شیراز کہا جاتا ہے۔یہ نام شیراز کے عاشق شہنشاہ ِہند شاہ جہان کا دیا ہوا ہے۔شہنشاہ کا اپنا اصل نام شہاب الدین محمد خرم تھا۔مشہور وہ شاہ جہان سے ہوا۔یہ صوفیا ،شعرا اور حکما کا شہر ہے۔وہاں کے ایک شاعر بیدل جونپوری ہو گزرے ہیں ۔انہوں نے چھٹیوں یا سرکاری یعنی گزیٹڈ چھٹیوں کے بارے میں کیا خوب کہا تھا سب سے اچھا محکمہ ہے تعلیمات تعطیلاتن تعطیلاتن تعطیلات عورتوں کے بس یہی ہیں تین
مزید پڑھیے


وطن ہمارا

جمعرات 24 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
وطن ہمارا پنجاب، ذریعہ تعلیم ہمارا اردو زبان، داخلہ لیا ایم اے انگلش میں اور ماں سے بچپن سے لے کر ان کی سوگوار موت تک بات کی صرف اور صرف پنجابی زبان میں۔ یہ تو پھر یہ کیا برمودا مثلث ہے، جو صرف ہم پنج پانیوں کے واسیوں کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ کوئی سوجھو ان اس بجھارت کا تشفی آمیز جواب نہیں دے سکا بلکہ کسی نے اس سوال کی نوعیت کو سمجھا ہی نہیں۔ کیوں کہ آر بھی بیلا ہے اور پار بھی بیلہ۔ آخر ہم کو زیادہ سر کھپانے اور سمجھنے یا ٹامک ٹوئیاں مارنے کی
مزید پڑھیے


پنجابی ادب کا معمار

اتوار 20 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
ہمارا گھر کیا تھا پورے گائوں کے بچوں کا سکول تھا۔ تین ہزار آبادی پر مشتمل ایک بار کے آخری کنارے پر آباد گائوں۔جہاں نہ سڑک تھی نہ ٹرانسپورٹ۔کہنے کو یہ علاقہ ضلع گجرات کی حدود میں شامل تھا مگر گجرات پہنچنا کار ِ دارد تھا۔ایک چھوٹا سا سرکاری سکول جو گرمیوں میں ایک برگد کے پیڑ کے نیچے اور موسم سرما میں بھیرہ منڈی بہائوالدین روڈ پر ایک انگریز سرائے کے کھنڈر کے کھلے میدان میں شفٹ ہو جاتا تھا۔دور تک دھوپ کا سونا پھیلا پڑتا تھا۔کوئی سونے کی چادر تھی جو قدرت نے چاروں طرف بچھا دی تھی۔ایک استاد
مزید پڑھیے


کوے سے انٹرویو

جمعه 18 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
وہ اپنی جون بدلنے پر قادر ہو گیا تھا۔جب چاہتا جون بدل لیتا۔وہ مختلف جونیں بدلتا اور مزے کرتا۔کبھی سانپ بن جاتا اور اپنے ان دوستوں کو پہلے کاٹتا جو ان سے آگے نکل گئے تھے۔دوسری باری پر ان کو کاٹتا جو اس کے برابر آنے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ان پر دانت زیادہ گہرے گاڑنے کی پریکٹس کرتا۔اس کے دوستوں دشمنوں کو کچھ پتہ نہ چلتا کہ اس ماڈرن دور میں کیسے ایک پوش گھر میں بھی سانپ داخل ہو جاتا ہے۔ جب وہ مختلف جونیں بدل بدل کر تنگ آ گیا تو ایک دن اپنی آخری مہا
مزید پڑھیے



پاس پورٹ

منگل 15 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
چھ ماہ قبل کیا کیا خدشات تھے اور کیا دھڑکا لگا ہوا تھا۔اب چین کی بانسری ہے اور بجتی چلی جا رہی ہے۔ ہمارے زمانے میں سیاستدانوں کے کیسے کیسے قصے بیان ہوئے ہیں۔ انہوں نے کیسے کیسے محلات کھڑے کیے ہیں۔اسلام آباد سے دوبی تک دوبی سے لندن تک لندن سے سپین تک ۔ان سب کو اللہ کی کتاب کے الفاظ میں خشیتہ املاق کا سامنا تھا۔ تنگی کا ڈر۔اس دولت کے انبار کے چھن جانے کا خوف۔املاک کے ڈھیر کا ریت کے دانوں کی طرح مٹھی سے پھسل جانے کا خوف۔ بے مایہ ہونے کا ڈر۔اربوں نہیں
مزید پڑھیے


مرزا نوشہ لانگ مارچ میں

جمعرات 10 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
مرزا نوشہ نے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے لبرٹی پہنچنا تھا تو ہم نہر کی طرف ہو لیے۔مرزا نوشہ بولے رکو میاں اس نہر کو دیکھ کر ہمیں نہر سعادت علی خان یاد آ گئی، جو حضرت دلی کے بیچوں بیچ بہتی تھی۔ مرزا یہ نہر بھی شہر کے بیچوں بیچوں بہتی ہے۔یہ شہر کو خوبصورت بناتی ہے شہر اسے خوبصورت بناتا ہے۔آرام سے اس کو نظارہ لو کہ اگلے دس دن آپ کو شیر شاہ سوری کی بنائی ہوئی شاہراہ پر سفر کرنا ہے۔اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو یہ شہر دلی سے قدیم ہے وہاں ہزاروں سلاطین سریرآرائے سلطنت
مزید پڑھیے


ناشتہ

هفته 05 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
جب ہم صبح کے وقت ایک کپ پھیکی چائے کا لیتے ہیں یعنی ناشتہ کرتے ہیں تو بھلے زمانوں میں کیا ہوا مزیدار ناشتہ ضرور یاد آتا ہے۔ تب ہمیں والدہ کی ایک سنائی ہوئی کہانی ضرور یاد آتی ہے۔ہم تو اپنی ماں کو بے جی کہتے تھے اب بے جی کا لفظ متروک ہو چکا ہے اور کسی رومانس کا حصہ بن چکا ہے۔ والدہ کو دیا جانے والا نیا نام ہمارے حلق سے تو نیچے نہیں اترتا۔ہماری بے جی کا کچن سیڑھیوں کے نیچے بچی ہوئی تھوڑی سی جگہ پر محیط تھا۔وہی کچن تھا وہی ڈائننگ ٹیبل۔اب جب
مزید پڑھیے


بین السطور

جمعه 04 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
ہمارے وہ کالم جو بین السطور کا عنوان لیے ہوتے ہیں شعرا بھائی انہیں بین الاسطور پڑھ کر محظوظ ہو سکتے ہیں کیوں کہ جب وہ پاکستان کی عالمی تنہائی کو عالم ِ تنہائی سمجھتے ہیں تو ہم ان کا کیا بگاڑ لیتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ " عمران خان کا لانگ مارچ ٹھس ہو گیا ہے۔عمران خان مارشل لا کے حالات پیدا کر رہے ہیں۔گزشتہ حکومت نے جو بگاڑ پیدا کیا اسے دور کرنے میں وقت لگے گا۔" یہ جو اتنے لوگوں کا ہجوم گوجرانوالہ پہنچ چکا ہے اور وہاں سے ہلنے کا نام ہی نہیں
مزید پڑھیے


تسطیر اور خدا کی زمین بہت بڑی ہے

منگل 01 نومبر 2022ء
اقتدارجاوید
ادبی جرائد اس سال اپنی صدسالہ سالگرہ منا رہے ہیں۔اردو ادبی دنیا کا پہلا ادبی رسالہ رئیس التحریر نیاز فتح پوری کا نگار تھا، جو 1922میں شائع ہوا۔نگار کا نام ترکی کی ایک ادیبہ نگار بن عثمان کے نام پر رکھا گیا۔وہ ایک انقلابی شاعرہ تھیں اور مدیر نگار ان سے حد درجہ متاثر بھی۔تسطیر کی پچیسویں سال یعنی سلور جوبلی کو ادبی جرائد کی تاریخ میں ایک اہم مقام کا حامل ہے مگر لگتا ہے اردو ادبی جرائد کا زمانہ رخصت ہونے والا ہے۔پہلے ہمارا خیال تھا کہ اکیسویں صدی کے دوسرے آدھ تک شاید ادبی مجلے جاری
مزید پڑھیے








اہم خبریں