BN

اوریا مقبول جان



لا حول ولا قوۃ الا باللہ


تم لوگ ماضی میں زندہ رہتے ہو ، پرانی داستانیں یاد کر کے اپنا قد بلند کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہو، تم نے فارسی کا وہ محاورہ تو ضرور سنا ہوگا "پدرم سلطان بود" جس کے معنی ہیں میرا باپ بادشاہ تھا۔ اقبال کو جواب شکوہ میں اپنی انہی لن ترانیوں اور ماضی پرستیوں کا جو الہامی جواب ملا تھا، وہی پڑھ لیں ؎ تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو جواب شکوہ کی اسی الہامی شاعری کا نتیجہ ہی تھا کہ اقبال زندگی بھر، اپنی قوم کی بے
بدھ 14 نومبر 2018ء

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے

پیر 12 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
آج سے سترہ سال قبل جب پاکستان بھر کو پرویز مشرف نے اس خوف میں مبتلا کر دیا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی و فوجی قوت،امریکہ ، گیارہ ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حملے کے بعد انتہائی غضب ناک ہے۔ یہ خونخوار سانڈ پھنکارتا ہوا افغانستان پر حملہ کر کے اسے روندنے والا ہے اور اگر ہم نے اس کا ساتھ نہ دیا تویہ پہلے ہمیں روندے گا اور پھر ہماری ملیامیٹ سرزمین سے گزرتا ہوا افغانستان جائے گا۔ اسی لئے اس سے پہلے ہی ہم اپنی سرزمین پر امریکہ کو تصرف دے رہے ہیں تاکہ
مزید پڑھیے


ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی ڈگری اصلی ہے : ایچ ای سی کی پھر تصدیق

هفته 10 نومبر 2018ء
اسلام آباد ( نامہ نگار )ہائیر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی)نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی ڈگری جعلی ہونے کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایچ ای سی نے ڈی جی نیب کی ڈگری اصلی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ایچ ای سی کی ڈائریکٹر میڈیا نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ڈی جی نیب کی ڈگری اصلی ہونے کی تصدیق کی تھی،ادارہ اس پر قائم ہے ۔ ذرائع کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے جاری ایک دستاویز میں بھی کہا گیا تھا کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی ڈگری
مزید پڑھیے


ایک گواہی جس کی بہت ضرورت تھی

هفته 10 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
یہ تحریر میں خالصتاً اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات اور سید الانبیاء ﷺ کی احادیث میں دی گئی ہدایات سے پیدا شدہ آخرت کی جوابدہی کے احساس سے لکھ رہا ہوں اور میرا یہ ایمان ہے کہ اس تحریر کی اس وقت جتنی ضرورت ہے‘ شاید اس کے بعد کبھی بھی نہ ہو ۔ میں مصلحت کے طور پر خاموشی بھی اختیار کر سکتا تھا کہ یہی سکہ رائج الوقت ہے‘ لیکن میں اپنے ہی اس شعر کی کسوٹی پر بے عمل ثابت ہو جاتا: فسادِ خلق سے چپ ہیں جو عقل و ہوش رکھتے ہیں اب ایسی نیند میں کیا
مزید پڑھیے


زمین میں آفتاب دفن کردیا

بدھ 07 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
ساری زندگی ان کے سامنے مؤدب کھڑے ہو کر گزار دو، رات دن ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعائیں کرتے رہو لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان کے احسانات کا قرض نہیں اتر سکے گا۔ ہدایت کے راستے پر انگلی پکڑ کر کھڑا کرنے کا احسان اتنا بڑا ہے کہ میں اس شخص کی تعریف میں عمر بھر بھی لکھتا رہوں تو یہ قرض ادا نہ ہو سکے۔ یقینا انسان ناشکرا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’لایشکراللہ من لا یشکرالناس، جو انسانوں کا شکرگزار نہیں ہوتا، وہ اللہ کا شکرگزار نہیں ہوسکتا (بخاری، ترمذی، ابودائود)۔
مزید پڑھیے




دو عورتوں کی لڑائی

پیر 05 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جس کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ مسلمان‘ پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کا چھوٹا سا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دینایہ وہ بدترین متعصب لوگ ہیں جن کے اندر موجود تعصب کی بو اور تعفن سے میرا ملک بدبودار ہے۔ کوئی دودھ میں پانی ملائے‘ ٹریفک کا اشارہ کاٹے‘ برادے کو رنگ کر کے مرچیں یا چائے بنائے‘ یہ طبقہ خواہ کالم نگار ہو‘ اینکر پرسن یا عام شہری‘ اس کے منہ سے پہلے الفاظ یہ نکلتے ہیں ’’یہ مسلمان ہیں ہی ایسے‘ اسی لیے پاکستان بدنام ہے۔ یہ ہے
مزید پڑھیے


خدا بنے تھے یگانہ‘ مگر بنا نہ گیا

جمعه 02 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
کسی مطلق العنان بادشاہ‘ قبائلی سردار‘ آمریت پسند جمہوری لیڈر‘ مذہبی پیشوا یا مسند انصاف پر بیٹھے جج کو اگر اس بات کی قوت حاصل ہو جائے کہ وہ اپنی توہین کرنے والوں کو قانوناً یا غیر قانوناً سزا دے سکیں تو ان میں لاشعوری طور پر کچھ خدائی صفات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس کا اظہار ان کے لہجے سے ٹپکتا ہے۔ یہی حال ان سائنسدانوں ‘ فلسفیوں اور کائنات کے سربستہ رازوں کا کھوج لگانے والوں میں سے ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنے علم کے نشے میں یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ
مزید پڑھیے


سگِ زمانہ

منگل 30 اکتوبر 2018ء
اوریا مقبول جان
سیدنا علی ؓ نے فرمایا تھا، ’’الدنیا جیفۃ و طلبہا کلاب‘‘ دنیا ایک مردار ہے اور اس کے طلبگار کتے ہیں۔ میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ کسی بلندی سے مدینہ منورہ میں داخل ہورہے تھے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ صحابہ اس وقت آپ کے دونوں طرف تھے۔ آپ ﷺ نے بھیڑ کا ایک بچہ جو چھوٹے کانوں والا تھا اسے مرا ہوا دیکھا۔ آپؐ نے اس کا کان پکڑ کر فرمایا، تم میں کون ہے جو اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم میں سے کوئی بھی
مزید پڑھیے


جال میں قید معیشت

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
اوریا مقبول جان
ڈاکٹر مبشر حسن پاکستان کے ماہرین معاشیات میں بہت بڑا نام ہے۔ پیپلز پارٹی کا قیام ان کے لاہور والے گھر میں ہوا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ کے وزیر خزانہ تھے۔ ان سے ملاقات ہمیشہ علم اور زندگی کے تجربے کے نچوڑ میں رچی گفتگو کا خزانہ تحفے میں دیتی ہے۔ آج پاکستان کے معاشی حالات پر گفتگو کرتے اور مضامین تحریر کرتے لوگوں کے علم کا جائزہ لیتا ہوں تو ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ بہت یاد آتے ہیں وہ جو مغرب سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے مگر مغرب سے مرعوب نہیں تھے۔ یہ شاید اس
مزید پڑھیے


ملحد،سیکولر اور قادیانی اتحاد

جمعه 26 اکتوبر 2018ء
اوریا مقبول جان
نیویارک میں اس سال 23مارچ کو یومِ پاکستان کی تقریب میں شرکت کے لیے جب میں لاہور ایئرپورٹ پر اپنی پرواز پر سوار ہونے کے لیے پہنچا تو ایک عرب ملک کی سرکاری ایئر لائن کے افراد نے مجھے لائن میں لگنے سے روک دیا اور کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے احکامات آئے ہیں کہ آپ امریکہ کے لیے کسی پرواز سے بھی روانہ نہیں ہو سکتے۔ میں نے سوال کیا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکہ کا حکم کیسے چل سکتا ہے۔ میرے پاس جائز سفری دستاویزات ہیں۔ پاسپورٹ ہے، امریکی ویزہ ہے، امریکہ یہ حکم
مزید پڑھیے