اوریا مقبول جان



جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی


انقلاب کا کیڑا اور اس قبیل کے تضحیک آمیز الفاظ انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے استعمال ہوتے چلے آرہے ہیں۔ فرعون، نمرود، شداد اور ابو جہل جیسے کرداروں نے ان ذلت آمیز القابات کا استعمال پیغمبروں کے خلاف کیا۔ اس لیے کہ وہ جس طرز زندگی و معاشرت کو آئیڈیل سمجھ کر اس پر عمل پیرا تھے، پیغمبروں نے اسکے خلاف تبدیلی اور انقلاب کا علم بلند کیاتھا۔ دنیا کے ہر غاصب، آمر، ڈکٹیٹر سے لیکر آج کے دور کے سود خور کارپوریٹ سرمایہ دار تک ہمیشہ سب ہر اس فرد، گروہ اور نظریے سے خائف رہے ہیں جس
پیر 15 جولائی 2019ء

ٹرمپ یا پیوٹن

بدھ 10 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے ستائیس سال پہلے پوری مسلم امہ یورپ کے ایک خطے بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام کا ماتم کر رہی تھی۔ بلقان کے اس ملک کے خوبصورت لوگ آرتھوڈوکس چرچ کے ماننے والے سرب باشندوں کے ہاتھوں بدترین دہشت گردی کا شکار ہورہے تھے۔ یہ جنگ تقریبا چار سال تک جاری رہی اور اس میں پانچ لاکھ کے قریب مسلمان لقمہ اجل بنا دیے گئے تھے۔ یہ میڈیا اور سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا، مگر اسکے باوجود بھی جو تصویریں، خبریں اور فلمیں حکومتی ذرائع ابلاغ تک پہنچتی تھیں وہی اسقدر خوفناک اور دل دہلا دینے والی
مزید پڑھیے


پرانے ناموں کے بوسیدہ اشتہار

منگل 09 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
اقبال ساجد پاکستان کے ان چند شعرا ء میں سے ایک ہے جس کے کمال فن کو دس فیصد بھی پذیرائی نہیں ملی۔ پاک ٹی ہاؤس کے اردگرد منڈلاکر اپنی شام کے لوازمات کے لئے احباب سے چندہ اکٹھا کر کے زندگی کی گھڑیاں گننے والا یہ شاعر، بلا کی شاعری کر گیا ہے۔ جدید شاعری میں اگر کسی نے غزل کو نئے مضامین، مختلف اسلوب اور بدلتے وقت کے استعاروں سے سجایا ہے تو وہ اقبال ساجد تھا۔ اسی لیے وہ اپنے عہد کے کسی شاعر کو بھی نہیں مانتا تھا۔ کسی کا شعر سنتا تو ایک دم بول
مزید پڑھیے


ایک دوست، ایک پبلشر، ایک کتاب

پیر 08 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ ایک نظریاتی جیالا ہے جو اب خال خال نظر آتے ہیں، سوشلزم اور بالشویک انقلاب کا خواب دیکھنے والے، لیکن نسل در نسل کے وڈیرے ذوالفقار علی بھٹو کے عشق میں گرفتار۔ پیپلز پارٹی نے اسکے ساتھ وہی سلوک کیا جو بے نظیر بھٹو نے اپنے دونوں بھائیوں مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی میتوں کے ساتھ کیا تھا کہ انہیں اپنے باپ ذوالفقار علی بھٹو کی قبر سے اتنی دور دفن کیا کہ کہیں برسی پر آنے والے کیمروں کی نظر ان تک نہ پڑ جائے یا پھر جیالوں کا ہجوم انکی قبروں پر بھی پھول نچھاور کرنا
مزید پڑھیے


الیگزینڈر ڈف سے پرویز مشرف تک

بدھ 03 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
یوں تو بیروت کی امریکن یونیورسٹی کے قیام کی تاریخ 1866 بتائی جاتی ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں جدید نظام تعلیم کی سب سے قدیم یونیورسٹی کہا جاتا ہے، لیکن 1920 تک 54 سال یہ ایک مشنری سکول سیرین پروٹسٹنٹ کالج تھا۔ مشنری سکولوں کی اسی نرسری سے جدید سیکولر تعلیم کے پودے نے نشوونما پائی ہے۔ بحیرہ روم کے ساحل پر اس خوبصورت یونیورسٹی کے ماحول اور بیروت شہر کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے میں ایکدم مغربی بنگال کے ساحلوں پر بیتی کہانیوں میں کھو گیا اور یوں لگا جیسے برصغیر پاک و ہند اورعرب دنیا
مزید پڑھیے




کیش، فارن کرنسی اور لیکوڈ ایسٹس بینک میں جمع رکھنے کی تاریخ میں بھی 3جولائی تک توسیع

منگل 02 جولائی 2019ء
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ ایسٹس ڈکلیئریشن سکیم کی 3جولائی تک توسیع کی وجہ سے ایسٹس ڈکلیئریشن آرڈیننس کے تحت کیش ڈکلیئر کرنے کی صورت میں کیش، فارن کرنسی اور فارن لیکوڈ ایسٹس جو وطن واپس نہ بھیجے جائیں کو اپنے لوکل اور فارن بینک اکائونٹس میں جمع کرانے کی تاریخ میں بھی 3جولائی تک توسیع کر دی گئی۔ ایسٹس ڈکلیئریشن آرڈیننس 2019 ئکو فنانس ایکٹ 2019ئکی شق 17 کے تحت شامل کیا گیا ہے ۔
مزید پڑھیے


ایک بار پھر تبادلہ آبادی۔ ایک اور ریڈ کلف

منگل 02 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
کان پک گئے ہیں ان آوازوں کو سنتے اور آنکھیں دکھنے کو آچکی ہی ان تحریروں کو پڑھتے۔ وہ جو اس مملکتِ خداداد پاکستان کے لیے اپنے پیاروں کی خاک و خون میں لتھڑی لاشیں چھوڑ کر آئے تھے، اپنے ہنستے بستے گھروں کو خیر آباد کہہ کر اور اپنے آباؤ اجداد کی قبروں کو آخری بار آنسوؤں سے سلام کہہ کر اس سرزمین کو ایک پناہ گاہ اور اپنے خوابوں کی تعبیر سمجھ کر آئے تھے، میرے ملک کا ایک دانشور طبقہ ان کے کانوں میں بھی اسی دن سے زہر گھولتا چلا آ رہا ہے۔ کسی ملک کی
مزید پڑھیے


یہ طرز زندگی کی جنگ ہے

پیر 01 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
مملکتِ خداداد پاکستان ہی نہیں بلکہ اس کرہ ارضی پر بسنے والے انسانوں کیلئے اللہ نے روزِ اول سے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ یہ اسکی زمین ہے اور اس پر اسی کا حکم چلے گا، وہی فرماں روا ہے۔ انبیاء و مرسلین کا مقصد ہی اس دنیا کی سیاست کو اللہ کے فرامین کے تابع کرنا تھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے مخالف کھڑے ہونے والے افراد ہمیشہ سے ایسے ہی سوال اٹھاتے رہے ہیں جیسے بلاول بھٹو نے اے پی سی میں اٹھائے،اور جنکی فواد چوہدری نے تصدیق کی ۔ان انبیاء کی قوموں کے دانشور بھی اسکا
مزید پڑھیے


یروشلم۔ مدینہ۔ قسطنطنیہ

بدھ 26 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
قسطنطنیہ یعنی آج کے استنبول پر آزاد خیال، سیکولر اور لبرل میئر کی جیت کا جشن جہاں اس شہر کی سڑکوں پر شمپئن کی بوتلیں کھولنے اور رقص و سرور سے ہو رہا تھا تو دوسری جانب پورے اسرائیل میں اس فتح کی خوشی دیدنی تھی۔ دنیا بھر میں ستاون سے زیادہ اسلامی ممالک میں زیادہ تر سیکولر اور لبرل حکمران مسلط ہیں اور وہاں روزانہ ہر بڑے شہر میں ایسے ہی میئر منتخب ہوتے ہیں لیکن استنبول میں طیب اردوان کے نرم خو "جمہوری اسلام" کے ہارنے کی بھی یہودیوں کو مسرت تھی۔ خواب غفلت میں سوئے ہوئے مسلمانوں
مزید پڑھیے


فتح قسطنطنیہ، زوالِ قسطنطنیہ، فتح قسطنطنیہ

منگل 25 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
استنبول جو پوری دنیا میں 1923 ء تک قسطنطنیہ کہلاتا تھا۔ وہ نام جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بشارتوں والی احادیث میں ادا ہوا۔ کمال اتاترک اور اسکے سیکولر حواریوں کو اس نام سے اسقدر نفرت تھی کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد فوراً ہی اسکا یونانی زبان میں مستعمل نام استنبول رکھ دیا، جو دراصل ایک یونانی محاورے "ستنبولی" سے مختص ہے جسکا مطلب ہے "شہر کے وسط" یا " شہر کی جانب"۔ یہ شہر،مسیحی یورپ کے اتحاد کی آخری علامت ،بازنطینی حکومت کا مرکز تھا جسے پورے یورپ میں "Constantinople" کہا
مزید پڑھیے