BN

اوریا مقبول جان


ریاستِ مدینہ کی معیشت : تمام بحرانوں کا حل ;آخری قسط


سید الانبیاء ﷺ کا قائم کردہ مدینہ کا بازار، ’’انسانی تاریخ‘‘ کا وہ پہلا بازار ہے جس نے ’’جدید معاشی اصول‘‘ وضع کیئے۔ آج انہی جدید معاشی اصولوں پر دنیا بھر کی معیشتوں کے لیئے اعلیٰ معیارات ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ جب ان دونوں بنیادوں پر یہ بازار قائم ہوگیا،کہ اوّل یہ مکمل طور پرایک ’’ٹیکس فری‘‘ زون ہو گا اور دوسرا اصول یہ کہ اس بازار اور پیداوار کے اصل مالک، کسانوں، جولاہوں، ترکھانوں اور دیگر کاریگروں کے درمیان کسی قسم کا کوئی ’’مڈل مین‘‘نہیں ہو گا (وہ جو سرمائے کی بنیاد پر چیزیں سستی خرید کر اپنی مرضی
اتوار 18 اکتوبر 2020ء

ریاستِ مدینہ کی معیشت : تمام بحرانوں کا حل (2)

هفته 17 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
مدینہ اور مکّہ کاروباری اعتبار سے دو مختلف زاویوں سے مشہور تھے۔ مکّہ چونکہ ایک بے آب و گیاہ سرزمین تھی، اس لیئے وہاں کے لوگ تجارت میں مہارت رکھتے اور دنیا بھر کی منڈیوں میں اپنا مال بیچتے تھے، جبکہ مدینہ باغات سے گھرا ہوا ایک شہر تھا اور یہاں کے لوگ زراعت کے معاملے میں شہرت رکھتے تھے۔ مدینہ کی ساری تجارت یہودیوں کے ہاتھ میں تھی ۔ جب سید الابنیاء ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اُس وقت یہودیوں کی وہاں چارمارکیٹیں تھیں اور مدینے کے زراعت پیشہ انصار انہی مارکیٹوں سے استفادہ کرتے تھے۔ ہجرت کے آغاز
مزید پڑھیے


ریاستِ مدینہ کی معیشت : تمام بحرانوں کا حل

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ صدی میں جس جدید سودی معیشت نے اپنے پنجے ایک عالمی مالیاتی نظام کے زبردستی نفاذ کے ذریعے گاڑے تھے، 2008ء سے ایک ایسے زوال کی سمت اپنے سفر کا آغاز کر چکی ہے، جس سے نجات کی راہ کسی کو نہیں سوجھ رہی۔ اٹھارویں صدی میں یورپ میں جو صنعتی انقلاب آیا، اس نے اخلاقیات سے تہی اور استحصال سے عبارت ایک جدید معاشی نظام کو جنم دیا۔ سرمائے میں اضافہ اور کاروبار کی وسعت ، دو ایسے اہداف ہیں جنہوں نے ہر لوٹ مار کو جائز قرار دے دیا۔ پہلی جنگ عظیم کی فتح کے بعد کے
مزید پڑھیے


جمہوریت اور اکثریت کا حقِ استحصال

جمعرات 15 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
جمہوریت کی فطرت میں یہ انسانی جبلّت بھی پیوست ہے کہ جو کوئی بھی جمہوری اصولوں کی بنیاد پر’’ اکثریت کا ووٹ‘‘ لے کر برسرِ اقتدار آتا ہے، اس کے اندر چھپا بیٹھا ’’آمر‘‘ اچانک بیدار ہو جاتاہے۔’’ اکثریت‘‘ کا غرور اس میں سمایا ہوتا ہے، اقتدار کے ایوانوں کا نشہ اس غرور کی پرورش کرتا ہے اور پھر ایک دن وہ ایک بہت بڑے’’ عفریت‘‘ کی صورت سامنے آجاتا ہے۔ جو معاشرہ جس قدر عدم برداشت اور مخالفین کو کچلنے والے جذبات سے معمور ہوگا، یہ عفریت اسی قدر خونی اور بے رحم ہوگا۔ دنیا کی قدیم ترین جمہوریتوں
مزید پڑھیے


بنگلہ دیش کے مداحین کے لئے ( 3)

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
بنگلہ دیش کے ایک عام شہری کے ذہن میں تو اس سوال کا آنا ایک فطری امر ہے کہ ان کا ملک معاشی لحاظ سے تاریخی ترقی کر رہا ہے ،لیکن انکے گھروں کے آنگنوں میں خوشحالی کیوں نہیں آتی، مگر یہی سوال بڑے بڑے معیشت دانوں کیلئے بھی ان کے بنائے ہوئے معاشی ترقی کے پیمانوں کے حوالے سے طرح طرح کے سوالات اٹھا رہا ہے۔ اس بات سے تو ہر کوئی متفق ہے کہ کسی بھی ملک میںصرف صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کے بڑھنے سے ایک عام آدمی کی حالت کبھی بھی نہیں بدلتی، بلکہ اس ترقی سے
مزید پڑھیے



بنگلہ دیش کے مداحین کے لیئے……(2)

هفته 10 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
ایک عام آدمی کے ذہن میں بھی یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر ان ’’نومولودمعاشی تجزیہ نگاروں‘‘کے نزدیک بنگلہ دیش، معاشی ترقی کی منزلیں تیزی سے طے کر رہا ہے تو پھردو کروڑ بنگلہ دیشی، غربت و افلاس کے ہاتھوں تنگ آکر غیر قانونی طور پر بھارت میں معمولی نوکریا ں کرنے پر کیوں مجبور ہیں۔ کسی بھی ملک میں غیر قانونی طور پر رہنا کسقدر عذاب ہوتا ہے اور وہ بھی بھارت جیسے غربت کے مارے ملک میں، جہاں لا تعداد افراد کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہوںاور مسلمانوں کے خلاف گلی گلی نفرت بٹ رہی ہو۔ اگر
مزید پڑھیے


بنگلہ دیش کے مداحین کے لئے

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
’’اگر بھارت ان لوگوں کو شہریت دینا شروع کر دے تو آدھا بنگلہ دیش خالی ہو جائے‘‘۔ یہ ایک زناٹے دار معاشی تھپڑہے ، جو ایسے ملک کے وزیرمملکت برائے داخلہ’’جی کشن ریڈی‘‘ کی طرف سے ،جو خود غربت کے حساب سے دنیا میں انچاسویں(49) نمبر پر ہے۔ وہ بھارت اس بنگلہ دیش کو طعنہ دے رہا ہے، جہاں خود 36 کروڑافراد آج بھی بمشکل ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔ امیر اور غریب میں یہی تفاوت ہے کہ ورلڈ بینک آج بھی بھارت کو غربت کے حساب سے ایک ایسے گروپ (Bracket)میں رکھے ہوئے ہے ،جن میں نکارا گوا،
مزید پڑھیے


ترقی اور کامیابی کے سیکولر پیمانے

جمعرات 08 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
سیکولر اور لبرل عالمی لٹریچر اور عالمی نظامِ تعلیم کا صرف اور صرف ایک مقصد ہے کہ پیغمبر، سائنس دان، سیاست دان، فاتح ،تاجر اور دیگر اہم افراد کی عظمت، بڑائی اور کامیابی کو جانچنے اور انہیں ’’کامیاب‘‘ انسان کے منصب پر فائز کرنے کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہیے اور آج کے دن تک وہ ہر کسی کو اس پیمانے کا قائل کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں مائیکل ہارٹ کی کتاب ’’دی ہنڈرڈ‘‘(The 100) جو تاریخ کے سو کامیاب ترین انسانوں پر 1992ء میں لکھی گئی،پہلے دن سے مقبول ہے۔ اس کی
مزید پڑھیے


میڈیا اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ کسی دقیانوس مولوی کے الفاظ نہیں ہیں، مردانہ جارحیت پسند (Male chauvinist) کی گفتگو بھی نہیں، انصار عباسی کا ماتم بھی نہیں، جو اس نے پاکستان ٹیلی ویژن پر خواتین کے اعضاء کو نمایاں کرنے والی ورزش دکھانے پرکیا تھا، یہ اقوامِ متحدہ کے ایک اہم ترین ادارے’’ یونیسف‘‘ (UNICEF) کی پکار ہے، جو اس کی 15 جنوری 2020ء کی رپورٹ میں سنائی دیتی ہے۔ رپورٹ کا آغاز اس فقرے سے ہوتا ہے"The objectification and sexualization of girls in the media, is linked to violence against women and girls worldwide." (دنیا بھر میں لڑکیوں اور عورتوںکے خلاف درندگی کا
مزید پڑھیے


مدینے کی معیشت : قائد اعظم کا خواب

هفته 03 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ تیس برسوں میں کتب کی ورق گردانی اور کتب خانوں کی خاک چھاننے کے دوران لاتعداد کتابیں آنکھوں کو بھائیں، دل میں اتریں اور ذہن پر چھاگئیں۔ ہر کتاب نے اپنا ایک الگ تاثر دل و دماغ پر چھوڑا، لیکن کل سے ایک ایسی کتاب ہاتھ آئی ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے تقریباً دو دہائیوں سے مجھے اسی کی تلاش تھی۔ میں رات بھر جاگ کر اسے پڑھتا رہا اورصبح فجر کی سپیدی نمودار ہوتے وقت مجھے یوں لگا کہ ایسی ہی تحقیق کا تو قائد اعظم کو بھی شدت سے انتظار تھا۔اللہ جب کسی کو توفیق دینا
مزید پڑھیے