BN

اوریا مقبول جان

کوئی چارہ ساز ہوتا ،کوئی غم گسار ہوتا

بدھ 18 جولائی 2018ء
پاکستان کی بدقسمتی یہ نہیں کہ اسے گزشتہ 50 سالوں سے ایسے لیڈر میسر آتے رہے ہیں جنہوں نے غربت، بیماری، بھوک، بے روزگاری اور جہالت جیسے لفظ صرف کتابوں میں پڑھے ہوتے ہیں بلکہ اکثر انکی تقریریں لکھنے والوں نے انہیں یہ لفظ تقریروں کو جاندار بنانے کے لئے سکھائے ہوتے ہیں، بلکہ اصل بد قسمتی یہ بھی ہے کہ وہ دانشور، ادیب، شاعر اور لکھاری جن کی تحریروں میں غریب کا دکھ ہوتا تھا، جھونپڑی کی سرد راتیں اور صحرا کی پیاس میں تپتے دن نظر آتے تھے، مزدور کا استحصال، کسان کی بے بسی نظر آتی تھی،
مزید پڑھیے


سیاست اس قدر ظالم و بے رحم بھی ہوتی ہے

پیر 16 جولائی 2018ء
اس کی آواز میں غصہ اور دکھ ملا ہوا تھا، تھوڑی سی براہوی اور زیادہ تر اردو میں وہ اس کرب سے بولا کہ میں دہل کر رہ گیا۔ کہنے لگا ’’آرمی پبلک اسکول کے بچے انگریزی بولتے تھے اسی لیے سو دن والا دھرنا فورا ختم ہو گیا تھا، ہم تو ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتے، اس لئے ریلیاں چلتی رہیں، ترانے بجتے رہے‘‘۔ میں اس وقت ٹیلی ویژن کی ٹرانسمیشن میں بیٹھا تھا، زیادہ بات نہیں کر سکتا تھا۔ بس اتنا ہی بولا، دیکھو لیڈر لیڈر میں فرق ہوتا ہے، بات اس کی سمجھ میں نہیں
مزید پڑھیے


خسارے کی سیاست

جمعه 13 جولائی 2018ء
جمہوریت کے اہرمن کے سامنے سجدہ ریز ہوکر ووٹ کی بھیک مانگنے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آپ آج پاکستان کی لبرل، سیکولر، کیمونسٹ اور دیگر مذہبی جماعتوں کے منشور اٹھا کر دیکھ لیں، ان سب کے بیرونی ورق اوپر سے پھاڑ دیں، آپ کو سوائے چند ایک سطور کے کسی میں کوئی جوہری فرق نظر نہیں آئے گا۔ سب کے سب دنیا کے گرد گھومتے ہیں۔ وہ دنیا جسے میرے آقا سید الانبیاء ﷺنے مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت قرار دیا ہے۔ آپﷺ نے اسے ایک عارضی مقام، ایک پڑاؤ سے
مزید پڑھیے


نوازشریف میں نیلسن منڈیلا کی تلاش

بدھ 11 جولائی 2018ء
نظریہ مر جاتا ہے، لوگ نئے پرچم اٹھا لیتے ہیں لیکن برصغیر پاک و ہند کا ایک المیہ ہے کہ ہم نظریے کا بھی مزار بناتے ہیں اور اسے پوجتے رہتے ہیں۔ شخصیات کے بت تراشتے ہیں، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں، امیدیں ٹوٹتی ہیں تو اس کی جھلک کسی دوسری شخصیت میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے پیام مشرق میں اس ساری کیفیت کوبیان کیا ہے ؎ ہزاراں سال با فطرت نشستم بہ او پیو ستم و از خود گسستم ولیکن سرگزشتم ایں دو حرف است تراشیدم، پرستیدم، شکستم ترجمہ: ’’میں ہزاروں سال فطرت کے ساتھ رہا
مزید پڑھیے


نہ جا اس کے تحّمل پر

پیر 09 جولائی 2018ء
مدتوں سے یہ محاورہ زبان زد عام ہے کہ "سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا"۔ صدیوں سے تخت و تاج کی لڑائی نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان اقتدار کے لیے سگے بھائیوں کو قتل کرتا ہے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا کر اندھا کر دیتا ہے، باپ پر تلوار سونت لیتا ہے، اسے قید کر دیتا ہے، معتمد ترین وزیروں اور جرنیلوں کی کھالیں کھنچوا دیتا ہے، اور جب وہ ایسا سب کچھ کر رہا ہوتا ہے تو عام انسان پکار اٹھتا ہے کہ اس کے سینے میں دل نہیں ہے۔ لیکن جدید دنیا ایک اور
مزید پڑھیے


ایک اور عظیم فیصلہ

جمعه 06 جولائی 2018ء
اللہ کی بے شمار رحمتیں نازل ہوں جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر اور روز حشر اللہ انہیں سید الانبیاء خاتم النبین ‘ شافع روز حشر حضرت محمدﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے اور ان کی کاوشوں سے خوش ہوتے ہوئے اس خوشی کے صدقے ہماری بھی بخشش فرمادے۔ ہمارے گناہوں کوتاہیوں اور عیوب سے درگزر فرما دے۔ پتہ نہیں کیوں میں یہ سطریں تحریر کر رہا ہوں تو میری آنکھوں سے آنسو مسلسل بہے جا رہے ہیں۔ میں اپنے اس قلم کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ چند جملے بھی اس شخص کی تعریف و توصیف میں تحریر کرے جسے اللہ
مزید پڑھیے


جوعِ سلطاں ملک و ملت را فنا ست

بدھ 04 جولائی 2018ء

’’سلطان کی بھوک تو ملک و ملت کو کھا جاتی ہے۔‘‘ مثنوی اسرار خودی کے فارسی شعر کے دوسرے مصرعے کا یہ ترجمہ انسانی عروج و زوال کی کہانی کا مرکزی نکتہ خیال ہے۔ پورا شعر یوں ہے

آتش جان گدا جوع گدا است

جوع سطاں ملک و ملت را فنا ست

ایک فقیر کی بھوک کی آگ صرف اس کی جان کھا لیتی ہے لیکن حکمران کی بھوک پوری ملک و ملت کو کھا جاتی ہے۔ اس شعر کی تفسیر بھی اگر دنیا بھر میں کہیں نظر آتی ہے تو اس ملک میں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ یوں
مزید پڑھیے


خضر سوچتا ہے ولر کے کنارے

پیر 02 جولائی 2018ء
پاکستانی سیاست کی گہما گہمی میں گم عمران، نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن کو دیوتا یا شیطان ثابت کرنے میں منہمک میڈیا، سوشل میڈیا اور متحرک سیاسی کارکنان کو اندازہ تک نہیں کہ ان کے آس پاس کیا کچھ بدل رہا ہے اور دور دراز سے کون کون ہے جو اس تبدیلی سے خوفزدہ و پریشان ہوکر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے میدان میں اتر آیا ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے بنگلہ دیش کے کاکس بازار سے لے کر افغانستان کے دریائے ایموں کے کنارے آباد شہروں تک ایک بہت بڑا میدان جنگ منتخب کیا گیا تھا۔ اس
مزید پڑھیے


گاربیج ان۔گاربیج آئوٹ

جمعه 29 جون 2018ء

انگریز کی تربیت یافتہ سول بیورو کریسی اور اسی کی نرسری میں پل کر جوان ہونے والی سیاسی اشرافیہ کا یہ اتحاد قیامِ پاکستان سے پہلے ہی اس قدر مقدس اور محترم بنا دیا گیا تھا کہ ان کے زیر اثر علاقوں کی حدود کو چھیڑنا، تبدیل کرنا یا وہاں کسی اور نسل اور رنگ و زبان کے لوگوں کو آباد کرنا انتظامی طور پر جرم تصور ہوتا تھا۔ ان دونوں نے مل کر ضلع، تحصیل اور پٹوار سرکل تک لوگوں میں تقسیم کی لکیریں کھینچی تھیں۔ ہر لکیر کے اندر موجود علاقے میں ایک شخص کو با اثر اور
مزید پڑھیے


گاربیج ان۔ گاربیج آؤٹ

بدھ 27 جون 2018ء
آج سے تقریبا تیس سال قبل پاکستان سمیت دنیا کے تمام پسماندہ، نیم پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں ایک جنون پیدا ہوا کہ جدید دنیا میں داخلے کے لئے کمپیوٹر سیکھا جائے۔ اگلی صدیاں کمپیوٹر کی صدیاں ہیں اور جو اس سے بے بہرہ اور نا بلد رہ گیا، اس کی پسماندگی پر مہر لگ جائے گی۔ اس رجحان نے پاکستان میں ایک وبائی صورت اختیار کر لی۔ ہر گلی کی نکڑ اور ہر نو تعمیر عمارت کی کسی منزل پر ایک کمپیوٹر کی تعلیم کا ادارہ کھل گیا۔ برسات کے مینڈکوں اور حبس کے عالم میں اچانک پھوٹ
مزید پڑھیے