BN

اوریا مقبول جان


ایک عظیم خاتون کی دو لازوال تصانیف


ایک زمانہ تھا جب الحاد اور انکارِ خداوندی کا درس سیکولر، لبرل اور جمہوریت پسندوں کے ہاں سے نہیں بلکہ اشتراکی کیمونسٹوں اور مزدوروں کی آمریت پر یقین رکھنے والے دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کے ہاں سے ملتا تھا۔ اشتراکیت پرست ادیبوں کا یہ گروہ جو برصغیر میں انجمنِ ترقی پسند مصنّفین کے طور پر منظم ہوا اور کئی دہائیوں تک ادب کی دنیا پر اس کا پھریرا لہراتا رہا۔ اخترالایمان سے ساحر لدھیانوی، سجاد ظہیر سے فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی سے ظہیر کاشمیری تک تقریباً ہر بڑا ادیب و شاعر اس گروہ کی خوشہ چینی ضرور
جمعه 23  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

پاکستانی سیاست میں لندن پلانوں کی تاریخ ……(2)

جمعرات 22  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
مغربی پاکستان کے طالع آزما سیاست دانوں سے مایوس ہونے کے بعد شیخ مجیب الرحمن جب براستہ لندن بنگلہ دیش پہنچ گیا تو باقی ماندہ پاکستان پر حکمرانی کرنے کا ذوالفقار علی بھٹو کا خواب پورا ہو گیا۔ اب اسے کسی قسم کا کوئی خطرہ باقی نہ رہا۔ متحدہ پاکستان کی اکثریتی پارٹی کا سربراہ اور وزارتِ عظمیٰ کا حقیقی حقدار اب اس دعوے سے ہی دستبردار ہو چکا تھا۔ پاکستان کی سول بیوروکریسی نے بھی سُکھ کا سانس لیا، کہ انہیں ذہین بنگالیوں سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ ملٹری بیوروکریسی اس لئے خوش تھی کہ کہاں قدآور چوڑے سینوں
مزید پڑھیے


پاکستانی سیاست میں لندن پلانوں کی تاریخ ……(1)

بدھ 21  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو کو باقی ماندہ پاکستان کا صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر لگایا گیا تو ’’ہوش و حواس‘‘ بحال ہوتے ہی بھٹو نے آہستہ آہستہ مشرقی پاکستان کو بحیثیت بنگلہ دیش تسلیم کرنے کی ایک خاموش مہم کا آغاز کر دیا۔ اس وقت قوم انتہائی جذباتی کیفیت میں تھی اور کوئی یہ نام سننے کو بھی تیار نہ تھا۔ یہ شکست نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کیلئے پژمردگی اور خجالت کا باعث تھی بلکہ اُمتِ مسلمہ کے بیشتر افراد اسے مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ قرار دیتے تھے۔ سعودی عرب
مزید پڑھیے


پانچ ماہ بعد وفاقی شرعی عدالت میں

منگل 20  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
آج سے پانچ ماہ پہلے گیارہ اپریل 2022ء کو، آخری دفعہ وفاقی شرعی عدالت کے روبرو ہم جنس پرستی کو تحفظ دینے والے ٹرانس جینڈر تحفظ ایکٹ کے خلاف پیش ہوا تھا اور آج دوبارہ وہاں میدان سجے گا۔ ان شاء اللہ۔ اس پٹیشن کو گزشتہ دو سال قبل اسلامی حمیت رکھنے والے ایک نوجوان حماد حسن نے دائر کیا تھا۔ لیکن شرعی عدالت نے اسے ایک معمول کی پٹیشن سمجھ کر عدالتی کارروائی کی نذر کر دیا۔ وجہ صاف ظاہر تھی کیونکہ قانون بنانے والوں نے اتنی چالاکی اور ہوشیاری سے اس میں ہم جنس پرستی کے تحفظ اور
مزید پڑھیے


رابن رافیل کون؟ کس مشن پر؟ (آخری قسط)

جمعه 16  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
ملا محمد عمرؒ کے طالبان کا افغانستان ایسا تھا جس کا امریکیوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا… ایک پُرامن ملک جو ہر طرح کی سرمایہ کاری کیلئے موزوں تھا۔ سوویت یونین کے بعد امریکی اپنی عمومی بے رحم حکمتِ عملی کے تحت اس خطے کو بھی فساد اور لڑائی میں مبتلا رکھنا چاہتے تھے، تاکہ یہاں پر موجود لیتھیم اور دیگر قیمتی دھاتوں کو سستے داموں ان وار لارڈز سے خریدا جا سکے جو مختلف علاقوں پر قابض ہوں اور انہیں اپنی لڑائی کیلئے اسلحے کی ضرورت پڑے تو وہ امریکیوں کے ہاتھوں یہ معدنیات بیچ کر اسلحہ
مزید پڑھیے



رابن رافیل کون؟ کس مشن پر؟ ……(2)

جمعرات 15  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
رابن رافیل جب سے ’’اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے جنوبی و سنٹرل ایشیا‘‘ تعینات ہوئی بھارتی میڈیا کی نفرت کا نشانہ بنی رہی۔ اس نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ (Disputed territory) قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں ستمبر 1994ء میں پاکستان کی طرف سے پیش کی جانیوالی قرارداد کی حمایت میں اس نے پاکستان میں امریکی سفیر سے فون پر گفتگو کی۔ قرارداد کشمیریوں پر مظالم کی مذمت پر مبنی تھی۔ اس کی اس گفتگو کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’رائ‘‘ (Raw) نے ٹیپ کر کے امریکی حکام کو پہنچایا۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ کرس سری نواسن
مزید پڑھیے


رابن رافیل کون؟ کس مشن پر؟

بدھ 14  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
امریکی فیڈرل بیورو آف امیگریشن (ایف بی آئی) کی ٹیمیں 21 اکتوبر 2014ء کو واشنگٹن کے ایک گھر میں داخل ہوئیں اور پورے گھر کی تفصیلی تلاشی لی گئی۔ اس آپریشن کو ان کی زبان میں "Sneak and Peek" (جھانکنا اور ڈھونڈنا) کہتے ہیں۔ وہ اس گھر سے لاتعداد بکسے اور بیگ اپنے ساتھ لے گئے جن کے بارے میں انہوں نے بعد میں بتایا کہ ان میں سے بیس سال پرانی امریکی خفیہ دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔ یہ گھر امریکی سفارت کار اور پاکستان، افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے کئی سال تک اہم ترین عہدوں
مزید پڑھیے


قارون صفت دانشوری اور اللہ کی ناراضگی

منگل 13  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
علامہ اقبالؒ نے جب عین عفوانِ شباب میں اپنی شہرۂ آفاق نظم ’’شکوہ‘‘ تحریر کی تو وہ ایک خوگر حمد کا انتہائی مؤدب گلہ تھا۔ اس ساری نظم کا مرکزی شعر تھا:۔ رحمتیں ہیں تِری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر اقبالؒ کی نظم ’’شکوہ‘‘ ایک عام مسلمان کے جذبات کی ترجمانی تھی جو اس دَور میں ذِلّت و رُسوائی کا شکار تھا، لیکن ’’شکوہ‘‘ کے جواب میں لکھی جانے والی نظم ’’جوابِ شکوہ‘‘ اپنے اندر ایک الہامی کیفیت لئے ہوئے ہے۔ ایسے لگتا ہے پوری نظم ایک نعت ہے جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
مزید پڑھیے


آنے والا شدید بحران

جمعه 09  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
ایک ایسا بحران جس نے گذشتہ چند ماہ سے یورپ کے تمام ممالک کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں اور جس کے بارے میں اقوام متحدہ سے لے کر دنیا بھر کے معاشی و سیاسی تجزیہ کار بیک زبان ہو کر دہائی دیتے چلے آ رہے تھے کہ آنے والی سردیوں میں یہ بحران نہ صرف یورپ بلکہ افریقہ اور ایشیا کے بھی لاتعداد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ ماہرین وارننگ دیتے رہے کہ اگر بروقت اس سے نمٹنے کی کوشش نہ کی گئی تو لاتعداد ملک قحط، وبا اور کسمپرسی کا شکار ہو جائیں گے۔ 13 اپریل
مزید پڑھیے


گوربا چوف: جو محاورہ بن گیا تھا

جمعرات 08  ستمبر 2022ء
اوریا مقبول جان
مغرب اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی آنکھوں کا تارا، گوربا چوف۔ جسے موت کے بعد اپنے ملک میں سرکاری تدفین بھی میسر نہ ہو سکی۔ گذشتہ نصف صدی میں جو پوری دُنیا کا مرکزِ نگاہ بنا رہا، مگر اپنی موت کے وقت اپنے ہی ہم وطنوں کے لئے ایک عظیم سلطنت کے زوال کی علامت تھا اور اس مغربی دُنیا کے لئے بھی اب اجنبی بن چکا تھا، جو کبھی اس کے گُن گایا کرتی تھی۔ اس سب کے باوجود، جب اس کا جسدِ خاکی 3 ستمبر 2022ء کو ہائوس آف یونین کے بڑے ہال میں لایا گیا تو عمارت
مزید پڑھیے








اہم خبریں