BN

اوریا مقبول جان


امت ایک دن عید کیوں نہیں مناتی


ہر سال عید کے موقع پر چاند پر جھگڑے کے وقت کبھی کسی نے یہ تصور کیا ہے کہ جو امت صرف چندسکینڈ کے وقفے سے بلکہ بعض اوقات تو براہِ راست میدان ِعرفات سے حج کا خطبہ سنے، لندن، سڈنی یا دبئی میں ہونے والا میچ دیکھ لے،گیارہ ستمبرکو گھنٹوں ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کا منظر ایسے دیکھے جیسے وہ ان کے سامنے برپا ہے، لیکن اگرآپ اس امت کے اربابِ اختیارسے لے کر علمائے کرام تک سب سے پوچھیں کہ یہ پوری امت دنیا بھر میں ایک ساتھ چاند
اتوار 24 مئی 2020ء

کورونامیں گھر کی از سر نو شیرازہ بندی

هفته 23 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
مدتوں بعد انسانی زندگی میں ٹھہراؤ، سکوت اورخاموشی کا حسن لوٹ آیا ہے۔ وہ جو روزمرہ کی تیز رفتاری کے عادی تھے، جن کے شیڈول میں فرصت نام کی کوئی گھڑی نہ تھی، ٹریفک کے ہنگاموں پر سیخ پا ہوتے ہوئے، ہر کسی سے معاملات طے کرتے، گفتگو کرتے یا سر پٹھول کرتے، لیکن پورا دن اسی ادھیڑ بن میں گزار کر رات کو تھک ہار کر اپنے بستر پر دراز ہو جاتے، الارم لگاتے اور پھر اگلے دن صبح سویرے سے ہی اسی مصروفیت میں جُت جاتے۔ گذشتہ تین ماہ سے بڑے شہروں کے نشے کے عادی ان باسیوں
مزید پڑھیے


یہ تو من مرضی کے سودے ہیں،زبردستی نہیں

جمعه 22 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
ٹھیک ویسا ہی منظر تقریباً انیس سال بعد لاتعداد کیمروں اور خبر کی تلاش میں سرگرداں رپورٹروں کے سامنے تھا۔ حیرت میں گم کردینے والا ایک ایسا لمحہ کہ جب جہاز سے اترتی ہوئی اٹلی کی پچیس سالہ شوخ و چنچل لڑکی سبز رنگ کے ایک خوشنما حجاب اور عبایا میں ملبوس تھی جس نے اس کا تمام جسم ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ اٹھارہ ماہ صومالیہ کی الشباب اسلامی جہادی تنظیم کی اسیری میں گزار کر آئی تھی۔ اسے کینیا کے ہوٹل سے اغوا کرنے والا ایک پیشہ ور اغوا کار تھا۔ اس غیر مسلم ملک میں
مزید پڑھیے


یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

جمعرات 21 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان پہلے دن ہی سے نا شکروں اور اللہ کی اس عظیم نعمت کے منکروں کا یرغمال بنا رہا ہے۔ جی چاہتا ہے فیض احمد فیض سمیت ان تمام شاعروں کی نظمیں، غزلیں اور گیت بھارت کے شہروں کی ان جلی ہوئی مسلمان بستیوں کے باہر زور زور سے سناؤں اور کہوں کہ وہ تمہارے ہی بھائی تھے جو قائداعظم محمد علی جناح کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ایک ایسی سرزمین کی جانب چل پڑے تھے جو آج ان کے لئے جائے امن ہے اور اس وقت ایک جائے پناہ تھی۔ انہیں بتاؤں کہ ہمارے ہاں صبح آزادی
مزید پڑھیے


دور فتن میں یورپ کے مسلمانوں کا مستقبل (آخری قسط)

اتوار 17 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
یورپ میں مسلمانوں سے نفرت کی ایک تاریخ ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔ قدیم روم کی سلطنت کے زیر نگیں ایشیا اور افریقہ کے سرسبز علاقے شام، فلسطین، مصر، لیبیا، تیونس اور الجیریا آتے تھے۔ یہاں سے خوراک اور غلام برآمد کیے جاتے اور روم کی سلطنت کے خواص و عوام خوشحال اور خوش و خرم زندگی گزرتے۔ ایشیاء اور افریقہ کے یہ تمام علاقے صدیوں سے عیسائیت کا مرکز تھے۔ مسلمانوں کی ابتدائی یلغار انہی علاقوں پر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں یہ تمام مراکز جو دراصل مسیحی روم کے استحصال میں کچلے ہوئے
مزید پڑھیے



دور فتن میں یورپ کے مسلمانوں کا مستقبل

هفته 16 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
جزیرہ نما آئبیریا (Iberia) تین جانب سے سمندر میں گھرا ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ یورپ سے نسبتاً علیحدہ ہے۔ اس کا جو حصہ یورپ کے ساتھ خشکی سے منسلک ہے، اسے بھی پہاڑی سلسلے پرنیز(Pyrenees)کی دیوارنے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ صدیاں پہلے تو یہاں سے آمد و رفت بہت ہی کم تھی۔ اس جزیرہ نما آئبیریا پر اس وقت دو یورپی ملک سپین اور پرتگال واقع ہیں۔ دونوں ایک زمانے میں اپنی افواج کے ساتھ دنیا فتح کرنے نکلے تھے اور مدتوں ان کے زیر نگین بے شمار ممالک کالونیوں کی صورت رہے ہیں،
مزید پڑھیے


یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں ہے

جمعه 15 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
ترک افواج دریائے فرات کے اس مقام پر اکٹھی ہو چکی تھیں جہاں سے یہ دریا ترکی سے شام کے ملک میں داخل ہوتا ہے۔ ہفتہ، 25 فروری، 2015 کی یخ بستہ رات11بجے انہیں شام میں داخل ہونے کا حکم ملا اور ترک ٹینک بکتربند گاڑیاں اور جیپیں شام کی عالمی سرحد عبور کر گئیں۔ شام اس وقت مختلف گروہوں کی آپس کی لڑائیوں میں خاک و خون میں لتھڑا ہوا تھا،اور آج بھی اس ملک کی حالت ویسی ہی ہے۔ مہاجرین کے قافلے، سرحدیں عبور کر کے ترکی اردن اور سعودی عرب میں پناہ لے رہے ہیں۔ وہ لڑائی
مزید پڑھیے


فتنہ وطنیت کے پروردہ

جمعرات 14 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
تاریخ کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ سب سے بودا اور کمزور رشتہ، انسان اور زمین کا رشتہ ہے۔ مگر اس تعلق کو انسان انتہائی منافقت کے ساتھ دھرتی ماں، ماتا، مادرِ وطن یا مدر لینڈ کہتا ہے۔لیکن تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب بھی یہ دھرتی ماں، جانوروں کے لئے گھاس اور انسانوں کیلئے اناج اگانا بند کر دیتی ہے، اس کے پانی کے چشمے سوکھ جاتے ہیں تو اسی مادرِ وطن کا بیٹا کسی سرسبز و شاداب سرزمین پر قبضہ کرنے، اس کے وسائل کو اپنے استعمال میں لانے کے لئے
مزید پڑھیے


آئیڈیل لائف سٹائل کی بقا کا مسئلہ

اتوار 10 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا کی تاریخ دراصل تہذیبوں‘ سلطنتوں اور ان سے جنم لینے والے اطوار زندگی کی تاریخ ہے۔ کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں انسان نے اپنے کمالات سے گہرے تہذیبی نقوش نہ چھوڑے ہوں آج بھی دنیا کے نقشے پر آثار قدیمہ ان کے عروج کی گواہی دیتے ہیں۔ مصر میں فراعین کے اہرام ہیں تو دجلہ و فرات کے کناروں پر نمرودوں کے آثار۔ موئن جوداڑو کی وادیٔ سندھ اور چین کی ٹیراکوٹا فوج کے آثار بتاتے ہیں کہ انسانوں نے مختلف ادوار میں اپنے لئے ایک طرز زندگی یا لائف سٹائل وضع کیا۔ اسے اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنایا
مزید پڑھیے


کیا ہم ناشکری کی سزا کیلئے تیار ہیں

هفته 09 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
اس سے زیادہ ناشکرے پن اور اللہ پر توکل کی کمی کا کیا اظہار ہو گا کہ جب سے پاکستان کی سرزمین پر کورونا نے اپنے قدم رکھے ہیں‘ اقتدار کی مسند پر بیٹھے ہوئے سیاست دان اور ان کے ’’مواصلاتی حواری‘‘ صرف ایک ہی راگ الاپے جا رہے ہیں کہ ہم بھوک سے مر جائیں گے۔ اگر اس خوف کا اظہار زمبیا‘ چاڈ‘ یا مڈاگاسکر جیسے ممالک کا وزیر اعظم یا ان کے اہل اقتدار کرتے تو دنیاوی وسائل کے اعتبار سے بھی سمجھ آنے والی بات تھی کہ یہ ممالک خوراک کی کمی کے اعتبار سے بنائے گئے
مزید پڑھیے