BN

اوریا مقبول جان



بلوچستان بدل رہا ہے


نواب خیر بخش مری بلوچستان کی قبائلی اور سیاسی تاریخ کا بہت بڑا نام ہے۔ آج بھی ان کی سیاست کی پرچھائیاں یہاں کی قوم پرست قیادت کی تحریر و تقریر میں نظر آتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب بلوچستان کی منتخب حکومت کو ختم کر کے غداری کے مقدمے قائم کیے۔ نواب صاحب کو حیدر آباد جیل میں ڈالا اور ان کے خلاف مقدمے کی سماعت بھی جیل میں منتقل کی تو ایسے میں مری قبیلہ نواب صاحب کے حکم پر پہلے اس آمرانہ مسلم ریاست ایکشن کے خلاف پہاڑوں پر جا کر مسلح جدوجہد کرنے لگا اور
منگل 19 نومبر 2019ء

رحم! عالیجاہ! رحم

پیر 18 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
۔۔۔۔۔۔۔ایک تھا بادشاہ ہم سب کا اللہ بادشاہ۔ درباری دم بخود اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں ۔ سپہ سالار کی نشست بادشاہ کے پہلو میں ہے۔ دربار کا جاہ و جلال اور کروفر ایسا ہے کہ ہر کوئی اس کی خوبصورتی سے مسحور بھی ہوتا ہے اور اس کے رعب سے خوفزدہ بھی۔ بادشاہ کی آمد آمد ہے۔ نقارے بجتے ہیں۔ پکارنے والے پکارتے ہیں۔ سانس روک لئے جاتے ہیں۔ ادب میں سرجھکا لئے جاتے ہیں۔ دست بستہ غلاموں کی طرح وزراء اور حکام کھڑے ہیں۔ بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوتا ہے۔ درباری اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ
مزید پڑھیے


موٹاپے کی وبا اور کیپیٹل ازم کی بھوک

جمعرات 14 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
پوری دنیا کو اس وقت ایک عجیب و غریب ہیجانی کیفیت میں مبتلا کیا جا چکا ہے۔ ایک خوف ہے جو ہر صاحب حیثیت اور درمیانے طبقے کے فرد کے سر پر مسلط ہے۔ موٹاپے (Obesity) اور اس سے متعلق بیماریوں کا خوف۔ اس وقت دنیا میں جتنی تحقیق، جستجو اور سرمایہ کاری موٹاپا ختم کرنے کے لیے ہو رہی ہے اسکا پانچ فیصد بھی بھوک ختم کرنے اور دنیا کو قحط سے نجات دلانے کے لیے نہیں ہو رہی۔ دنیا کی تقریبا چھ ارب آبادی میں سے ایک چوتھائی ناکافی اور گھٹیا خوراک کے استعمال سے قحط سالی
مزید پڑھیے


یمن:سو سالہ فساد سے امن اور پھر ملحمتہ الکبریٰ (آخری قسط)

بدھ 13 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
یمن کی شمالی سرحد سعودی عرب کے ساتھ ایک طویل پٹی کی صورت ہے جو صحرااور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ سیدنا زید بن علی کو ماننے والے زیدی اسی علاقے میں آباد رہے ہیں جنہیں عرف عام میں حوثی کہا جاتا ہے۔ تقریبا سو سالہ بدامنی و فساد میں یہ خطہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ لیکن اس عرصہ میں یہ لوگ زیادہ تر قبائلی، قومی اور نسلی تنازعے کی وجہ سے اس سول وار میں الجھے رہے یا الجھائے گئے۔ مصر بمقابلہ سعودی عرب دراصل امریکہ بامقابلہ سوویت یونین معرکہ تھا جو یہاں لڑا گیا۔ لیکن سوویت یونین کے
مزید پڑھیے


یمن:سو سالہ فساد سے امن اور پھر ملحمتہ الکبریٰ …( 2)

منگل 12 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جنگ عظیم اول کے ہنگامے جاری تھے۔ خلافت عثمانیہ کے مسلم اتحاد کو آہستہ آہستہ توڑ کر قومی ریاستوں میں تقسیم کیا جارہا تھا۔ لیکن اس دوران اس بات کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا کہ وہ اہم ترین علاقے جن کی علاقائی، تجارتی اور عسکری اہمیت ہو ان کا اختیار اور کنٹرول مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ جانے دیا جائے۔ خصوصا وہ علاقے جہاں سے جہاز رانی کر کے علاقے فتح کرنا یا تجارت کرنا مقصود تھا۔ یمن کا ساحلی شہر'' عدن'' ان میں سے ایک تھا۔ یہ بندرگاہ دراصل ایک چھوٹی سی سمندری پٹی بحیرہ احمر کے جنوبی
مزید پڑھیے




یمن:سو سالہ فساد سے امن اور پھر ملحمتہ الکبریٰ (قسط 1)

جمعرات 07 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ اس سرزمین میں آباد سب سے معزز اور بڑے قبیلے دوس کا سردار تھے، جس کے بارے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ''یمن کے لوگ صحیح ایمان رکھتے ہیں اور اسے جلد اپناتے ہیں (بخاری)، یمنی باشندے سکون و دانش کی دولت رکھتے ہیں (بخاری)، یمنی شریف اور نرم دل ہوتے ہیں (بخاری) اورآپ ؐنے دعا دیتے ہوئے کہا، '' اے اللہ ہمارے ملک شام اور ملک یمن میں برکت عطا فرما (بخاری)۔ ان کا نام طفیلؓ بن عمرو دوسی تھا۔ پورے عرب میں جو دوسخا کی شہرت رکھنے والے جن کے ہاں مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے
مزید پڑھیے


کرتار پور راہداری اور مذہبی سیاست گری

بدھ 06 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے تقریبا تین سال قبل میں آخری دفعہ بھارت یونیسکو کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے گیا،تو میں نے دلی براستہ سڑک جانے کا قصد کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ میں امرتسر کی مرکزی مسجد خیرالدین کے صحن میں مدفون اپنے دادا اور دادی کی قبر پر حاضری دینا چاہتا تھا۔ میرے دادا مولوی خدا بخش مرحوم اپنے مرشد کے حکم پر تقریبا ًدو صدیاں پہلے سیالکوٹ میں امام علی الحق کے مزار کے ملحقہ علاقے سے ہجرت کرکے برطانوی ہندوستان کے ضلع ہوشیارپور کے قصبے مکیریاں میں جا کر آباد ہوئے۔ ان کے دادا
مزید پڑھیے


مسلکی جمہوری سیاست

منگل 05 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ پندرہ سالوں سے مجھے بارہا ایسے پرجوش، نعرہ زن اور جذباتی انسانوں کے ہجوم میں جانے کا اتفاق ہوتا رہا ہے، جن کی عقیدت اور محبت ان کی عقل و ہوش پر غالب ہوتی ہے۔ یہ سب کے سب کسی نہ کسی مذہبی فرقے، روحانی حلقے یا مذہبی سیاسی پارٹی کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ انکی عقیدت و جذباتیت کے حوالے سے کسی مسلک کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہ عالمِ جنون ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ اولیائے کرام کے سالانہ عرس جن کا تمام ماحول زیادہ تر میلوں ٹھیلوں والا ہوتا ہے، رنگا رنگی غالب ہوتی ہے، لیکن
مزید پڑھیے


آج کے بعد کے ممکنہ حالات

پیر 04 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
یہ کالم یا تحریر لکھتے وقت میں نے اپنے آپ کو ایک کالم نگاریا مصنف کی حیثیت سے بالکل الگ کرلیا ہے۔ میں نے خود کو ان تمام جذبات، خیالات و نظریات اور تعصبات سے بھی دور کر دیا ہے جو کسی سے محبت یا نفرت کا باعث بنتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جس میں ایک انتظامی افسر خصوصا ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوچتا ہے۔ اگر اس کے سامنے ایک صورتحال آجائے جس میں امن عامہ کا قیام، لوگوں کی جان ومال کا تحفظ اور ایک غیر قانونی قرار دیے گئے ہجوم کو منتشر کرنا
مزید پڑھیے


مولانا کیا کر سکتے ہیں؟

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
مولانا فضل الرحمان سے یہ میری پہلی تفصیلی تنہا یعنی ون آن ون ملاقات تھی۔ اس سے قبل مجھے یہ ''شرف'' کبھی حاصل نہ ہوسکا۔ شاید یہی میری خوش بختی ہے۔ مولانا کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا میں احترام اس لئے کرتا ہوں کہ وہ ان قائدین میں سے ایک تھے جنہوں نے 1974 ء کی تحریک ِختم نبوت کی قیادت کی۔ اس تحریک کا ایک ادنی کارکن ہونے کو میں اپنے لیے توشۂ آخرت سمجھتا ہوں۔ ورنہ مجھے ان کے سیاسی نظریے بلکہ ان کی سیاسی زندگی سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ اپنے مخالفین
مزید پڑھیے