اوریا مقبول جان



اسلامی جمہوری سیاست کا المیہ


کس قدر عبرت کا مقام ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں شیطان کے حربوں اور چالوں میں سے کامیاب ترین چال مفلسی کا خوف قرار دیا ہے، فرمایا ''شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے (البقرہ:268)، اور آج پوری امت مسلمہ کی مذہبی و سیاسی قیادت پوری قوت سے ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمانوں کو مفلسی کے خوف سے مسلسل ڈرائے چلی جا رہی ہے۔ وہ ایک اہم ترین ذمہ داری جو شیاطین نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی اس کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے بڑے بڑے صاحبان
اتوار 16 فروری 2020ء

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

هفته 15 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا مسکن ''داستان سرائے'' بھی بک گیا۔ اسے بکنا ہی تھا، ہم نے پہلے کونسی اہل علم و دانش کی نشانیاں سنبھال رکھی ہوئی ہیں۔ کوئی جانتا ہے کہ مال روڑ اور ہال روڈ لاہور کے سنگھم پر ایک خوبصورت عمارت لکشمی مینشن ہے جسے پلازوں کی بھرمار اور بل بورڈوں کی یلغار چھپائے بیٹھی ہے۔اس بے ہنگم ترقی کے شور میں دبی ہوئی اس عمارت میں کبھی سعادت حسن منٹو رہا کرتا تھا، ایک دنیا آج جس کے افسانوں کی دیوانی ہے، جہاں اردو کے صاحب طرز ادیب مولانا محمد حسین آزاد کا
مزید پڑھیے


حوصلہ مند بہادر، جرأت مند

جمعه 14 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ بہت حوصلہ مند، بہادر اور جرأت مند سیاسی لیڈر،انسانی حقوق کے علمبردار اور دانشور کالم نگار ہیں جو جرم کی سنگینی، وحشت، درندگی اور مقتول معصوم بچوں کی بے بسی کو جانتے ہوئے بھی مجرم کی عزت کیلئے سرعام سزا کی مخالفت کر رہے ہیں۔شاید اس لیے کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی ایسی تکلیف دہ راتیں اور اذیت ناک دن نہیں گزارے کہ جب ان میں سے کسی کی بیٹی یا بیٹا اچانک غائب ہو جائے، اور وہ اس کی تلاش میں سرگرداں سر پٹکتے رہیں، انہیں طرح طرح کے خیالات گھیر لیں،انہیں رہ رہ کر
مزید پڑھیے


ایک بیوروکریٹ اور تبدیلی کے خواب کی تکمیل

جمعرات 13 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
اس بات کا ادراک مجھے آج سے پینتیس سال قبل سول سروسز اکیڈمی کی دو سالہ ٹریننگ کے دوران ہی ہو گیا تھا کہ پاکستان کے زوال، پستی، خرابی، غربت، کرپشن اور دیگر مسائل کی وجہ جہاں لاکھوں بیوروکریٹوں کا ٹولہ ہے، وہیں اس مرض کو بھی صرف اور صرف چند اہل اور جذبے سے سرشار بیوروکریٹ ہی ٹھیک کر سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انتظامی مشینری کی پیچیدگی سے یہی لوگ واقف ہوتے ہیں اور اس مشینری کو مزید پیچیدہ تر بنانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔انہیں ہی علم ہوتا ہے کہ عوام کے وسائل
مزید پڑھیے


کمرے میں ہاتھی

اتوار 09 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
بنائوٹی ‘ جھوٹی اور گھڑی ہوئی کہانیوں کو انگریزی زبان میں فیبلر(Fables)کہتے ہیں۔ روس کے شہر ماسکو میں زار روس کے زمانے میں ایک ایسا شخص مشہور تھا جو ایسی کہانیاں لکھنے میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ یہ شخص ایوان کرائیلو(ivan Krylov)اپنی ان تحریروں کی وجہ سے بہت مشہور ہوا۔ حالانکہ وہ شاعر ‘ ڈرامہ نگار‘ناول نگار‘ مترجم اور سب سے بڑھ کر صحافی بھی تھا۔ اس نے 1814ء میں ایک بنائوٹی اور جھوٹی کہانی یعنی فیبل تحریر کی جس کا نام تھا متجسس آدمی(inquisitive man) اس کہانی میں ایک شخص عجائب گھر کی سیر کے لئے جاتا ہے اور وہاں
مزید پڑھیے




پاکستانی معیشت،غلام عبّاس کا اوور کوٹ اور عمران خان

هفته 08 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ بالکل درست ہے کہ عمران خان کو ایک ایسا اجڑا ہوا اور برباد پاکستان ملا جس کی حالت غلام عباس کے افسانے ''اوور کوٹ'' جیسی تھی۔ جس کا ہیرو ایک انتہائی خوش پوشاک شخص ہوتا ہے جو بہترین لباس پہنے، اوور کوٹ زیب تن کیے، ہیٹ سر پر رکھے مٹر گشت کر رہا ہوتا ہے اور اچانک کسی گاڑی کی زد میں آکر انتقال کر جاتا ہے۔ ہسپتال میں سنگ مر مر کی میز پر لٹا کر جب پوسٹ مارٹم کے لیے اس کے کپڑے اتارے جا رہے ہوتے ہیں تو اس کی غربت و افلاس اورکسمپرسی سامنے آتی
مزید پڑھیے


تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

جمعه 07 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
بدنما جمہوری تاریخ کے چہرے پر 5 فروری 2020 کی تاریخ بھی ایک اور داغ کی صورت ہمیشہ یاد رہے گی، جب 53 ووٹوں کی اکثریت نے 47 ووٹوں کی اقلیت پر اپنا آمرانہ فیصلہ مسلط کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ہم انصاف اور عدل کے کسی بھی تقاضے کو نہیں مانتے۔امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ چونکہ رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتا ہے،اس لیے ہم اس کے جرائم کے ثبوتوں کے باوجود اسے سزا دینے کی اجازت دیں گے اور نہ ہی اسے کسی مقدمے کا سامنا کرنے دیں گے۔ وہ بدستور اگلے الیکشن تک جمہوری نظام کے سب سے
مزید پڑھیے


ہم میں آر ایس ایس جتنا یقین بھی نہیں

جمعرات 06 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
ہم سے زیادہ اپنے نظریے اور مذہب پر پختہ یقین کا مظاہرہ بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوؤں نے کیا،جب انہوں نے قومی ریاستوں کے تصور کے وجود میں آنے کے فورا بعد اس بات کا اعلان کر دیا کہ ہم قومیت کے علاقائی تصور ''Territorial Nationality'' کو بھارت کی حد تک نہیں مانتے۔ ہم لیگ آف نیشنز کہ اس تصور کی بنیادی طور پر نفی کرتے ہیں جس کے مطابق جو جس جگہ پیدا ہوا، وہی اس کا وطن ہے۔ہم ایسا بھارت کے معاملے میں نہیں مانتے۔ یہ صرف اور صرف ہندوؤں کا وطن ہے۔ یہاں پیدا
مزید پڑھیے


اسلامی نہیں محدود غیر سودی بینکاری (آخری قسط)

اتوار 02 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
انگلینڈ کی حکومت نے سب سے پہلے 1931ء میں کاغذی کرنسی کا اجراء کیا،لیکن یہ کساد بازاری کا زمانہ تھا، لوگ گھبرا کر بینکوں سے ان کاغذوں کے بدلے سونا طلب کرنے لگے تو حکومت نے نوٹوں کے بدلے سونے کی ادائیگی کا نظام ہی ختم کردیا۔ امریکہ نے 1933ء میں کاغذی نوٹوں کا اجراء کیا، لیکن ساتھ یہ بھی قانون بنایا دیا کہ کاغذی کرنسی کا کم از کم چالیس فیصد بینک سونے کی صورت رکھیں گے۔ فرانس نے بھی 1933ء میں چالیس فیصد سونا بینکوں میں رکھنا لازمی قرار دے دیا۔ اس کاغذی کرنسی کو زبردستی نافذ
مزید پڑھیے


اسلامی نہیں محدود غیر سودی بینکاری…… (قسط 2)

هفته 01 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
جدید مغربی تہذیب جو اس وقت دراصل پوری دنیا کے لیے ایک سٹینڈرڈ یعنی مسلمہ معیار کا درجہ حاصل کر چکی ہے اس کی ترقی و نشوونما اسکے قائم کردہ سودی عالمی مالیاتی نظام کی مرہون منت ہے۔ اس مالیاتی نظام نے مسلم امہ کے اربابِ فکر و فقہہ کے سامنے ایک بہت بڑا سوال رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس عالمی مالیاتی نظام کو جو سراسر غیر اسلامی ہے یکسر مسترد کردیا جائے یا پھر اسی نظام میں تھوڑی بہت تطہیر کرکے اسے کسی حد تک اس قابل کر لیا جائے تاکہ تھوڑا سا اطمینان قلب نصیب
مزید پڑھیے