BN

اوریا مقبول جان



مغرب کی علم دشمنی کی روایت کا تسلسل (آخری قسط)


گلیلیو کے مقدمے اور جیل خانے میں موت، دراصل قدیم رومن اور یونانی مذہبی نظریات کے ٹکرائو کی وجہ سے ہوئی۔ یہ ایسے نظریات تھے جنہیں پادریوں نے عیسائی مذہب کا حصہ بنا لیا اور پھر اس پر ڈٹ گئے۔ بائبل کی تعلیمات سے الگ تھلگ یہ ایک مذہبی سائنسی فکر تھی جو پادریوں کی زبان پر جاری تھی۔ جیسے ارسطو کا نظریہ کہ ’’سورج ساکن اور زمین چپٹی ہے‘‘ ایسی سائنس کو الہامی اشیر باد دینے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہر سائنسی تصور کو مذہب کی پیش گوئیوں سے منسلک کر دیا جائے۔ ایسے میں جب کوئی
جمعرات 05 دسمبر 2019ء

مغرب کی علم دشمنی کی روایت کا تسلسل (قسط 1)

بدھ 04 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
شیکسپیئر کے ڈراموں سے جنم لینے والے تمام کردار وائرس کی طرح ہر اس ملک کے بچوں کے ذہنوں میں ڈال دیئے گئے ہیں جہاں انگلش میڈیم ذریعہ تعلیم رائج ہے۔ ان کرداروں میں ایک جولیس سیزر بھی ہے جس کی رنگارنگ کہانی میں خوبصورت بلکہ قلوپطرہ بھی ہے اور بے وفا دوست،بروٹس بھی۔ شیکسپیئر کے کرداروں کو چارلس لیمب (Charles lamb) نے بچوں کیلئے تحریر کیا اورپھر انہیں ڈراموں، فلموں اور ضرب المثل کی صورت تحریروں میں زندہ رکھا گیا۔ جس طرح یورپ کے مورخین نے یونان کے سفاک فاتح،سکندر کا ایک مرنجامرنج اور نرم خو چہرہ
مزید پڑھیے


پرانے شکاری، نیا جال لائے

منگل 03 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
کیمونسٹ طلبہ تحریک کی شروع دن سے ہی تین علامتیں تھیں، اور آج تیس سال کے وقفے کے بعد جب اس تحریک کا دوبارہ آغاز کرنل (ریٹائرڈ) فیض احمد فیض کی یاد میں منعقد لاہور میں امن میلے پر '' لال لال لہرائے گا'' گا کر کیا گیا تو وہی تین علامتیں ویسے ہی نظر آتی تھیں۔ امریکی اور یورپی امداد سے چلنے والی این جی اوز میں تیس سال پناہ لینے والے افراد اب سیکولرزم کے بوسیدہ لباس سے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ تین علامتیں تھیں (۱) الحاد:یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کے عطا کردہ نظام
مزید پڑھیے


پرانے شکاری، نیا جال لائے (قسط 1)

پیر 02 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
لاہور کی سڑکوں پر سرخ سویرے کا پرچم اٹھانے والے یہ وہی لوگ ہیں گذشتہ پچیس سال سے امریکہ، یورپ اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے بڑے بڑے بتوں کے سامنے سجدہ ریز تھے۔اپنا قبلہ بدلنے میں کمال رکھتے ہیں۔ جس دن سوویت یونین کے شہر لینن گراڈ میں غصے میں بپھرے ہوئے ہجوم نے سویت یونین کے بانی ولادی میر لینن کا مجسمہ گرایا، پچھتر سال سے روس پر مسلط جبر و استبداد کے نظام کا بوسیدہ لباس اتارا، لینن گراڈ کا نام بدل کر واپس مذہبی شخصیت کے نام پر سینٹ پیٹرزبرگ رکھا، تو عین اسی
مزید پڑھیے


یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا ؟ (آخری قسط )

جمعرات 28 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
آکسفورڈ جسے سب بڑا خیراتی ادارہ اور سب سے بڑا گرامر سکول سمجھا جاتا تھا وہاں بھی طبقاتی نظام تعلیم رائج تھا۔ برطانیہ میں یہ قانون رائج تھا کہ ''کوئی شخص اپنے بچے کو اسوقت تک سکول میں داخل نہیں کرے گا جب تک اسکی زمین یا مکانوں کے کرائے کی آمدنی 20 شیلنگ سے نہ ہو '' سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی میں جب مغلیہ ہندوستان میں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ ہر کوئی بلاتخصیصِ مذہب، رنگ، نسل اور ذات پات، اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرا سکتا تھا تو اس وقت برطانیہ
مزید پڑھیے




یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟ (قسط 2)

بدھ 27 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
اورنگزیب عالمگیر کا ہندوستان اپنے دور میں آباددنیا کی تہذیبوں میں علم و عرفان کا ایک درخشندہ ستارہ تھا۔ ایک ایسا خطہ جس میں گلی گلی اور گاؤں گاؤں سکول کالج اور یونیورسٹیاں لوگوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی تھیں۔ اس عظیم علمی میراث کی گواہی کسی مسلمان مورخ یا ہندوستان میں آباد شاہی وظیفہ خوار ہندولکھاری نے نہیں بلکہ انگریز حملہ آوروں نے دی ہے، جنہوں نے حکومت سنبھالنے کے بعد اس سارے علمی ماحول کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیاتھا۔ ہندوستان کے عظیم نظام تعلیم کی پہلی گواہی ایک برطانوی پادری
مزید پڑھیے


یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟ (قسط 1)

منگل 26 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
شاید چند برسوں بعد کوئی اس قافلے کے لٹنے کا ماتم کرنے والا بھی میسر نہ ہو۔آج یہ داستان رقم کر دو، مرتب کردو کہ شاید گردآلود الماریوں میں موجود بوسیدہ کتابوں سے آج سے کئی سال بعد کسی کو اس تہذیب کے لٹنے اور برباد ہونے کا سراغ مل جائے۔ تہذیبیں آہستہ آہستہ اجڑتی ہیں اور لوگ نئی تہذیب کو بھی آہستہ آہستہ اوڑھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی منصوبہ بندی سے تبدیلی لائی جا رہی ہو تو اسکی رفتار بہت تیز ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ تبدیلی لانے والے گذشتہ تہذیب کے نشان تک بھی مٹا دیتے
مزید پڑھیے


پارٹی فنڈنگ کا صندوق

پیر 25 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جمہوری سیاست، کاروباری دنیا اور سفید پوش جرائم کا دھندا، ان تینوں کا آپس میں تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنا سیاسی پارٹیوں کا وجود اور ان کے اخراجات کے نام پر ''پارٹی فنڈ'' کا گھناؤنا گھن چکر۔ امیر ترین ممالک سے لے کر غریب اور قحط زدہ ممالک تک، سب اس جمہوری چکاچوند پر بیش بہا سرمایہ لٹاتے ہیں۔ پورے ملک میں پارٹیوں کے دفاتر قائم ہوتے ہیں جن کے مسلسل اخراجات ہوتے ہیں، لیڈران کرام ملک بھر میں دورے کرتے ہیں، سارا سال چھوٹے موٹے جلسے، کارنر میٹنگیں، عید ملن پارٹیاں، افطاریاں وغیرہ ہوتی رہتی ہیں۔ بڑے بڑے
مزید پڑھیے


داتا کی نگری کا سکون

جمعرات 21 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
لاہور کی داستان سنانے والے کچھ ہندو ثقافت زدہ سیکولر دانشور لاہور کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو یہاں کے بے ایمان گوالے دودھ میں گٹر کا گندہ پانی ملانے سے کرتے ہیں۔ لاہور سیدنا علی بن عثمان ہجویری کی آمد کے وقت ایک چھوٹی سی گوالوں کی بستی تھی،جس کے بارے میں خود حضرت داتا گنج بخشؒ نے فرمایا ’’لاہور یکِ از مضافاتِ ملتان است‘‘(لاہور ملتان کی مضافات میں سے ایک ہے)۔ اس زمانے میں بڑے شہر بہت کم ہوتے تھے اسی لیے ان کی مضافات بھی کئی سو میل پر پھیلی ہوتی تھیں۔ لیکن میرے یہ دوست
مزید پڑھیے


پاکستان کی مذہبی جمہوری سیاست کا طرز استدلال

بدھ 20 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
ایک زمانہ تھا کہ مسندِ ارشاد پر فائز علمائے کرام، مفتیانِ عظام اور صوفیائے باصفا کو لوگ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں سے تشبیہہ دیا کرتے تھے۔ کسی کو اپنے وقت کا امام ابو حنیفہ ؒ کہہ کر پکارا جاتا کہ اس نے فقہ میں بے مثال کام کیا تھا تو کسی کو ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر اسے امام احمد بن حنبلؒ کا مثیل قرار دیا جاتا۔ دین کی راہ پر چلنے والوں، قربانیاں دینے والوں کی بے غرض تگ و دو ان کا طرۂ امتیاز تھی۔ جب جاہ
مزید پڑھیے