BN

اوریا مقبول جان


جمہوریت سے دُوری اور مضبوط مرکز


جدید دور کا سیکولر ازم دراصل ایک زمینی مذہب ہے،جو اپنے ماننے والوں سے اپنے تمام عقائد ونظریات کو مکمل طور پر اپنانے اور ان پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے کا تقاضہ کرتا ہے۔ان عقائد و نظریات سے ایک طرزِ زندگی اور لائف سٹائل جنم لیتا ہے،جس کا سیاسی چہرہ مغربی جمہوریت ہے، معاشی چہرہ سودی معیشت ہے،اخلاقی چہرہ تمام جنسی اخلاقیات کا مذہب کی قید سے آزادی ہے اور معاشرتی چہرہ عورت کے حقوق کی وہ معراج ہے جس میں وہ اتنی خود مختا رہو جائے کہ اسے زندگی گزارنے کیلئے کسی مرد کی ضرورت تک محسوس
اتوار 25 جولائی 2021ء مزید پڑھیے

پرانے شکاری۔ پراناجال

هفته 24 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
ابھی نائن الیون نہیں ہوا تھا۔ دنیا کے نقشے پر نیویارک مین ہیٹن میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں بلند وبالا ٹاور سلامت تھے۔نہ دہشت گردی تھی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ۔، اس سب کے باوجود بھی سب کچھ نارمل نہیں تھا۔ اس لیے کہ جس دن سے افغانستان کے پچانوے فیصد حصے پر طالبان نے اپنی حکومت قائم کرکے یہ ’’مثالیہ‘‘ دنیا پر واضح کردیا تھا کہ شریعتِ اسلامی ایک ایسا نافذالعمل نظام ہے ،جس میں لوگ پرامن اور بے خوف زندگی گزار سکتے ہیں اور وہاں انصاف اور حکومتی رٹ ایسی ہوتی ہے
مزید پڑھیے


طالبان:فنِ سپاہ گری وسفارت کاری کے نئے قائدین

اتوار 18 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
فلیچر سکول آف ڈپلومیسی، سفارت کاری کی تعلیم و تربیت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے معتبر ادارہ سمجھا جاتا ہے جو یونیورسٹیوں کے شہر بوسٹن میں واقع ہے۔ اسی طرح ایک منظم فوج کی تعلیم و تربیت کے لیے یوں تو ہر عالمی طاقت اور ہر ملک نے اپنے ہاں ادارے قائم کر رکھے ہیں لیکن برطانیہ میں 1801ء میں قائم ہونے والے ’’رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ‘‘کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ دونوں ادارے اعلیٰ درجے کے سفارت کار اور بہترین عسکری قیادت کی تخلیق، تربیت اور نوک پلک سنوارنے کے عمل میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ دنیا بھر
مزید پڑھیے


بدتہذیب، متعصب، سازشی گورا(آخری قسط)

هفته 17 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
پرنس چارلس اور اسکی بیوی بغیر کوئی تاثر دیئے دیوانِ عام میں سنگِ مرمر کی اس خوبصورت دیوار سے آگے نکل گئے، جس پر ان کے ہم وطنوں کی بدتہذیبی کے نقش آج بھی کنندہ نظر آتے ہیں۔ گوروں نے وہاں اپنے نام کے ساتھ شہر اور فوجی یونٹ کا نام بھی لکھ رکھا ہے۔ کوئی محقق اگر تحقیق کرنا چاہے تو وہ برطانیہ میں ان گھرانوں تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے، جن کے آباؤ اجداد نے اس عالمی ورثے کی خوبصورت اور مرصع دیوار کا حلیہ بگاڑا تھا۔ میری ایک مختصر سی ملازمت اقوامِ متحدہ کے منشیات کے
مزید پڑھیے


بدتہذیب، متعصب، سازشی گورا

جمعه 16 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
بادشاہی مسجد لاہور کی سیڑھیوں کے پاس میں نے ایک سابقہ نوآبادیاتی طاقت ’’برطانیہ‘‘ کے تخت کے وارث شاہزادہ چارلس اور اس کی دوسری بیوی کمیلا پارکر کا استقبال کیا۔ یہ نومبر 2006ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ ہاتھ ملاتے ہوئے نہ جانے کہاں سے میرے بدن میں وہ ساری نفرت اور دکھ ایکدم سمٹ کرایسے آگیا کہ میرا پورا جسم اینٹھنے لگا۔ میری آنکھوں کے سامنے نہ صرف برصغیر پاک و ہند کی تین صدیاں گھوم گئیں، بلکہ دماغ میں خلافتِ عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے کے لیئے برطانوی سازشوںکی طویل داستان بھی انگاروں کی طرح دہکنے لگی۔ میں اپنی
مزید پڑھیے



طالبان فوبیا کے نفسیاتی مریض

جمعرات 15 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
14جولائی 2021ء کی صبح ستائیس سال بعد ایک بار پھر ایسا ہوا ہے کہ طالبان کا سفید پرچم چمن سے تین کلومیٹر پر واقع بارڈر پر لہرایا گیا ہے۔ امریکیوں کے آنے کے بعد اس سرحد کو سخت سے سخت کرنے اور دونوں جانب نشانے باز بٹھا کر اسے گذرنے والوں کے لیئے ناممکن بنانے کی جتنی کوشش ہوئی ہے، شاید دنیا کی چند ایک سرحدوں پر ہی ایسا ہوا ہو گا، جیسے یروشلم کی یہودی بستیوں کی دیوار ، پاکستان بھارت باڑ یا بنگلہ دیش بھارت سرحدی باڑ۔ اس واقعہ کی تصدیق کے لیئے چمن شہر کے لاتعداد لوگوں
مزید پڑھیے


طالبان کی آمد: خوفزہ کون؟ (آخری قسط)

اتوار 11 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
طالبان جب 24جون 1994ء بمطابق 15محرم 1415ھ بروز جمعہ ایک سادہ سی تحریک لے کر اٹھے تو اس وقت تک دنیا بھر میں لاتعداد اسلامی تحریکیں نفاذ شریعت کیلئے اپنے اپنے ملکوں میں جہدوجہد کررہی تھیں، مگر مسلسل شکست اور ناکامی ان کا مقدر تھی۔ ان تمام اسلامی تحریکوں کے پاس ایک ہی ’’نسخہ ‘‘تھا، یعنی پُرامن سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ حسبِ ذائقہ جمہوریت کا تڑکا ۔یعنی کسی ملک میں کسی بھی قسم کی حکومت ہوسب کو بدلنے کا ایک ہی راستہ۔ مثلاً پاکستان میں آئین ہے، الیکشن ہے، یہاں بھی انقلاب کا نسخہ پُرامن سیاسی جمہوری جدوجہد ہے
مزید پڑھیے


طالبان کی آمد: خوفزہ کون؟……(5)

هفته 10 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس قدر حوصلہ، وسیع القلبی اور معاف کرنے کا جذبہ طالبان کی موجودہ قیادت کو عطا کیا ہے، اس کی نظیر کم از کم گذشتہ نصف صدی کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ طالبان کے گذشتہ پانچ سالہ اقتدار میں کہیں کہیںانتقام اور خصوصاً قبائلی طرزِ انتقام کی جھلکیاں نظر آتی تھیں اور ان میں افغان معاشرے کی سخت گیری بھی موجود تھی۔ طالبان نے جب کابل کو فتح کیا تو پورے شہر میں ایک انجانا خوف تھا جسے نجیب اللہ کی سرعام پھانسی نے مزید گہرا کر دیا۔ اس کے بعد جب دنیا بھر کی
مزید پڑھیے


طالبان کی آمد: خوفزہ کون؟……(4)

جمعه 09 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
کس قدر حیران کن بات ہے کہ افغانستان میں عالمی طاقتوں کو شکست دینے کے بعد جس دن سے اس بات کا امکان بڑھتا چلا جارہا ہے کہ اب یہاں طالبان کا اقتدار آنے والا ہے ، اس دن سے دنیا بھر میں ان کی آمد سے پہلے ایک ایسا خوف پھیلایا جارہا ہے جیسے اچانک کوئی وبا پھوٹنے والی ہو۔ مگر افغانستان میں اسکے بالکل برعکس عالم یہ ہے کہ بیس سالہ جنگ کے خاتمے پر افغانستان میں موجود تقریباً تمام طبقات طالبان کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال اسماعیلی اقلیت کی ہے، جن کی
مزید پڑھیے


طالبان کی آمد: خوفزدہ کون؟……(3)

جمعرات 08 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
جب طالبان نے کابل شہر اور پچانوے فیصد افغانستان پر اپنا کنٹرول مکمل کیا تو پھر باقی افغانستان پر انکی گذشتہ دو سالہ صاف و شفاف حکومت کی شہرت کی وجہ سے یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ افغانستان بحیثیت ایک قومی ریاست دنیا کے نقشے پر یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہوگا کہ اسلامی شریعت کے ثمرات ،کسقدر قابل عمل ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب نے اردگرد کی شیعہ آبادی میں ایک ’’انقلابی‘‘ روح پہلے سے ہی پھونک رکھی تھی اور لبنان سے لے کر عراق، بحرین اور یمن کی شیعہ آبادی کے دل سے ان ممالک پرجنگِ
مزید پڑھیے








اہم خبریں