BN

اوریا مقبول جان



’’لائسنس ٹو کِل‘‘


ریاست مدینہ کا تو ذکر کرتے ہوئے کسی بھی سیاستدان کو ہزار مرتبہ اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے‘ وہ تو اللہ کی حاکمیت کا اعلان اور اس کے قوانین کے تابع آخرت کی جوابدہی کے تصور سے عبارت ایک معاشرہ تھا جس کے کسی ایک چھوٹے سے تصور کی جھلک بھی کسی ریاست میں نظر آ جائے تو لوگ پکار اٹھتے ہیں کہ وہ دیکھو انہوں نے اسلام کے اس قانون پر عمل کیا تو آج کس قدر سکون میں ہیں۔ اقبال نے جب اللہ کے حضور شکوہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پہ‘‘
پیر 21 جنوری 2019ء

دنیا بھر میں یکساں نظام تعلیم:کارپوریٹ غلامی کی تربیت گاہ

جمعه 18 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
جو لوگ ابھی تک لارڈ میکالے کے نظامِ تعلیم کا ماتم کرتے چلے آئے ہیں انہیں کچھ دیر کے لئے اپنے اس ماتم اور نوحہ و گریہ کو روک کر آج کے جدید نظام تعلیم کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔ ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے جس جدید مغربی تہذیب نے جنم لیا ہے‘ اس نے اپنی بقا کے لئے پوری دنیا میں یکساں نظام تعلیم مرتب کیا ہے۔ لارڈ میکالے کا نظام تعلیم دہرا معیار رکھتا تھا۔ حکمرانوں کے لئے علیحدہ اور محکوموں کے لئے مختلف۔ لیکن جدید
مزید پڑھیے


امریکہ کے 2020ء کے خواب

بدھ 16 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
امریکی حکومت کے بارے میں دنیا بھر کے سیاسی، اقتصادی اور عالمی امور کے ماہرین متفق ہیں کہ اسے نہ تو وائٹ ہائوس میں بیٹھنے والا صدر چلا رہا ہوتا ہے اور نہ ہی سینٹ یا ایوان نمائندگان میں منتخب ہو کر آنے والے اراکین۔ یہ تو دنیا بھر کو دکھانے کے لیے ایک جمہوری چہرہ ہے ورنہ آپ امریکی صدور یا ممبران سینٹ سے انٹرویو کر کے دیکھ لیں، ان میں سے اکثریت کو اس بات کا ادراک تک نہیں ہوگا کہ امریکہ کی خارجہ، داخلہ، یا دفاعی پالیسیوں کے مقاصد اور اہداف کیا ہیں۔ امریکہ ویت نام میں
مزید پڑھیے


یکساں نظام تعلیم کا نعرہ

پیر 14 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ چالیس سالوں سے پاکستان کے نظام تعلیم میں غیر ملکی کیکٹس کے خار دار پودوں کی طرح تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس ملک میں لاتعداد تعلیمی طبقات کو جنم دیا ہے۔ اس وقت چار واضح قسم کے تعلیمی ادارے‘ مختلف مقاصد‘ مختلف طریقہ ہائے تعلیم اور مختلف وسائل کے تحت چل رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ دینی مدارس ہیں جو برصغیر پاک و ہند میں 1781ء میں قائم ہونے والے کلکتہ مدرسہ کی چھاپ ہیں۔ یہ پہلا خالصتاً دینی مدرسہ وارن ہیٹنگ نے قائم کیا تھا۔ اس سے پہلے برصغیر پاک و ہندمیں دینی
مزید پڑھیے


نہ خد اہی ملا‘ نہ وصالِ صنم

جمعه 11 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
سیکولر ‘ لبرل اور سود پرست جمہوری دانشوروں کا ایک طریق کار ہے جسے وہ اس وقت سے نبھا رہے ہیں جب سے 1947ء کی چودہ اگست کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ایسی ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا جو اسلام کے نام پر بنی تھی۔ انہیں کسی اور مذہب کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ریاست سے کوئی نفرت نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ عیسائیت کی بنیاد پر انڈونیشیا سے الگ ہونے والے خطے مشرقی تیمور کی بھی مخالفت کرتے۔ انہیں 9جولائی 2011ء کو عیسائیت کے نام پر سوڈان سے آزاد ہونے
مزید پڑھیے




خراب الھند من الصین(ہند کی خرابی چین سے)

بدھ 09 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ کہ جن کا سارا کاروبار سیاست و معیشت ہی غریب و پسماندہ ملکوں کو سودی قرضوں میں جکڑنے سے چلتا ہو‘ جنہوں نے آئی ایم ایف‘ ورلڈ بنک اور تجارتی بنکوں کے ذریعے پوری دنیا کو یرغمال بنایا ہو‘ اس مغربی دنیا کی عالمی طاقت امریکہ کا نائب صدر مائیک پینس(Mike pence)اچانک تڑپ کرکہتا ہے کہ سری لنکا کی مثال ان تمام ملکوں کے لئے ایک وارننگ ہے جو ایک بیلٹ ایک روڈ کے منصوبے کا حصہ ہیں‘ کیونکہ چین انہیں قرضوں کے جال (debt trap)میں پھنسا رہا
مزید پڑھیے


ریاست مدینہ: مقصد اولیٰ کیا ہے

پیر 07 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
جمہوریت اور جمہوری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اس کی معراج اور کامیابی کی منزل مادی خوش حالی سے زیادہ نہیں۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک کی سیاسی پارٹی کے منشور کو اٹھا کر دیکھ لیں اس کے اندر دنیا میں کامیابیوں کی ایک طویل فہرست دی گئی ہوگی۔ بہت سے بلند بانگ دعوے کئے گئے ہوں گے کہ اگر ہم برسراقتدار آ گئے تو صحت، تعلیم، صاف پانی، روزگار، شاندار مواصلاتی نظام، بہترین شاہراہیں، تجارتی منڈیاں اور کاروباری سہولیات میسر کریں گے۔ یوں ہمارے برسراقتدار آنے سے خوشحالی راج کرے گی۔ امریکہ ہو یا برطانیہ، فرانس
مزید پڑھیے


اٹھارہویں ترمیم کی نسلی یا انتظامی اکائیاں

جمعه 04 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
ہمیں گزشتہ ستر سال سے معاشرتی علوم کی درسی کتابوں‘ سیکولر ‘ لبرل اور ترقی پسند دانشوروں کی مرتب کردہ تاریخوں سے یہ سب پڑھایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان دراصل پانچ اکائیوں‘ بنگال‘ سندھ‘ پنجاب‘ اس دور کا برٹش بلوچستان اور اس دور کے شمال مغربی سرحدی صوبے نے مل کر بنایا ہے۔ یہ تاثر گزشتہ ستر سالوں میں اس لئے لوگوں کے ذہن میں کوٹ کوٹ کر بھرا گیا کہ کہیں پاکستان میں بسنے والے تحریک پاکستان کی اصل روح یعنی مسلمان ایک قوم یا ایک امت کو بھولے سے بھی یاد نہ کرلیں۔ کیا یہ پانچوں اکائیاں
مزید پڑھیے


سال نو کا پہلا مجرم

بدھ 02 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
سال نو کی خوش بختی اور خوش نصیبی ہے کہ 2019ء کا آغاز میرے ٹیلی ویژن پروگرام ’’حرف راز‘‘ پر پابندی سے ہوا۔ ایک آگ جو مدت سے سلگ رہی تھی شعلہ بن کر بھڑک اٹھی۔ یہ چنگاری گزشتہ ڈیڑھ سال سے سلگ رہی تھی۔ عین اس دن سے جب سات ستمبر 2017ء کو میں نے پاکستان کی دوسری آئینی ترمیم والے دن‘ اس ترمیم کی یاد میں پروگرام کیا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی بنیاد‘ رنگ‘ نسل‘ زبان اور علاقے پر نہیں‘ مذہب یعنی اسلام پر رکھی گئی ہے۔ جس طرح ہر ملک اپنی وجۂ تخلیق
مزید پڑھیے


عالمی سودی اسٹیبلشمنٹ اور قرضوں کا جال(2)

پیر 31 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
قرضہ دینے والے امیر ممالک جو زیادہ تر شمال میں واقع ہیں اور ایک استحصالی سودی نظام کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں‘ عالمی سطح پر ایک ملک یا بہت بڑی کمپنی کی طرح کام کرتے ہیں اور قرضہ لینے والے غریب ممالک کو بھی وہ ایک ہی مقروض ملک یا زیر بار کمپنی کی طرح لیتے ہیں۔ ان کی صورت ایک خون چوسنے والے ساھوکار جیسی ہے جس کی مٹھی میں ایک کمزور مقروض کی گردن آ چکی ہو۔ ساٹھ کی دہائی کے ٹھیک بیس سال بعد جب ان قرضہ دینے والے ممالک کو اندازہ ہوا کہ اب دنیا
مزید پڑھیے