BN

اوریا مقبول جان


سرکاری ملازم:ہماری بے زبانی دیکھتے جاؤ


آج سے چند سال قبل جب مجھ پر امریکہ اور یورپ کے دروازے بند نہیں ہوئے تھے تو بیرونِ ملک رہائش پذیرپاکستانی چہرے تفکّر اور پریشا نی لئے اکثریہ سوال کرتے کہ پاکستان کا کیا حال ہے؟ ہم یہاں دور بیٹھے روز بری بری خبریں سنتے ہیں، یہاں کے اخبارات اور میڈیا تو ایسے بتاتا ہے جیسے وہاں جنگل کا قانون نافذ ہے، امن و سکون نام کو نہیں، ایک افراتفری ہے، ہر کوئی اپنی جان بچا کر بھاگتا چھپتا پھر رہا ہے۔ایسے ملک میں آپ کیسے زندگی گذارتے ہیں۔ میں ہنس کر ٹال دیتا کہ وہاں بحث کا کیا
جمعه 12 فروری 2021ء مزید پڑھیے

جمہوریت کی اکثریت میں اقلیت کی غلامی

جمعرات 11 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
گجرات ،کاٹھیا وار کا تاریخی علاقہ جسے 1197ء میں قطب الدین ایبک نے اپنی سلطنت میں شامل کیا تھااوراس خطے پر مسلمانوں کا یہ اقتدار 1614ء تک قائم رہا۔بحرِ ہند کے کنارے آباد اس خطے میں ولندیزی، پرتگالی، فرانسیسی اور انگریز، چاروں نو آبادیاتی قوتوں نے اپنے اپنے اڈے قائم کیے۔ یوں اس علاقے میں آپ کو ہر مذہب کے ماننے والوں کی ایک نمائندہ تعداد ضرور مل جائے گی، لیکن اتنی زیادہ نو آبادیاتی قوتوں کی حکومتوں کے باوجود آج بھی یہاں ہندو آبادی 90فیصد کے قریب ہے ،جبکہ ایک فیصد آبادی میں عیسائی، پارسی، جین اور بدھ شامل
مزید پڑھیے


جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل

اتوار 07 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
عالمی تجزیہ نگار اور میدانِ سیاست کے دانشور جوآجکل جنوبی ایشیا اور مشرقِ بعید میں لمحہ لمحہ بڑھتی ہوئی کشمکش کا مسلسل جائزہ لے کر ان پر گفتگو کرتے اور تجزیے تحریرکرتے ہیں،ان کے نزدیک اس وقت سب سے بڑا موضوع یہ ہے کہ برما میں سیاسی تبدیلی کے بعد اگلا کونسا ملک نشانے پر ہوگا، بنگلہ دیش یا پاکستان۔ چین کی دفاعی حکمتِ عملی کیلئے ان دونوں ملکوں میں سیاسی استحکام بہت ضروری ہے۔ پڑوس کا افغانستان بھی اس کی کامیابی کیلئے بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میںاس وقت سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین کی
مزید پڑھیے


جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل……(2)

هفته 06 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
بھارت کے تازہ ترین فوجی بجٹ میں اضافے اور اسلحہ کی خریداری کا جس طرح مذاق اس وقت چین کے دفاعی تجزیہ نگار اُڑا رہے ہیں ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین ایسے امریکی چار ملکی اتحاد سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہے کیونکہ بھارت اس اتحاد کا فرنٹ لائن لڑاکا ہے۔ چین کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوسرے ملکوں سے اسلحہ خرید کر کوئی ملک دنیا کے فوجی نقشے پر ایک قوت کے طور پر کبھی نہیں ابھرسکتا۔ چینی اخبار نے کرونا سے مارے ہوئے بھارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اپنی گرتی ہوئی
مزید پڑھیے


جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل

جمعه 05 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور دانشوربرادری روزمرہ کے لایعنی اور فضول جھگڑوں میں مستقل اور مسلسل الجھی ہوئی ہے، جلوسوں، جلسوں، شور مچاتے ٹی وی ٹاک شوز اور’’مہذب‘‘ پارلیمنٹ کے اکھاڑوں میں گونجتی آوازوں میں ان شخصیات کو نہ تو خطے میں آنے والی جنگ کے ڈھولوں کا شور سنائی دے رہا ہے اور نہ ہی آسمان پر منڈلاتے جنگ کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔میرے ملک کے محدود زاویۂ نظر رکھنے والے اکثر دانشور اور تجزیہ نگار جو عوامی مقبولیت کے لیئے روز پاپڑ بیلتے ہیں اور ’’ریٹنگ‘‘ کی دوڑ میں اندھے ہوچکے ہیں، ان کی حالت بالکل بغداد
مزید پڑھیے



گراں خوب چینی سنبھلنے لگے

جمعرات 04 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
ابھی ڈونلڈ ٹرمپ کے عرصۂ صدارت میں پورا ایک سال باقی تھا کہ 4نومبر 2019ء کوامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دستخطوں سے ایک دستاویز جاری ہوئی جس کا عنوان تھا ’’ایک آزاد اور کھلا بحرِ ہند و بحرالکاہل‘‘ (A free and open Indo-Pacific)۔ تیس صفحات پر مشتمل اس لائحہ عمل کا خواب نومبر 2017ء میں ویت نام میں ہونے والے پینتیس ممالک کے اجلاس میں دیکھا گیا تھا۔ یہ تمام ممالک ’’ہند چینی‘‘ علاقے میں امریکہ کے حلیف اور دوست قرار دیئے گئے تھے، جن کی امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم دو ہزار ارب ڈالر تھا۔ان ممالک
مزید پڑھیے


ہمیں کس جہنم میں لے جایا جارہا ہے (آخری قسط)

اتوار 31 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
میڈیا اور نصابِ تعلیم کے گٹھ جوڑ سے معاشروں کو بدلنے کا تجربہ مغرب میں انتہائی کامیاب رہا۔ وہ معاشرے جہاں خاندانی اقدار و روایات، شرم و حیا اور مذہبی بالادستی چھائی ہوئی تھی وہاں سب سے پہلے ’’تحریکِ احیائے علوم‘‘ (Renaissance)کے نام پر آرٹ اور ادب میں نیم عریانی اور نیم فحاشی کے دروازے کھلے اور تحریر و تقریر میں جنسی جذباتیت کے اظہار کے لیے مذہبی اخلاقیات کو چیلنج کیا گیا۔ یوں تو اس تحریک کو اردو میں ’’احیائے علوم‘‘ کہا جاتا ہے لیکن یہ اپنے تمام تر مقاصد اور اہداف کے اعتبار سے ایک معاشرتی تبدیلی (Cultural
مزید پڑھیے


ہمیں کس جہنم میں لے جایا جا رہا ہے

هفته 30 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ کئی دہائیوں سے اس قوم کے زوال پرلکھنے والے اپنی تحریروں کا عمومی عنوان یہ رکھتے تھے کہ ’’ہم کہاں جارہے ہیں‘‘۔ ایسی تحریروں میں اخلاقی زوال، خاندانی روایات کے خاتمے، اور معاشرتی بے حسی کا تذکرہ ہوتا تھا۔ لیکن میں آج انتہائی دکھ ، کرب اور اذیت کے ساتھ یہ حقیقت بیان کر رہا ہوں کہ ہم بحیثیت قوم اپنے زوال کی طرف خود نہیں جارہے بلکہ ہمیں اس جہنم کی طرف زبردستی گھسیٹا جارہا ہے۔ اس اخلاقی زوال اور بدترین جنسی غلاظت کے گڑھے میں دھکیلنے کے ذمہ دار دو اہم گروہ ہیں، کار پردازانِ نظام تعلیم
مزید پڑھیے


یاجوج ماجوج کے آخری معرکے کی تیاریاں

جمعه 29 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
گیارہ جنوری 2007ء ایک ایسا دن تھا جس نے دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ امریکی عسکری ماہرین جو اپنی قوت و طاقت کا آخری مرکز و محور ’’خلا میں اپنی بادشاہت‘‘ کوسمجھتے تھے، سب کے سب انگشتِ بدندان رہ گئے۔اس دن چین کے خلائی مرکز ’’زی چنگ‘‘ (Xichang) سے خلا کی سمت ایک بلاسٹک میزائل نے اڑان بھری۔ اس میزائل کو ’’متحرک تباہ کن گاڑی‘‘(Kinetic Kill Vehicle) کہا جاتا ہے۔ میزائل تیزی سے پرواز کرتا ہوا زمین کے مدار سے نکلا اور خلا میں زمین سے 863کلومیٹر بلندی پر، چین کے موسمیاتی سیٹلائٹ ’’فینگین
مزید پڑھیے


شام پھر خون آشام ہونے کو ہے

جمعرات 28 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
یہ شخص امریکی سفارت کار ہے اور انگریزی کے علاوہ عربی، فرانسیسی، ترکی اور جرمن زبانوں پر عبور رکھتا ہے۔ اس کیبنیادی تعلیم کا مرکز و محور، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، معاشرت اور معیشت رہی ہے ۔ اس نے جانز ہوپکنز (Johns Hopkins University) سے مشرقِ وسطیٰ کی معاشرت و معیشت میں ایم اے کیا اور پھرقاہرہ کی امریکی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی۔ اس نے اپنی تمام سفارت کاری کی نوکری مشرقِ وسطیٰ میں گذاری۔ جب عراق میں امریکی افواج داخل ہوئیں تو یہ ازمیر، قاہرہ، الجزائر، کیمرون اور بحرین میں سفارت کا تجربہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں