BN

اوریا مقبول جان



بذریعہ ''سورس ''، معتبر ذرائع''


وہ پاکستانی جو صبح سویرے تلاش رزق میں نکلتے ہیں، شام گئے گھر لوٹتے ہیں تو ان کے سامنے دو درجن سے زیادہ ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھے ہوئے اینکرز دن بھر کی خبروں، واقعات، سانحات اور گرمجوش بیانات پر دھواں دھار پروگرام کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی چینل یا پروگرام پر یوں لگتا ہے پاکستان معاشی، عسکری اور مالیاتی طور پر ڈوب چکا ہے، گہری قبر میں دفنایا جا چکا ہے بس اعلان ہونا باقی ہے۔ کوئی پکارتا ہے ابھی نبض چل رہی ہے، سانس باقی ہے، مصنوعی تنفس دیا جارہا ہے، امید رکھنی چاہیے کہ اس کے تن
منگل 29 اکتوبر 2019ء

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

پیر 28 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
عام آدمی کا ذکر چھوڑیں کہ اس کا تو مقدر ہی ذلت و رسوائی اور دَر دَر کی ٹھوکریں ہیں، جیل کی بیرکوں میں کھائے، عدالتوں کے دروازوں پر کھائے یا ہسپتال کی راہداریوں میں۔ کوئی مقابلہ نہیں اسکا ان لوگوں کے ساتھ جو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن آپ سونے کا چمچہ لے کر بھی پیدا ہوں تب بھی آپ اس ''حسنِ سلوک'' کے مستحق نہیں ہوسکتے جو حسنِ سلوک آپکو اس وقت میسر آتا ہے جب آپکے سر پر جمہوری سیاسی پارٹی کی ٹوپی ہو اور آپ کی جیب میں چند ہزار
مزید پڑھیے


امریکی دھوکہ دہی

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جنوبی ویتنام کے دارالحکومت سائیگون میں امریکی سفارتخانے کی چھت پر ہیلی کاپٹر آ کر ٹھہرتے اور وہاں موجود امریکی فوجیوں کو نکال کر لے جاتے۔ یہ چند ہزار امریکی فوجی ان پانچ لاکھ فوجیوں میں سے تھے جو امریکہ کی ویتنام میں شکست اور معاہدے کے بعد واپس بلائے جارہے تھے۔ 30 اپریل 1975 کو ان ہیلی کاپٹروں کی خصوصی پروازیں جاری تھیں۔ امریکی سپاہی اسقدر جلدی میں تھے کہ ہیلی کاپٹر کی دم پکڑ کر لٹک جاتے۔ اسی دوران امریکی وائرلیس پر یہ پیغام نشر ہوا کہ تقریبا ساڑھے چار سو ویت نامی حکومتی ارکان جنہوں نے ایک
مزید پڑھیے


مولانا عبدالرشید غازی سے مولانافضل الرحمٰن تک

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
عبدالرشید غازی جو بعد میں مولانا کہلائے، قائداعظم یونیورسٹی سے 1988 ء میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو میں ملازم ہوگئے۔ ان کے والد لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبداللہ غازی تھے۔ جن دنوں سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد چل رہا تھا تو ان کی مسجد اسلام آباد میں اس جہاد کی نقیب اور اس میں حصہ لینے والوں کا ایک مرکزومحور ہوتی تھی۔ عبدالرشید غازی جب ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے عملی زندگی میں آئے تو روس افغانستان چھوڑ چکا تھا اور
مزید پڑھیے


اس درد کا علاج نہیں تیرے پاس بھی

منگل 22 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
اخلاقیات اور شرم و حیا سے تہی‘ انفرادی ترقی اور مفادات کے تحفظ کا علمبردار اور کاروباری برتری کے پہیوں تلے شرم و حیائ، اخلاق و مروت‘ تہذیب و شائستگی اور بنیادی انسانی ہمدردی تک کو کچلنے والے سیکولر لبرل معاشرے میں کسی شریف اور باحیاء مرد یاعورت کا زندہ رہنا مشکل سے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ کارپوریٹ سرمائے سے تخلیق کردہ اس سیکولر لبرل معاشرے کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا ہے جو اس کا ’’بھونپو‘‘ ہے۔ یہ میڈیا کسی کی عزت و تکریم میں اضافہ کرنے میں شاید کامیاب نہ ہو سکے لیکن کسی کو ذلیل
مزید پڑھیے




کرد قوم پرستی اور ملحمتہ الکبریٰ

پیر 21 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
دنیا کے اختتام سے پہلے برپا ہونے والی بڑی عالمی جنگ جس کی جانب اس وقت یہ پوری انسانیت انتہائی برق رفتاری سے رواں دواں ہے، اس کے محل وقوع، اور انجام کار پر تینوں ابراہیمی مذاہب، اسلام، عیسائیت اور یہودیت بہت حد تک متفق ہیں۔ اس جنگ کا نکتہ آخر، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اس دنیا میں واپس آکر بیت المقدس یعنی یروشلم کے شہر سے ایک عالمی حکومت کا قیام ہے۔ یہودی انہیں عبرانی زبان میں مشیاچ اور موشیاچ (Mashiach, Moshiach) کہتے ہیں اور عیسائی انہیں مسیح ناصری (Jesus of Nazareth) کہہ کر
مزید پڑھیے


کرد قوم پرستی اور ملحمتہ الکبریٰ …(2)

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جنگ عظیم اول کے بعد قومی ریاستوں کے قیام سے لے کر اب تک کرد قوم اس خطے کے پانچ ممالک میں تقسیم ہے، لیکن بے چاروں کی بدقسمتی یہ ہے کہ گذشتہ ایک سو سال سے انہیں قومیت کی خوابناک نشہ آور گولیاں کھلاکر ہر اس ریاست سے لڑایا جارہا ہے جن کے درمیان ان کی زمین تقسیم کردی گئی تھی۔ بابل و نینوا وہ تہذیب تھی جس نے ہمورابی جیسے قانون عطا کرنے والے کو پیدا کیا اور بابل کے لٹکتے ہوئے باغات بنائے، جس کی طاقت نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجائی، آدھے سے زیادہ یہودیوں
مزید پڑھیے


کرد قوم پرستی اور ملحمتہ الکبریٰ

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
نسلی قومیت کا نعرہ بلند کرنے کی جتنی سزا کرد قوم نے بھگتی ہے دنیا میں شائد ہی کسی اورقوم کے مقدر میں اسقدر خرابی آئی ہو۔ ان کے دماغوں میں قومیت کا یہ خنّاس جنگ عظیم اول سے بہت پہلے ایک بہت بڑی سازش کے تحت مغربی مورخین اور مفکرین نے اپنی تحریروں سے ڈالاتھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے لارنس آف عریبیہ نے عربوں کے دماغ میں عرب قومیت کے ناسور کو دوبارہ ابھارا اور انہیں خلافت عثمانیہ کے خلاف بندوق اٹھانے پر آمادہ کیا۔ کرد جن کے دامن میں صلاح الدین ایوبی جیسی شخصیت تھی جس
مزید پڑھیے


غزوہ ہند کی روایات پر بحث کا مقصد کیا ہے؟

منگل 15 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا آج بھی کشمیریوں کو انسانی تاریخ کے بدترین ظلم سے نجات دلانے کے لئے لوگوں کو رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے پیش گوئی کی صورت نکلے ہوئے الفاظ کی ضرورت ہے کہ '' میری امت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کر رکھا ہے۔ ایک وہ گروہ جو ہند پر حملہ کرے گا اور دوسرا گروہ جو حضرت عیسی ابن مریمؑ کے ساتھ ہوگا (السنن الکبری۔ نسائی)۔ کیا قرآن پاک جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے احکامات سے بھرا ہوا نہیں ہے۔ لیکن یار لوگ
مزید پڑھیے


جو اماں ملی تو کہاں ملی

پیر 14 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
تمغہ امتیاز ہے اس مغرب کے لئے جس نے بالآخر جاوید احمد غامدی کو پناہ دے دی اور ڈوب مرنے کا مقام ہے اس پاکستان کیلئے جہاں انسان اپنی مرضی سے بول بھی نہیں سکتا۔میرے ملک کو جس نے گالی دینا ہو، برا بھلا کہنا ہو، دنیا کے سامنے یہ بتانا ہو کہ یہ جائے امن نہیں ہے، اسے گلا پھاڑ کر یہ سب کچھ کہنے، لکھنے اور چھاپنے کی آزادی امریکہ پر یورپ میں فورا میسر آجاتی ہے۔ آپ دہائیوں وہاں بیٹھ کر نفرت کا پرچار کریں،آپ کے اشارے پر لوگ بندوق لے کر سڑکوں پر نکل آئیں،
مزید پڑھیے