BN

اوریا مقبول جان



شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے


ہنستے بستے اور پررونق شہر جب اجڑے ہوئے دیار محسوس ہونے لگیں تو سمجھو کہ بستی کے مکینوں پر ایسا بہت کچھ بیت چکا ہے کہ وہ اب بہار میں خزاں کی اداسی اوڑھ لیتے ہیں اور سرسبز و شاداب شہر بھی انہیں ریت کے بگولے جیسے نظر آتے ہیں۔ ایسی ادا، دکھ اور کرب یوں تو پوری بستی کا المیہ ہوتا ہے لیکن شاعر اس کرب کی زبان بنتا ہے کہ بقولِ اقبال وہ دیدہ بینائے قوم ہوتا ہے۔ ایسے ہی کربناک ماحول کو ناصر کاظمی نے خوب پیش کیا ہے دل تو میرا اداس ہے ناصر شہر
منگل 14 مئی 2019ء

عمران خان کی ریاست مدینہ، پینسلوینیا ایونیو میں داخل

پیر 13 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
آخر کار وہی ہونے جارہا ہے جس کا ڈر تھا، ڈر نہیں بلکہ یقین تھا۔ پاکستان کے منظر نامے پر چھائے ہوئے معیشت دان، جنہوں نے اپنی تعلیم کے آغاز سے ہی ایڈم سمتھ (Adam Smith) کے افکار کی لوریاں سنی ہوں، جان مینارڈ کینز (John Maynard keynes) کے معاشی تصورات سے علم حاصل کیا ہو اور ملٹن فریڈمین(Milton friedman) کے مالیاتی نظام کی چھتری تلے سوچنا سیکھا ہو، وہ سب کے سب پاکستان جیسے غریب، پسماندہ اور دست نگر ملک کی معیشت کو مغربی استعمار اور کارپوریٹ معاشرت کے تخلیق کردہ ورلڈ بینک اور آئی ایم
مزید پڑھیے


پاکستانی معیشت پر منڈلاتے ہوئے گدھ

بدھ 08 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
افریقہ کے کسی کے قحط زدہ ملک کی ایک تصویر اس قدر خوف ناک اور دل دہلا دینے والی ہے کہ کسی بھی صاحب دل شخص کی آنکھ میں آنسو لرزنے لگیں۔ تصویر میں بھوک سے نڈھال بچہ تقریباً بے ہوش پڑا ہے اور اس سے تھوڑے فاصلے پر ایک گدھ اسکی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ جدید سودی بینکاری نظام وہ گدھ ہے جو قرضوں کے میٹھے زہر سے حکومتوں کو معاشی موت کا شکار کرتا ہے۔ ایک ایسی موت جس کے بعد آئی ایم ایف کے انجکشن سے معیشت کو اس مقصد کے لیے زندہ کیا جاتا
مزید پڑھیے


امریکہ نہیں عالمی برادری کی شکست

منگل 07 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
ایسے تبصرے‘ گفتگو، مضامین اور تجزیے اس وقت سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں جب جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہو اور یہ فیصلہ کرنا اب مشکل نہ ہو کہ کون جیتا اور کون ہارا ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس‘ آسٹریلیا یہاں تک کہ اس ’’اینٹی طالبان اتحاد‘‘ کے کسی بھی ملک کے اخبارات و رسائل اٹھا لیں آپ کو صرف ایک ہی بحث نظر آئے گی۔’’ہماری شکست کیوں ہوئی‘‘ ابھی امریکہ کے چودہ ہزار ریگولر فوجی اور ہزاروں کرائے کے سپاہی افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ابھی افغان کٹھ پتلی فوج کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور امریکی ایئر فورس کی
مزید پڑھیے


اصل نفرت نکاح سے ہے

پیر 06 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
جس ملک میں عوام کی اکثریت اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے شبانہ روز محنت کرکے بمشکل تمام جہیز مہیا کرتی ہو، جہاں لاتعداد ایسے گھرانے ہوں جہاں لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہوتی جارہی ہوں، وہاں صرف اور صرف مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شادی کی عمر بڑھانے کا بل اسمبلی میں پیش کرنا ،صرف اور صرف اسلام کے بنیادی تصور کا تمسخر اڑانے اور تضحیک کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ایسے لوگوں کے دردناک انجام کی خبر دیتا ہے اور بار بار دیتا ہے جو رسولوں کی
مزید پڑھیے




خلافت کا نفاذ:طریقِ کار

بدھ 01 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ تقریباً دو صدیوں سے مختلف مدارج طے کرتا ہوا جمہوری نظام جو آج بیشتر ممالک میں نافذ ہے اور جسے دنیا بھر کے دانشور، ارباب سیاست اور عالمی منظر نامے کے اجارہ دار انسانی معاشرے کے لیے آئیڈیل تصور کرتے ہیں۔ اس میں اور نظام خلافت میں اہل الرائے یا صائب الرائے یعنی بنیادی ووٹر کی علمی استعداد اور اخلاقی معیار میں فرق ہے۔ جب یہ پہلا بنیادی فرق طے ہو جائے گا تو مروجہ جمہوری نظام کی ووٹرلسٹ سے ایک مختلف لسٹ ترتیب پا جائے گی تو پھر اگلا مرحلہ خلیفہ کے انتخاب کا آتا ہے۔ نظام جمہوریت
مزید پڑھیے


خلافت کا نفاذ: طریقِ کار(2)

پیر 29 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
ایک آدمی ایک ووٹ کا تصور‘ اسلام کے اہل الرائے یا صاحب الرائے ہونے کے تصور کی ضد ہے۔ یوں تو یہ پوری معاشرتی زندگی کی ضد ہے لیکن اسے گزشتہ دو صدیوں سے ایک جمہوری فیشن بنا دیا گیا ہے اور اس فیشن کی ہر جمہوری ملک میں بہت مختصر عمر ہوتی ہے۔ جتنے دن الیکشن کا ہنگامہ چلتا رہتا ہے ایک ووٹر کی عزت و توقیر کے ڈنکے بجتے رہتے ہیں لیکن جس دن وہ اپنی رائے کا اظہار کر کے گھر واپس لوٹتا ہے تو اس کی رائے کا تمام اختیار ممبران پارلیمنٹ لے لیتے ہیں یا
مزید پڑھیے


خلافت کا نفاذ : طریقِ کار

جمعه 26 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
پارلیمانی سے صدارتی اور صدارتی سے پارلیمانی نظام پر گفتگو کس قدر آسانی اور سہولت سے ہر چند سالوں کے وقفے سے اس ملک میں شروع ہوجاتی ہے، بلکہ عموما ان بحثوں کے نتیجے میں یہ نظام نافذ بھی ہوتے رہے ہیں، انکی بساط لپیٹی بھی جاتی رہی ہے اور انکے ڈھانچوں میں بے پناہ تبدیلیاں کرکے انکا حلیہ بھی بگاڑا جاتا رہا ہے۔ ان ساری مسلسل کوششوں کا تحفہ 1973ء کا آئین ہے جس میں لاتعداد ایسے آرٹیکل آج بھی موجود ہیں جنہیں فرد واحد یعنی ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بغیر کسی جمہوری طریقہ کار اپنائے، آئین
مزید پڑھیے


نظام خلافت۔ بہترین وقت

بدھ 24 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
اس لمحے جب پاکستان کے پارلیمانی نظام اور گھسے پٹے سیاسی طریقہ انتخاب و اقتدار سے مایوسی کی آوازیں چاروں سمت گونج رہی ہیں اور ہر کوئی نظام کی تبدیلی پر گفتگو کرتا نظر آرہا ہے، توایسے میں میرے لئے، بلکہ ہر سوچنے سمجھنے اور عقل و ہوش رکھنے والے مسلمان کیلئے یہ المیے سے کم نہیں کہ اس ملک میں موجود دو درجن سے بھی کہیں زیادہ اسلامی پارٹیاں اس جمہوریت کے کھوکھلے درخت اور اس پارلیمانی نظام کے دیمک زدہ ڈھانچے کے ساتھ وابستہ نظر آتی ہیں۔وہ پارلیمانی جمہوریت جسکی برائیوں کا تذکرہ اس وقت جمہوری
مزید پڑھیے


تھا جس کا انتظار

پیر 22 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
استقبال کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ کس قدر طویل انتظار تھا جو اس دفعہ آئی ایم ایف کی معاشی رتھ پر سوار ہو کر آنے والے اس دولہا کو کرنا پڑا۔ یوں تو پاکستانی وزارت خزانہ کی سجی سجائی سیج ایسے دولہوں کی ہمیشہ منتظر رہی ہے، لیکن اس دفعہ تو انتظام کا عالم مختلف ہے۔ پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ عقد طے ہو جاتا تھا اور اسکی شرائط کے مطابق گھر کا سازوسامان گروی رکھا جاتا تھا، آرائش میں تبدیلیاں کی جاتی تھیں جس سے عقد کی شرائط طے ہوتی تھیں وہی عروسی سیج پر
مزید پڑھیے