اوریا مقبول جان


فرات کے کنارے آخری جنگ


صدام حسین کا عراق پہلے سوویت یونین کی سیاست کا اکھاڑا تھا اور اس کے پڑوسی ایران پر خطے کا امریکی تھانیدار رضا شاہ پہلوی برسرِاقتدار تھا۔ لیکن آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب نے پورے خطے میں وفاداریوں کی بساط الٹ کر رکھ دی۔ فرات کے کنارے آباد صدام حسین کے عراق نے ایران کو کمزور جانا اور اس پر جنگ مسلط کردی۔ اس آٹھ سالہ جنگ میں دس لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ جنگ ختم ہو گئی۔ صرف تین سال امن کے گزرے تھے کہ امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا۔ اس سے پہلے صدام حسین
بدھ 08 جنوری 2020ء

فرات کے کنارے آخری جنگ

منگل 07 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
کوہ ارارات کی برف پوش چوٹیوں سے یہ دریا نکلتا ہے۔ یہ وہی ارارات پہاڑ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں سیدنا نوحؑ کی کشتی طوفان نوح کے اختتام کے بعد آکر ٹھہری تھی۔ یہ پہاڑ اس سلسلہ ہائے کوہ میں واقع ہے جسے آرمینائی پہاڑی سلسلہ کہتے ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے بلند چوٹی ارارات 16854 فٹ بلند ہے۔ یہاں سے نکلنے والے دریا کا نام فرات ہے۔ اس دریا کے کناروں پر ایک بہت بڑی تہذیب آباد تھی جسے بابل کی تہذیب کہتے ہیں۔ اس کے ایک طاقتور بادشاہ بخت نصر نے
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کا خواب چکنا چور ہو گیا (آخری قسط)

جمعرات 02 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
گورنر ہاؤس، وزرائے اعلیٰ ہاوس، وزیراعظم ہاؤس اور ان سے ملحقہ بڑے بڑے سیکریٹریٹ مختصر کرنے جس قدر آسان تھے، لیکن عمران خان کے لیے ان پر عملدرآمدایک پہاڑ بنا دیا گیا۔ یہ ایسا اقدام تھا جس نے اس کی ساکھ پر پہلی کاری ضرب لگائی۔ یہ تمام سیکرٹریٹ اگر محدود کردیے جاتے تو آج پاکستان کی بیوروکریسی کی کارکردگی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ ہر محکمے کے سیکرٹری کو یقین ہوتا کہ اس پرمکمل اعتماد کیا جا رہا ہے اور اس سے ہی کارکردگی کے بارے میں سوال بھی کیا جائے گا۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کوایک بالاتر (Supra) ادارہ بنانے
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کا خواب چکنا چور ہو گیا (2)

بدھ 01 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ بیس سالوں میں عمران خان کی گفتگو اس کے خوابوں کی آئینہ دار تھی اور اس کے خواب بھی ایسے تھے جو عام آدمی کے دل میں دھڑکتے مستقبل کے امین تھے۔ وہ تبدیلی کی گفتگو کرتا، اور اس ملک پر قابض طبقات کے خلاف بولتا،تو یوں لگتا جیسے اسے اس قوم کے دکھوں اور مصیبتوں کا مکمل ادراک ہے۔ عام آدمی جو سپریم کورٹ، نیب یا ایف آئی اے نہیں ہوتا جسے کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لئے ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر تو ہر روز یہ سب کچھ بیت رہا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کا خواب چکنا چور ہو گیا

منگل 31 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان

بیوروکریسی کا کمال یہ ہے کہ یہ ہر حکمران کو آنے والے کل کے خوف میں زندہ رکھتی ہے۔ یوں وہ حکمران حال پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے بدلنے کا ارادہ ترک کر دیتا ہے۔ مستقبل کے سارے سہانے خواب اس کی تقریب حلف برداری کے سٹیج تلے دفن ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اس ملک کی بوسیدہ عمارت کو رنگ و روغن کرکے، اس کی چھوٹی موٹی خرابیاں دور کرکے اسے عوام کے لیے قابل قبول بنا دوں تو میری بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ دنیا بھر میں بیوروکریسی ''مروجہ صورت حال'' (Status Quo) پر
مزید پڑھیے



کانگریس کے سیکولرزم سے مودی کے ھندوتوا تک

پیر 30 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
بھارت کے مسلمانوں کے لئے ایک بار پھر یہ جال پھینکا جارہا ہے کہ تمہاری نجات ایک سیکولر معاشرے اور سیکولر نظام حکومت میں ہے۔ یہ سیکولر معاشرہ کیا آسمان سے فرشتے یا خلا سے جنات نازل ہو کر ترتیب دیتے ہیں۔ اسے زمین پر بسنے والے انسانوں کی اکثریت ہی ترتیب دیتی ہے۔ اسی اکثریت کا نام جمہوریت ہے، اور اسی جمہوریت کا مکروہ ترین چہرہ صرف نریندر مودی نہیں بلکہ اسکے پیچھے 1925 ء میں قائم ہونے والی راشٹریا سیوک سنگھ کے نظریات کی جیت ہے۔ پچانوے سال کی مسلسل جدوجہد یہ ثابت کرتی ہے کہ سیکولرزم
مزید پڑھیے


نفرت اور تعصب پر جمہوریت کی مہر تصدیق

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ یہ انسانوں کے اندر چھپے ہوئے تعصب‘ نفرت‘ غصہ‘ انتقام اور حیوانگی کو اجتماعی شکل دیتی ہے اور ان منفی جذبوں کو اظہار کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ نفسیات دان جب انسانی معاشروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ ایک تصور کو ضرور زیر بحث لاتے ہیں جسے وہ اجتماعی نفسیات Collective Psycheکہتے ہیں۔ جدید نفسیاتی علم کی تاریخ میں کارل گستاف ینگ Carl Gustav jungایک اہم نفسیات دان تھا وہ تحلیل نفسی (Psychoanalysis) کے بانیوں میں شمار ہوتاہے۔ سگمنڈفرائڈ کادوست اور ساتھی۔ اس نے اس اجتماعی نفسیات کی جڑیں انسان
مزید پڑھیے


نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے

بدھ 25 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
کہاں ہیں وہ دانشور، ادیب، سماجی کارکن، انسانی حقوق کے علمبردار بلکہ بہت سے سیاسی رہنما جو ابوالکلام آزاد کی تحریریں لہرا لہرا کر نظریۂ پاکستان کی نفی کرتے تھے۔ تقسیم ہند کو تاریخ کی عظیم غلطی قرار دیتے تھے۔ نفرت کا یہ پرچم پہلے اس ملک کے قوم پرستوں اور کمیونسٹوں نے اٹھائے رکھا۔ ولی خان نے اپنے آبائو اجداد کے نظریے کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے انگلستان کی انڈیا آفس لائبریری میں جا کر برطانوی آرکائیوز سے دستاویزات اکٹھا کیں اور ایک کتاب لکھ ماری جس کا نام تھا "facts are facts"یار لوگوں نے اس کا ترجمہ
مزید پڑھیے


آلیور کرامویل اور ہماری دانشوری

منگل 24 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کی بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ وہ روز ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے منہ سے نکلنے والی گفتگو پر ایسے یقین کر لیتے ہیں جیسے یہ بات کسی سچے محقق اور صاحب علم نے کمال دیانت کے ساتھ کی ہو۔ خاص طور ان دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا علمی رعب و دبدبہ دیکھنے والا ہوتا ہے جب وہ کسی غیر ملکی شخصیت کے بارے میں پورے دعوے کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کردار آلیور کرامویل ہے جسے برطانوی تاریخ کا جمہوریت دشمن‘ جرنیل اور فوجی آمر
مزید پڑھیے


کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

پیر 23 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
ستاون اسلامی ممالک میں سے صرف بیس اسلامی ملک ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شریک ہوئے، جس کا بنیادی مقصد اقتصادی بہتری سے تحفظ کا حصول تھا۔ کیسا مغربی مالیاتی نظام کے خوش کن راستوں جیسا راستہ اختیار کیا گیا۔ گذشتہ تقریبا دو سو سالوں سے پوری امت مسلمہ کو ایک ہی سبق پڑھایا جارہا ہے کہ اگر تم معاشی طور پر خوشحال ہو گئے تو پھر تم دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہو اور مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہو۔ کس قدر تاریخ سے لاعلمی اور حقیقت
مزید پڑھیے