BN

اوریا مقبول جان


کیا عمران خان کا خواب چکنا چور ہو گیا


بیوروکریسی کا کمال یہ ہے کہ یہ ہر حکمران کو آنے والے کل کے خوف میں زندہ رکھتی ہے۔ یوں وہ حکمران حال پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے بدلنے کا ارادہ ترک کر دیتا ہے۔ مستقبل کے سارے سہانے خواب اس کی تقریب حلف برداری کے سٹیج تلے دفن ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اس ملک کی بوسیدہ عمارت کو رنگ و روغن کرکے، اس کی چھوٹی موٹی خرابیاں دور کرکے اسے عوام کے لیے قابل قبول بنا دوں تو میری بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ دنیا بھر میں بیوروکریسی ''مروجہ صورت حال'' (Status Quo) پر
منگل 31 دسمبر 2019ء

کانگریس کے سیکولرزم سے مودی کے ھندوتوا تک

پیر 30 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
بھارت کے مسلمانوں کے لئے ایک بار پھر یہ جال پھینکا جارہا ہے کہ تمہاری نجات ایک سیکولر معاشرے اور سیکولر نظام حکومت میں ہے۔ یہ سیکولر معاشرہ کیا آسمان سے فرشتے یا خلا سے جنات نازل ہو کر ترتیب دیتے ہیں۔ اسے زمین پر بسنے والے انسانوں کی اکثریت ہی ترتیب دیتی ہے۔ اسی اکثریت کا نام جمہوریت ہے، اور اسی جمہوریت کا مکروہ ترین چہرہ صرف نریندر مودی نہیں بلکہ اسکے پیچھے 1925 ء میں قائم ہونے والی راشٹریا سیوک سنگھ کے نظریات کی جیت ہے۔ پچانوے سال کی مسلسل جدوجہد یہ ثابت کرتی ہے کہ سیکولرزم
مزید پڑھیے


نفرت اور تعصب پر جمہوریت کی مہر تصدیق

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ یہ انسانوں کے اندر چھپے ہوئے تعصب‘ نفرت‘ غصہ‘ انتقام اور حیوانگی کو اجتماعی شکل دیتی ہے اور ان منفی جذبوں کو اظہار کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ نفسیات دان جب انسانی معاشروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ ایک تصور کو ضرور زیر بحث لاتے ہیں جسے وہ اجتماعی نفسیات Collective Psycheکہتے ہیں۔ جدید نفسیاتی علم کی تاریخ میں کارل گستاف ینگ Carl Gustav jungایک اہم نفسیات دان تھا وہ تحلیل نفسی (Psychoanalysis) کے بانیوں میں شمار ہوتاہے۔ سگمنڈفرائڈ کادوست اور ساتھی۔ اس نے اس اجتماعی نفسیات کی جڑیں انسان
مزید پڑھیے


نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے

بدھ 25 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
کہاں ہیں وہ دانشور، ادیب، سماجی کارکن، انسانی حقوق کے علمبردار بلکہ بہت سے سیاسی رہنما جو ابوالکلام آزاد کی تحریریں لہرا لہرا کر نظریۂ پاکستان کی نفی کرتے تھے۔ تقسیم ہند کو تاریخ کی عظیم غلطی قرار دیتے تھے۔ نفرت کا یہ پرچم پہلے اس ملک کے قوم پرستوں اور کمیونسٹوں نے اٹھائے رکھا۔ ولی خان نے اپنے آبائو اجداد کے نظریے کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے انگلستان کی انڈیا آفس لائبریری میں جا کر برطانوی آرکائیوز سے دستاویزات اکٹھا کیں اور ایک کتاب لکھ ماری جس کا نام تھا "facts are facts"یار لوگوں نے اس کا ترجمہ
مزید پڑھیے


آلیور کرامویل اور ہماری دانشوری

منگل 24 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کی بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ وہ روز ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے منہ سے نکلنے والی گفتگو پر ایسے یقین کر لیتے ہیں جیسے یہ بات کسی سچے محقق اور صاحب علم نے کمال دیانت کے ساتھ کی ہو۔ خاص طور ان دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا علمی رعب و دبدبہ دیکھنے والا ہوتا ہے جب وہ کسی غیر ملکی شخصیت کے بارے میں پورے دعوے کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کردار آلیور کرامویل ہے جسے برطانوی تاریخ کا جمہوریت دشمن‘ جرنیل اور فوجی آمر
مزید پڑھیے



کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

پیر 23 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
ستاون اسلامی ممالک میں سے صرف بیس اسلامی ملک ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شریک ہوئے، جس کا بنیادی مقصد اقتصادی بہتری سے تحفظ کا حصول تھا۔ کیسا مغربی مالیاتی نظام کے خوش کن راستوں جیسا راستہ اختیار کیا گیا۔ گذشتہ تقریبا دو سو سالوں سے پوری امت مسلمہ کو ایک ہی سبق پڑھایا جارہا ہے کہ اگر تم معاشی طور پر خوشحال ہو گئے تو پھر تم دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہو اور مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہو۔ کس قدر تاریخ سے لاعلمی اور حقیقت
مزید پڑھیے


وہ جو بیچتے تھے دوائے دل

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
گفتگو اور تقریر کا فن ان کی جاگیر تھی۔ سحرالبیان۔ سٹیج پر کھڑے ہوتے تو سماں باندھ دیتے، محفل میں گفتگو کرتے تو لوگ ہمہ تن گوش رہتے۔ ساٹھ کی دہائی میں کالجوں میں شعلہ بیان اور تقریر پر قدرت رکھنے والوں کا طوطی بولتا تھا۔ انٹرکالجیٹ مباحثوں کا دور دورہ تھا اور پورا سال اسی دن کا انتظار ہوتا تھا۔ اردو اور پنجابی مباحثوں کے چند قافلہ سالار ہیں کہ جنہوں نے فن خطابت نے کمال حاصل کیا اور پھر اس کمال تک کوئی اور نہ پہنچ سکا۔ اردو میں افتخار فیروز اور تنویر عباس تابش دو نمایاں نام
مزید پڑھیے


بھارت کا خاتمہ

بدھ 18 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
کالم کا یہ عنوان کسی مسلمان پاکستانی خصوصا ًعرف عام میں بد نام جہادی کی گفتگو یا خواہش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ گذشتہ نصف صدی سے برصغیر پاک وہند کے ادب کے مقبول ترین ''ادیب'' خشونت سنگھ کی 2003 ء میں شائع ہونے والی کتاب ''The end of India''ـ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ دراصل ان کی تحریروں کا ایک مجموعہ ہے جو وہ گجرات سانحہ کے حوالے سے وقتاً فوقتا ًلکھتے رہے اور پھر انہوں نے اسے فروری 2003 ء میں شائع کر دیا۔ یہ مضامین لکھتے ہوئے انہیں جس طعن تشنیع کا سامنا کرنا پڑا، دیباچے میں
مزید پڑھیے


مارکیٹ کی تلاش میں

منگل 17 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ ہاتھ جو گذشتہ چار صدیوں سے سیاہ فام افراد کے خون سے رنگے ہوئے تھے جن کے آباؤ اجداد ابھی چند دہائیوں پہلے تک انہیں افریقہ کے جنگلوں سے ہاتھیوں کے غولوں کی طرح پھندے لگا کر پکڑ کر لاتے، سالوں عقوبت خانوں میں رکھتے، جہازوں کے تنگ و تاریک کیبنوں میں ٹھونس کر مہینوں کا بحری سفر کرواتے،ان میں سے جو سیاہ فام زندہ بچ جاتے، انہیں امریکی ساحلوں پر فروخت کردیتے۔ سیاہ فام انسانوں کا یہ کاروبار سفید فام انسانوں کی نفسیات کا آئینہ دار تھا۔ مدتوں نسل در نسل انہیں سیاہ فام سے نفرت کے گیت
مزید پڑھیے


ابلیس کے سیاسی فرزند

پیر 16 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
دو ہزار صفحات پر مشتمل یہ سچ جس بات کی گواہی دے رہا ہے وہ ایسی کڑوی گولی ہے جسے امریکہ تو گذشتہ کئی برسوں سے نگل چکا ہے، لیکن میرے ملک کا وہ دانشور جس نے اپنے قلم کی سیاہی اور اپنی زبان کی قوت سے گذشتہ اٹھارہ برسوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ دنیا اب صرف اور صرف ایک ہی سپرپاور کی محکوم اور دست نگر ہے اور اب اس دنیا پر صرف ٹیکنالوجی کے خدا کا راج ہی مستحکم ہوچکا ہے، وہ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔اس کا تذکرہ تک نہیں
مزید پڑھیے