BN

اوریا مقبول جان

الیکشن کے فوراً بعد

جمعه 27 جولائی 2018ء
پاکستان دشمنی میں اگر سازشی کہانیاں گھڑنے کا مقابلہ کیا جائے تو پاکستان کے میڈیا پر چھائے، سیکولر لبرل اور بھارت پرست دانشور، تجزیہ نگار اور اینکر پرسن جیت جائیں۔ چند گھنٹے نتائج کے التواء نے ان سب کی صلاحیتوں کو جلا بخش دی۔ ایسے ایسے نکتے نکالے گئے کہ شرلاک ہومز اور آگاتھا کرسٹی کی تحریریں بھی شرما جائیں۔ پورے پاکستان کے چینل اور ان پر بیٹھے ہوئے صحافی جب یہ درفنطنیاں چھوڑ رہے تھے، تو دوسری جانب عمران کی جیت سے خائف بھارتی میڈیا اسے ’’کشمیر خان‘‘اور’’طالبان خان‘‘ کے لقب سے پکار رہا تھا۔ تجزیوں کا کمال دیکھیں
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کو پاکستان کا مرسی بنا دیا جائے گا

بدھ 25 جولائی 2018ء
وہ کالم نگار، تجزیہ نگار اور دانشور جو آج عالمی اخبارات کے مشاہرے (Payroll) پر ہیں، ان کی دم پر اچانک کیا پاؤں آیا ہے کہ سب کے سب پاکستان کے 2018 کے انتخابات پر انگلی اٹھاتے ہوئے اسے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کی مداخلت اور چھتری کے سائے تلے ہونے والے انتخابات کا نام دے رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت پاکستانیوں کی ہے جو کل وقتی یا جز وقتی طور پر عالمی اخباروں کے ایجنڈے کے مطابق میرے ملک کی سرزمین پر بیٹھ کر میرے ہی ملک کو عالمی طاقتوں کی عین خواہش کے مطابق
مزید پڑھیے


1977 اور 2018۔ کوئی مماثلت ہے ؟

پیر 23 جولائی 2018ء
پاکستان میں تجزیہ نگاری ایک ایسا میدان بن چکا ہے جس میں ہر تجزیہ نگار صرف ایک آنکھ کھول کر بولتا یا لکھتا ہے۔ تاریخ کے صفحات سے اپنی مرضی کے واقعات اٹھاتا ہے، اور جو مرضی کے مطابق نہ ہو انہیں وقت کے کوڑے دان کی نذر کر کے منتخب کئے گئے واقعات کو ایک ترتیب سے جوڑ کر ایک ایسی کہانی مرتب کرتا ہے جس میں ہر کردار لکھنے والے تجزیہ نگار کی خواہش کے عین مطابق ہیرو اور ولن بنا دیا جاتا ہے۔ پاکستانی تاریخ کے دو کردار ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاالحق ایسے ہیں جن
مزید پڑھیے


ڈالر کی قیمت اور سودی مصنوعی کاغذی کرنسی

جمعه 20 جولائی 2018ء
پورے ملک میں شور برپا ہے کہ دن بدن پاکستانی روپے کی قدر و قیمت ڈالر کے مقابلے میں گرتی چلی جارہی ہے۔ یہ رونا آج سے نہیں گذشتہ تقریبا ستر سال سے رویا جا رہا ہے، اور یہ صرف ہم نہیں روتے دنیا کا ہر وہ ملک روتا ہے جس نے اس عالمی سودی نظام کی اساس، مصنوعی کاغذی کرنسی کو تسلیم کیا اور پھر ان قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگا جو جب، جیسے اور جس وقت چاہیں کسی ملک کی کرنسی کو عالمی مارکیٹ میں ذلیل و رسوا کر دیں اور جس کرنسی کو چاہیں عزت و
مزید پڑھیے


کوئی چارہ ساز ہوتا ،کوئی غم گسار ہوتا

بدھ 18 جولائی 2018ء
پاکستان کی بدقسمتی یہ نہیں کہ اسے گزشتہ 50 سالوں سے ایسے لیڈر میسر آتے رہے ہیں جنہوں نے غربت، بیماری، بھوک، بے روزگاری اور جہالت جیسے لفظ صرف کتابوں میں پڑھے ہوتے ہیں بلکہ اکثر انکی تقریریں لکھنے والوں نے انہیں یہ لفظ تقریروں کو جاندار بنانے کے لئے سکھائے ہوتے ہیں، بلکہ اصل بد قسمتی یہ بھی ہے کہ وہ دانشور، ادیب، شاعر اور لکھاری جن کی تحریروں میں غریب کا دکھ ہوتا تھا، جھونپڑی کی سرد راتیں اور صحرا کی پیاس میں تپتے دن نظر آتے تھے، مزدور کا استحصال، کسان کی بے بسی نظر آتی تھی،
مزید پڑھیے


سیاست اس قدر ظالم و بے رحم بھی ہوتی ہے

پیر 16 جولائی 2018ء
اس کی آواز میں غصہ اور دکھ ملا ہوا تھا، تھوڑی سی براہوی اور زیادہ تر اردو میں وہ اس کرب سے بولا کہ میں دہل کر رہ گیا۔ کہنے لگا ’’آرمی پبلک اسکول کے بچے انگریزی بولتے تھے اسی لیے سو دن والا دھرنا فورا ختم ہو گیا تھا، ہم تو ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتے، اس لئے ریلیاں چلتی رہیں، ترانے بجتے رہے‘‘۔ میں اس وقت ٹیلی ویژن کی ٹرانسمیشن میں بیٹھا تھا، زیادہ بات نہیں کر سکتا تھا۔ بس اتنا ہی بولا، دیکھو لیڈر لیڈر میں فرق ہوتا ہے، بات اس کی سمجھ میں نہیں
مزید پڑھیے


خسارے کی سیاست

جمعه 13 جولائی 2018ء
جمہوریت کے اہرمن کے سامنے سجدہ ریز ہوکر ووٹ کی بھیک مانگنے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آپ آج پاکستان کی لبرل، سیکولر، کیمونسٹ اور دیگر مذہبی جماعتوں کے منشور اٹھا کر دیکھ لیں، ان سب کے بیرونی ورق اوپر سے پھاڑ دیں، آپ کو سوائے چند ایک سطور کے کسی میں کوئی جوہری فرق نظر نہیں آئے گا۔ سب کے سب دنیا کے گرد گھومتے ہیں۔ وہ دنیا جسے میرے آقا سید الانبیاء ﷺنے مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت قرار دیا ہے۔ آپﷺ نے اسے ایک عارضی مقام، ایک پڑاؤ سے
مزید پڑھیے


نوازشریف میں نیلسن منڈیلا کی تلاش

بدھ 11 جولائی 2018ء
نظریہ مر جاتا ہے، لوگ نئے پرچم اٹھا لیتے ہیں لیکن برصغیر پاک و ہند کا ایک المیہ ہے کہ ہم نظریے کا بھی مزار بناتے ہیں اور اسے پوجتے رہتے ہیں۔ شخصیات کے بت تراشتے ہیں، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں، امیدیں ٹوٹتی ہیں تو اس کی جھلک کسی دوسری شخصیت میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے پیام مشرق میں اس ساری کیفیت کوبیان کیا ہے ؎ ہزاراں سال با فطرت نشستم بہ او پیو ستم و از خود گسستم ولیکن سرگزشتم ایں دو حرف است تراشیدم، پرستیدم، شکستم ترجمہ: ’’میں ہزاروں سال فطرت کے ساتھ رہا
مزید پڑھیے


نہ جا اس کے تحّمل پر

پیر 09 جولائی 2018ء
مدتوں سے یہ محاورہ زبان زد عام ہے کہ "سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا"۔ صدیوں سے تخت و تاج کی لڑائی نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان اقتدار کے لیے سگے بھائیوں کو قتل کرتا ہے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا کر اندھا کر دیتا ہے، باپ پر تلوار سونت لیتا ہے، اسے قید کر دیتا ہے، معتمد ترین وزیروں اور جرنیلوں کی کھالیں کھنچوا دیتا ہے، اور جب وہ ایسا سب کچھ کر رہا ہوتا ہے تو عام انسان پکار اٹھتا ہے کہ اس کے سینے میں دل نہیں ہے۔ لیکن جدید دنیا ایک اور
مزید پڑھیے


ایک اور عظیم فیصلہ

جمعه 06 جولائی 2018ء
اللہ کی بے شمار رحمتیں نازل ہوں جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر اور روز حشر اللہ انہیں سید الانبیاء خاتم النبین ‘ شافع روز حشر حضرت محمدﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے اور ان کی کاوشوں سے خوش ہوتے ہوئے اس خوشی کے صدقے ہماری بھی بخشش فرمادے۔ ہمارے گناہوں کوتاہیوں اور عیوب سے درگزر فرما دے۔ پتہ نہیں کیوں میں یہ سطریں تحریر کر رہا ہوں تو میری آنکھوں سے آنسو مسلسل بہے جا رہے ہیں۔ میں اپنے اس قلم کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ چند جملے بھی اس شخص کی تعریف و توصیف میں تحریر کرے جسے اللہ
مزید پڑھیے