BN

اوریا مقبول جان



فلسفہء عذاب اور سنت الٰہی


ایک زمانہ تھا کہ اگر کہیں کوئی آفت، مصیبت، پریشانی یا بیماری آتی،تو لوگ اپنے اندر جھانکتے،کہ کہیں ان سے کوئی خطا تو سرزد نہیں ہو گئی، کسی قسم کا ظلم یا زیادتی تو نہیں ہوئی، کسی کا حق تو وہ غصب نہیں کیا کہ، آج جس کی وجہ سے ہم پریہ مصیبت نازل ہوئی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں یہ تصورپختہ تھا کہ مظلوموں کی فریاد، بستیوں پر عذاب نازل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1973ء میں پاکستان میں شدید سیلاب آیا تو اس دور کا خوبصورت شاعرعدیم ہاشمی جو بہت حد تک کیمونسٹ خیالات کا حامی
هفته 21 مارچ 2020ء

وائرس سے جنگ اور اللہ کی ضرورت…(2)

جمعه 20 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
اس سے پہلے کہ ہم اس ''نسخہ کیمیا'' پر گفتگو کریں جس پر عمل کرنے سے ہماری ذہنی حالت پُرسکون ہو جاتی ہے، ہم خوف و پریشانی کے عالم میں ایک اعلیٰ، ارفع اوراس کائنات کی مالک و مختار ذات پر کامل بھروسہ کر کے اطمینان کی کیفیت میں آجاتے ہیں اور ایسا کرنے سے انسانی جسم میں اہم ترین ''نشریاتی ادارہ'' یعنی ''Hypothalamus'' مطمئن اور پُرسکون ہوجاتا ہے، بہت سے ضروری ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ وائرس یا ''کرونا وائرس ''کیا چیز ہے۔ آج کی جدید سائنس اپنی تمام تحقیقی کاوشوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے
مزید پڑھیے


وائرس سے جنگ اور اللہ کی ضرورت…(1)

جمعرات 19 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان

جیسے ہی ہمارے ملک میں کسی قسم کی آفت، مصیبت، پریشانی یا بیماری کا حملہ ہوتا ہے۔ ہمارے کچھ دانشوروں کے دماغوں میں خاموش بیٹھا سائنس اور ٹیکنالوجی کی پرستش کا وائرس جاگ اٹھتا ہے اور وہ ایک دم اخباری کالموں اور ٹیلی ویژن پروگراموں کے ذریعے حملہ آور ہو جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے اس پریشانی کے عالم میں لوگوں کو جتنا ممکن ہوسکے، اللہ، دعا اور اس کے ثمرات سے دور لے جاکر انہیں ڈاکٹر، دوا، احتیاط، معیشت، معاشیات اور انتظامات پر بھروسے کی مکمل ترغیب دی جائے۔ ایسے دانشوروں کے دامن میں جس قدر بھی دعا
مزید پڑھیے


طالبان دورِ حکومت: حقائق۔۔۔ (4)

اتوار 15 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
جو لوگ افغان خصوصاََ پشتون معاشرے کو جانتے ہیں ، انہیں بخوبی علم ہے کہ سود انکی معیشت میں رچا بسا ہوا ہے ۔ برصغیر پاک و ہند کے اکثر شہر ایسے ہیں جہاں آج بھی سود پر قرض دینے والے پشتون یہ کاروبار کرتے ہیں ۔ بلوچستان کے ضلع پشین کے کئی گاؤں ایسے سود خوروں سے آباد ہیں ،جو ممبئی، مدارس یہاں تک کہ برما اور دیگر ممالک میں جاکر آج بھی یہ کاروبار کرتے ہیں ۔ یہ تو ابھی چند سال پہلے تک کی بات ہے جب بلوچستان کے تقریبا ہر پشتون ضلع میں سود کے اس
مزید پڑھیے


طالبان دورِ حکومت: حقائق …(3)

هفته 14 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھر کے اخبارات جس طرح مسلسل طالبان حکومت کے خلاف لکھتے رہے،اسقدر زہرناک جھوٹ توسرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے خلاف بھی نہیں لکھا گیا۔ اسی جھوٹ کو پاکستان کا دانشور اور صحافی،حقیقت سمجھ کر اپنی رپورٹوں اور اپنے کالموں میں آج تک استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس جھوٹ میں طالبان پر سب سے بڑا الزام یہ لگایا جاتا تھا کہ انکی حکومت ایک وسیع البنیاد حکومت نہیں ہے۔ یہ صرف قندھار سے اٹھنے والے سر پھرے پشتون طالبان ہیں جن کے ساتھ صرف پشتون ہیں اور وہ بھی صرف سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے۔
مزید پڑھیے




طالبان دورِ حکومت: حقائق …(2)

جمعه 13 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
طالبان دور حکومت کے بارے میں اتنے افسانے تراشے گئے ہیں، میڈیا پر اسقدر جھوٹ بولا گیا ہے اور زبان زدِ عام ایسے قصے مشہور کیے گئے ہیں جن کا حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ طالبان کو جس طرح کا تباہ حال افغانستان ملا تھا اسے مجاہدین کی آپس کی خانہ جنگی نے اس حال پر پہنچا دیا تھا کہ اسکول، ہسپتال، سرکاری ادارے، مواصلاتی نظام سب برباد ہو چکا تھا۔ کابل نجیب اللہ کے دور حکومت میں ایک آباد اور ہنستا بستا شہر تھا جسے گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی فوجوں نے کھنڈر
مزید پڑھیے


طالبان دورِ حکومت: حقائق

جمعرات 12 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
اس قدر تعصب، اس قدر بغض اور نفرت۔۔۔ یوں لگتا ہے جیسے ہی طالبان نے بے سروسامانی کے عالم میں اللہ پر توکل رکھتے ہوئے،اسی افغان سرزمین پر ایک اور عالمی طاقت'' امریکہ'' کو شکست کیا دی ہے، یار لوگوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ دنیا کے تمام ظالموں، قاتلوں، فرعونوں کے مظالم ایک ساتھ جمع کرکے ان کی تمام سیاہی طالبان کے چہرے پر مل دیں اور انہیں چنگیز خان، ہلاکو اور نادرشاہ سے بھی زیادہ ظالم بنا کر پیش کریں۔ گذشتہ ڈیڑھ سو سالہ صحافت اور دانشوری کی تاریخ میں ایسا
مزید پڑھیے


جسم کیا، جسم کی حقیقت کیا

اتوار 08 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
جسم دنیا کی وہ واحد حقیقت ہے جس پر ہر کوئی اپنی مرضی چلانا چاہتا ہے۔ لیکن اس پر صرف اور صرف میرے اللہ کی مرضی چلتی ہے۔ وہ جتنی دیر تک اسے کمزور اور محتاج رکھتا ہے،یہ اس سے ایک سیکنڈ پہلے بھی اٹھ کر اپنی مرضی نہیں دکھا سکتا۔ اللہ کا دعوی ہے کہ ''وہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے (آل عمران:6)۔ وہ مالک کائنات جتنی دیر چاہتا ہے، اس جسم کو جاذب ِنظر، خوبصورت، توانا اور تندرست رکھتا ہے اور پھر اسے واپس محتاج و بے نواء بنا
مزید پڑھیے


آمدن سے زیادہ اثاثے

هفته 07 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
کیا بددیانتی اور کرپشن کے ناسور کا خاتمہ مروجہ جمہوری نظام میں ممکن ہے، جس کی جڑیں استحصال اور بددیانتی سے حاصل کردہ سرمائے سے توانائی لیتی ہوں۔یہ نظام انتہائی خوبصورت اور جاذب نظر بھی ہو جائے تو چہرے پر اگنے والے کیل مہاسوں جیسی کرپشن اور بددیانتی کو دور کرکے خود کو خوبصورت تو بنا لیتا ہے،لیکن اسکا پورا جسم کرپشن اور استحصال کے ناسور کی گلٹیوں سے بھرا ہوتا ہے اور اسکی رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہوتا ہے وہ بد دیانتی کے خلیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ جس نظام کے بنیادی ستون یعنی ممبران اسمبلی اگر
مزید پڑھیے


جمہوری بنیاد پرستی کی متشدد سوچ

جمعه 06 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
جو دانشور، ادیب، فلاسفر نما لکھاری اور ماڈرن اسلام کے داعی جدید مذہبی سکالر، بھارت نہیں صرف دلّی شہر میں مسلمانوں پر جو کچھ بیت رہا ہے، اسے دیکھنے کے بعد بھی یہ تصور رکھتے ہیں کہ اس دنیا میں جدید مغربی تہذیب و تمدن نے جو ''جمہوری مذہب'' بزور طاقت نافذ کیا اس میں انسانی معاشرے کی فلاح چھپی ہوئی ہے تو پھر مجھے ان کی اس کورچشمی پر ماتم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ ایک ایسا متعصب اندھا پن ہے جس کا عقل و ہوش کے پاس بھی کوئی علاج نہیں۔ گذشتہ تقریبا سو سال سے
مزید پڑھیے