BN

اوریا مقبول جان



یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟ (قسط 1)


شاید چند برسوں بعد کوئی اس قافلے کے لٹنے کا ماتم کرنے والا بھی میسر نہ ہو۔آج یہ داستان رقم کر دو، مرتب کردو کہ شاید گردآلود الماریوں میں موجود بوسیدہ کتابوں سے آج سے کئی سال بعد کسی کو اس تہذیب کے لٹنے اور برباد ہونے کا سراغ مل جائے۔ تہذیبیں آہستہ آہستہ اجڑتی ہیں اور لوگ نئی تہذیب کو بھی آہستہ آہستہ اوڑھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی منصوبہ بندی سے تبدیلی لائی جا رہی ہو تو اسکی رفتار بہت تیز ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ تبدیلی لانے والے گذشتہ تہذیب کے نشان تک بھی مٹا دیتے
منگل 26 نومبر 2019ء

پارٹی فنڈنگ کا صندوق

پیر 25 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جمہوری سیاست، کاروباری دنیا اور سفید پوش جرائم کا دھندا، ان تینوں کا آپس میں تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنا سیاسی پارٹیوں کا وجود اور ان کے اخراجات کے نام پر ''پارٹی فنڈ'' کا گھناؤنا گھن چکر۔ امیر ترین ممالک سے لے کر غریب اور قحط زدہ ممالک تک، سب اس جمہوری چکاچوند پر بیش بہا سرمایہ لٹاتے ہیں۔ پورے ملک میں پارٹیوں کے دفاتر قائم ہوتے ہیں جن کے مسلسل اخراجات ہوتے ہیں، لیڈران کرام ملک بھر میں دورے کرتے ہیں، سارا سال چھوٹے موٹے جلسے، کارنر میٹنگیں، عید ملن پارٹیاں، افطاریاں وغیرہ ہوتی رہتی ہیں۔ بڑے بڑے
مزید پڑھیے


داتا کی نگری کا سکون

جمعرات 21 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
لاہور کی داستان سنانے والے کچھ ہندو ثقافت زدہ سیکولر دانشور لاہور کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو یہاں کے بے ایمان گوالے دودھ میں گٹر کا گندہ پانی ملانے سے کرتے ہیں۔ لاہور سیدنا علی بن عثمان ہجویری کی آمد کے وقت ایک چھوٹی سی گوالوں کی بستی تھی،جس کے بارے میں خود حضرت داتا گنج بخشؒ نے فرمایا ’’لاہور یکِ از مضافاتِ ملتان است‘‘(لاہور ملتان کی مضافات میں سے ایک ہے)۔ اس زمانے میں بڑے شہر بہت کم ہوتے تھے اسی لیے ان کی مضافات بھی کئی سو میل پر پھیلی ہوتی تھیں۔ لیکن میرے یہ دوست
مزید پڑھیے


پاکستان کی مذہبی جمہوری سیاست کا طرز استدلال

بدھ 20 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
ایک زمانہ تھا کہ مسندِ ارشاد پر فائز علمائے کرام، مفتیانِ عظام اور صوفیائے باصفا کو لوگ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں سے تشبیہہ دیا کرتے تھے۔ کسی کو اپنے وقت کا امام ابو حنیفہ ؒ کہہ کر پکارا جاتا کہ اس نے فقہ میں بے مثال کام کیا تھا تو کسی کو ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر اسے امام احمد بن حنبلؒ کا مثیل قرار دیا جاتا۔ دین کی راہ پر چلنے والوں، قربانیاں دینے والوں کی بے غرض تگ و دو ان کا طرۂ امتیاز تھی۔ جب جاہ
مزید پڑھیے


بلوچستان بدل رہا ہے

منگل 19 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
نواب خیر بخش مری بلوچستان کی قبائلی اور سیاسی تاریخ کا بہت بڑا نام ہے۔ آج بھی ان کی سیاست کی پرچھائیاں یہاں کی قوم پرست قیادت کی تحریر و تقریر میں نظر آتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب بلوچستان کی منتخب حکومت کو ختم کر کے غداری کے مقدمے قائم کیے۔ نواب صاحب کو حیدر آباد جیل میں ڈالا اور ان کے خلاف مقدمے کی سماعت بھی جیل میں منتقل کی تو ایسے میں مری قبیلہ نواب صاحب کے حکم پر پہلے اس آمرانہ مسلم ریاست ایکشن کے خلاف پہاڑوں پر جا کر مسلح جدوجہد کرنے لگا اور
مزید پڑھیے




رحم! عالیجاہ! رحم

پیر 18 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
۔۔۔۔۔۔۔ایک تھا بادشاہ ہم سب کا اللہ بادشاہ۔ درباری دم بخود اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں ۔ سپہ سالار کی نشست بادشاہ کے پہلو میں ہے۔ دربار کا جاہ و جلال اور کروفر ایسا ہے کہ ہر کوئی اس کی خوبصورتی سے مسحور بھی ہوتا ہے اور اس کے رعب سے خوفزدہ بھی۔ بادشاہ کی آمد آمد ہے۔ نقارے بجتے ہیں۔ پکارنے والے پکارتے ہیں۔ سانس روک لئے جاتے ہیں۔ ادب میں سرجھکا لئے جاتے ہیں۔ دست بستہ غلاموں کی طرح وزراء اور حکام کھڑے ہیں۔ بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوتا ہے۔ درباری اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ
مزید پڑھیے


موٹاپے کی وبا اور کیپیٹل ازم کی بھوک

جمعرات 14 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
پوری دنیا کو اس وقت ایک عجیب و غریب ہیجانی کیفیت میں مبتلا کیا جا چکا ہے۔ ایک خوف ہے جو ہر صاحب حیثیت اور درمیانے طبقے کے فرد کے سر پر مسلط ہے۔ موٹاپے (Obesity) اور اس سے متعلق بیماریوں کا خوف۔ اس وقت دنیا میں جتنی تحقیق، جستجو اور سرمایہ کاری موٹاپا ختم کرنے کے لیے ہو رہی ہے اسکا پانچ فیصد بھی بھوک ختم کرنے اور دنیا کو قحط سے نجات دلانے کے لیے نہیں ہو رہی۔ دنیا کی تقریبا چھ ارب آبادی میں سے ایک چوتھائی ناکافی اور گھٹیا خوراک کے استعمال سے قحط سالی
مزید پڑھیے


یمن:سو سالہ فساد سے امن اور پھر ملحمتہ الکبریٰ (آخری قسط)

بدھ 13 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
یمن کی شمالی سرحد سعودی عرب کے ساتھ ایک طویل پٹی کی صورت ہے جو صحرااور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ سیدنا زید بن علی کو ماننے والے زیدی اسی علاقے میں آباد رہے ہیں جنہیں عرف عام میں حوثی کہا جاتا ہے۔ تقریبا سو سالہ بدامنی و فساد میں یہ خطہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ لیکن اس عرصہ میں یہ لوگ زیادہ تر قبائلی، قومی اور نسلی تنازعے کی وجہ سے اس سول وار میں الجھے رہے یا الجھائے گئے۔ مصر بمقابلہ سعودی عرب دراصل امریکہ بامقابلہ سوویت یونین معرکہ تھا جو یہاں لڑا گیا۔ لیکن سوویت یونین کے
مزید پڑھیے


یمن:سو سالہ فساد سے امن اور پھر ملحمتہ الکبریٰ …( 2)

منگل 12 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جنگ عظیم اول کے ہنگامے جاری تھے۔ خلافت عثمانیہ کے مسلم اتحاد کو آہستہ آہستہ توڑ کر قومی ریاستوں میں تقسیم کیا جارہا تھا۔ لیکن اس دوران اس بات کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا کہ وہ اہم ترین علاقے جن کی علاقائی، تجارتی اور عسکری اہمیت ہو ان کا اختیار اور کنٹرول مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ جانے دیا جائے۔ خصوصا وہ علاقے جہاں سے جہاز رانی کر کے علاقے فتح کرنا یا تجارت کرنا مقصود تھا۔ یمن کا ساحلی شہر'' عدن'' ان میں سے ایک تھا۔ یہ بندرگاہ دراصل ایک چھوٹی سی سمندری پٹی بحیرہ احمر کے جنوبی
مزید پڑھیے


یمن:سو سالہ فساد سے امن اور پھر ملحمتہ الکبریٰ (قسط 1)

جمعرات 07 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ اس سرزمین میں آباد سب سے معزز اور بڑے قبیلے دوس کا سردار تھے، جس کے بارے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ''یمن کے لوگ صحیح ایمان رکھتے ہیں اور اسے جلد اپناتے ہیں (بخاری)، یمنی باشندے سکون و دانش کی دولت رکھتے ہیں (بخاری)، یمنی شریف اور نرم دل ہوتے ہیں (بخاری) اورآپ ؐنے دعا دیتے ہوئے کہا، '' اے اللہ ہمارے ملک شام اور ملک یمن میں برکت عطا فرما (بخاری)۔ ان کا نام طفیلؓ بن عمرو دوسی تھا۔ پورے عرب میں جو دوسخا کی شہرت رکھنے والے جن کے ہاں مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے
مزید پڑھیے