BN

اوریا مقبول جان


زبردستی مذہب تبدیلی یا ایمان لانا


انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے خالد رحمٰن بلا کے آدمی ہیں۔ مغربی اقدار و روایات اور تہذیب و ثقافت کی یلغار میں ایسی سائنسی تحقیقات سامنے لاتے رہتے ہیں،جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے جعلی اور بے بنیاد پراپیگنڈے کے خول کو توڑ کر پیچھے چھپے بدنما اور کریہہ مقاصد کو طشت از بام کرتی ہیں۔ میرے جیسے لاتعداد تشنگانِ علم کے لئے ان کے ادارے کا دم غنیمت ہے۔ آج سے تقریباً پندرہ سال قبل جب انہوں نے ایلزبتھ لیاگن (Elizbeth Liagin) کی کتاب ’’Excessive force: power politics and population control‘‘ کا ترجمہ شائع کیا تو میں خالدرحمٰن اور
جمعه 13 نومبر 2020ء

پرانے زمانے کی جدید عورت

جمعرات 12 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
کشور ناہید کی خوبی یہ ہے کہ وہ عنفوانِ شباب سے سچ بولتی اور بغیر کسی لگی لپٹی اپنی بات کہتی چلی آرہی ہے۔ وہ اس زمانے میں بھی سچ بول کر غیرمقبول ہونے کی پوری کوشش کرتی تھی، جب اشفاق احمد صاحب جیسا شخص مردوں کی نفسیات بیان کرتے ہوئے کہتا تھا کہ ’’ہمیں تویونیورسٹی میں وہی لڑکی اچھی لگتی تھی جو جھوٹ خوبصورتی سے بولے‘‘۔ اچھا لگنا اور اچھا کہلانا کبھی کشور ناہید کا مسٔلہ نہیں رہا۔ حقیقت حال بیان کرنا اور دوٹوک بیان کرنا اس کا خاصہ بھی ہے اور المیہ بھی۔ آج جن شاعروں کی اولادیں
مزید پڑھیے


گندگی و غلاظت کا شوقین معاشرہ

اتوار 08 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
ہم ایک ایسے عالمی اخلاقی منظرنامے میں سانس لے رہے ہیں جہاں عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین سے لے کر انسانی و نسوانی حقوق کے علمبرداروں تک اور دو سو کے قریب قومی ریاستوں سے لے کر سماجیات، معاشرت اور اخلاقیات کے بڑے اداروں تک اس بات پر متفق ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ ایک لڑکی جو ’’ٹینز‘‘ (Teens) یعنی اپنی عمر کے تیرہ سال سے لے کر انیس سال تک کے عرصے میںہے، اسے ہر طرح کے ناجائز جنسی تعلقات رکھنے، ان کے نتیجے میں بچہ پیدا کرنے، اس بچے کو عمومی طور پر محنت مزدوری کر کے
مزید پڑھیے


’’چُک کے لے جاں گے‘‘

هفته 07 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن نے پاکستان کے گھروں کے دروازے پر دستک نہیں دی تھی۔ ریڈیو پر رات گئے ڈرامے نشر ہوتے تھے، جنہیں پورا گھر ایک ساتھ بیٹھ کر انہماک سے سنتا تھا۔ اس دور میں سیلولائیڈ پر تھرکتی ناچتی اور بولتی تصویروں کی دنیا، گھروں سے باہر آباد ہوا کرتی تھی۔ شہروں میں سینما گھر فلمیں دکھاتے، جن میں درجہ بدرجہ ہر طبقے کا فرد حسبِ توفیق لطف اندوز ہونے جاتا۔ سینما بینوں میں واضح اکثریت مردوں کی ہوا کرتی ۔ چھوٹے بڑے شہروں میں چند ایک گھرانے ایسے ہوتے جو گھروالوں کو ساتھ
مزید پڑھیے


سیکولر’’ جمہوری‘‘ نظام کا زوال

جمعه 06 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
ایک اک کر کے وہ تمام ممالک جہاں ’’اکثریت کی آمریت‘‘،کہ جسے عرفِ عام میں ’’جمہوریت‘‘کہتے ہیںنافذ ہے، ان کے چہروں سے نقاب اتر رہے ہیں اور اندر سے ان کے ظالم، متعصب اور خونیں چہرے بے نقاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی چہرے کی نشاندہی تو اقبالؒ نے کی تھی۔سیکولرازم اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جس طرح ہر تخلیقی تجربے کا ایک لباس ہوتا ہے، جیسے شاعری میں نظم اور غزل، نثر میں ناول یا افسانہ اور چشمِ تصور میں ابھرنے والے مناظر کے لئے مصوری، اسی طرح سیکولرازم اور لبرل ازم کو اپنے اظہار
مزید پڑھیے



پاکستانی سیاست کا ’’نیرو‘‘

جمعرات 05 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے نظریاتی وجود سے نفرت کرنے والے دانش ور، ادیب، صحافی اور کیمونزم کے زوال کے بعد آنے والی امریکی برسات میں پھوٹ پڑنے والی سول سوسائٹی کے ارکان کا ایک عمومی رویہ یہ ہے کہ جیسے ہی پاکستان کے کسی صوبے یا علاقے میں ہنگامے پھوٹ پڑیں، ماحول کشیدہ ہو جائے اور ریاستی مداخلت کرنا پڑجائے تو ان کی زبان پر ایک فقرہ سج جاتا ہے، ’’ہم نے 1971ء سے سبق نہیں سیکھا‘‘ اور ساتھ ہی سیاسی گفتگو میں پاکستانی کی نظریاتی اساس پر حملے سے بات شروع ہو گی ،کہا جائے گا کہ ’’یہ ملک دراصل بنا
مزید پڑھیے


’’دیارِ مغرب میں رہنے والے‘‘ (آخری قسط)

اتوار 01 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
مغربی دنیا کو اس بات سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیںکہ توہینِ رسالت یا توہینِ مذہب کی ’’وارداتوں‘‘ کا مسلم دنیا پر کیا اثر ہوتا ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پوری مسلم دنیا ایسی ’’قومی ریاستوں‘‘ کا مجموعہ ہے، جو آئینی اور عملی طور پر جمہوری، سیکولر اور لبرل حکومتیں ہیں۔ ان تمام اسلامی ممالک میںدیکھنے کو تو مسلمان رہتے ہیں، لیکن ان کی بود وباش ، طرزِ تعلیم ، معیارِ قیادت اور معیشت و معاشرت سب کی سب’’ سیکولر‘‘ اور’’ جمہوری‘‘ ہے۔ برونائی سے لے کر مراکش تک جہاں کہیں بھی الیکشن ہوتے ہیں، وہاں وضع قطع سے ہی
مزید پڑھیے


’’دیارِ مغرب میں رہنے والے‘‘…(2)

جمعه 30 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
سیکولر، لبرل اور جمہوری معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہر ظلم کو کوئی نہ کوئی خوبصورت نام دے کر اس کی سرپرستی اور وکالت کرنے لگتے ہیں۔ فرانس اور یورپ میںبیسویں صدی کے آغاز یعنی،1900ء کے بعد سے قائم ہونے والے سیکولر، لبرل اور جمہوری معاشرے، دو انتہائی خونیں اور نفرت انگیز اجتماعی تعصب کے ادوارسے عبارت ہیں۔ پہلا دور یہودیوں کے خلاف تھا، جسے ’’سامیت کے خلاف‘‘ (Antisemitism)کہا جاتا ہے۔ یوں تو یہودیوں سے نفرت صدیوں سے عیسائی معاشرے کا حصہ رہی ہے ، لیکن یہ نفرت اپنے عروج پر ان جمہوری ادوار میں ہی پہنچی۔
مزید پڑھیے


’’دیارِ مغرب میں رہنے والے‘‘

جمعرات 29 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
مسلمانوں کی اس سیکولر، جمہوری اور لبرل ملک میں اوقات ہی کیا ہے۔ تم ساٹھ لاکھ مسلمانوں کا وہ جمِ غفیر ہو ،جسے سید الانبیاﷺ نے ’’پانی پر بہتے ہوئے خس و خاشاک‘‘ سے تعبیر کیاہے۔ تمہیں بہت زعم تھا کہ تم فرانس میں نو فیصد ہواور تمہارے ووٹ کی جمہوری نظام میں اہمیت ہے۔ یہ والٹیئر، وکٹر ہیوگو اور سارترجیسے فلسفیوں اور سیاسی دانشوروں کی دی گئی سیکولر اخلاقیات کا فرانس ہے۔ ان کے انقلاب کوانقلابات کی ’’ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔اسی کی کوکھ سے جمہوریت ، سیکولرازم اور لبرل ازم نے جنم لیا۔ مذہب کو’’ خونی عفریت‘‘ بنا کر
مزید پڑھیے


ایک بار پھر ٹرمپ

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
اگر کسی شخص کے وہم و گمان میں بھی یہ بات ہے کہ دنیا کے جمہوری ممالک میں الیکشن آزادانہ اور منصفانہ ہوتے ہیں تواس غلط فہمی کو اسے دل سے نکال دینا چاہیے۔ ہر ملک کے انتخابات پر اثرانداز ہونے والی قوتیں اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیئے مخصوص قیادت کو سامنے لاتی ہیں اور پھر اس کے جیتنے کے لیئے ایک سازگار ماحول تخلیق کیا جاتا ہے۔’’سرمایہ‘‘ اور’’ میڈیا‘‘ یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جو الیکشن کے دوران پوری منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ ’’جمہوریت‘‘ کا یہ سارا کھیل اسقدر منظم ہے کہ ایک عام
مزید پڑھیے