BN

اوریا مقبول جان


طالبان کی آمد: خوفزدہ کون؟ (2)


افغانستان میں طالبان کی حکومت کے آخری دو سال ایسے تھے کہ دنیا بھر کی طاقتوں کو یقین ہوچکا تھا کہ اگر اس اسلامی حکومت کو مزید مہلت دی گئی تو اس کے اثرات پوری مسلم دنیا میں پھیلنا شروع ہو جائیں گے۔ چودہ سالہ سوویت افغان جنگ سے تباہ حال افغانستان کو جس خوبصورتی، مہارت اور حسنِ انتظام سے طالبان نے ایک پُرامن ملک میں تبدیل کر دیا تھا اسکی مثال صرف سیاسیات (Political Science) کی کتابوں میںہی ملتی ہے کہ ایسے شہرجہاں ریاستی ادارے نظر نہ آئیں، لیکن لوگ ازخود قانون پر عملدرآمد کرتے ہوں۔ پاکستان کے شہر
اتوار 04 جولائی 2021ء مزید پڑھیے

طالبان کی آمد: خوفزہ کون؟

هفته 03 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
یہ تو ابھی صرف پچیس سال پہلے کی بات ہے۔ کم از کم دو نسلیں زندہ ہیں، جنہوں نے بدترین بدامنی، تشدد، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان والے افغانستان کو چند مہینوں میں امن و آشتی اور انصاف کا گہوارہ بنتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس قیامِ امن کے اثرات اسقدر متاثرکن تھے کہ اس نے پاکستان سے لے کر دنیا بھر تک ، ہراس طبقے کو حیران و پریشان کر دیا ،جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور نفاذ ِشریعت کے خلاف گذشتہ کئی سو سال سے جنگ لڑ رہا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا بھر کی نظروں
مزید پڑھیے


ٹیکنالوجی کے مشرکین کا المیہ۔ افغانستان

جمعه 02 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
انسانی تاریخ میں شرک کی داستان مشرکین کے اندرونی خوف، حسنِ طلب، ذوقِ خیال اور آزادیٔ افکار کے ساتھ ہر دور میںبدلتی رہی ہے۔شروع دن ہی سے، ایک ان دیکھے خدا پر انسان اس لیئے یقین نہیں کرتا تھا کہ اس کی خبردنیا کو ہمیشہ رسول اور پیغمبر دیا کرتے تھے۔ یہ ایک ایسی مسلسل خبر تھی جو صرف اللہ کی وحدانیت کے اقرار تک محدود نہیں ہوتی تھی، بلکہ تمام پیغمبر ساتھ میں اس بات کا بھی اعلان کیا کرتے کہ اللہ نے یہ دنیا عبث، بیکار یا تماشہ گاہ کے طور پر نہیں پیدا کی ہے، بلکہ اسے
مزید پڑھیے


مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

جمعرات 01 جولائی 2021ء
اوریا مقبول جان
گیارہ ستمبر 2001ء کوورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے بعد امریکہ اور اس کے ساتھی دیگر عالمی طاقتوں نے دنیا کی تمام ریاستوں کو اپنے ساتھ ملا کر جس دہشت گردی کے خلاف ایک اجتماعی جنگ کا آغاز کیا تھا ،آج وہ تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ بیس سال دنیا کو خون، بارودکے دھوئیں اور کھنڈرات تحفے میں دینے کے بعد، اسوقت دنیا بھر کے میڈیا، تھنک ٹینک، یہاں تک کہ عالمی اداروں کے موضوعات بھی بدل چکے ہیں۔ گذشتہ دو سالوں سے دہشت گردی کا وہ خونی دسترخوان لپیٹا جا چکا ہے، جس پر عالمی طاقتوں نے بیس لاکھ انسانوں
مزید پڑھیے


باز آجاؤ۔ ذِلتّ و رُسوائی سے بچو (آخری قسط)

اتوار 27 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
افغانستان جو’’ خراسانِ قدیمی ‘‘ہے وہاں امن دنیا بھر کی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ نہ صرف افغانستان بلکہ اس خطے کے تین ممالک کے بارے میں ایک کسنجر ڈاکٹرائن (kissinger Doctrine)ہے ،جو سی آئی اے سے لے کر دیگر عالمی سطح کی خفیہ ایجنسیوں میں مرکزی نکتے کے طور پر سمجھی جاتی ہے کہ اگر آپ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا پر اپنا قبضہ مسلط کرنا اور مفاد کا تحفظ چاہتے ہیں تو پھر پاکستان، افغانستان اور ایران میں کبھی مستحکم اور عوام میں مقبول حکومتیں نہ بننے دینا، وہاں اندرونی خفلشار، خانہ جنگی اور تشدد کو پنپنے
مزید پڑھیے



باز آجاؤ۔۔ ذِلتّ و رُسوائی سے بچو

هفته 26 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
دنیا کی پانچ ہزار سالہ معلوم تاریخ میں کسی ایسے معرکے کا سراغ نہیںملتا کہ جہاں ایک خطے میں آباد کئی کروڑ افراد میں سے صرف چند ہزار سرفروش ایک عزم لے کر اٹھیں کہ ہم نے اس برباد اور خون آشام ملک میں امن قائم کرنا ہے اور پھر وہ چند ماہ میں صرف اللہ کے بھروسے اور نصرت سے امن قائم بھی کر دیں۔ یہ امن اس وقت قائم کیا گیا جب پوری دنیا افغانستان کو بدامن رکھنا چاہتی تھی۔ افغانستان میں طالبان کے پُر امن پانچ سال عالمی طاقتوں کے لیئے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ افغانستان۔۔وہ
مزید پڑھیے


خاندان کی قبر کھودتا ہوا پاکستانی سینیٹ

جمعه 25 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
یوں لگتا ہے پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اس بات سے بے نیاز ہوچکی ہیں کہ اس ملک میں اقدار و روایات، اخلاق و تہذیب اور شرافت و نجابت کو روندنے والی کسی بھی طرح کی قانون سازی ہوتی رہے وہ اس کا حصہ بھی بنیں گی اور انہیں اس کی پرواہ بھی نہیں ہوگی۔ ایسی ہی ایک ’’وسیع البنیادقومی مصالحت‘‘ کا نظارہ 21جون2021ء کو پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی ’’سینیٹ‘‘میں دیکھنے کا موقع ملا، جب ان تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے اختلافات بھلا کر بجٹ کی گالیوں بھری ’’گہما گہمی ‘‘میں بھی گھریلو تشدد (Domestic Violence) کی روک تھام
مزید پڑھیے


جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پیر مر رہا ہے

جمعرات 24 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
سب کے لہجے اکھڑے ہوئے ہیں، خطے میں ہر کوئی پریشان دکھائی دے رہا ہے۔وجہ کیا ہے؟ گذشتہ ایک صدی سے امریکہ دنیا کے لاتعداد ممالک سے دم دبا کر بھاگا ہے، لیکن ان تمام ملکوں کے پڑوسی ممالک میںکبھی اضطراب اور بے چینی دیکھنے میں نہیں ملی۔ افغانستان میں ایسا کونسا آتش فشاں ہے جو امریکہ کے چلے جانے کے بعد اچانک لاوا اگلنے لگے جائے گا۔ یہی تو وہ لاواہے جو ایک جہنم کی آگ کی صورت ہے جو میرے اللہ نے ان تمام لوگوں کے لیئے اسی دنیا میں سلگا رکھی ہے جو کسی بھی خطے میں
مزید پڑھیے


ہمارا معاشرتی زوال

اتوار 20 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
اگر کوئی شخص انسانی تہذیب، معاشرتی زندگی اور اخلاقی طہارت کی معراج کو سمجھنا چاہتا ہے تو یہ اسلام کے بتائے ہوئے دو اصولوں کے گرد گھومتی ہے۔ (1)غیبت و بہتان سے بچنا اور (2)دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی۔ لیکن کمال یہ ہے کہ جوں جوں ہم جدید ’’مہذب‘‘ عالمی معاشروں کی تعمیر کرتے جا رہے ہیں ،یہ دونوں اوصاف غائب اور ان کے مقابلے میں دو نئی بدترین اقدار نے تقریباً ہر معاشرے میں جنم لے لیا ہے۔ (1)مجلسی زندگی سے لے کر قومی زندگی و سیاست تک بہتان تراشی اور غیبت اختیار کرنا اور (2)دوسروں کے عیب
مزید پڑھیے


افغانستان کے شکیل آفریدی

هفته 19 جون 2021ء
اوریا مقبول جان

افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقوںمیں امریکہ خصوصاً سی آئی اے کے وفادار، مخبر، ایجنٹ اور’’مفاداتی ہمدرد‘‘ بنانے کی مہم گذشتہ چالیس سال سے جاری ہے۔ جیسے ہی افغانستان میں سوویت کیمونسٹ افواج 24دسمبر 1979ء کو داخل ہوئیں ،تواس خبرکی امریکہ اور پاکستان کی اسٹبلشمنٹ دونوں کو توقع نہیں تھی۔اس سے چند سال پہلے، اگر کہیں روس کی براہ راست مداخلت کا تذکرہ چلتا تو افغان تاریخ کے حوالے دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اسے ردّ کر دیا جاتا ۔مگر امریکی ساتھ ہی یہ خواب بھی دیکھاکرتے تھے کہ کاش روس، افغانستان میں داخل ہونے کی حماقت کر بیٹھے۔
مزید پڑھیے








اہم خبریں