اوریا مقبول جان



سیکولر جمہوری منافقت کاخاتمہ


یہ اس بیانیے کی شکست ہے جو میرے ملک پاکستان کی وجہ تخلیق کی نفی کرنے کے لیے شروع دن سے دانشوروں نے تخلیق کیا تھا۔ یہ بھارت کی ستر سالہ منافقت کے خاتمے اور ہندو تعصب کے اصل چہرے کی نقاب کشائی کا دن ہے۔ یہ شیخ مجیب الرحمن، اسکی نظریاتی باقیات اور اس کی بنگالی عصبیت پر شروع کی گئی آزادی کی تحریک کی مکمل موت کا لمحہ ہے۔ اس انجام کا آغاز اسی دن سے لکھا جا چکا تھا جب دسمبر 1971 ء میں بنگلہ دیشی جو اس وقت مشرقی پاکستانی کہلاتے تھے انہوں نے اس دور
جمعرات 12 دسمبر 2019ء

مسلم اُمہ: ایک اور تقسیم کی منصوبہ بندی (آخری قسط)

بدھ 11 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
ایک صدی گزرنے کے بعد ایسا کیوں سوچا جا رہا ہے کہ امت مسلمہ کے مرکزی حصے یعنی مشرق وسطیٰ کی ایک بار پھر تقسیم کی جائے،اور نئی حد بندیاں بنائی جائیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوم پرستی کے جس جذبے کی بنیاد پر 1924 ء کے بعد یہ تمام ممالک وجود میں لائے گئے تھے وہ اگرچہ بے شمار جگہوں پربالکل مصنوعی تھا لیکن سوسال کی عادت اور ایک سرحد کے اندر رہنے نے اسے قوموں کے لاشعور کا حصہ بنا دیا ہے۔ ایک عراقی، ایرانی، شامی یا مصری اپنے ملک کے اسی قفس کو
مزید پڑھیے


مسلم امہ: ایک اور تقسیم کی منصوبہ بندی

منگل 10 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم کے بعد اگرچہ کہ پوری دنیا،رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم کر دی گئی تھی،لیکن وہ مغربی طاقتیں جنہوں نے فتح کے بعد اس تقسیم کی بنیاد رکھی، آج یورپی یونین کے نام پر ایک پرچم، ایک پارلیمنٹ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک کرنسی ''یورو'' کی بنیاد پرایک اکائی کی صورت متحد ہیں۔ باقی تمام دنیا کے لیے یہ اٹھائیس ممالک ایک ایسا متحد خطہ ہیں کہ آپ اس میں شمالی کونے یعنی فن لینڈ سے داخل ہوں اور جنوب میں مالٹا کے ملک پہنچ جائیں،
مزید پڑھیے


مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ

پیر 09 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
امریکی تال پر رقص کرنے والے دنیا بھر کے تجزیہ نگار گزشتہ پندرہ سالوں سے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کی ناکامی کا ذمہ دار ایک تنظیم کو گردانتے بلکہ اس کی مسلسل گردان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یوں تو بذات خود یہ کوئی تنظیم، گروہ یا جتھہ نہیں ہے بلکہ افغانستان میں گزشتہ چالیس سالوں سے جاری معرکۂ حق و باطل میں سرفروشوں کا ایک گروہ ہے جو گیارہ نومبر1994ء کو ملا محمد عمر کی قیادت میں اماراتِ اسلامی افغانستان کے قیام کے لیے طالبان کا حصہ بن گیا تھا۔ اسے مغربی دنیا اور اس کے مرعوب
مزید پڑھیے


مغرب کی علم دشمنی کی روایت کا تسلسل (آخری قسط)

جمعرات 05 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
گلیلیو کے مقدمے اور جیل خانے میں موت، دراصل قدیم رومن اور یونانی مذہبی نظریات کے ٹکرائو کی وجہ سے ہوئی۔ یہ ایسے نظریات تھے جنہیں پادریوں نے عیسائی مذہب کا حصہ بنا لیا اور پھر اس پر ڈٹ گئے۔ بائبل کی تعلیمات سے الگ تھلگ یہ ایک مذہبی سائنسی فکر تھی جو پادریوں کی زبان پر جاری تھی۔ جیسے ارسطو کا نظریہ کہ ’’سورج ساکن اور زمین چپٹی ہے‘‘ ایسی سائنس کو الہامی اشیر باد دینے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہر سائنسی تصور کو مذہب کی پیش گوئیوں سے منسلک کر دیا جائے۔ ایسے میں جب کوئی
مزید پڑھیے




مغرب کی علم دشمنی کی روایت کا تسلسل (قسط 1)

بدھ 04 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
شیکسپیئر کے ڈراموں سے جنم لینے والے تمام کردار وائرس کی طرح ہر اس ملک کے بچوں کے ذہنوں میں ڈال دیئے گئے ہیں جہاں انگلش میڈیم ذریعہ تعلیم رائج ہے۔ ان کرداروں میں ایک جولیس سیزر بھی ہے جس کی رنگارنگ کہانی میں خوبصورت بلکہ قلوپطرہ بھی ہے اور بے وفا دوست،بروٹس بھی۔ شیکسپیئر کے کرداروں کو چارلس لیمب (Charles lamb) نے بچوں کیلئے تحریر کیا اورپھر انہیں ڈراموں، فلموں اور ضرب المثل کی صورت تحریروں میں زندہ رکھا گیا۔ جس طرح یورپ کے مورخین نے یونان کے سفاک فاتح،سکندر کا ایک مرنجامرنج اور نرم خو چہرہ
مزید پڑھیے


پرانے شکاری، نیا جال لائے

منگل 03 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
کیمونسٹ طلبہ تحریک کی شروع دن سے ہی تین علامتیں تھیں، اور آج تیس سال کے وقفے کے بعد جب اس تحریک کا دوبارہ آغاز کرنل (ریٹائرڈ) فیض احمد فیض کی یاد میں منعقد لاہور میں امن میلے پر '' لال لال لہرائے گا'' گا کر کیا گیا تو وہی تین علامتیں ویسے ہی نظر آتی تھیں۔ امریکی اور یورپی امداد سے چلنے والی این جی اوز میں تیس سال پناہ لینے والے افراد اب سیکولرزم کے بوسیدہ لباس سے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ تین علامتیں تھیں (۱) الحاد:یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کے عطا کردہ نظام
مزید پڑھیے


پرانے شکاری، نیا جال لائے (قسط 1)

پیر 02 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
لاہور کی سڑکوں پر سرخ سویرے کا پرچم اٹھانے والے یہ وہی لوگ ہیں گذشتہ پچیس سال سے امریکہ، یورپ اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے بڑے بڑے بتوں کے سامنے سجدہ ریز تھے۔اپنا قبلہ بدلنے میں کمال رکھتے ہیں۔ جس دن سوویت یونین کے شہر لینن گراڈ میں غصے میں بپھرے ہوئے ہجوم نے سویت یونین کے بانی ولادی میر لینن کا مجسمہ گرایا، پچھتر سال سے روس پر مسلط جبر و استبداد کے نظام کا بوسیدہ لباس اتارا، لینن گراڈ کا نام بدل کر واپس مذہبی شخصیت کے نام پر سینٹ پیٹرزبرگ رکھا، تو عین اسی
مزید پڑھیے


یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا ؟ (آخری قسط )

جمعرات 28 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
آکسفورڈ جسے سب بڑا خیراتی ادارہ اور سب سے بڑا گرامر سکول سمجھا جاتا تھا وہاں بھی طبقاتی نظام تعلیم رائج تھا۔ برطانیہ میں یہ قانون رائج تھا کہ ''کوئی شخص اپنے بچے کو اسوقت تک سکول میں داخل نہیں کرے گا جب تک اسکی زمین یا مکانوں کے کرائے کی آمدنی 20 شیلنگ سے نہ ہو '' سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی میں جب مغلیہ ہندوستان میں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ ہر کوئی بلاتخصیصِ مذہب، رنگ، نسل اور ذات پات، اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرا سکتا تھا تو اس وقت برطانیہ
مزید پڑھیے


یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟ (قسط 2)

بدھ 27 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
اورنگزیب عالمگیر کا ہندوستان اپنے دور میں آباددنیا کی تہذیبوں میں علم و عرفان کا ایک درخشندہ ستارہ تھا۔ ایک ایسا خطہ جس میں گلی گلی اور گاؤں گاؤں سکول کالج اور یونیورسٹیاں لوگوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی تھیں۔ اس عظیم علمی میراث کی گواہی کسی مسلمان مورخ یا ہندوستان میں آباد شاہی وظیفہ خوار ہندولکھاری نے نہیں بلکہ انگریز حملہ آوروں نے دی ہے، جنہوں نے حکومت سنبھالنے کے بعد اس سارے علمی ماحول کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیاتھا۔ ہندوستان کے عظیم نظام تعلیم کی پہلی گواہی ایک برطانوی پادری
مزید پڑھیے