BN

اوریا مقبول جان



کرتار پور راہداری اور مذہبی سیاست گری


آج سے تقریبا تین سال قبل میں آخری دفعہ بھارت یونیسکو کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے گیا،تو میں نے دلی براستہ سڑک جانے کا قصد کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ میں امرتسر کی مرکزی مسجد خیرالدین کے صحن میں مدفون اپنے دادا اور دادی کی قبر پر حاضری دینا چاہتا تھا۔ میرے دادا مولوی خدا بخش مرحوم اپنے مرشد کے حکم پر تقریبا ًدو صدیاں پہلے سیالکوٹ میں امام علی الحق کے مزار کے ملحقہ علاقے سے ہجرت کرکے برطانوی ہندوستان کے ضلع ہوشیارپور کے قصبے مکیریاں میں جا کر آباد ہوئے۔ ان کے دادا
بدھ 06 نومبر 2019ء

مسلکی جمہوری سیاست

منگل 05 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ پندرہ سالوں سے مجھے بارہا ایسے پرجوش، نعرہ زن اور جذباتی انسانوں کے ہجوم میں جانے کا اتفاق ہوتا رہا ہے، جن کی عقیدت اور محبت ان کی عقل و ہوش پر غالب ہوتی ہے۔ یہ سب کے سب کسی نہ کسی مذہبی فرقے، روحانی حلقے یا مذہبی سیاسی پارٹی کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ انکی عقیدت و جذباتیت کے حوالے سے کسی مسلک کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہ عالمِ جنون ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ اولیائے کرام کے سالانہ عرس جن کا تمام ماحول زیادہ تر میلوں ٹھیلوں والا ہوتا ہے، رنگا رنگی غالب ہوتی ہے، لیکن
مزید پڑھیے


آج کے بعد کے ممکنہ حالات

پیر 04 نومبر 2019ء
اوریا مقبول جان
یہ کالم یا تحریر لکھتے وقت میں نے اپنے آپ کو ایک کالم نگاریا مصنف کی حیثیت سے بالکل الگ کرلیا ہے۔ میں نے خود کو ان تمام جذبات، خیالات و نظریات اور تعصبات سے بھی دور کر دیا ہے جو کسی سے محبت یا نفرت کا باعث بنتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جس میں ایک انتظامی افسر خصوصا ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوچتا ہے۔ اگر اس کے سامنے ایک صورتحال آجائے جس میں امن عامہ کا قیام، لوگوں کی جان ومال کا تحفظ اور ایک غیر قانونی قرار دیے گئے ہجوم کو منتشر کرنا
مزید پڑھیے


مولانا کیا کر سکتے ہیں؟

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
مولانا فضل الرحمان سے یہ میری پہلی تفصیلی تنہا یعنی ون آن ون ملاقات تھی۔ اس سے قبل مجھے یہ ''شرف'' کبھی حاصل نہ ہوسکا۔ شاید یہی میری خوش بختی ہے۔ مولانا کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا میں احترام اس لئے کرتا ہوں کہ وہ ان قائدین میں سے ایک تھے جنہوں نے 1974 ء کی تحریک ِختم نبوت کی قیادت کی۔ اس تحریک کا ایک ادنی کارکن ہونے کو میں اپنے لیے توشۂ آخرت سمجھتا ہوں۔ ورنہ مجھے ان کے سیاسی نظریے بلکہ ان کی سیاسی زندگی سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ اپنے مخالفین
مزید پڑھیے


غفلت سے نکلو

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
ستمبر 1965ء کی سترہ روزہ جنگ پاکستان کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے گرد آلود کتابوں میں دفن کردیا گیا۔کیونکہ 1971ء کی شکست کے بعد کسی کو اسے یاد کرنے کا حوصلہ ہی باقی نہ رہا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے عوامل سب کو معلوم تھے مگر وہ سازشیں جو آج کھل کر بیان کی جاتی ہیں،ان دنوں شکست کے ماحول میں کوئی انکا ذکر کرنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی ساری سیاست اور مقبولیت، بھارت سے ایک ہزار سال تک جنگ، کشمیر کی آواز بلند کرنے اور تاشقند میں 1965ء کی جیتی جنگ کو
مزید پڑھیے




بذریعہ ''سورس ''، معتبر ذرائع''

منگل 29 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ پاکستانی جو صبح سویرے تلاش رزق میں نکلتے ہیں، شام گئے گھر لوٹتے ہیں تو ان کے سامنے دو درجن سے زیادہ ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھے ہوئے اینکرز دن بھر کی خبروں، واقعات، سانحات اور گرمجوش بیانات پر دھواں دھار پروگرام کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی چینل یا پروگرام پر یوں لگتا ہے پاکستان معاشی، عسکری اور مالیاتی طور پر ڈوب چکا ہے، گہری قبر میں دفنایا جا چکا ہے بس اعلان ہونا باقی ہے۔ کوئی پکارتا ہے ابھی نبض چل رہی ہے، سانس باقی ہے، مصنوعی تنفس دیا جارہا ہے، امید رکھنی چاہیے کہ اس کے تن
مزید پڑھیے


جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

پیر 28 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
عام آدمی کا ذکر چھوڑیں کہ اس کا تو مقدر ہی ذلت و رسوائی اور دَر دَر کی ٹھوکریں ہیں، جیل کی بیرکوں میں کھائے، عدالتوں کے دروازوں پر کھائے یا ہسپتال کی راہداریوں میں۔ کوئی مقابلہ نہیں اسکا ان لوگوں کے ساتھ جو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن آپ سونے کا چمچہ لے کر بھی پیدا ہوں تب بھی آپ اس ''حسنِ سلوک'' کے مستحق نہیں ہوسکتے جو حسنِ سلوک آپکو اس وقت میسر آتا ہے جب آپکے سر پر جمہوری سیاسی پارٹی کی ٹوپی ہو اور آپ کی جیب میں چند ہزار
مزید پڑھیے


امریکی دھوکہ دہی

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جنوبی ویتنام کے دارالحکومت سائیگون میں امریکی سفارتخانے کی چھت پر ہیلی کاپٹر آ کر ٹھہرتے اور وہاں موجود امریکی فوجیوں کو نکال کر لے جاتے۔ یہ چند ہزار امریکی فوجی ان پانچ لاکھ فوجیوں میں سے تھے جو امریکہ کی ویتنام میں شکست اور معاہدے کے بعد واپس بلائے جارہے تھے۔ 30 اپریل 1975 کو ان ہیلی کاپٹروں کی خصوصی پروازیں جاری تھیں۔ امریکی سپاہی اسقدر جلدی میں تھے کہ ہیلی کاپٹر کی دم پکڑ کر لٹک جاتے۔ اسی دوران امریکی وائرلیس پر یہ پیغام نشر ہوا کہ تقریبا ساڑھے چار سو ویت نامی حکومتی ارکان جنہوں نے ایک
مزید پڑھیے


مولانا عبدالرشید غازی سے مولانافضل الرحمٰن تک

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
عبدالرشید غازی جو بعد میں مولانا کہلائے، قائداعظم یونیورسٹی سے 1988 ء میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو میں ملازم ہوگئے۔ ان کے والد لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبداللہ غازی تھے۔ جن دنوں سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد چل رہا تھا تو ان کی مسجد اسلام آباد میں اس جہاد کی نقیب اور اس میں حصہ لینے والوں کا ایک مرکزومحور ہوتی تھی۔ عبدالرشید غازی جب ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے عملی زندگی میں آئے تو روس افغانستان چھوڑ چکا تھا اور
مزید پڑھیے


اس درد کا علاج نہیں تیرے پاس بھی

منگل 22 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
اخلاقیات اور شرم و حیا سے تہی‘ انفرادی ترقی اور مفادات کے تحفظ کا علمبردار اور کاروباری برتری کے پہیوں تلے شرم و حیائ، اخلاق و مروت‘ تہذیب و شائستگی اور بنیادی انسانی ہمدردی تک کو کچلنے والے سیکولر لبرل معاشرے میں کسی شریف اور باحیاء مرد یاعورت کا زندہ رہنا مشکل سے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ کارپوریٹ سرمائے سے تخلیق کردہ اس سیکولر لبرل معاشرے کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا ہے جو اس کا ’’بھونپو‘‘ ہے۔ یہ میڈیا کسی کی عزت و تکریم میں اضافہ کرنے میں شاید کامیاب نہ ہو سکے لیکن کسی کو ذلیل
مزید پڑھیے