BN

اوریا مقبول جان


مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے


ضیاء الحق کی شہادت کے بعد کے بتیس سال اس ملکی سیاست میں نظریے کی موت اور مفاد پرستانہ، ابن الوقت سیاست کے سال ہیں۔ ایوب، یحییٰ اور ضیاء الحق تینوں کے مارشل لاز اپنے اپنے معروضی ، ملکی اور بین الا قوامی حالات اور فوجی قیادت کی ہوسِ اقتدار کے نتیجے میں لگے۔ ایوب خان تو سول اور ملٹری بیوروکریسی کی آپس کی رسہ کشی میں سے اس وقت سامنے آیا، جب سات اکتوبر 1958ء کو سکندر مرزا نے مارشل لالگایا۔ سکندر مرزا کو انگریز نے فوج سے سول سروس میں بھیجا تھا۔ وہ اس وقت ایک میجر تھا،
جمعرات 20  اگست 2020ء

آزادیٔ اظہار کے نام نہاد ٹھیکیدار

اتوار 16  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
سیدالانبیاء ﷺ کی اس حدیث کو تو مسلمان ملکوں پر حکمران سیکولر لبرل، آمر، ڈکٹیٹر اور خاندانی بادشاہ بھی علمائے کرام کو مساجد کے منبروں پر نہیں پڑھنے دیتے اور مقام حیرت ہے کہ امریکی صدارتی امیدوار ’’جوبائیڈن‘‘ نے اپنی تقریر ہی اس عظیم حدیث پر ختم کی ہے۔ (مسلم امّہ کے ستاون ملکوں پر جتنے بھی ڈکٹیٹر یا جمہوری حکمران مسلط ہیں، ان کی اکثریت سیکولر لبرل آئیڈیالوجی کی حامل ہے، اسی لئیے میں انہیں مسلمان حکمران کہہ کر اسلام کو بدنام کرنے کی سازش میں شریک نہیں ہوسکتا)۔ بات یہاں تک رہتی تو پھر بھی ٹھیک تھا،
مزید پڑھیے


اسرائیل، متحدہ عرب امارات کا اتحاد

هفته 15  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ دن تو آنا ہی تھا۔ وہ لوگ جو اپنے حالاتِ حاضرہ کو مخبرِ صادق، رسولِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بتائی گئی آخرالزمان اور دورِ فتن کی پیش گوئیوں کی روشنیوں میں دیکھتے ہیں اور یہود نصاریٰ اور کفار کے عادات و خصائل کے بارے میں قرآنِ پاک سے رہنمائی لیتے ہیں، ان کے لئیے آج کی یہ خبر کسی حیرت کا باعث نہیں ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات‘‘ اور ’’اسرائیل‘‘ کے درمیان امن معاہدہ ہوا ہے۔ اس کی علامات تو اس دن سے واضح ہونا شروع ہو گئیں تھیں، جب اپریل 2019ء میں ہندو مندر کی تعمیر
مزید پڑھیے


ٹیکنالوجی پرستوں کیلئے نئے دیوتا کا جنم

جمعه 14  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھر کے تبصرہ نگار، ماہرین سیاست و معیشت اور دفاعی تجزیہ نگار ہمیشہ مادی وسائل اور سائنسی ترقی کے ترازو پر رکھ کر اپنے خیالات کو تولتے ہیں اور اس کے بعد اس معلوماتی خزانے سے اپنی عقل و ہوش سے پیدا شدہ تجرباتی بصیرت استعمال کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس وقت دنیا پر کس ’’قوت‘‘ کا راج ہے اور مادیت کے سنگھاسن پر کون سی ٹیکنالوجی کا بت جلوہ افروز ہے۔ ٹیکنالوجی دراصل معاشی اور سائنسی علوم کی دنیا سے جنم لینے والی ایک ایسی قوت ہے ، جس کے بھی ہاتھ میں آجائے اسے وقت کا
مزید پڑھیے


سیکولر، لبرل فاشزم کے یرغمال ’’ایلیٹ‘‘ تعلیمی ادارے

جمعرات 13  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
اس ادارے کی پہچان گذشتہ ڈیڑھ صدی سے ایک سیکولر، لبرل اور آزاد خیال ادارے کے طور پر رہی ہے۔ لاہور شہر کا ہر فیشن یہاں سے جنم لیا کرتا تھا۔ اب تو یہ نسبتاً روایت پسند ادارہ کہلاتا ہے، کیونکہ لاہور شہر میں چاروں جانب مذہبی اخلاقیات سے بغاوت اور جدید سیکولرلبرل تہذیب کی نرسریاں تعلیمی اداروں کی صورت کھل چکی ہیں۔ آپ ان تعلیمی اداروں میں داخل ہوں تو آپ کو وہاں ایک شاندار سی پکنک کا سا سماں محسوس ہوگا۔ رنگ برنگے ملبوسات، جدید فیشن میں تراشے ہوئے بال اور لب ورخسار کی آرائشیں آپ کی آنکھوں
مزید پڑھیے



اور جگر ؔکو شراب نے مارا

اتوار 09  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان میں دانشوری کا چورن جس دن سے میرے جیسے کالم نگاروں کی دکان کی زینت بنا ہے، اس دن سے ہر کسی نے پیرانِ تسمہ پاء کی طرح اپنا اپنا ’’حلقۂ ارادت‘‘ بنا رکھا ہے۔ جو لبرل سیکولر ہے اسے اسلام کی حقانیت پر کچھ بھی مل جائے اپنے چاہنے والے کے ڈر سے نہیں لکھتا، اسی طرح اگرشدت پسند اسلام کے دعویدار کو کسی ظلم کے پیچھے مذہبی لوگوں کا ہاتھ نظر آئے تو وہ اسے گول کر جاتا ہے تاکہ اس کے پڑھنے والوں کی تعداد میں کمی نہ آجائے۔ نظریاتی کالم نگاروں کی تو بات سمجھ
مزید پڑھیے


بلادِ شام کا بیروت: میدانِ جنگ کیوں؟(آخری قسط)

هفته 08  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے اس دھماکے نے دنیا بھر کے سامنے لاتعداد سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سترہ سالہ ’’سول وار‘‘ نے لبنان کی معیشت کو اتنا تباہ نہیں کیا ہو گا جس قدر دور رس اور تباہ کن اثرات اس دھماکے سے مرتب ہوں گے۔ بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ چند سو افراد کی جانیں گئی ہیں، چند ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں اور چند کلو میٹر کے علاقے کی عمارات تباہ ہوئی ہیں۔ اس سے کئی گناہ زیادہ تباہی تو 2006ء میں آئی تھی جب ’’حزب اللہ‘‘ اور
مزید پڑھیے


بلادِ شام کا بیروت: میدانِ جنگ کیوں؟

جمعه 07  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
خلافتِ عثمانیہ کے اختتام، جنگِ عظیم اوّل میں اتحادی افواج کی فتح اور قومی ریاستوں کے قیام کے بعد سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ مسلمانوں کے ذہنوں سے صدیوں پرانا ’’ملتِ اسلامی‘‘ کا جغرافیہ ’’محو‘‘ ہو کر رہ گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ حکیم اور سید الانبیاء ﷺ نے اپنی احادیث میں جن علاقوں کا تذکرہ کیا ہے، ان کی وسعت کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرکے انہیں مخصوص نام دے کر ان کی وہ شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی جو احادیثِ رسول ﷺ میں ملتی ہے۔ اس تقسیم کا سب سے
مزید پڑھیے


آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر

جمعرات 06  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
محبّی محترمی عرفان صدیقی صاحب کا حج کا سفر نامہ آیا تو اس وقت وہ ایک اہم عہدے پر مسندنشین تھے، ان کی عنایت کہ فقیر کو یاد رکھا اور کتاب بھجوائی، لیکن کرم بالائے کرم یہ کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے کرتا دھرتائوں سے یہ کہہ دیا کہ اگر اس کتاب پر کوئی پروگرام کرنا ہو تو نظامت مجھ فقیر سے کروائی جائے۔ جس گداز سے یہ سفر نامہ تحریر کیا گیا ہے، اس کے تو چند صفحات پڑھتے ہوئے آنکھیں یوں بھیگ جاتی ہیں کہ ان کی دھندلاہٹ میں سوائے مکہ و مدینہ کے اور کچھ نظر ہی
مزید پڑھیے


سرد جنگ نہیں کھلی عالمی جنگ اور پاکستان (آخری قسط)

هفته 01  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
جس لہجے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین کے بارے میں گفتگو کی ہے، یہ لہجہ امریکی حکمرانوں نے صرف چند ماہ پہلے ہی اختیار کیا ہے۔ یوں تو دھمکی آمیز گفتگو، سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر ڈانٹنا، جھڑکنا امریکہ کا معمول رہا ہے، مگر یہ ڈانٹ صرف چھوٹے ملکوں تک محدود ہوا کرتی تھی۔ آخری بڑی ڈانٹ جارج بش نے افغانستان پر حملہ آور ہونے کے چند ماہ بعد تین ممالک، ایران، عراق اور شمالی کوریا کو’’ شیاطینی مراکز‘‘ (Axis Of Evil) کا لقب دے کرپلائی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے
مزید پڑھیے