BN

اوریا مقبول جان


گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا


بنارس جسے ان دنوںوناراسی کہتے ہیں، ایک رنگارنگ شہر ہے۔ ہر گلی ایک منظرنامہ اور ہر موڑ ایک تماشہ گاہ ہے۔ یہ ان چند شہروں میں سے ایک ہے جو اردو محاورے کا حصہ بنے، ’’شام اودھ، صبح بنارس‘‘۔ اودھ کی شام طوائفوں کے کوٹھوں سے رنگین ہوتی تھی لیکن گنگا کنارے بنارس کی صبح واقعی آج بھی دید کے قابل ہوتی ہے۔ میں بنارس سے دس کلومیٹر دور سارناتھ میں ٹھہراہوا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں گوتم بدھ طویل بن باس کے بعد جب گیان حاصل کرکے لوٹاتواس نے اس جگہ اپنے پہلے پانچ بھکشوؤںسے دھرم کے حوالے
جمعه 18 جون 2021ء مزید پڑھیے

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

جمعرات 17 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
مسلمانوں اور یہودیوں کی جس جنگ کو سید الانبیاء ﷺ نے اس دنیا کے اختتام سے پہلے حق و باطل کا سب سے بڑا معرکہ بتایا ہو اور جس کی کوکھ سے جنم لینے والے کردار ’’دجّال‘‘ سے اسقدرڈرایا ہو کہ صحابہ کرامؓ بتاتے ہیں کہ جب کبھی بھی رسول اکرمﷺ کی زبان پر اس کا ذکر آتا تو ہم خوف سے کانپنے لگتے اور خیال کرتے کہ وہ شاید ابھی مدینہ کی کسی گلی سے برآمد نہ ہو جائے۔حضور نبی کریم ﷺنے یہاں تک فرمایا ہے کہ سیدنا آدم ؑ سے لے کر اب تک کوئی نبی ایسا نہیں
مزید پڑھیے


دوبندی کا اچکزئی ۔پاکستان کا وکیل

اتوار 13 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
طالبان کے افغانستان میں دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کا تصور کرتے ہی جن افراد، قبائل اور سیاست دانوں کی سانسیں رُک جاتی ہیں، چہرے کا رنگ زرد ہو جاتاہے اور انہیں اپنے مفادات کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آتا ہے، ان میں سب سے اہم گذشتہ سو سالہ پاکستان مخالف پشتون قوم پرست سیاست کے امین لوگ ہیں۔ قیامِ پاکستان ان رہنماؤں کی زندگیوں کا بنیادی المیہ ہے۔انگریز کے تقسیم کردہ صوبوں میں منقسم یہ پشتون رہنما، شمال مغربی سرحدی صوبے میں خان عبد الغفار خان اور برٹش بلوچستان میں خان عبد الصمد اچکزئی کی ذرّیت۔ یہ اور ان کے
مزید پڑھیے


بند گلا (Closed Collar)

هفته 12 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
عامر خاکوانی کا قلم بہت حساس ہے اور ایسا قلم وہ نشتر ہوتا ہے جو بہت سے پوشیدہ مسائل کی نشاندہی کرتا رہتا ہے۔ یہ مسائل اس اُبلتے ہوئے بدبودار گٹر کی طرح ہوتے ہیں جن پر ہم نے شاندار خوشنما ڈھکن رکھے ہوتے ہیں، چونا لگایا ہوتا ہے ،دو تین گملے رکھ کر اُبال اور بدبو کا راستہ بھی روک رکھا ہوتا ہے، مگراُبال اور بدبوتو بہر حال جاری رہتی ہے۔ انہوں نے اپنے کل کے کالم میں یوں تو بچوں کے سکول یونیفارم میں لازمی ٹائی کی اذیت سے بات شروع کی مگر انکی گفتگو ہماری منافقت اور
مزید پڑھیے


دیارِ مغرب ’’میں‘‘ رہنے والو

جمعه 11 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
یورپ کے پاس مسلمانوں سے نفرت کرنے کا ایک ہی تاریخی بہانہ ہے اوروہ 1095ء سے لے کر 1291ء تک کی دو سو سالہ صلیبی جنگوں کی تاریخ ہے، جن میں ایک اندازے کے مطابق دونوں اطراف سے بیس لاکھ افراد جان سے گئے تھے۔ انہی جنگوں کے خاتمے کے بعد فرانس اور انگلستان نے 1337ء سے لے کر 1453ء تک آپس میں 116سال تک جنگ لڑی اور اس کے مقتولین کی تعداد صلیبی جنگوں سے بھی دُگنی بتائی جاتی ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے معرکے بھی آپ کو اسی یورپ کی سرزمین پر ملیں گے ،جن میں
مزید پڑھیے



دیارِ مغرب ’’میں‘‘ رہنے والو

جمعرات 10 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
جیسے جیسے وہ وقت قریب آتا جا رہا ہے کہ جب سید الانبیاء ﷺ کی احادیث کے مطابق پوری دنیا ایک بڑی اور آخری جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی، سب سے زیادہ فکر و تردّداور پریشانی ان مسلمانوں کے بارے میں لاحق ہوتی ہے جو یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کے براعظموں کے ایسے ممالک میں رہائش پذیر ہیں، جنہیں اسلامی تعلیمات کی کسی بھی توجیہہ کے تحت ’’دارالسلام‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان ممالک کو ہمارے مسلمان فقیہہ کھلم کھلا ’’دارالکفر‘‘ بھی کہنے سے ہچکچاتے رہے ہیں، لیکن کسی بھی فقیہہ سے اگر فتویٰ
مزید پڑھیے


سڑیٹیجک گہرائی کے دشمن

اتوار 06 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
جیسے جیسے افغانستان میں ذلّت آمیز شکست کے بعد امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے دن قریب آرہے ہیں، بہت سے لوگوں کے شکموں میں طرح طرح کے مروڑ اٹھنا شروع ہوگئیہیں۔ شکست تو امریکہ اور اسکے حواریوں کی ہوئی ہے لیکن ماتمی چہرے آپ کو زیادہ تر پاکستان اور ہندوستان میں ملیں گے۔ بنارس کے گھاٹوں، کاشی وشوا ناتھ کے مندروں اور ناگ پور کے راشٹریہ سیوک سنگھ کے ٹریننگ سینٹروں میں یہ ماتم اپنی دو سو ساٹھ سالہ (260) پرانی تاریخ رکھتا ہے۔14جنوری 1761ء کا پانی پت کسے یاد نہیں۔ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کبھی بھی
مزید پڑھیے


افغانستان اور ٹیکنالوجی پرست ’’مشرکینِ جدید‘‘

هفته 05 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
وہ جن کے دلوں میں ٹیکنالوجی کے حیران کن اور کرشماتی طاقتوں والے ’’ بت‘‘ کا شرک جڑیں پکڑ چکا تھا، گذشتہ بیس سالوں سے وہ مغرب کی سمت سے طلوع ہونے والے اس سورج اور افغانستان کی سرزمین پر اس کی یلغار کی شان میں تسبیح کرتے، قصیدے گاتے اور اس کی چوکھٹ پر اپنی جبینِ نیازجھکاتے رہے تھے۔ لیکن آجکل ان ’’مشرکینِ جدید ‘‘ کی حالت دیدنی ہے۔ یوں تو گذشتہ دو سالوں سے یہ اپنے ’’عظیم‘‘ اور ’’محیّر العقول‘‘ٹیکنالوجی کے بت کی افغانستان میں ٹوٹی ہوئی کرچیاں چن رہے تھے اور ان کی سمجھ نہیں آرہی تھی
مزید پڑھیے


آنسوؤں کی راہگذر

جمعه 04 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
یہ تو ابھی کل کی بات ہے۔ صرف دو صدیاں قبل جب ابھی تک مسلم دنیا تہذیب و تمدن، علم و عرفان اور خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی تھی، خلافتِ عثمانیہ کا استنبول، شاہانِ ایران کا اصفہان اور برصغیرپاک و ہند کا دلّی و لاہور ایسے مراکز تھے جن کی جانب دنیا بھر کے سیاح سفر کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔لاہور کے شاہی قلعے میں یورپ کے مصوروں کی پینٹنگز کی ایک بہت بڑی تعداد ’’پرنسز بمبا کا مجموعہ‘‘ (Princess Bamba Collection)کے نام سے موجود ہے۔ یہ ،یورپ کے ان مصوروں کی تصاویر ہیں جو ہندوستان کا سفر اس
مزید پڑھیے


زمینی پیغمبروں کا زوال

جمعرات 03 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
کیا کسی کے کانوں اور آنکھوں کویقین آئے گا کہ چین جس کی آبادی ایک ارب چوالیس کروڑ ہے اور جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے وہ پکار اٹھا ہے کہ اگر ہم نے آئندہ اپنی آبادی میں اضافہ نہ کیا تو ہم ایک معاشی، معاشرتی، سیاسی اور عسکری قوت کے طور پر دنیا کے نقشے سے مٹ جائیں گے۔ آج سے صرف دو دہائی قبل جب یورپ کے ممالک میں آبادی پر کنٹرول کے خطرناک اور تباہ کن نتائج سامنے آنے لگے تو مشہور میگزین ’’اکانومسٹ‘‘(Economist)نے تین درجن صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی
مزید پڑھیے








اہم خبریں