BN

اوریا مقبول جان


قومی یہودی فنڈ سے’’ایلاد‘‘ تک…(آخری قسط)


یروشلم شہر میںیہودیوں کی دو ہزار سال بعد واپس آباد کاری کے پیچھے جہاں گزشتہ ڈیڑھ سو سال کی صہیونی تحریک اور عالمی طاقتوں کی پشت پناہی ہے وہیں دنیا بھر کو اس جگہ کی اہمیت اور حیثیت سے آگاہ کرنے اور اسے ایک عالمی ورثہ قرار دلوانے کے لئے آثار قدیمہ کے تحفظ کا نعرہ ایسا خوش کن تصور ہے کہ ہر کوئی ماضی کی کھوج اور اس کی بھول بھلیوں میں کھو جاتا ہے۔وہ ظالموں‘ قاتلوں اور حیوان صفت انسانوں کی تباہ حال بستیوں کو انسانی ورثے کے احترام کے طور پر دیکھتا ہے۔’’ایلاد‘‘کا قیام بنیادی طور پر
اتوار 30 مئی 2021ء مزید پڑھیے

قومی یہودی فنڈ سے ’’ایلاد‘‘ تک……( 2)

هفته 29 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
قومی یہودی فنڈ اس وقت مذہبی شدت پسندی، مذہبی منافرت اور غیرقانونی آبادکاری جیسے لاتعداد عالمی سطح کے جرائم میں ملوث ہونے کے باوجوداپنے مقاصد کے حصول کے لیے گذشتہ 120 سال سے کام کررہا ہے اور اس وقت دنیا کی تمام رفاحی (Charity)تنظیموں میں مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ’’چار ستاروں‘‘ (Four Star)والا ہے۔ یعنی اس فنڈ نے عالمی حکومتوں،عالمی تنظیموں،انسانی حقوق کی انجمنوں سے چار ستاروں میں سے چاروں والی ریٹنگ (Rating) حاصل کر رکھی ہے۔یہ بظاہر ایک ’’رجسٹرڈ خیراتی فنڈ‘‘ہے جسے سرمایہ صرف یہودی سرمایہ دار ہی فراہم نہیں کرتے،بلکہ دنیا کی تین بڑی حکومتیں
مزید پڑھیے


قومی یہودی فنڈ سے ’’ایلاد‘‘ تک

جمعه 28 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
سوئٹزرلینڈ کے بیسل شہر میں 1897ء کے ایک دن دنیا بھر کے تمام یہودی خفیہ طور پر اکٹھے ہوئے۔ اس اجتماع کو آج کی دنیا، صیہونیت کی پہلی عالمی کانفرنس کے طور پر بخوبی جانتی ہے۔ مدتوں یہ تنظیم، اس کے مقاصد، ممبران کی تعداد اور وسائل خفیہ رہے۔ یورپی اور امریکی حکمرانوں میں بھی صرف وہی چند افراد باخبر تھے ،جو اس عالمی سازش میں شریک تھے۔ اس پہلی کانفرنس میں ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں حساب (Mathematics) کا پروفیسر ہیرمن ہیرسش شیپرا (Hermenn Hirsch Sehapira)بھی موجود تھا۔ یہ لتھووینیا کا ایک یہودی ربائی تھا جو عبرانی زبان اور ادب
مزید پڑھیے


یہ 2021ء ہے 2001ء نہیں

جمعرات 27 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
شاہ محمود قریشی کے لہجے میں یہ کھنک، یہ جرأت کس نے بخشی کہ وہ پاکستان کی سینٹ میں کھڑے ہو کر ببانگِ دہل یہ کہے کہ اب اس سرزمین پر کوئی امریکی اڈہ نہیں دیا جائے گا۔ کیا پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد سے لے کر آج تک یہ لہجہ اختیار کر سکتا تھا۔ گذشتہ بیس سال گنگ زبانوں اور مصلحت کوش لہجوں کے گواہ ہیں۔یہ سب ان مردانِ حّرکی قربانیوں اور جہاد کی دولت کے امین طالبان کی مسلسل جدوجہد، جنگ اور جہاد کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے لیڈروں کو بھی ایسی
مزید پڑھیے


اصل قاتل کون؟ (آخری قسط)

اتوار 23 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھرمیں یہودی ابھی تک معتوب ہی سمجھے جاتے تھے ،مگر وہ آسٹریا کے مشہور صحافی، ڈرامہ نگاراور سرگرم سیاسی رہنماتھیوڈر ہزال کی (Theodor Herzal) کی سربراہی میں خفیہ طور پر منظم ہو چکے تھے۔ ہزال نے 1897ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بیسل (Basel)میں صیہونیت کی عالمی کانگریس بلائی تھی۔ اس وقت اس کا نام اور مقام تک خفیہ رکھا گیا تھا ۔ یہودیوں نے اسی کانگریس میںپوری دنیا کے معاشی اور سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ’’پروٹوکولز‘‘ تحریر کئے تھے۔یہ پروٹوکولز صیہونیت کی اگلے سو سال کے لیے حکمت عملی تھی، جسے انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔
مزید پڑھیے



اصل قاتل کون؟

هفته 22 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
اگر کوئی دانشور یہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کے مسلمانوں کے قاتل یہ چند لاکھ اسرائیلی یہودی ہیں ،تو اسے عالمی سیاست کی پرپیچ راہداریوں کا بالکل اندازہ نہیں۔ وہ اگر مسلمان ہے تو یقینا اسے قرآنِ پاک اور احادیثِ رسول ﷺ میں وضاحتوں کے ساتھ بیان کئے گئے آخری معرکۂ خیر و شر کے کرداروں کا مکمل ادراک بھی نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیایہودی، جن پر نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ نے قیامت تک ذلت و مسکنت مسلط کر دی ہو، وہ آج بذاتِ خود اسقدر طاقتور اور قوت والی قوم بن سکتی ہے کہ ڈیڑھ ارب
مزید پڑھیے


’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ سے ’’انکل سرگم‘‘ تک

جمعه 21 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
ہم دونوں ایک دوسرے کے لیئے اجنبی نہیں تھے ،لیکن مدتوں ملاقات نہ ہو سکی تھی۔ وہ میرے لیئے بچپن ہی سے اس جادوگر کی طرح تھا ،جس کی پٹاری میں موجود لاتعداد کردار باہر آکر رقص کرنے لگتے تھے۔ یہ رقص ایک ایسی زندگی تھا، جس نے اس ملک کے کروڑوں بچوں کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا۔ لیکن اس کے کردار جب گفتگو کرتے تو وہ ایسی باتیں کہہ جایا کرتے، جو بڑے بڑے فصیح البیان مقرروں، اور جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے انقلابیوں کے منہ سے بھی ادا نہ ہوپاتیں۔ پھر ایک دن اچانک ایسا ہوا کہ
مزید پڑھیے


ساڑھے سات ارب بزدل انسانوں کا سمندر

جمعرات 20 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
غزہ اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر جاری اسرائیلی دہشت گردی میں ،معصوم بچوں کی لاشیں اٹھاتے والدین، خوف سے کانپتے بچے، ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے خاندان اور بلند و بالا عمارتوں کے زمین بوس ہوتے مناظر کے درمیان عالمی میڈیا پر ایک ایسی خبر نشر ہوئی ،جس کا بظاہر تو اس سارے ظلم و بربریت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا، لیکن وہ جو حقیقتِ حال سے آگاہ ہیں، انہیں معلوم ہے کہ اسرائیلی قتل و غارت کا پشت پناہ کون ہے ۔ خبر کے مطابق ، گوانتا ناموبے سے اٹھارہ سال بعد ایک پاکستانی تاجر سیف اللہ
مزید پڑھیے


عالمی صیہونیت کے عزائم پر ایک جامع کتاب

اتوار 16 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
مدتوں میں اس معاملے کی گتھی سلجھانے میں لگا رہا کہ امریکہ کے کینڈی خاندان نے ایسا کیا کیا تھا کہ ان کا قصور ہی معاف ہونے میں نہیں آتا۔لاتعداد کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔سی آئی اے کی خفیہ کارروائیوں اور اس کی امریکی سیاست پر گرفت کی داستان تو زبان زدعام ہے۔ایک تصور یہ بھی عام ہے کہ کینڈی خاندان چونکہ مشہور خفیہ تنظیم فری میسنز کا رکن نہیں تھا‘جبکہ باقی تمام امریکی صدور اس تنظیم کے خاصے متحرک اراکین میں سے تھے، اس لئے کینڈی خاندان کے ایک ایک فرد کو چن چن کر قتل کیا گیا۔یہاں تک
مزید پڑھیے


سانحہ بیت المقدس اور مسلم اکثریتی ممالک کے سیکولر حکمران

جمعرات 13 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
جب کبھی مسلمانوں کے کسی خطے پر کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے، کوئی ظلم کی داستان رقم ہوتی ہے تو پاکستان کا سیکولر، لبرل دانشور، اور اس کی پیروی میں مخصوص اخباری لکھاری یا ٹیلی ویژن نیوز اینکرنتھنے پھلا کر دو گھڑے گھڑائے سوالات کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ سوال صرف اسلام اور مسلمانوں سے اپنی نفرت اور بغض کے اظہار اور مسلمانوں کو بحیثیت امت بدنام کرنے کے لیے کہے جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کہاں ہے مسلم اُمّہ اور دوسرا سوال ہوتا ہے کہاں ہے ’’اوآئی سی‘‘ (اسلامی کانفرنس) ۔ برونائی سے لیکر مراکش تک پچاس سے
مزید پڑھیے








اہم خبریں