BN

اوریا مقبول جان


ہندو توا بمقابلہ غزوۃ الہند: نظریاتی کشمکش


سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے آخری دنوں میں پورے ہندوستان کو ایک ہندو راج میں بدلنے کی جو خواہش مرہٹہ سلطنت کے توسط سے پورے ہندوستان میں آباد ہندوئوں کے دلوں میں جاگی تھی اور 14 جنوری 1761ء کو پانی پت کے مقام پر شاہ ولی اللہ کے خط پر افغانستان سے آنے والے احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں ذلّت آمیز شکست کے بعد دب سی گئی تھی، ایک بار پھر اُبھری، جب انگریز نے 1857ء میں مغل دربار پر برطانیہ کا یونین جیک لہرا دیا اور یوں ہندوستان کو زیرِ تسلّط کرنے کی خواہش نے انگڑائی لینا شروع کر
بدھ 22 جون 2022ء مزید پڑھیے

گھٹا سر پہ ادبار کی چھا رہی ہے

منگل 21 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
مولانا الطاف حسین حالیؔنے جب آج سے 243 سال قبل 1879ء میں مسلمانوں کے زوال کا نوحہ ’’مسدسِ حالی‘‘ کی صورت میں لکھا، تو آغاز ہی میں اس قوم کی حالتِ زار بتاتے ہوئے اس کا نقشہ یوں کھینچا۔ یہی حال دُنیا میں اس قوم کا ہے بھنور میں جہاز آ کے جس کا گھرا ہے نہیں لیتے کروٹ مگر اہلِ کشتی پڑے سوتے ہیں بے خبر اہلِ کشتی ٹھیک یہی حالت آج پاکستان کے اربابِ اختیار اور اہلِ سیاست کی ہے، کہ عین جس لمحے اس قوم کو متحد اور بیدار ہونا چاہئے تھا، یہ کشمکش اقتدار اور مستقبل کی حکومت کی منصوبہ
مزید پڑھیے


بادشاہ سے بادشاہوں والا سلوک

جمعه 17 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
مسلم لیگ (نواز) کے دائمی سربراہ میاں محمد نواز شریف کے والدین اگر واہگہ سے پار واقع گائوں جاتی امرا، سے تلاشِ رزق کے لئے لاہور آنے کی بجائے، فرغانہ کی بستی، غور کی سلطنت یا غزنی کی گلیوں سے گھوڑوں کی پیٹھوں پر سوار ہو کر برصغیر پاک و ہند پر دندناتے ہوئے آئے ہوتے، تو یہ فقرہ ان کے ’’مذاقِ عالی‘‘ اور ’’مقامِ ہیبت‘‘ پر زیب دیتا کہ ’’ہم نے اس شخص کو معاف کر دیا جس نے ہمیں تخت و تاج سے محروم کیا تھا‘‘۔ یہ ملک ایک تماشہ گاہ ہے ،جس میں کوئی بھی کردار، کسی
مزید پڑھیے


محدود حدِ نگاہ کی سیاسی قیادتیں

جمعرات 16 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے وہ حکمران جن کی زندگیوں کا محور اسمبلیاں، الیکشن، وزارتیں اور اقتدار کے سوا کچھ نہیں وہ اپنے اسی کھیل تماشے میں گُم ہیںاور اس ملک کی تباہی کا منصوبہ بنانے والی عالمی طاقتوں کا گھیرا پاکستان کے گرد دن بدن تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت دو ہزار کے قریب ممبرانِ اسمبلی اور سیاست دان ہیں جن میں سے میڈیا پر بولنے والوں کی تعداد سو سے زیادہ نہیں ہو گی۔ یہ سو کے قریب سیاسی رہنما، پچاس کے قریب اہم تجزیہ نگار اور اینکر پرسن اور ان کے ساتھ پچاس اہم دفاعی و
مزید پڑھیے


اُمتِ مسلمہ کی قوت اور بھارت

بدھ 15 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ نصف صدی سے دُنیا بھر کے معیشت دان ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ غلبہ و اقتدار، اب اسلحہ و بارود یا افرادی قوت کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشی بالادستی کا مرہونِ منت ہے۔ جو ملک جتنا معاشی طور پر مستحکم ہو گا، اس کی بات اتنی ہی سنی جائے گی۔ اسی بنیاد پر میرے ملک کا معاشی تجزیہ نگار بھی ہر روز ہمیں بھارت کی عالمی اہمیت سے ڈراتا رہتا ہے۔ یہ معیشت دان ہمیں ہرگز یہ نہیں بتاتا کہ بھارت صنعتی، معدنیاتی یا زرعی اعتبار سے اتنی ترقی ہرگز نہیں کر گیا ہے
مزید پڑھیے



یہ آگ تم نے خود بھڑکائی تھی

منگل 14 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
آج سے چند سال پہلے ایک موبائل کمپنی کے اشتہار میں ایک ایسا گھرانہ دکھایا گیا تھا، جس میں ایک لڑکی جو کرکٹ کی شوقین ہوتی ہے، وہ کرکٹ میچ کھیلنے کو جانے لگتی ہے تو ماں اس سے کہتی ہے کہ ’’بیٹا اپنے باپ سے اجازت لے لو‘‘، تو وہ باپ کو اپنے شوق کے راستے کی رکاوٹ بتاتے ہوئے اس خیال کو نفرت سے جھٹک دیتی ہے، اور روانہ ہو جاتی ہے۔ اشتہار میں اس کے بعد اس لڑکی کے میچ کھیلنے کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ بحیثیت بائولر اس کی تیز رفتاری کو کیمرے کی ’’بدمعاشیوں‘‘ سے
مزید پڑھیے


عمران خان کا یہ قصور کم نہیں تھا!

جمعه 10 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
جیسے ہی 1989ء میں انقلابِ فرانس کے دو سو سال مکمل ہوئے، تو اسے جشن کے طور پر منانے کے لئے تقریبات کی دھوم دھام سے تیاریاں ہونے لگیں۔ فرانس کے صدر متراں نے اس سلسلے میں عالمی سرمایہ دارانہ استعمار کے سب سے بڑے اتحاد "G.7" کی کانفرنس بلانے کا بھی اعلان کر دیا۔ یہ گروپ امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، جرمنی، جاپان اور اٹلی پر مشتمل ہے۔ فرانس کے وہ دانشور اور انقلابی سوچ رکھنے والے اہم افراد، جو انقلابِ فرانس کو بادشاہتوں اور آمریتوں کے خلاف جدوجہد کا سنگِ میل سمجھتے تھے، انہوں نے متراں کے اس اقدام
مزید پڑھیے


سری لنکا کے بعد… بنگلہ دیش یا پاکستان

جمعرات 09 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
پاکستان میں سیاسی و معاشی پنڈتوں کا ایک ایسا گروہ موجود ہے، جو ہمیشہ سے اس ملک کے لوگوں کو مایوس کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ سیکولر، لبرل دانشوروں کا یہ طبقہ قیامِ پاکستان کے وقت کیمونزم کی چھتری تانے ہوئے تھا اور بھارتی معیشت دانوں کی ’’نفرت‘‘ سے تبصرے اُدھار لے کر مسلسل یہ پیش گوئیاں کرتا رہتا تھا کہ اسلام پر بننے والا یہ ملک زیادہ دیر چلنے کا نہیں ہے۔ وہ اکثر یہ کہتے کہ یہ ملک مسلمانانِ ہند کی اپنی تمنائوں اور آرزوئوں کا مظہر نہیں تھا، بلکہ ایک سازش کے تحت انگریز نے متحدہ ہندوستان
مزید پڑھیے


گرینڈ معاشی ڈائیلاگ نہیں گرینڈ معاشی سرینڈر

بدھ 08 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی سیاسی قیادت کا کمال یہ ہے کہ اپنی بداعمالیوں اور لوٹ کھسوٹ کو خوبصورت فقرے بازی میں اُلجھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے جیسے اس ملک کی بربادی اور تباہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ وہ تو ہمیشہ سے اس سرزمین کے خیر خواہ ہیں اور آج بھی اس اُجڑے گھر کو آباد کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ایسی ہی ایک خیر خواہی اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے ہمیں معاشی مسائل سے نکلنے کے لئے ایک گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ شہباز شریف جن کے خاندان کے اقتدار کا
مزید پڑھیے


یہ کبھی پاکستان کا اعزاز تھا

منگل 07 جون 2022ء
اوریا مقبول جان
میری عمر صرف سات سال تھی جب میں نے اپنی زندگی کے پہلے احتجاجی جلوس میں اپنے والد کی انگلی پکڑے شرکت کی ۔ جلوس کے دوران میرے والد مسلسل آنسو بہاتے جاتے، جس سے ان کی داڑھی تر ہوتی۔ یہ دسمبر 1963ء کا آخری جمعتہ المبارک تھا جب گجرات کے شہریوں کو یہ علم ہوا کہ سری نگر کی مشہور درگاہ حضرت بلؒ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک چوری ہو گیا ہے۔ جمعے کی نماز کے فوراً بعد پورا شہر غصہ میں اُبلتا ہوا سڑکوں پر تھا۔ یہ غصہ صرف گجرات شہر تک ہی
مزید پڑھیے








اہم خبریں