اوریا مقبول جان



وہ جو بیچتے تھے دوائے دل


گفتگو اور تقریر کا فن ان کی جاگیر تھی۔ سحرالبیان۔ سٹیج پر کھڑے ہوتے تو سماں باندھ دیتے، محفل میں گفتگو کرتے تو لوگ ہمہ تن گوش رہتے۔ ساٹھ کی دہائی میں کالجوں میں شعلہ بیان اور تقریر پر قدرت رکھنے والوں کا طوطی بولتا تھا۔ انٹرکالجیٹ مباحثوں کا دور دورہ تھا اور پورا سال اسی دن کا انتظار ہوتا تھا۔ اردو اور پنجابی مباحثوں کے چند قافلہ سالار ہیں کہ جنہوں نے فن خطابت نے کمال حاصل کیا اور پھر اس کمال تک کوئی اور نہ پہنچ سکا۔ اردو میں افتخار فیروز اور تنویر عباس تابش دو نمایاں نام
جمعرات 19 دسمبر 2019ء

بھارت کا خاتمہ

بدھ 18 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
کالم کا یہ عنوان کسی مسلمان پاکستانی خصوصا ًعرف عام میں بد نام جہادی کی گفتگو یا خواہش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ گذشتہ نصف صدی سے برصغیر پاک وہند کے ادب کے مقبول ترین ''ادیب'' خشونت سنگھ کی 2003 ء میں شائع ہونے والی کتاب ''The end of India''ـ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ دراصل ان کی تحریروں کا ایک مجموعہ ہے جو وہ گجرات سانحہ کے حوالے سے وقتاً فوقتا ًلکھتے رہے اور پھر انہوں نے اسے فروری 2003 ء میں شائع کر دیا۔ یہ مضامین لکھتے ہوئے انہیں جس طعن تشنیع کا سامنا کرنا پڑا، دیباچے میں
مزید پڑھیے


مارکیٹ کی تلاش میں

منگل 17 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ ہاتھ جو گذشتہ چار صدیوں سے سیاہ فام افراد کے خون سے رنگے ہوئے تھے جن کے آباؤ اجداد ابھی چند دہائیوں پہلے تک انہیں افریقہ کے جنگلوں سے ہاتھیوں کے غولوں کی طرح پھندے لگا کر پکڑ کر لاتے، سالوں عقوبت خانوں میں رکھتے، جہازوں کے تنگ و تاریک کیبنوں میں ٹھونس کر مہینوں کا بحری سفر کرواتے،ان میں سے جو سیاہ فام زندہ بچ جاتے، انہیں امریکی ساحلوں پر فروخت کردیتے۔ سیاہ فام انسانوں کا یہ کاروبار سفید فام انسانوں کی نفسیات کا آئینہ دار تھا۔ مدتوں نسل در نسل انہیں سیاہ فام سے نفرت کے گیت
مزید پڑھیے


ابلیس کے سیاسی فرزند

پیر 16 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
دو ہزار صفحات پر مشتمل یہ سچ جس بات کی گواہی دے رہا ہے وہ ایسی کڑوی گولی ہے جسے امریکہ تو گذشتہ کئی برسوں سے نگل چکا ہے، لیکن میرے ملک کا وہ دانشور جس نے اپنے قلم کی سیاہی اور اپنی زبان کی قوت سے گذشتہ اٹھارہ برسوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ دنیا اب صرف اور صرف ایک ہی سپرپاور کی محکوم اور دست نگر ہے اور اب اس دنیا پر صرف ٹیکنالوجی کے خدا کا راج ہی مستحکم ہوچکا ہے، وہ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔اس کا تذکرہ تک نہیں
مزید پڑھیے


سیکولر جمہوری منافقت کاخاتمہ

جمعرات 12 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
یہ اس بیانیے کی شکست ہے جو میرے ملک پاکستان کی وجہ تخلیق کی نفی کرنے کے لیے شروع دن سے دانشوروں نے تخلیق کیا تھا۔ یہ بھارت کی ستر سالہ منافقت کے خاتمے اور ہندو تعصب کے اصل چہرے کی نقاب کشائی کا دن ہے۔ یہ شیخ مجیب الرحمن، اسکی نظریاتی باقیات اور اس کی بنگالی عصبیت پر شروع کی گئی آزادی کی تحریک کی مکمل موت کا لمحہ ہے۔ اس انجام کا آغاز اسی دن سے لکھا جا چکا تھا جب دسمبر 1971 ء میں بنگلہ دیشی جو اس وقت مشرقی پاکستانی کہلاتے تھے انہوں نے اس دور
مزید پڑھیے




مسلم اُمہ: ایک اور تقسیم کی منصوبہ بندی (آخری قسط)

بدھ 11 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
ایک صدی گزرنے کے بعد ایسا کیوں سوچا جا رہا ہے کہ امت مسلمہ کے مرکزی حصے یعنی مشرق وسطیٰ کی ایک بار پھر تقسیم کی جائے،اور نئی حد بندیاں بنائی جائیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوم پرستی کے جس جذبے کی بنیاد پر 1924 ء کے بعد یہ تمام ممالک وجود میں لائے گئے تھے وہ اگرچہ بے شمار جگہوں پربالکل مصنوعی تھا لیکن سوسال کی عادت اور ایک سرحد کے اندر رہنے نے اسے قوموں کے لاشعور کا حصہ بنا دیا ہے۔ ایک عراقی، ایرانی، شامی یا مصری اپنے ملک کے اسی قفس کو
مزید پڑھیے


مسلم امہ: ایک اور تقسیم کی منصوبہ بندی

منگل 10 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم کے بعد اگرچہ کہ پوری دنیا،رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم کر دی گئی تھی،لیکن وہ مغربی طاقتیں جنہوں نے فتح کے بعد اس تقسیم کی بنیاد رکھی، آج یورپی یونین کے نام پر ایک پرچم، ایک پارلیمنٹ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک کرنسی ''یورو'' کی بنیاد پرایک اکائی کی صورت متحد ہیں۔ باقی تمام دنیا کے لیے یہ اٹھائیس ممالک ایک ایسا متحد خطہ ہیں کہ آپ اس میں شمالی کونے یعنی فن لینڈ سے داخل ہوں اور جنوب میں مالٹا کے ملک پہنچ جائیں،
مزید پڑھیے


مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ

پیر 09 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
امریکی تال پر رقص کرنے والے دنیا بھر کے تجزیہ نگار گزشتہ پندرہ سالوں سے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کی ناکامی کا ذمہ دار ایک تنظیم کو گردانتے بلکہ اس کی مسلسل گردان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یوں تو بذات خود یہ کوئی تنظیم، گروہ یا جتھہ نہیں ہے بلکہ افغانستان میں گزشتہ چالیس سالوں سے جاری معرکۂ حق و باطل میں سرفروشوں کا ایک گروہ ہے جو گیارہ نومبر1994ء کو ملا محمد عمر کی قیادت میں اماراتِ اسلامی افغانستان کے قیام کے لیے طالبان کا حصہ بن گیا تھا۔ اسے مغربی دنیا اور اس کے مرعوب
مزید پڑھیے


مغرب کی علم دشمنی کی روایت کا تسلسل (آخری قسط)

جمعرات 05 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
گلیلیو کے مقدمے اور جیل خانے میں موت، دراصل قدیم رومن اور یونانی مذہبی نظریات کے ٹکرائو کی وجہ سے ہوئی۔ یہ ایسے نظریات تھے جنہیں پادریوں نے عیسائی مذہب کا حصہ بنا لیا اور پھر اس پر ڈٹ گئے۔ بائبل کی تعلیمات سے الگ تھلگ یہ ایک مذہبی سائنسی فکر تھی جو پادریوں کی زبان پر جاری تھی۔ جیسے ارسطو کا نظریہ کہ ’’سورج ساکن اور زمین چپٹی ہے‘‘ ایسی سائنس کو الہامی اشیر باد دینے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہر سائنسی تصور کو مذہب کی پیش گوئیوں سے منسلک کر دیا جائے۔ ایسے میں جب کوئی
مزید پڑھیے


مغرب کی علم دشمنی کی روایت کا تسلسل (قسط 1)

بدھ 04 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
شیکسپیئر کے ڈراموں سے جنم لینے والے تمام کردار وائرس کی طرح ہر اس ملک کے بچوں کے ذہنوں میں ڈال دیئے گئے ہیں جہاں انگلش میڈیم ذریعہ تعلیم رائج ہے۔ ان کرداروں میں ایک جولیس سیزر بھی ہے جس کی رنگارنگ کہانی میں خوبصورت بلکہ قلوپطرہ بھی ہے اور بے وفا دوست،بروٹس بھی۔ شیکسپیئر کے کرداروں کو چارلس لیمب (Charles lamb) نے بچوں کیلئے تحریر کیا اورپھر انہیں ڈراموں، فلموں اور ضرب المثل کی صورت تحریروں میں زندہ رکھا گیا۔ جس طرح یورپ کے مورخین نے یونان کے سفاک فاتح،سکندر کا ایک مرنجامرنج اور نرم خو چہرہ
مزید پڑھیے