BN

اوریا مقبول جان


مدینے کی معیشت : قائد اعظم کا خواب


گذشتہ تیس برسوں میں کتب کی ورق گردانی اور کتب خانوں کی خاک چھاننے کے دوران لاتعداد کتابیں آنکھوں کو بھائیں، دل میں اتریں اور ذہن پر چھاگئیں۔ ہر کتاب نے اپنا ایک الگ تاثر دل و دماغ پر چھوڑا، لیکن کل سے ایک ایسی کتاب ہاتھ آئی ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے تقریباً دو دہائیوں سے مجھے اسی کی تلاش تھی۔ میں رات بھر جاگ کر اسے پڑھتا رہا اورصبح فجر کی سپیدی نمودار ہوتے وقت مجھے یوں لگا کہ ایسی ہی تحقیق کا تو قائد اعظم کو بھی شدت سے انتظار تھا۔اللہ جب کسی کو توفیق دینا
هفته 03 اکتوبر 2020ء

مسلم دنیا کے بتانِ رنگ و بو

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت اب روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ستاون سے زیادہ اسلامی ممالک اپنی اصلیت، روح اور پالیسیوں کے اعتبار سے خالصتاً ’’قوم پرست سیکولر‘‘ ریاستیں ہیں۔ امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادکی ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ جب کبھی انکے اپنے ملک،اپنی اتھارٹی اور اپنی سرحدوں کے تحفظ کا معاملہ آن پڑتا ہے ،تو ہر ملک کا حکمران اور بہت حد تک عوام بھی دین تو ایک طرف مسلک تک بھول کر صرف اور صرف قوم پرست محبِ وطن بن جاتے ہیں۔ گذشتہ ستر سالوں میں اس مسلم اُمّہ کے
مزید پڑھیے


دو اہم کتابیں اور تاریخ کی درستگی

جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
ساٹھ ، ستر اور اسّی کی دہائیاں اس مملکتِ پاکستان میں نظریاتی کشمکش کے تیس برسوںسے عبارت ہیں۔ ان برسوںمیں قوم پرست سیاست اور کیمونزم دونوں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سیاست کی وادی ٔپرخار میں نعرہ زن تھے۔ ان میں کانگریس کے ہم رکاب سیاست دان اور علماء بھی تھے ،جن کی سیاست کا قائد اعظم کی مسلم لیگ نے 1947ء میں جنازہ نکال دیا تھا اور ترقی پسند دانش وروں، ادیبوں اور شاعروںکی ایک نسل بھی شامل تھی۔ ان دونوں کی بنیادی نفرت پاکستان کی اسلامی اساس سے تھی۔ تخلیق پاکستان کے روزِ ازل سے ان کیمونسٹ دانشوروں اور
مزید پڑھیے


تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

اتوار 27  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کی آرمی چیف سے ہونے والی دو ملاقاتوں کی خبر، اگر کسی رپورٹر یا اینکر پرسن نے ’’ٹپکائی‘‘ (Leak) ہوتی ، تو اس کی مقبولیت کا گراف راتوں رات آسمان کی بلندیوں کو چھو جاتا، لیکن معاملہ یہ ہے کہ خبر اس شیخ رشید نے طشت از بام کی ہے، جس کو اپنے پروگراموں میں رو برو بٹھا کر ’’ریٹنگ‘‘ میں اضافہ کرنے کی دوڑ، گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ کون ہے جو شیخ رشیدکو پروگراموں میں شامل کرنے کی اس میراتھن میں شامل نہیں۔ کوئی بخوشی اس
مزید پڑھیے


قانون کا لاڈلا بچہ اور سچی گواہی

هفته 26  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
عدل و انصاف کے نظام کی لاتعداد بنیادیں ہیں، ان میں سے ایک بنیاد ایسی ہے جو تقریباً ہر عدالتی نظام میں اساسی حیثیت رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ ’’ملزم قانون کا لاڈلا بچہ ہوتا ہے‘‘۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جس پر کسی جرم کا الزام ہے ،وہ قانون کی نظروں میں اس وقت تک معصوم رہتاہے جب تک انصاف و قانون کے تمام تقاضے پورے کر نے کے بعداسے مجرم ثابت نہیں کر دیا جاتا۔ اسی لیئے مقدمے کے دوران ، ہر طرح کے شک کا فائدہ ملزم کو ہی دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے



جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست

جمعه 25  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
دھوکہ، فریب، لالچ، جھوٹے وعدے، سبز باغ، بے عمل گفتگو، ریا کاری، منافقت، غرض کیا کچھ نہیں ہے جو جمہوری سیاست میں سکہّ رائج الوقت نہیں رہا۔ وہ فرعون صفت قوتیں جو صدیوں سے طاقت کی بنیاد پر ہرعلاقے کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روند کر اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھا کرتی تھیں ، ان نمرودوں، فرعونوں اور سکندروں کو جب یہ اندازہ ہوا کہ اب حکومت کرنے کیلئے صرف اسپِ تازی اور توپ خانہ کافی نہیں،کیونکہ لوگ اب جم غفیر کی طرح بادشاہوں کے مقابل آکر کھڑے ہو رہے ہیں ، توایسے حالات دیکھ کر، ان عیاّر صفت قوتوں
مزید پڑھیے


سیکولر تعلیمی ادارے۔ مکڑی کے گھر

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
لاہور میںایک قدیم تعلیمی ادارہ ہے جسے نہر کے کنارے انگریز مشنریوں نے قائم کیا تھااور جسے بھٹو نے یکساں سلوک کرتے ہوئے پاکستان کے دیگرتعلیمی اداروں کے ساتھ ’’قومیا‘‘ (Nationalise) لیا تھا اور پھرمغرب زدہ پرویز مشرف نے امتیازی سلوک کرتے ہوئے واپس کر دیا تھا۔اس ادارے کی بنیادوں میں عیسائی مذہب کی ترویج کے لئے جمع کیا گیا سرمایہ خرچ ہوا تھاجس میں بچوں کو ’’بائبل کی اخلاقیاتــ‘‘ (Biblical Ethics) پڑھائی جاتی اور سائنس اور دیگر مضامین اس لئے پڑھائے جاتے تھے کہ انگریز سرکار کے لئے اچھے، مطیع، فرمانبردار اور مرعوب کارکن میسر ہو سکیں۔ پرویز مشرف
مزید پڑھیے


بھارت کا ’’ وشو گورو‘‘ اور اسرائیل کا ’’مسیحا‘‘

اتوار 20  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
عالمی طاقت بننے اور پوری دنیا کی سیاست، معاشرت اور معیشت پر بلا شرکتِ غیرے حکومت کرنے کا خواب ،گذشتہ ایک صدی سے مسلم امّہ کے مرکزی علاقوں کے دونوں کناروں پر آباد نوزائیدہ ممالک ،بھارت اور اسرائیل دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ اسرائیل کو نوزائیدہ لکھنے پر حیرت نہیں ہوئی ہوگی،لیکن بھارت کو نوزائیدہ لکھنے پر سوال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے پراپیگنڈے نے بھارت میں بسنے والے ہندوؤں کو خصوصاً اور دنیا بھر کے عوام کو عموماً یہ باور کروایا دیا ہے کہ ہمالیہ کے دامن میں آباد برصغیر کئی
مزید پڑھیے


منی لانڈرنگ کے عالمی ٹھیکیدار

جمعه 18  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے کسی ایک شہر کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے اگر یہ آزادی دے دی جائے کہ تم جس طرح، جہاں سے اور جیسا بھی چاہے سرمایہ حاصل کرو، تمہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا، بلکہ ملکی قانون تمہیں مکمل تحفظ دے گا، تو وہ شہر ایکدم چند برسوں میں دنیا کا امیر ترین اور ترقی یافتہ شہر بن جائے گا۔ یہ کوئی ہوا میں اڑنے والی مضحکہ خیز بات نہیں ہے بلکہ’’جدید مہذب‘‘ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ دنیا بھر میں لاتعداد ایسے ملک اور شہر ہیں جواسی طرح خوشحال ہوئے ہیں۔ ان میں
مزید پڑھیے


آئین نہیں شریعت کی حاکمیت

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ مذاکرات تو مارچ میں ہونا قرار پائے تھے۔ معاہدہ دو ’’عظیم‘‘ طاقتوں کے درمیان ہوا تھا۔ ایک دنیاوی سازوسامان، ٹیکنالوجی اور معاشی برتری کے دیوتائوں کی نمائندگی کرتی تھی اور دوسری چند ہزار سرفروش طالبان کے لشکروں کا چہرہ تھا، وہ لوگ جو گذشتہ انیس سال سے صرف اور صرف خدائے واحد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسی کے قانونِ شریعت کے نفاذ کے لئے لڑرہے تھے۔ دوحاکے مذاکرات اس مملکتِ افغانستان کے مستقبل سے متعلق تھے، جس کی حکومت کو اقوام متحدہ، اس کے تمام ذیلی ادارے اور دنیا کا ہر ملک قانونی طور پر ایک جائز حکومت سمجھ
مزید پڑھیے