BN

اوریا مقبول جان


آنے والے پچاس دن


امریکی صدارتی انتخاب کے بعد جنم لینے والی بحث آج بھی جاری ہے۔ جس ’’جمہوریت‘‘ میں مدتوں سے یہ روایت چلی آرہی تھی کہ ہارنے والا امیدواراپنی شکست کے ابتدائی آثار دیکھتے ہی ہار تسلیم کر لیتا تھا اور جیتنے والے امیدوار کو مبارکباد اور نیک خواہشات کے پیغامات دیتا تھا، وہاںایک ’’روایت شکن‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً بیس دن گذرنے کے بعد بھی، ابھی تک ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ وہ مسلسل امریکی اسٹبلشمنٹ پر بدترین دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہا ہے۔ اس کے یہ الزامات صرف بیانات کی حد تک محدود نہیں
جمعه 27 نومبر 2020ء

قائد اعظم، پرویز مشرف اور اسرائیل

جمعرات 26 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ لوگ کون ہیں؟ اس کا جواب ہر اس شخص کو معلوم ہے جو اس مملکتِ خداداد سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ یہ دنیا کے تقریباًدو سو کے قریب ممالک میں سے واحد خطۂ ارضی ہے جو یوں تو ایک قومی ریاست کہلاتی ہے،مگر اس کی تخلیق کے وقت اس کی قومیت ،نسل، رنگ اور زبان کی بجائے’’مسلمان‘‘ تھی۔قیامِ پاکستان تک کوئی ایک بیان، تقریر، تحریر یا مراسلہ ایسا نہیں ملتا جو اس بات کا اعلان نہ کرتا ہو کہ یہ ملک ہم صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جو بھی پاکستان کے اس’’
مزید پڑھیے


نیتوں کا فتور

اتوار 22 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
اشفاق احمد صاحب بلا کے مجلسی آدمی تھے۔ کہانی لکھنے میں تو تحریر کے آسمان کا درخشندہ ستارہ تھے ہی مگر کہانی کہنے اور داستان بیان کرنے کے فن میں بھی کوئی دور تک ان کا ہم پلّہ نظر نہیں آتا۔ برصغیر پاک و ہند کی اردو زبان کی تاریخ میں کوئی ایسا جامع الصفات ادیب پیدا نہیں ہوا جو بیک وقت اعلیٰ درجے کا افسانہ تحریر کرے، ڈرامہ لکھنے لگے تو اس جیسا منظر نامہ، کردار نگاری اور مکالمے کوئی اور نہ لکھ پائے۔ صدا کاری کے میدان میں اپنے لیئے خود تلقین شاہ کا کردار منتخب کرے،
مزید پڑھیے


دِگر دانائے راز آید کہ ناید

هفته 21 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
لوگوں کے دلوں کو آتشِ عشقِ رسول ﷺ کی گرمی سے زندہ کرنے والا ہدی خوان چلا گیا۔ وہ جس نے برسوں بعد اس پژمردہ قوم کی خاکستر میں سیدالانبیاء ﷺ سے محبت کی دبی ہوئی چنگاری کو روشن چراغ بنایا۔ میری زندگی میں عشقِ رسول ﷺ کے تین بڑے حوالے ہیں۔ ایک میرے والد محترم، دوسرا اقبال اور کلامِ اقبال اور تیسرا علامہ خادم حسین رضوی۔ ان تینوں میں کلامِ اقبال مشترک ہے۔ کون اب قلندرِ لاہوری پکارتے ہوئے اقبالؔ کے شعروں سے دلوں کو گرمائے گا۔ حرمتِ رسول ﷺ کی نگہبانی کے لیئے کس کی زبان تلوار بنے
مزید پڑھیے


اشرافیہ کا یرغمال

جمعه 20 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو،شبّر زیدی عرصہ ہوا خبروں سے دور ہو گئے تھے، لیکن جناب فضل الرحمٰن صاحب ، حال مقیم عہدۂ صدارت پی ڈی ایم، انہیں کھینچ کھانچ کر خبروں میں لے آئے ہیں۔ پڑھنے والے کواس بات پر حیرت ہوئی ہو گی کہ میں نے فضل الرحمٰن صاحب کو’’ مولانا‘‘ کیوں نہیں لکھا۔ جو پروفیسر نوکری چھوڑ کر کاروبار میں کامیاب ہوجائے ، جو ڈاکٹر ی کا امتحان دے کر سول سروس میں آجائے اور جو جرنیل فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کرنے لگے تو صاحبانِ غیرت و حمیت اپنے نام کے ساتھ گذشتہ سابقے
مزید پڑھیے



جس کے خمیر میں دھاندلی ہو!

جمعرات 19 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
کیا بائیومیٹرک مشینوں سے حاصل کردہ ووٹوں پر مشتمل ڈیٹا بینک کو چلانے والے آسمانوں سے اتریں گے۔ ایسے فرشتے ہوں گے جن کا زمین کے باسیوں کے ساتھ نہ کوئی تعلق واسطہ ہو گااور نہ ہی ان کے نفع و نقصان میں کوئی حصہ داری۔ وہ کسی ادارے کے ملازم بھی نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کی پرموشن، ترقی، پوسٹنگ ٹرانسفر کسی کے ہاتھ میں ہوگی۔ ان کے بیوی بچے بھی اس دھرتی پر نہیں رہتے ہوں گے اور نہ ہی ان کا کوئی مفاد اس مملکتِ خدادادِ پاکستان سے وابستہ ہوگا۔ وہ خاموشی سے ’’عالمِ بالا‘‘
مزید پڑھیے


ٹرمپ کیسے صدر رہ سکتا ہے

اتوار 15 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
امریکہ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے آئینی بحران پر دستک دے چکا ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جس میں ’’مقبول رائے شماری‘‘ یا ’’پاپولر وؤٹنگ‘‘ کا تصور ہی درہم برہم ہوکر رہ جائے گا۔ پاپولر ووٹ کے حساب سے جوبائیڈن کو کامیاب قرار دیا جاچکا ہے، لیکن ٹرمپ کی جانب سے الیکشنوں کو دھاندلی زدہ قرار دینے اور انہیں عدالتی سطح پر چیلنج کرنے کے بعد امریکہ کے تمام آئینی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس الیکشن کو جسقدربھی متنازعہ بنایا جائے گا، اس کا فائدہ صرف اور صرف ڈونلڈ ٹرمپ کو پہنچے گا اور بائیڈن
مزید پڑھیے


جہنم، جسے ہم نے خود تخلیق کیا

هفته 14 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ ماتم اور گریہ،یہ احتجاج اور غصہ ہمارا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ اس لیئے کہ یہ قتل گاہیںاور آبروریزی کے لیئے سہولت گاہیں ہم نے خود تخلیق کی ہیں۔یورپ میں جب مذہب کے معاشرتی لباس کو اتارنے کی تحریک کا آغاز ہوا تو نئے کلچر کے طور پرچند سکولوں اور کالجوں نے اپنے ہاںلڑکیوں اور لڑکوں کو ایک ساتھ پڑھانے کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ، اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں مخلوط تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اس کے بعد اِکادُکا سکولوں نے بھی اس کا آغاز کر دیاگیا۔ ’’مخلوط تعلیم‘‘ کا پہلا کالج 3 دسمبر
مزید پڑھیے


زبردستی مذہب تبدیلی یا ایمان لانا

جمعه 13 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے خالد رحمٰن بلا کے آدمی ہیں۔ مغربی اقدار و روایات اور تہذیب و ثقافت کی یلغار میں ایسی سائنسی تحقیقات سامنے لاتے رہتے ہیں،جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے جعلی اور بے بنیاد پراپیگنڈے کے خول کو توڑ کر پیچھے چھپے بدنما اور کریہہ مقاصد کو طشت از بام کرتی ہیں۔ میرے جیسے لاتعداد تشنگانِ علم کے لئے ان کے ادارے کا دم غنیمت ہے۔ آج سے تقریباً پندرہ سال قبل جب انہوں نے ایلزبتھ لیاگن (Elizbeth Liagin) کی کتاب ’’Excessive force: power politics and population control‘‘ کا ترجمہ شائع کیا تو میں خالدرحمٰن اور
مزید پڑھیے


پرانے زمانے کی جدید عورت

جمعرات 12 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
کشور ناہید کی خوبی یہ ہے کہ وہ عنفوانِ شباب سے سچ بولتی اور بغیر کسی لگی لپٹی اپنی بات کہتی چلی آرہی ہے۔ وہ اس زمانے میں بھی سچ بول کر غیرمقبول ہونے کی پوری کوشش کرتی تھی، جب اشفاق احمد صاحب جیسا شخص مردوں کی نفسیات بیان کرتے ہوئے کہتا تھا کہ ’’ہمیں تویونیورسٹی میں وہی لڑکی اچھی لگتی تھی جو جھوٹ خوبصورتی سے بولے‘‘۔ اچھا لگنا اور اچھا کہلانا کبھی کشور ناہید کا مسٔلہ نہیں رہا۔ حقیقت حال بیان کرنا اور دوٹوک بیان کرنا اس کا خاصہ بھی ہے اور المیہ بھی۔ آج جن شاعروں کی اولادیں
مزید پڑھیے