BN

اوریا مقبول جان


یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر


پاکستان پہلے دن ہی سے نا شکروں اور اللہ کی اس عظیم نعمت کے منکروں کا یرغمال بنا رہا ہے۔ جی چاہتا ہے فیض احمد فیض سمیت ان تمام شاعروں کی نظمیں، غزلیں اور گیت بھارت کے شہروں کی ان جلی ہوئی مسلمان بستیوں کے باہر زور زور سے سناؤں اور کہوں کہ وہ تمہارے ہی بھائی تھے جو قائداعظم محمد علی جناح کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ایک ایسی سرزمین کی جانب چل پڑے تھے جو آج ان کے لئے جائے امن ہے اور اس وقت ایک جائے پناہ تھی۔ انہیں بتاؤں کہ ہمارے ہاں صبح آزادی
جمعرات 21 مئی 2020ء

دور فتن میں یورپ کے مسلمانوں کا مستقبل (آخری قسط)

اتوار 17 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
یورپ میں مسلمانوں سے نفرت کی ایک تاریخ ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔ قدیم روم کی سلطنت کے زیر نگیں ایشیا اور افریقہ کے سرسبز علاقے شام، فلسطین، مصر، لیبیا، تیونس اور الجیریا آتے تھے۔ یہاں سے خوراک اور غلام برآمد کیے جاتے اور روم کی سلطنت کے خواص و عوام خوشحال اور خوش و خرم زندگی گزرتے۔ ایشیاء اور افریقہ کے یہ تمام علاقے صدیوں سے عیسائیت کا مرکز تھے۔ مسلمانوں کی ابتدائی یلغار انہی علاقوں پر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں یہ تمام مراکز جو دراصل مسیحی روم کے استحصال میں کچلے ہوئے
مزید پڑھیے


دور فتن میں یورپ کے مسلمانوں کا مستقبل

هفته 16 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
جزیرہ نما آئبیریا (Iberia) تین جانب سے سمندر میں گھرا ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ یورپ سے نسبتاً علیحدہ ہے۔ اس کا جو حصہ یورپ کے ساتھ خشکی سے منسلک ہے، اسے بھی پہاڑی سلسلے پرنیز(Pyrenees)کی دیوارنے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ صدیاں پہلے تو یہاں سے آمد و رفت بہت ہی کم تھی۔ اس جزیرہ نما آئبیریا پر اس وقت دو یورپی ملک سپین اور پرتگال واقع ہیں۔ دونوں ایک زمانے میں اپنی افواج کے ساتھ دنیا فتح کرنے نکلے تھے اور مدتوں ان کے زیر نگین بے شمار ممالک کالونیوں کی صورت رہے ہیں،
مزید پڑھیے


یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں ہے

جمعه 15 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
ترک افواج دریائے فرات کے اس مقام پر اکٹھی ہو چکی تھیں جہاں سے یہ دریا ترکی سے شام کے ملک میں داخل ہوتا ہے۔ ہفتہ، 25 فروری، 2015 کی یخ بستہ رات11بجے انہیں شام میں داخل ہونے کا حکم ملا اور ترک ٹینک بکتربند گاڑیاں اور جیپیں شام کی عالمی سرحد عبور کر گئیں۔ شام اس وقت مختلف گروہوں کی آپس کی لڑائیوں میں خاک و خون میں لتھڑا ہوا تھا،اور آج بھی اس ملک کی حالت ویسی ہی ہے۔ مہاجرین کے قافلے، سرحدیں عبور کر کے ترکی اردن اور سعودی عرب میں پناہ لے رہے ہیں۔ وہ لڑائی
مزید پڑھیے


فتنہ وطنیت کے پروردہ

جمعرات 14 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
تاریخ کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ سب سے بودا اور کمزور رشتہ، انسان اور زمین کا رشتہ ہے۔ مگر اس تعلق کو انسان انتہائی منافقت کے ساتھ دھرتی ماں، ماتا، مادرِ وطن یا مدر لینڈ کہتا ہے۔لیکن تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب بھی یہ دھرتی ماں، جانوروں کے لئے گھاس اور انسانوں کیلئے اناج اگانا بند کر دیتی ہے، اس کے پانی کے چشمے سوکھ جاتے ہیں تو اسی مادرِ وطن کا بیٹا کسی سرسبز و شاداب سرزمین پر قبضہ کرنے، اس کے وسائل کو اپنے استعمال میں لانے کے لئے
مزید پڑھیے



آئیڈیل لائف سٹائل کی بقا کا مسئلہ

اتوار 10 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا کی تاریخ دراصل تہذیبوں‘ سلطنتوں اور ان سے جنم لینے والے اطوار زندگی کی تاریخ ہے۔ کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں انسان نے اپنے کمالات سے گہرے تہذیبی نقوش نہ چھوڑے ہوں آج بھی دنیا کے نقشے پر آثار قدیمہ ان کے عروج کی گواہی دیتے ہیں۔ مصر میں فراعین کے اہرام ہیں تو دجلہ و فرات کے کناروں پر نمرودوں کے آثار۔ موئن جوداڑو کی وادیٔ سندھ اور چین کی ٹیراکوٹا فوج کے آثار بتاتے ہیں کہ انسانوں نے مختلف ادوار میں اپنے لئے ایک طرز زندگی یا لائف سٹائل وضع کیا۔ اسے اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنایا
مزید پڑھیے


کیا ہم ناشکری کی سزا کیلئے تیار ہیں

هفته 09 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
اس سے زیادہ ناشکرے پن اور اللہ پر توکل کی کمی کا کیا اظہار ہو گا کہ جب سے پاکستان کی سرزمین پر کورونا نے اپنے قدم رکھے ہیں‘ اقتدار کی مسند پر بیٹھے ہوئے سیاست دان اور ان کے ’’مواصلاتی حواری‘‘ صرف ایک ہی راگ الاپے جا رہے ہیں کہ ہم بھوک سے مر جائیں گے۔ اگر اس خوف کا اظہار زمبیا‘ چاڈ‘ یا مڈاگاسکر جیسے ممالک کا وزیر اعظم یا ان کے اہل اقتدار کرتے تو دنیاوی وسائل کے اعتبار سے بھی سمجھ آنے والی بات تھی کہ یہ ممالک خوراک کی کمی کے اعتبار سے بنائے گئے
مزید پڑھیے


بانجھ قوم

جمعه 08 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
شام کے قریب جہاں کھانے پینے اور سودا سلف کی دکانوں پر رش بڑھ جاتا‘ وہیں ہمارے محلے میں قائم ایک دکان نما لائبریری پر بھی نوجوانوں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا‘ جو رات بھر کی مصروفیت کے لئے کوئی ناول یا رسالہ لے جانا چاہتے تھے۔ اس طرح کی دکانیں اس دور میں ’’آنہ‘‘ لائبریریاں کہلاتی تھیں۔’’آنہ‘‘ دراصل ایک سکہ تھا جو ایک روپے کا سولہواں حصہ ہوتا تھا۔ چونکہ ابھی تک اعشاری نظام نہیں آیا تھا۔ اس لئے ایک روپے کے چونسٹھ پیسے ہوتے‘چار پیسوں کا ایک آنہ‘ دو آنوں کی ایک دوّنی‘ چار آنوں کی ایک چوّنی
مزید پڑھیے


اللہ دنوں کو بدلتا ہے

جمعرات 07 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
پوری قوم کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جس نے ہمارے ملک کو اس بدترین وبا ’’کورونا‘‘ سے محفوظ رکھا‘ جس نے دنیا کے بڑے بڑے ممالک کو اپنی جکڑ میں لیا ہوا ہے۔ یہ الفاظ 25مارچ 2020ء کو برونڈی(Burundi) کے قومی ٹیلی ویژن پر حکومت کے نمائندے پروسپر ناتھور وامیا(prosper Nathorwamiya)کے تھے۔ اس نے کہا کہ ہمیں حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہنا چاہیے اور اس مہربان مالک کائنات کا مسلسل شکر گزار ہونا چاہیے۔ برونڈی دنیا کے ان چھ ممالک میں سے ایک ہے جہاں اب تک کورونا وائرس کا ایک بھی کیس نہیں نکلا۔
مزید پڑھیے


اسلامی تصورِ خیرات پر مغربی اثرات

اتوار 03 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
جدید سیکولر مغربی تہذیب کی عمارت کو تعمیر کرنے کے لئے اس کے بانیان نے صدیوں پرانے معاشرتی نظام کے اداروں کو مکمل طور پر مسمار کیا اور ان کے متبادل کے طور پر نئے ادارے تخلیق کئے۔ انسانی تہذیب کا سب سے اہم ادارہ خاندان تھا جو انسان کے دنیا میں وجود میں آنے سے لے کر قبر کی آغوش تک ساتھ چلتا تھا۔ انسانی بچہ دیگر تمام جانداروں سے زیادہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے خوراک ‘ جسم کی دیکھ بھال‘ صفائی وغیرہ کے لئے پہلے دن ہی سے ایک شفیق اور محبت کرنے
مزید پڑھیے