BN

اوریا مقبول جان


حکمرانی: عوام کی تابع یا اللہ کی تابع


جدید جمہوری طرزِ معاشرت کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ جمہوریت کے بغیر انسانیت کی بقا ممکن نہیں۔ اس تصور نے دنیا بھر کے انسانوں حتیٰ کہ دانشوروں، فلاسفروں، سیاسی تجزیہ نگاروں، غرض سوچنے سمجھنے اور وسیع المطالعہ رکھنے والے ماہرین کی بصارت کوبھی محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ لوگ اب معاشروں کو اچھے برے، ظالم مظلوم ، جابرانصاف پسندیا خیر اور شرکی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتے، بلکہ جمہوری اور غیر جمہوری معاشروں کی بنیاد پر انہیں پرکھتے ، تولتے اور جانچتے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرہ خواہ اس
هفته 29  اگست 2020ء

جدید دنیا کے بددیانت تاریخ دان

جمعه 28  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی ان آٹھ یونیورسٹیوں میں شامل ہے جنہیں تعلیمی اداروں کی درجہ بندی کرنے والی ’’آئی وی لیگ‘‘ (Ivy League)نے اعلیٰ ترین تدریسی اور علمی مراکز قرار دیا ہے۔ اس یونیورسٹی کے بیچوں بیچ ستونوں والی لائبریری کی عمارت پر دنیا کے بڑے بڑے مفکرین، سائنسدان، ادیب اور مصلحین کے نام کنندہ ہیں۔ ایک طرف سے پڑھنا شروع کریں تو قدیم یونانی شاعر ’’ہومر‘‘ سے آغاز ہوتا ہے اور پھر سقراط، افلاطون، ارسطو وغیرہ کے بعد چھلانگ لگا کر جدید مفکرین کے نام نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے یونان کی بربادی کے
مزید پڑھیے


کیا دنیا بدلنے والی ہے

جمعرات 27  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
نیویارک کے ’’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘‘ کے سانحے کو ابھی صرف تین سال ہی مکمل ہوئے تھے۔ امریکہ افغانستان میں اپنی ابتدائی کامیابیوں پر اسقدر غرور میں تھا کہ اس نے اقوام متحدہ کی پرواہ کئے بغیر، اور عالمی رائے عامہ کے بالکل برعکس، اپنے مستقل حلیف برطانیہ کے ساتھ مل کر جھوٹے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے عراق میں اپنی فوجیں اتاردیں تھیں۔ صدام حسین اور اس کی سات لاکھ ’’ریگولر‘‘ آرمی ریگستان کے مرغولے کی طرح غائب ہوچکی تھی۔ یہ دنیا کی چوتھی بڑی فوج تھی، جس کے پاس چھ ہزار ٹینک، چار ہزار بکتر بند گاڑیاں، تین
مزید پڑھیے


نام نہاد آزادمیڈیا

اتوار 23  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
ٹی وی چینلز پر کسی اہم شخصیت کے انٹرویو کے دوران میرے ذہن کی یادداشتوں سے کرن تھاپر نکل کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور اس کی یہ آواز میرے کانوں سے ٹکراتی ہے کہ میں نے بھارتی اور پاکستانی میڈیا کے بارے میں ٹھیک نہیں کہا تھا اور میرے پاس اس کے اس سوال کے جواب میں ہاں کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کرن تھاپر ایک عالمی سطح کا صحافی‘ اینکر پرسن اور کالم نگار ہے جو اپنے تیکھے اور ترش سوالات کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس کے انٹرویو سے بھارتی وزیر
مزید پڑھیے


اسلامی کانفرنس اور دشنام طرازی

هفته 22  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھر میں جس سیکولر‘ لبرل اور ملحد نے اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف دشنام طرازی کرنا ہو اور فساد خلق کے ڈر سے ہمت نہ پاتا ہو تو وہ ایک زمانے سے مولوی کو گالی دے کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرلیا کرتا تھا بلکہ آج بھی اس نے اسلام کے خلاف زبان درازی کا یہی آسان راستہ ڈھونڈا ہوا ہے لیکن بھلا ہو ذوالفقار علی بھٹو کی عالمی لیڈر کہلانے کی ہوس کا کہ اس نے 1974ء میں لاہور شہر میں اسلامی کانفرنس بلا کر اسلام کے خلاف اپنا بغض نکالنے والوں کو ایک اور آسان راستہ عطا
مزید پڑھیے



ایماندار ’’سول سرونٹ‘‘ پر کاری وار

جمعه 21  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
مجھے وہ دن، وہ وقت اور زمان پارک کا وہ گھر اچھی طرح یاد ہے جب عمران خان صاحب، موجودہ وزیراعظم پاکستان اور حال مقیم بنی گالہ اپنے اس آبائی گھر میں اکثر جلوہ افروز ہوا کرتے تھے۔ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کا شٹل کاک مصطفیٰ کھر کہلاتا تھا ویسے ہی خان صاحب کا شٹل کاک ہمارا دوست حفیظ اللہ نیازی تھا۔ وہ اکثر خان صاحب کو اپنے صحافی دوستوں سے متعارف کروانے کے لئے اپنے ہاں کھانے کا اہتمام کرتا رہتا۔ ایک وسیع دسترخوان رکھنے والا یہ نیازی اپنے اس برادر نسبتی عمران خان کا حاشیہ بردار تھا
مزید پڑھیے


مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے

جمعرات 20  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
ضیاء الحق کی شہادت کے بعد کے بتیس سال اس ملکی سیاست میں نظریے کی موت اور مفاد پرستانہ، ابن الوقت سیاست کے سال ہیں۔ ایوب، یحییٰ اور ضیاء الحق تینوں کے مارشل لاز اپنے اپنے معروضی ، ملکی اور بین الا قوامی حالات اور فوجی قیادت کی ہوسِ اقتدار کے نتیجے میں لگے۔ ایوب خان تو سول اور ملٹری بیوروکریسی کی آپس کی رسہ کشی میں سے اس وقت سامنے آیا، جب سات اکتوبر 1958ء کو سکندر مرزا نے مارشل لالگایا۔ سکندر مرزا کو انگریز نے فوج سے سول سروس میں بھیجا تھا۔ وہ اس وقت ایک میجر تھا،
مزید پڑھیے


آزادیٔ اظہار کے نام نہاد ٹھیکیدار

اتوار 16  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
سیدالانبیاء ﷺ کی اس حدیث کو تو مسلمان ملکوں پر حکمران سیکولر لبرل، آمر، ڈکٹیٹر اور خاندانی بادشاہ بھی علمائے کرام کو مساجد کے منبروں پر نہیں پڑھنے دیتے اور مقام حیرت ہے کہ امریکی صدارتی امیدوار ’’جوبائیڈن‘‘ نے اپنی تقریر ہی اس عظیم حدیث پر ختم کی ہے۔ (مسلم امّہ کے ستاون ملکوں پر جتنے بھی ڈکٹیٹر یا جمہوری حکمران مسلط ہیں، ان کی اکثریت سیکولر لبرل آئیڈیالوجی کی حامل ہے، اسی لئیے میں انہیں مسلمان حکمران کہہ کر اسلام کو بدنام کرنے کی سازش میں شریک نہیں ہوسکتا)۔ بات یہاں تک رہتی تو پھر بھی ٹھیک تھا،
مزید پڑھیے


اسرائیل، متحدہ عرب امارات کا اتحاد

هفته 15  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ دن تو آنا ہی تھا۔ وہ لوگ جو اپنے حالاتِ حاضرہ کو مخبرِ صادق، رسولِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بتائی گئی آخرالزمان اور دورِ فتن کی پیش گوئیوں کی روشنیوں میں دیکھتے ہیں اور یہود نصاریٰ اور کفار کے عادات و خصائل کے بارے میں قرآنِ پاک سے رہنمائی لیتے ہیں، ان کے لئیے آج کی یہ خبر کسی حیرت کا باعث نہیں ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات‘‘ اور ’’اسرائیل‘‘ کے درمیان امن معاہدہ ہوا ہے۔ اس کی علامات تو اس دن سے واضح ہونا شروع ہو گئیں تھیں، جب اپریل 2019ء میں ہندو مندر کی تعمیر
مزید پڑھیے


ٹیکنالوجی پرستوں کیلئے نئے دیوتا کا جنم

جمعه 14  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھر کے تبصرہ نگار، ماہرین سیاست و معیشت اور دفاعی تجزیہ نگار ہمیشہ مادی وسائل اور سائنسی ترقی کے ترازو پر رکھ کر اپنے خیالات کو تولتے ہیں اور اس کے بعد اس معلوماتی خزانے سے اپنی عقل و ہوش سے پیدا شدہ تجرباتی بصیرت استعمال کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس وقت دنیا پر کس ’’قوت‘‘ کا راج ہے اور مادیت کے سنگھاسن پر کون سی ٹیکنالوجی کا بت جلوہ افروز ہے۔ ٹیکنالوجی دراصل معاشی اور سائنسی علوم کی دنیا سے جنم لینے والی ایک ایسی قوت ہے ، جس کے بھی ہاتھ میں آجائے اسے وقت کا
مزید پڑھیے