BN

اوریا مقبول جان



اسلامی نہیں محدود غیر سودی بینکاری


امت کا زوال جو گذشتہ پانچ صدیوں سے جاری ہے اور جس تیزی سے یہ زوال خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور مسلم سرزمین پر عالمی طاقتوں کے قبضے کے بعد آیا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اس پستی کا آغاز دراصل اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب اس امت نے تجدید و احیائے دین سے کنارہ کشی احتیار کی اور تقلیدِ جامد کی مسند پر بیٹھ گئے۔ پھر اسکے بعد یہ ہوا کہ اگلے کئی سو سال تک ہماری ہاں صرف فروعی معاملات پر بحثیں ہوتی رہیں اور یوں'' فکر'' جو مسلم امہ کی پہچان تھی، اس
جمعرات 30 جنوری 2020ء

کیا عمران خان ناکام ہوگیا؟

جمعرات 23 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بیوروکریسی ہوتی ہے۔ اس کا خمیر اس مٹی سے گندھا ہے جو ہر حال میں مروجہ صورت حال یعنی (Status quo) کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ برصغیر پاک وہند کی بیوروکریسی تو اس فن کی اعلی ترین مثال ہے۔ اس کا آغاز تو ملاحظہ کیجئے۔ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی بنگال اور دیگر علاقوں میں حکومت بنا چکی تھی۔ برطانوی حکومت نے اسے ہندوستان چار لاکھ پاؤنڈ کے اجارہ پر دے رکھا تھا۔ لیکن اس کے افسران میں کرپشن اور اقربا پروری اس قدر بڑھ
مزید پڑھیے


’’باربی‘‘

بدھ 22 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
حقوق نسواں کی علمبردار کہتی ہیں کہ ''باربی'' صرف ایک گڑیا نہیں بلکہ خواتین کی آزادی کا ایک عالمی مجسمہ ہے۔ یہ ایک خاتون کے مثالی اور معیاری خدوخال کی تصویر ہے،جس کے پاس دنیا کا سرمایہ ہے، وہ ایک لاپرواہ اور کھیل کود سے بھرپور زندگی گزارتی ہے اور کہانیوں والی رومانیت اسکی ذات میں رچی بسی ہے۔ ''باربی'' نے جو جدید تہذیبی کردار عورت کو دیا وہ اس صدیوں پرانے گھسے پٹے کردار کی نفی کرتا ہے جس میں وہ ایک ماں تھی، محبت کرنے والی بیوی تھی اور شرم و حیا اسکی پہچان تھی۔ اس گڑیا
مزید پڑھیے


قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں

منگل 21 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
شاہ اسماعیل شہید دلّی میں اپنے علم وفضل، تقویٰ اور طاغوت کے مقابل ایک تلوارِ بے نیام کے طور پر مشہور تھے۔ ان کی کتاب ''منصب امامت'' برصغیر ہی نہیں بلکہ اس دور کی خوابیدہ مسلم امہ کے دلوں میں نشاۃ ثانیہ اور خلافت علیٰ منہاج النبوہ کی اولین ترغیب تھی۔ برصغیر پاک وہند کے عظیم فرزند شاہ ولی اللہ کے پوتے، 29اپریل 1779ء کو پیدا ہوئے۔ یہ وہی سال ہے جب رنجیت سنگھ نے پنجاب میں اپنی پہلی فتح حاصل کر کے اپنے اقتدار کی بنیاد رکھی تھی۔انہوں نے سلوک کی منزلیں شہیدِ بالاکوٹ سید احمد شہید کی مریدی
مزید پڑھیے


خبطِ عظمت اور اس کا انجام

پیر 20 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
اللہ نے یہ کائنات ایسی بنائی ہی نہیں کہ جس میں کوئی فرد ناگزیر ہو، اسکے بغیر یہ کارخانہ قدرت رک جائے، وہ نہ ہو تو ترقی کی رفتار تھم جائے۔ اس فنا کی طرف مسلسل بڑھتی ہوئی دنیا میں ایک کامیاب فانی انسان چند لمحوں کے لیے یہ تصور کر لیتا ہے کہ شاید اس کا کوئی نعم البدل موجود نہیں ہے۔ خود کو ناگزیر سمجھنے والے فرد کا اگر نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو اس میں دو طرح کے رجحان بدرجہ اتم موجود ہوں گے ایک عالی مرتبی کا فریب (Delusion of Grandeur) اور دوسرا یہ کہ اسے
مزید پڑھیے




موت سے کس کو رستگاری ہے

جمعرات 16 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
وہ مالکِ حقیقی، مختارِکل جس نے موت و حیات کو تخلیق کیا اورپھر ان دونوں کے درمیان ایک مختصر سی زندگی رکھ دی،تاکہ وہ جان سکے کہ کون اس مہلت کے دوران اچھے اعمال کرتا ہے۔اسی فرماں روا کا فرمان ہے، '' تم جہاں بھی ہو گے تمہیں موت پالے گی چاہے تم پختہ قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو (النسائ:78)۔ انسان کی زندگی بھر کی تگ و دو اور دوڑ دھوپ صرف اور صرف اس ایک المیہ پر قابوپانے کے گرد گھومتی ہے جسے ''موت'' کہتے ہیں۔ کوئی بھی اس رنگا رنگ دنیا کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ لاکھوں
مزید پڑھیے


غامدی صاحب کا نیا فلسفہ

بدھ 15 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
انسانی تاریخ ہمیشہ سے اس بات پر گواہ ہے کہ وہ مسلسل دو گروہوں میں تقسیم رہی ہے۔ کبھی یہ طاقتور اور کمزور کے درمیان کشمکش کا شکار رہی ہے اور کبھی یہاں حق و باطل کے میدان سجتے رہے۔ دنیا کے تمام الہامی مذاہب اسے ازل سے لے کر ابد تک ھدایت خداوندی کے ماننے والوں اور اس سے انکار کرنے والوں کے درمیان معرکہ قرار دیتے ہیں۔ اس مسلسل معرکے کو اقبال نے ایک شعر میں سمویا ہے ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی اسلام کی تعلیمات کے نزدیک بھی یہ معرکہ ء خیر
مزید پڑھیے


تاریخی ورثہ…تاریخ کی امانت

منگل 14 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ تاریخی عمارتیں اور ثقافتی ورثہ صرف آپ کی نسل کے لیے نہیں ہے کہ آپ اسے درست کر کے، کسی حد تک گذشتہ حالت میں بحال کر کے اس کو ایک خوبصورت کھلونے کی طرح استعمال کریں اور اس کی وہ حالت کر دیں آپ کے بعد کی نسلیں اس کے کھنڈرات پر آ کر ماتم کریں اور کہیں کہ کبھی یہاں فلاں تاریخی عمارت ہوا کرتی تھی۔ لاہور کا شمال کہ جہاں کبھی دریائے راوی بہا کرتا تھا، اس کے کنارے مغلوں کا تعمیر کردہ شاہی قلعہ، اورنگزیب عالمگیر کی بادشاہی مسجد، لاہور کا روشنائی دروازہ،
مزید پڑھیے


مشرق وسطیٰ میں جنگی پراکسیز (Proxis)

پیر 13 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
وقت اس جنگ کو ٹھیک اس کیفیت میں بدل رہا ہے جب اس کا مقصد واضح اور نیتّیں روز روشن کی طرح کھل کر سامنے آجائیں گی۔ فرات کے کنارے برپا معرکہ نہ بیس سال پہلے کبھی حق و باطل کی جنگ تھی اور نہ آئندہ ایسا ہوتا نظر آتا ہے۔ کیونکہ آخر الزماں سے متعلق رسول ﷺ کی احادیث میں یہ واحد تنازعہ یا جنگ ہے، جس کا مقصد سونے کے پہاڑ پر لڑائی بتائی گئی ہے اور اس سے علیحدہ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عرب و عجم کے اس جھگڑے
مزید پڑھیے


تیسری عالمی جنگ:عالمی سودی مالیاتی نظام کی خواہش

جمعرات 09 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ ہو رہا ہے۔ قاسم سلیمانی کی موت کوئی اچانک واقعہ نہیں ہے۔یہ کسی ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغ کی خرابی کا بھی نتیجہ نہیں۔ کوئی امریکی صدر اب تک اس قدر طاقتور نہیں ہوسکا جو امریکہ اور اس دنیا پر قابض سودی بینکاری نظام اور اس کے مسلط کردہ عالمی مالیاتی نظام سے بغاوت کر سکے۔ امریکی جنگی مشینری بھی اسی کی تابع ہے۔ یہ عالمی بینک کار ہی تھے جنہوں نے گذشتہ صدی میں اس دنیا پر دو عالمی جنگیں مسلط کیں اور ان سے اس قدر کمایا کہ ان کے پیٹ
مزید پڑھیے