BN

اوریا مقبول جان


ہتھکڑی والے۔۔بغیر ہتھکڑی والے


اگر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے بعدہمارے نظام عدل نے عزت و ناموس کا معرکہ جیت لیا ہے تو وہ بائیس کروڑ عوام میں سے مشتِ از خروارے چند لوگوں سے ہی اس ملک کے نظامِ انصاف کے بارے میں سوال کرے تو اسے یقین ہو جائے گا کہ اگر سپریم کورٹ کے معزز جج روزانہ اپنے کسی ساتھی کی عزت و عصمت کے تحفظ کے لیئے ایسے فیصلے کریں۔۔ لوگوں کے دلوں میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو نہیں بچا سکتے۔ ایسے فیصلے ایک عام آدمی کو
اتوار 09 مئی 2021ء مزید پڑھیے

خان صاحب! طاقتور پر ہاتھ اسلام ڈالتا ہے

هفته 08 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
جنابِ وزیر اعظم ! طاقتور کو پکڑنے کے لیئے کوئی ایسا قانون بن ہی نہیں سکتاجسے خود طاقتورہی تحریر کریں۔ انسانی قوانین کے دو ہی مآخذ ہیں۔۔ ایک بادشاہ، ڈکٹیٹر، فوجی آمر یا کیمونسٹ مطلق العنان، جبکہ دوسرامآخذ عوام کی نام نہاد حاکمیت جسے ’’جمہوریت‘‘ کہتے ہیں۔ پہلے والا مآخذ توکب کا خواب ہوچکا۔ بادشاہ اب تاج محل اور اہرامِ مصر جیسے مقبروں میں محو آرام ہیں۔ جو موجودہ دور میں ہیں انہیں، عالمی جمہوری قوتوں نے بیساکھیوں کے سہارے کھڑا کر رکھا ہے۔ رہے فوجی آمر تو ان بیچاروں کا کیا ہے، جب عالمی جمہوری طاقتوں کو ضرورت پڑتی
مزید پڑھیے


’’فروغِ ہم جنس پرستی ایکٹ‘‘

جمعه 07 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ایک ایسی دستاویز ہے جس کا دعویٰ تو یہ ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف (Repugnant) نہیں بنایا جا سکتا، لیکن پہلے سے موجود قوانین سے اگر غیر اسلامی دفعات کو ختم کرنا مقصود ہو تو اس کو ایک ایسی آئینی ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے سپرد کیا جاتا ہے، جسے اسلامی آئین کے تحت اپنی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ۔ ملک بھر سے ’’خصوصی طور‘‘ پر ’’خصوصی ذہن‘‘ اور ’’خصوصی استعداد‘‘ رکھنے والے علماء و دانش ور اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان نے
مزید پڑھیے


حرمت رسولؐ اور ہمارا اجتماعی دیوالیہ پن

جمعرات 06 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
بھکاریوں، بھک منگوں اور فقیروں کی ایک نفسیات ہوتی ہے جواگر کسی قوم کی اجتماعی زندگی میں ڈھل جائے تو پھر غیرت، عزت، حمیّت سب کچھ رخصت ہو جاتاہے۔ ایسی قوموں میں اگر شفاف ترین الیکشن بھی کروا لیں، بہترین کامیاب ذہن جرنیل مارشل لاء بھی لگادیں،مگر ان دونوں قیادتوں کے اذہان سے محتاجی کا رونا اور دنیا بھر کی جانب خیرات کے لیئے ہاتھ پھیلا کر ’’قومی سطح‘‘ پر بھیک مانگنے کی نفسیات کو نہیں نکالا جا سکتا۔ جس ملک کا صدر، وزیراعظم یا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اپنی سب سے بڑی کامیابی یہ تصور کرے کہ اس نے اپنے
مزید پڑھیے


گوانتا ناموبے: عالمی جمہوری نظام کا ظالم چہرہ (2)

اتوار 02 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
یوں تو منتخب جمہوری حکمرانوں کے مظالم کی تاریخ اوڈلف ہٹلر کے نام سے ’’روشن‘‘ ہے جو جرمن قوم کے دلوں کی دھڑکن اور ان کا منتخب چانسلر تھا ۔لیکن اس کے مظالم صرف اپنی ہی قوم کی ایک مذہبی اقلیت ’’یہودیوں‘‘ تک محدود رہے، مگر گوانتا ناموبے کا عقوبت خانہ ایک ایسا عالمی ٹارچر سیل تھا، جس میں دنیا کے کونے کونے سے مسلمانوں کو لا کر بدترین تشدد اور درندگی کا نشانہ بنایا گیا ۔ ہٹلر کے خلاف تو آدھی سے زیادہ دنیا متحد ہو گئی تھی اور اسے شکست دینے کے بعد آج تک اسے مسلسل بدنام
مزید پڑھیے



گوانتا ناموبے: عالمی جمہوری نظام کا ظالم چہرہ

هفته 01 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
عقوبت خانہ ختم کیا جا رہا ہے، لیکن ظلم، دہشت اور درندگی کی کہانیاں زندہ رہیں گی۔ ’’گوانتا ناموبے‘‘۔۔ جدید انسانی تہذیب کا رستا ہواایک ایسا ناسور ہے، جس کی تاریخ یہ بتاتی رہے گی کہ ظلم اور وحشت صرف چنگیز خان اور سکندرِ اعظم جیسے ظالم بادشاہوں کا ہی خاصہ نہیں ہوتی، اور نہ ہی یہ موجودہ دور کے آمروں، ڈکٹیٹروں اور فوجی حکمرانوں کی جاگیر ہے، بلکہ بد ترین تشدد، بے رحم درندگی اور ظالم انتقام کیلئے جمہوریت اور انسانی حقوق کی چیمپئن ریاست ’’امریکہ‘‘ بھی کم نہیں، جس کے زیر سایہ یہ ظلم زیادہ ’’حسن و خوبی‘‘
مزید پڑھیے


بینچ اینڈ بار متحدہ محاذ

جمعه 30 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
اداروں میں زوال اچانک ایک دن نہیں آتا۔کئی نسلیں اصول و قواعد کے ستونوں کی اینٹیں اکھاڑتی رہتی ہیں اور پھر ایک دن عمارت دھڑام سے نیچے آگرتی ہے۔ جو کوئی بھی قاعدے اور اصول کی اینٹ اکھاڑتا ہے اس کے پاس دل کو تسلی دینے کے لیئے بہت قوی دلیل ہوتی ہے۔ مثلاً، قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں فیصلہ حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والی وکلاء برادری ، سول سوسائٹی اور سیاسی پارٹیاںجانتی ہیں کہ اس فیصلے نے آئین و قانون و انصاف کے ستونوں کی وہ بنیادی اینٹ ہی اکھاڑ دی ہے جس کے مطابق ہر شہری
مزید پڑھیے


فاعتبرو یا اولی الابصار(عبرت حاصل کرو اے دیدۂ بینا)

جمعرات 29 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
کورونا اگر کسی ایک ملک تک محدود ہوتا تو گذشتہ ایک سالہ یلغار کی وجہ سے پندرہ کروڑ تک کی آبادی والے کسی ایک ملک کا ہر فرد اس مرض کا مزا ضرور چکھ چکا ہوتا۔ آپ حیران ہوں گے کہ اتنی آبادی والے ممالک میں روس، میکسیکو، جاپان، ایتھوپیا، فلپائن اور مصر جیسے بڑے ملک بھی شامل ہیں۔ اسی طرح اگر اللہ یہ فیصلہ کر لیتا کہ اس مرض کے تحت اس نے گذشتہ امتوں کی طرح بستیوں کو اپنے عذاب سے تباہ و برباد کرنا ہے، تو اس وقت دنیا کے 232ممالک میں سے 33ممالک صفحۂ ہستی
مزید پڑھیے


ہماری منصوبہ بندیوں میں اللہ شامل نہیں

اتوار 25 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ سال ہم اس وبا کی آزمائش سے گزرے۔ اللہ نے ہماری جان بخشی کی اور ہمیں اس سے نکلنے میں مدد کی۔ وہ جنہیں اللہ نے بصیرت و بصارت کی نعمتوں سے سرفراز کیا ہے، بتاتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم پر یہ کرم اس لیے ہوا کہ جیسے ہی یہ آفت نازل ہوئی، ہمارے صاحبانِ حیثیت نے انفاق کا راستہ اختیار کیا۔ ہر کوئی ان تنگ دستوں ، غریبوں اور مسکینوں کی مدد کو لپکنے لگا، جنہیں اس گھڑی میں ضرورت تھی۔ لیکن اس مشکل سے نکلنے کے بعد ہمارے حکمرانوں، اہلِ سیاست اور اربابِ حل و عقد
مزید پڑھیے


ریاست کا نظریہ ہی ریاست کا نصابِ تعلیم

هفته 24 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
نیویارک کے بروکلین (Brooklyn)، پیرس کے بیل ویل(Belleville)، لندن کے گولڈن برگ (Goldenberg)اور یورپ کے شہروں میں وہ آبادیاں جہاں یہودیوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے، ایسے علاقوں کے سکولوں میں یہودی بچے کرسمس اور ایسٹر کے تہواروں کے بارے میں گیتوں اور ان گیتوں میں جیتے جاگتے کرداروں کو ایک خوبصورت خوابناک ماحول میں نرسری کی نظموں سے لے کر بڑی کلاسوں تک آج بھی پڑھتے ہیں۔ کورس میں سیدنا عیسیٰ ؑاور سیدہ مریم ؑکے حوالے سے گفتگو خواہ تہوار کی نسبت سے ہی کی جائے یہودیوں کے نزدیک بالکل ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں کے
مزید پڑھیے








اہم خبریں