BN

اوریا مقبول جان



پروپیگنڈہ نہیں پراپگاندھی


تخلیق پاکستان سے لے کر اب تک سیکولر، لبرل اور مذہب بیزار طبقہ قائداعظم کے مقابلے میں ایک شخص کی عظمت کے گن گاتا چلا رہا ہے۔ اس شخص کا نام موہن داس کرم چند گاندھی ہے۔ یہ طبقہ ہمیشہ قائداعظم کو دبے لفظوں میں ایک منافق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ دلیل دیتا ہے کہ انکا تمام طرز زندگی مغربی تھا مگر وہ ایک ایسے ملک کے لیے جدوجہد کررہے تھے جسکی بنیاد اسلام تھا۔ قائداعظم سے یہ دشمنی یادش بخیر نیم چڑھے کیمونسٹوں کو بھی تھی اور شاید آج بھی ہے کیونکہ وہ اپنے بالشویک
پیر 20 مئی 2019ء

کیا وقت آن پہنچا ہے

بدھ 15 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے ٹھیک سولہ ماہ قبل امریکی افواج کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے امریکی جنگی جنون کے لیے ایک نیا راستہ متعین کیا۔سترہ سال تک امریکہ اور یورپ کے جنگی دماغوں پر صرف اور صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ چھائی ہوئی تھی، لیکن جیمزمیٹس نے کہا کہ اب ہماری اولین ترجیح روس اور چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں پوری دنیا پر تنِ تنہا حکومت کرنے والا امریکہ اور یورپ کا اتحاد اب اپنی قوت کھو رہا ہے۔ جنوب میں بسنے والے کمزور و ناتواں ملک بھی
مزید پڑھیے


شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

منگل 14 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
ہنستے بستے اور پررونق شہر جب اجڑے ہوئے دیار محسوس ہونے لگیں تو سمجھو کہ بستی کے مکینوں پر ایسا بہت کچھ بیت چکا ہے کہ وہ اب بہار میں خزاں کی اداسی اوڑھ لیتے ہیں اور سرسبز و شاداب شہر بھی انہیں ریت کے بگولے جیسے نظر آتے ہیں۔ ایسی ادا، دکھ اور کرب یوں تو پوری بستی کا المیہ ہوتا ہے لیکن شاعر اس کرب کی زبان بنتا ہے کہ بقولِ اقبال وہ دیدہ بینائے قوم ہوتا ہے۔ ایسے ہی کربناک ماحول کو ناصر کاظمی نے خوب پیش کیا ہے دل تو میرا اداس ہے ناصر شہر
مزید پڑھیے


عمران خان کی ریاست مدینہ، پینسلوینیا ایونیو میں داخل

پیر 13 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
آخر کار وہی ہونے جارہا ہے جس کا ڈر تھا، ڈر نہیں بلکہ یقین تھا۔ پاکستان کے منظر نامے پر چھائے ہوئے معیشت دان، جنہوں نے اپنی تعلیم کے آغاز سے ہی ایڈم سمتھ (Adam Smith) کے افکار کی لوریاں سنی ہوں، جان مینارڈ کینز (John Maynard keynes) کے معاشی تصورات سے علم حاصل کیا ہو اور ملٹن فریڈمین(Milton friedman) کے مالیاتی نظام کی چھتری تلے سوچنا سیکھا ہو، وہ سب کے سب پاکستان جیسے غریب، پسماندہ اور دست نگر ملک کی معیشت کو مغربی استعمار اور کارپوریٹ معاشرت کے تخلیق کردہ ورلڈ بینک اور آئی ایم
مزید پڑھیے


پاکستانی معیشت پر منڈلاتے ہوئے گدھ

بدھ 08 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
افریقہ کے کسی کے قحط زدہ ملک کی ایک تصویر اس قدر خوف ناک اور دل دہلا دینے والی ہے کہ کسی بھی صاحب دل شخص کی آنکھ میں آنسو لرزنے لگیں۔ تصویر میں بھوک سے نڈھال بچہ تقریباً بے ہوش پڑا ہے اور اس سے تھوڑے فاصلے پر ایک گدھ اسکی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ جدید سودی بینکاری نظام وہ گدھ ہے جو قرضوں کے میٹھے زہر سے حکومتوں کو معاشی موت کا شکار کرتا ہے۔ ایک ایسی موت جس کے بعد آئی ایم ایف کے انجکشن سے معیشت کو اس مقصد کے لیے زندہ کیا جاتا
مزید پڑھیے




امریکہ نہیں عالمی برادری کی شکست

منگل 07 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
ایسے تبصرے‘ گفتگو، مضامین اور تجزیے اس وقت سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں جب جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہو اور یہ فیصلہ کرنا اب مشکل نہ ہو کہ کون جیتا اور کون ہارا ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس‘ آسٹریلیا یہاں تک کہ اس ’’اینٹی طالبان اتحاد‘‘ کے کسی بھی ملک کے اخبارات و رسائل اٹھا لیں آپ کو صرف ایک ہی بحث نظر آئے گی۔’’ہماری شکست کیوں ہوئی‘‘ ابھی امریکہ کے چودہ ہزار ریگولر فوجی اور ہزاروں کرائے کے سپاہی افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ابھی افغان کٹھ پتلی فوج کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور امریکی ایئر فورس کی
مزید پڑھیے


اصل نفرت نکاح سے ہے

پیر 06 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
جس ملک میں عوام کی اکثریت اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے شبانہ روز محنت کرکے بمشکل تمام جہیز مہیا کرتی ہو، جہاں لاتعداد ایسے گھرانے ہوں جہاں لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہوتی جارہی ہوں، وہاں صرف اور صرف مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شادی کی عمر بڑھانے کا بل اسمبلی میں پیش کرنا ،صرف اور صرف اسلام کے بنیادی تصور کا تمسخر اڑانے اور تضحیک کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ایسے لوگوں کے دردناک انجام کی خبر دیتا ہے اور بار بار دیتا ہے جو رسولوں کی
مزید پڑھیے


خلافت کا نفاذ:طریقِ کار

بدھ 01 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ تقریباً دو صدیوں سے مختلف مدارج طے کرتا ہوا جمہوری نظام جو آج بیشتر ممالک میں نافذ ہے اور جسے دنیا بھر کے دانشور، ارباب سیاست اور عالمی منظر نامے کے اجارہ دار انسانی معاشرے کے لیے آئیڈیل تصور کرتے ہیں۔ اس میں اور نظام خلافت میں اہل الرائے یا صائب الرائے یعنی بنیادی ووٹر کی علمی استعداد اور اخلاقی معیار میں فرق ہے۔ جب یہ پہلا بنیادی فرق طے ہو جائے گا تو مروجہ جمہوری نظام کی ووٹرلسٹ سے ایک مختلف لسٹ ترتیب پا جائے گی تو پھر اگلا مرحلہ خلیفہ کے انتخاب کا آتا ہے۔ نظام جمہوریت
مزید پڑھیے


خلافت کا نفاذ: طریقِ کار(2)

پیر 29 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
ایک آدمی ایک ووٹ کا تصور‘ اسلام کے اہل الرائے یا صاحب الرائے ہونے کے تصور کی ضد ہے۔ یوں تو یہ پوری معاشرتی زندگی کی ضد ہے لیکن اسے گزشتہ دو صدیوں سے ایک جمہوری فیشن بنا دیا گیا ہے اور اس فیشن کی ہر جمہوری ملک میں بہت مختصر عمر ہوتی ہے۔ جتنے دن الیکشن کا ہنگامہ چلتا رہتا ہے ایک ووٹر کی عزت و توقیر کے ڈنکے بجتے رہتے ہیں لیکن جس دن وہ اپنی رائے کا اظہار کر کے گھر واپس لوٹتا ہے تو اس کی رائے کا تمام اختیار ممبران پارلیمنٹ لے لیتے ہیں یا
مزید پڑھیے


خلافت کا نفاذ : طریقِ کار

جمعه 26 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
پارلیمانی سے صدارتی اور صدارتی سے پارلیمانی نظام پر گفتگو کس قدر آسانی اور سہولت سے ہر چند سالوں کے وقفے سے اس ملک میں شروع ہوجاتی ہے، بلکہ عموما ان بحثوں کے نتیجے میں یہ نظام نافذ بھی ہوتے رہے ہیں، انکی بساط لپیٹی بھی جاتی رہی ہے اور انکے ڈھانچوں میں بے پناہ تبدیلیاں کرکے انکا حلیہ بھی بگاڑا جاتا رہا ہے۔ ان ساری مسلسل کوششوں کا تحفہ 1973ء کا آئین ہے جس میں لاتعداد ایسے آرٹیکل آج بھی موجود ہیں جنہیں فرد واحد یعنی ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بغیر کسی جمہوری طریقہ کار اپنائے، آئین
مزید پڑھیے