BN

اوریا مقبول جان


حکومتوں کے لاڈلے قاتل، جنسی درندے، دہشت گرد


آج سے بارہ برس قبل پاکستان کے انسانی حقوق، حقوقِ نسواں کے نام نہاد علمبردار ٹولے اور سیکولر، لبرل سول سوسائٹی کی کوششیں رنگ لائیں اور 2008ء میں برسرِ اقتدار آنے والی پیپلز پارٹی نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔ روکنے کا یہ عمل کمال درجے کا فریب تھا۔ یعنی ایک قاتل، ڈاکو، جنسی درندہ یا دہشت گرد سیشن کورٹ سے پھانسی کی سزا پاتا ہے، ہائی کورٹ اس کی سزا کو بحال رکھتی ہے، سپریم کورٹ میں بھی اس کی اپیل مسترد کر دی جاتی ہے، پورا ملک اطمینان کر لیتا ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ نے
اتوار 13  ستمبر 2020ء

سرعام سزا۔ سنتِ رسولِ رحمتؐ ہے

هفته 12  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
جرم و سزا کی دنیا ابتدائے آفرینش سے چلی آرہی ہے۔ انسانی تہذیب میں ہمیشہ ایسے جرم پر سزا دی جاتی رہی ہے، جس کا تعلق معاشرہ سے ہو۔ اسی لئے دنیا کی تمام تہذیبوں اور معاشروں میں یہ سزائیں کھلے عام دی جاتی تھیں۔ فرد جرم سے لے کر اعلانِ سزا تک، سارے کا سارا عدالتی، پنچائتی یا جرگے کا عمل لوگوں کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح سرانجام دیا جاتا تھا اور آج بھی ایسے ہی ہے۔ جرم ہمیشہ قابلِ تعزیر نا قابلِ دست اندازیٔ پولیس اس وقت ہوتا ہے جب یہ دو یا دو سے زیادہ
مزید پڑھیے


گیارہ ستمبر اور دنیا کی تقسیم

جمعه 11  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
میری عمر صرف پینتالیس سال تھی جب آج سے انیس سال قبل جدید دنیا کا ایک ایسا سانحہ رونما ہوا جس نے زمین پر بسنے والے مسلمانوں کے خون کی ارزانی کے خونچکاں دور کا آغاز کر دیا اور آج بھی اس کرۂ ارض کا رنگ مسلمانوں کے خون سے رنگین اور فضا مظلوم اور معصوم مسلمانوں کی چیخوں، سسکیوں اور آہوں سے مسلسل غمناک ہے۔ یہ کیفیت صرف دیکھنے اور محسوس کرنیوالوں کو ہی نظر آتی ہے، بقول میر تقی میر’’چشم ہو توآئینہ خانہ ہے دہر‘‘۔ شام کے دھندلکے میں پاکستان کی ٹیلی ویژن سکرینوں پر نیویارک کے ورلڈ
مزید پڑھیے


سچ تو یہ ہے !

جمعرات 10  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ کتاب نہیں ایک زور دار طمانچہ ہے، ایسے تمام خود ساختہ مؤرخین، محققین، کالم نگاران اور اینکر پرسنوں کے بے بنیاد اور بے دلیل ’’جہل‘‘ کے منہ پر جسے پاکستان، قائداعظمؒ اور علامہ اقبال سے عقیدت و محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر نہیں لکھا گیا، بلکہ دلائل و براہین اور شواہد کو اکٹھا کرنے کے بعد تحریر کیا گیا ہے، یہ ان میڈیا شخصیات کے مسلسل جھوٹ کا حقائق کی بنیاد پر جواب ہے، جن کے ہاتھ میں قلم اورجن کی جہالت کے سامنے بدقسمتی سے کیمرہ آگیا ہے۔ ایک زمانے میں ایسے جھوٹ چند کتابوں تک
مزید پڑھیے


اسرائیل: پاکستان کا نظریاتی مد مقابل (4)

اتوار 06  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
ڈیوڈ بین گوریان کو صہیونیت ورثے میں ملی، اس کا باپ ایویگڈر گرون (Avigdor Gron) اس گروہ میں شامل تھا،جنہوں نے عالمی صہیونی تحریک کے ’’پروٹوکولز‘‘ تحریر کیئے تھے۔ ڈیوڈ بین گوریان 1906ء میں ہی اس وقت جافہ میںجاکر آباد ہو گیا تھا، جب روس میں یہودیوں کے خلاف نفرت کا آغاز ہوا تھا۔ اسرائیل کے قیام تک وہ وہاں آباد ہونے والے یہودیوں کو فوجی انداز میںمنظم کرتا رہا۔ یہی شخص تھا جس نے 14مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام کے اعلان کی دستاویز پر دستخط کئیے اور اسے متفقہ طور پر بلا مقابلہ اسرائیل کا وزیر اعظم چنا
مزید پڑھیے



اسرائیل: پاکستان کا نظریاتی مد مقابل …(3)

هفته 05  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
اپنی ہنستی بستی دنیا کو چھوڑ کر ویرانوں میں جا کر آباد ہونے کے محض دو مقاصد ہوا کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہواور چھپتے چھپاتے ایسی جگہ جا کر آباد ہو جائیں جہاں کوئی تلاش نہ کر سکے اور دوسرا یہ کہ آپ عشق و محبت کی وارفتگی میں مجنوں ہو جائیں یا گیان کی منزلوں کے راہی بنے ہوئے ہوں۔ لیکن اسرائیل کے ویرانوں میں یہودیوں کی واپسی، عام انسانوں کی ہجرتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ روزگار کی تلاش میں یہاں آئے تھے اور نہ سرسبز و شاداب کھیتوں
مزید پڑھیے


اسرائیل: پاکستان کا نظریاتی مد مقابل…(2)

جمعه 04  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یروشلم کے قرب و جوار کے بے آباد اور بے آب و گیاہ علاقوں میں ایک منصوبے اور مذہبی جذبے کے تحت یہودیوں کی منتقلی جدید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہے، جو بغیر قطرۂ خون بہائے عالمی طاقتوں کے زیر سایہ شروع ہوئی اور تیس سال اسرائیلی ریاست کے اعلان تک پورے زور و شور سے جاری رہی۔ پہلی جنگ عظیم سے پہلے اس پورے نیم صحرائی علاقے کے دو شہروں جافہ اور تل ابیب میں صرف چودہ ہزار یہودی انتہائی خاموشی سے آباد تھے۔ صہیونی تحریک کی داغ بیل ڈالے ہوئے بیس سال کا عرصہ
مزید پڑھیے


اسرائیل: پاکستان کا نظریاتی مد مقابل(۱)

جمعرات 03  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان میں دو موضوعات ہمیشہ سے ایسے رہے ہیں کہ جن پر قیامِ پاکستان سے پہلے بھی ہمدرددانہ گفتگو نہ صرف دینی حلقوں میںبلکہ دانشوروںکی بڑی اکثریت میں بھی شجر ممنوعہ سمجھی جاتی تھی۔ ایک سرزمین فلسطین پر یہودیوں کی آبادکاری اور پھر اسرائیل کی ناجائز ریاست کا قیام اور دوسرا فتنۂ قادیانیت۔ دینی حلقے تو ان دونوں کا جوازقرآن پاک کی تعلیم اور سیدالانبیاء ﷺ کی ہدایات سے دیتے تھے، لیکن برصغیر پاک و ہند کے دانشور طبقے کی اکثریت چونکہ مارکسزم سے شدیدمتاثر تھی، اس لئے وہ ان دونوں کو اس دور کی نو آبادیاتی طاقت ، برطانیہ
مزید پڑھیے


قافلۂ حجاز میں ایک حسین ؑبھی نہیں

اتوار 30  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
علامہ اقبال کے بعد جس شخصیت کے علمی کام نے انقلابِ اسلامی ایران کو علمی ، تحریکی اور روحانی بنیاد فراہم کی وہ ڈاکٹر علی شریعتی تھے۔ ایک ایسا نابغۂ روزگار عالم جو صدیوں کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ تشیع کی تاریخ میں ایسی جاندار، پر مغز اور انقلاب آفریں شخصیت میری نظر سے نہیں گزری، جس نے کئی صدیوں کی سوئی ہوئی قوم کو اپنے انقلاب آفریں پیغام سے زندہ کر دیا ہو۔ زندگی کی چند ایک خوبصورت یادوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایران میں اپنی تعیناتی کے دوران میرا قیام شاہراہ شریعتی پر رہا اور روز
مزید پڑھیے


حکمرانی: عوام کی تابع یا اللہ کی تابع

هفته 29  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
جدید جمہوری طرزِ معاشرت کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ جمہوریت کے بغیر انسانیت کی بقا ممکن نہیں۔ اس تصور نے دنیا بھر کے انسانوں حتیٰ کہ دانشوروں، فلاسفروں، سیاسی تجزیہ نگاروں، غرض سوچنے سمجھنے اور وسیع المطالعہ رکھنے والے ماہرین کی بصارت کوبھی محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ لوگ اب معاشروں کو اچھے برے، ظالم مظلوم ، جابرانصاف پسندیا خیر اور شرکی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتے، بلکہ جمہوری اور غیر جمہوری معاشروں کی بنیاد پر انہیں پرکھتے ، تولتے اور جانچتے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرہ خواہ اس
مزید پڑھیے