BN

اوریا مقبول جان


علمی روایت کا بڑا آدمی


زندگی چونکہ اتنی مختصر ہے کہ اس کے اختتام کے قریب حسرتوں کی فہرست طویل سے طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔ خسارے کا عالم ایسے لوگوں کے لیے مزید دکھ بھرا ہوتا ہے جو وسائل رکھنے کے باوجود اپنے شوق کی رہگزر پر چلنے سے محروم کر دیئے گئے۔ایک زمانہ ایسا تھا کہ تحصیلِ علم کا راستہ صاحبان شوق کے لیے ہمیشہ آسان اور سہل ہوتا تھا۔صرف ایک ارادہ، نیتِ شوق کی پختگی، دنیا سے بے رغبتی اور قریہ قریہ گھوم کر علم کے چشموں سے سیراب ہونے کے لیے رختِ سفر باندھنا ہی ضروری تھا۔ یہ تمام امور صرف
جمعه 23 اپریل 2021ء مزید پڑھیے

چھانٹیاں شروع ہو گئیں

جمعرات 22 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلم اُمہ، خصوصاً برصغیر کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ ایک گروہ نے حرمتِ رسول ﷺ کے معاملے میں گفتگو سے بھی الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس اُمت کی تاریخ میں یہ ’’جرآت‘‘ اور ’’حوصلہ‘‘ کسی اور بدنصیب کو آج تک حاصل نہیں ہو سکا۔ لوگ اہل بیت اور صحابہؓ کے بارے میں ہونے والی گفتگو سے الگ ہو جایا کرتے تھے، کچھ سیکولر ، لبرل اور ملحد حضرات ان بحثوں کا بہانہ بنا کر اسلام اور مسلمانوں کو تنقید اور طعن و تشینع کا نشانہ بھی ضرور بناتے تھے۔ لیکن جب
مزید پڑھیے


خبردار! جمہوریت صرف سیکولر رہے گی (آخری قسط )

اتوار 18 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
جب نواب اکبر بگٹی نے موچی دروازے میں بلوچستان کی علیحدگی کے لندن پلان کا انکشاف کرتے ہوئے اس کے ڈانڈے عراق سے ملائے تو اسلام آباد میں عراق کے سفارتخانے پر چھاپہ مار کر بے شمار اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت توڑنے کے لیئے یہ جواز کافی تھا۔تیرہ فروری 1973ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے عطاء اللہ مینگل کی بلوچستان حکومت توڑ کر نواب اکبر بگٹی کو گورنر لگا دیا۔ احتجاجاً 15 فروی 1973ء کو سرحد کی حکومت بھی مستعفی ہو گئی۔ بلوچستان میں آپریشن کا آغاز ہوا اور نیشنل
مزید پڑھیے


خبردار ! جمہوریت صرف سیکولر رہے گی (قسط 2)

هفته 17 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان دراصل انجمنِ ترقی پسند مصنفین کا ایک تسلسل تھی ،جسے مشہور ناول نگار و افسانہ نگارسجاد ظہیر نے 1936ء میں کلکتہ میں قائم کیا تھا۔ سجاد ظہیر ایک اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا والد سید وزیر حسن چیف کورٹ لکھنؤ کا چیف جج تھا۔ وہ 1927ء میں اپنی انڈر گریجویٹ تعلیم کیلئے آکسفورڈ چلا گیا، جہاں اس کی ملاقات ایک بھارتی نژدا پارسی شاہ پورجی دراب جی سے ہوئی جو اس برطانوی پارلیمنٹ کا رکن اور برطانوی کیمونسٹ پارٹی کے ان چند ممبران میں سے ایک تھا جنہوں نے
مزید پڑھیے


خبردار! جمہوریت صرف سیکولر رہے گی

جمعه 16 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
جنگِ عظیم اوّل کے بعد جب فتنۂ دجال کے دیباچے کے طور پر جدید سودی مغربی تہذیب نے جنم لیا تو سودی معیشت اور سیکولر جمہوریت اس کے دو اہم ستون تھے۔ان دونوں ستونوں کو قائم رکھنے اور تحفظ دینے کے لیے ایک ریاست کی قوت کی شدید ضرورت تھی۔ ریاست جتنی طاقتور اور مضبوط ہوگی اتنا ہی وہ اپنے نظام کا تحفظ کر سکے گی۔ شرط صرف ایک رکھی گئی کہ سیاست کی بنیاد اوراسکی قوتِ نافذہ بھی سیکولر ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے پوری دنیا کو علاقائی، جغرافیائی اور جہاں تک ممکن تھا نسلی
مزید پڑھیے



یہی لوگ کائنات کا حسن ہیں

جمعرات 15 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
رمضان کی آمد سے پہلے وہ لوگ جو دلوں میں اسلام سے خاص قسم کا بغض عناد رکھتے ہیں، وہ کچھ مخصوص میسج پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فونوں سے پہلے ایسے فقرے عموماً گفتگو میں طنز و مزاح کی صورت بولے جاتے تھے۔ ایسے فقرے دراصل ان مذہب بیزار سیکولر، لبرل نما ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں میں تخلیق کیے تھے۔ سعادت حسن منٹو اسطرح کی کردار سازی کا سرخیل تھا۔اس کے افسانوں کا ہر مولوی ایک شیطان اور ہر طوائف رحم کرنے والی کوئی ہستی نظر آتی ہے۔ رمضان سے پہلے ہمارے اخبارات، تبصرہ
مزید پڑھیے


انسانی ارتقاء اور باحیاء تہذیب (آخری قسط )

اتوار 11 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
حیاء انسانی تہذیب اور طرزِ معاشرت کی روح بھی ہے اور اس کی پہچان بھی۔ جس طرح کسی تخلیق کو تکمیل کے آخری مرحلوں میں خوبصورت اور آراستہ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی دلکشی اور حسن نمایاں ہو جائے، اسی طرح انسانی تہذیب جب تکمیل کے آخری مرحلوں میں تھی تو اس نے اپنے اندر موجود سب سے اہم صفت ’’حیائ‘‘ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناکر اسے درجۂ کمال تک پہنچایا۔ حیاء کا لفظ دنیا کی ہر زبان میں ایک طرح کے معانی اور ایک ہی جیسے لائف سٹائل کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اردو میں
مزید پڑھیے


انسانی ارتقاء اور باحیاء تہذیب (1)

هفته 10 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
ہم نے یہ بستی بڑی محنت سے برباد کی ہے۔ صدیوں سے انسان نے اسے سنوارنے پر اپنے شب و روز صرف کئے، لیکن ہم نے اسے صرف ایک سو سال کے اندر اجاڑ کر رکھ دیا۔ انسان اور دنیا کا ہر جانور تین جبّلی خواہشات لیکر پیدا ہوتا ہے، کھانا، سونا اور جنس۔ تمام جاندار ان خواہشات کی تکمیل کیلئے کسی ماحول ، وقت اور علاقے کا انتخاب نہیں کرتے۔ جس طرح ، جس جگہ اور جیسی خوراک میسر آجائے، پیٹ بھرتے ہیں اور جہاں مناسب ٹھکانہ مل جائے، نیند پوری کرلیتے ہیں۔ اسی طرح جنسی خواہشات کی تکمیل
مزید پڑھیے


گرم پانیوں کی تلاش میں

جمعه 09 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
قدرت نے اس قوم کوسرد موسموں کی شدت، شمال کی طرف برف سے ڈھکے ہوئے سمندروں اور باقی تین سمت دشمن اقوام کو آباد کرکے ایک بہت بڑی سرزمین پر یوں لگتا ہے مقید کردیا تھا۔ روس کے جغرافیے پر نظر ڈالیں تو آپ کو ایسے محسوس ہوگا جیسے اسے باقی دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا گیا ہو۔اس کا جغرافیہ اس کے لیئے بہت ہی ظالم رہا ہے۔ دنیا میں پھیلنے، تجارت کرنے یا فتوحات کے لیئے ان کے پاس نزدیک ترین سمندر بحر اوقیانوس ہے جو مغرب میں واقع تھا۔ یہاں تک پہنچنے کے بعد وہ باقی
مزید پڑھیے


ظالم کی مدد کیسے؟

جمعرات 08 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
کس قدر خوبصورت حدیث ہے جسے امام ترمذی نے ’’کتاب الفتن‘‘ یعنی اس زمانے کے بارے میں احادیث کے باب میں درج کیا ہے، جب قیامت سے قبل دنیا بھر میں فتنے پھیل جائیں گے۔ تقریباً تمام بڑی احادیث کی کتب میں اس دور کے حوالے سے علیحدہ باب باندھے گئے ہیں۔ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو اپنی کتاب ’’صحیح بخاری‘‘ میں تین بار مختلف ابواب میں درج کیا ہے۔ یہ حدیث حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے، جنہوں نے بچپن ہی سے رسول اکرم ﷺ کے گھر میں تربیت پائی۔ اسے اُم المومنین سیدہ عائشہؓ نے بھی
مزید پڑھیے








اہم خبریں