BN

اوریا مقبول جان



نظام خلافت۔ بہترین وقت


اس لمحے جب پاکستان کے پارلیمانی نظام اور گھسے پٹے سیاسی طریقہ انتخاب و اقتدار سے مایوسی کی آوازیں چاروں سمت گونج رہی ہیں اور ہر کوئی نظام کی تبدیلی پر گفتگو کرتا نظر آرہا ہے، توایسے میں میرے لئے، بلکہ ہر سوچنے سمجھنے اور عقل و ہوش رکھنے والے مسلمان کیلئے یہ المیے سے کم نہیں کہ اس ملک میں موجود دو درجن سے بھی کہیں زیادہ اسلامی پارٹیاں اس جمہوریت کے کھوکھلے درخت اور اس پارلیمانی نظام کے دیمک زدہ ڈھانچے کے ساتھ وابستہ نظر آتی ہیں۔وہ پارلیمانی جمہوریت جسکی برائیوں کا تذکرہ اس وقت جمہوری
بدھ 24 اپریل 2019ء

تھا جس کا انتظار

پیر 22 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
استقبال کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ کس قدر طویل انتظار تھا جو اس دفعہ آئی ایم ایف کی معاشی رتھ پر سوار ہو کر آنے والے اس دولہا کو کرنا پڑا۔ یوں تو پاکستانی وزارت خزانہ کی سجی سجائی سیج ایسے دولہوں کی ہمیشہ منتظر رہی ہے، لیکن اس دفعہ تو انتظام کا عالم مختلف ہے۔ پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ عقد طے ہو جاتا تھا اور اسکی شرائط کے مطابق گھر کا سازوسامان گروی رکھا جاتا تھا، آرائش میں تبدیلیاں کی جاتی تھیں جس سے عقد کی شرائط طے ہوتی تھیں وہی عروسی سیج پر
مزید پڑھیے


ان کا نوحہ کبھی نہیں لکھا جائے گا

جمعه 19 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
نواب محمد اکبر بگٹی کے گھر فاطمہ جناح روڈ کی رات گئے کی محفلیں غضب کی ہوا کرتی تھیں، بلا کے مہمان نواز اور حیران کن حد تک دنیا کے ہر موضوع پر مطالعہ رکھنے والے نواب صاحب سے گفتگو زندگی کا حاصل ہے۔ نواب بگٹی اپنے گھر سے چہل قدمی کرتے ہوئے جناح روڈ پر آتے، بولان میڈیکل ہال انکے دوست نوروزعلی میر کی دکان تھی، کچھ وقت وہاں گزارتے، ساتھ ہی بک لینڈ اور کوئٹہ بک سٹال جاتے، کوئی رسالہ یا کتاب خریدتے اور گھر لوٹ جاتے ،جہاں شام کو انکی محفل میں شہر کے معززین، صحافی، ادیب
مزید پڑھیے


دہشت گردی سے جنگ کے نام پر

بدھ 17 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پوری دنیا کو دہشت گردی کے نام پر خوفزدہ کرکے اسکی معیشت پر غلبے اور اسکی سیاست پر قبضے کا دھندا چل رہا ہے۔ نائن الیون کے فورا بعد جہاں امریکہ اور اسکے حواریوں نے نہتے اور کمزور افغانستان پر حملہ کیا، وہیں دنیا بھر کے بینکاری نظام اور کرنسیوں کے نیٹ ورک پر نگرانی سخت کردی، کیونکہ انہیں خوف محسوس ہونے لگا کہ انکے ذریعے دہشت گردوں کو اسلحہ خریدنے کے لیے سرمایہ آسانی سے میسر آجاتا ہے۔ معاشی اداروں پر کنٹرول کا آغاز تو اس دن سے شروع ہو گیا تھا جب افغانستان سے
مزید پڑھیے


پاکستانی بیوروکریسی کے نیم حکیم اور عمران خان

پیر 15 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی تباہی، بربادی اور زوال میں جتنا حصہ پاکستان کی بیوروکریسی کا ہے، کسی اور کا نہیں۔ ایک سیاستدان موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے لیکن انکی بھول بھلیوں سے بھرپور فائل اور نوٹ پورشن سمجھ نہیں پاتا۔ ایک جرنیل اور اسکی فوج ظفر موج جب اقتدار پر قابض ہوتی ہے تو وہ برسوں کاروبار حکومت سمجھنے میں ان کی محتاج رہتی ہے۔ یہ اسے جس طرح چاہیں، جیسا چاہیں اور جس طرف چاہیں موڑ دیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنے فن میں طاق اور اپنی چالوں میں پختہ ہو چکے ہیں۔آغاز پاکستان سے ہی انہوں نے
مزید پڑھیے




یہ محض اتفاق نہیں ہے

جمعه 12 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مسلم امہ کا وہ خطہ جہاں آخری بڑی جنگ کے دو میدان سجنے ہیں، اسکے مشرق و مغرب کے دونوں سروں پر گزشتہ بیس سال سے مذہبی شدت پسندی کی لہر عوامی پذیرائی اور جمہوری راستے سے ملک پر قابض ہے اور دن بدن اس شدت پسندی کے ووٹ بینک میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کی مسلمانوں سے نفرت میں تیزی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ مسلم امہ کا یہ خطہ دراصل اسلامی دنیا کا مرکز و محور ہے جسے "Central Homeland"کہا جا سکتا ہے۔ صحرائے سینا کے مشرقی کنارے
مزید پڑھیے


یہ لاہور ہائی کورٹ نہیں :جسٹس عظمت سعید

بدھ 10 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
جامعہ حفصہ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن دو ایسے المناک واقعات ہیں کہ ان کا تقابل امرتسر میں 1919ء میں ہونیوالے جلیانوالہ باغ کے قتل عام سے کیا جا سکتا ہے۔ یوں تو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے اپوزیشن کے جلسے پر 23 مارچ 1973ء کو "قائد عوام" اور جدید مورخین کی نظر میں "جمہوریت کی آبرو" ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی "عظیم" پارٹی کے کارکنوں کے بہروپ میں فیڈرل سیکورٹی فورس سے فائرنگ کروائی تھی۔ نیشنل عوامی پارٹی کے درجنوں لوگ مارے گئے تھے۔ جلیانوالہ باغ کے جنرل ڈائرکے قتل عام سے ذوالفقار علی بھٹو کے لیاقت باغ
مزید پڑھیے


اسلام فوبیا

پیر 08 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا اسلام اور مسلمان سے دشمنی صرف چند سال پہلے یعنی گیارہ ستمبر 2001 کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد کی پیداوار ہے، جسے میڈیا کے ذریعے جنگی و سیاسی مقاصد کے لیے دنیا بھر میں عام کیا گیا اور اب یہ نیوزی لینڈ میں پچاس مسلمانوں کے قتل عام کے بعد اسکی وزیراعظم کے انسانی رویے سے ختم ہو جائے گی۔ کیا آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں ایک خاتون رکن نے دوسرے مسلمان دشمن رکن پارلیمنٹ کو سخت سنا دیں اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا گیا ، اب اس سے امریکہ کے مغربی ساحلوں سے
مزید پڑھیے


چشم ِمسلم دیکھ لے تفسیرِ حرفِ ینسلون

جمعه 05 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا یہ سب کچھ حادثاتی طور پر ہو رہا ہے۔ آپ کسی بھی جدید علوم کے ماہر اور حالات حاضرہ کے نقطہ رس سے سوال کریں تو وہ یہی جواب دے گا کہ سائنسی علوم ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور روز سینکڑوں کے حساب سے نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ انسانوں کی غالب اکثریت ہر روز وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو ایک معمول کا واقعہ بھی سمجھتی ہے اور ترقی کی اگلی منزل بھی۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کسی بیماری پر قابو پا لے ، کسی مرض کا علاج دریافت کر لے ،کسی نئی ٹیکنالوجی
مزید پڑھیے


افسانہ ساز سیکولر لبرل دانشور

بدھ 03 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی نظریاتی اساس سے بغض و عناد رکھنے والے سیکولر لبرل طبقے کا بس نہیں چلتا کہ اس ملک کے ہر کونے کھدرے میں کھدائی کر کے ہندوؤں کا کوئی مندر برآمد کیا جائے، اسکی ایک جھوٹی سچی تاریخ گھڑی جائے، اسے کسی بڑے دیوتا کے نام سے منسوب کیا جائے اور پھر اس پر بھارت سے یاتریوں کو بلا کر پوجا کا اہتمام کروایا جائے۔اسطرح پاکستان کو ایک سیکولر، لبرل اور روشن خیال ملک کے طور پر پیش کیا جائے۔ ان تمام احباب نے ایک اصطلاح پر تخلیق کر رکھی ہے "قائد اعظم کا پاکستان"۔ انکے نزدیک
مزید پڑھیے