BN

اوریا مقبول جان


کمرے میں ہاتھی


بنائوٹی ‘ جھوٹی اور گھڑی ہوئی کہانیوں کو انگریزی زبان میں فیبلر(Fables)کہتے ہیں۔ روس کے شہر ماسکو میں زار روس کے زمانے میں ایک ایسا شخص مشہور تھا جو ایسی کہانیاں لکھنے میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ یہ شخص ایوان کرائیلو(ivan Krylov)اپنی ان تحریروں کی وجہ سے بہت مشہور ہوا۔ حالانکہ وہ شاعر ‘ ڈرامہ نگار‘ناول نگار‘ مترجم اور سب سے بڑھ کر صحافی بھی تھا۔ اس نے 1814ء میں ایک بنائوٹی اور جھوٹی کہانی یعنی فیبل تحریر کی جس کا نام تھا متجسس آدمی(inquisitive man) اس کہانی میں ایک شخص عجائب گھر کی سیر کے لئے جاتا ہے اور وہاں
اتوار 09 فروری 2020ء

پاکستانی معیشت،غلام عبّاس کا اوور کوٹ اور عمران خان

هفته 08 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ بالکل درست ہے کہ عمران خان کو ایک ایسا اجڑا ہوا اور برباد پاکستان ملا جس کی حالت غلام عباس کے افسانے ''اوور کوٹ'' جیسی تھی۔ جس کا ہیرو ایک انتہائی خوش پوشاک شخص ہوتا ہے جو بہترین لباس پہنے، اوور کوٹ زیب تن کیے، ہیٹ سر پر رکھے مٹر گشت کر رہا ہوتا ہے اور اچانک کسی گاڑی کی زد میں آکر انتقال کر جاتا ہے۔ ہسپتال میں سنگ مر مر کی میز پر لٹا کر جب پوسٹ مارٹم کے لیے اس کے کپڑے اتارے جا رہے ہوتے ہیں تو اس کی غربت و افلاس اورکسمپرسی سامنے آتی
مزید پڑھیے


تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

جمعه 07 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
بدنما جمہوری تاریخ کے چہرے پر 5 فروری 2020 کی تاریخ بھی ایک اور داغ کی صورت ہمیشہ یاد رہے گی، جب 53 ووٹوں کی اکثریت نے 47 ووٹوں کی اقلیت پر اپنا آمرانہ فیصلہ مسلط کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ہم انصاف اور عدل کے کسی بھی تقاضے کو نہیں مانتے۔امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ چونکہ رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتا ہے،اس لیے ہم اس کے جرائم کے ثبوتوں کے باوجود اسے سزا دینے کی اجازت دیں گے اور نہ ہی اسے کسی مقدمے کا سامنا کرنے دیں گے۔ وہ بدستور اگلے الیکشن تک جمہوری نظام کے سب سے
مزید پڑھیے


ہم میں آر ایس ایس جتنا یقین بھی نہیں

جمعرات 06 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
ہم سے زیادہ اپنے نظریے اور مذہب پر پختہ یقین کا مظاہرہ بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوؤں نے کیا،جب انہوں نے قومی ریاستوں کے تصور کے وجود میں آنے کے فورا بعد اس بات کا اعلان کر دیا کہ ہم قومیت کے علاقائی تصور ''Territorial Nationality'' کو بھارت کی حد تک نہیں مانتے۔ ہم لیگ آف نیشنز کہ اس تصور کی بنیادی طور پر نفی کرتے ہیں جس کے مطابق جو جس جگہ پیدا ہوا، وہی اس کا وطن ہے۔ہم ایسا بھارت کے معاملے میں نہیں مانتے۔ یہ صرف اور صرف ہندوؤں کا وطن ہے۔ یہاں پیدا
مزید پڑھیے


اسلامی نہیں محدود غیر سودی بینکاری (آخری قسط)

اتوار 02 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
انگلینڈ کی حکومت نے سب سے پہلے 1931ء میں کاغذی کرنسی کا اجراء کیا،لیکن یہ کساد بازاری کا زمانہ تھا، لوگ گھبرا کر بینکوں سے ان کاغذوں کے بدلے سونا طلب کرنے لگے تو حکومت نے نوٹوں کے بدلے سونے کی ادائیگی کا نظام ہی ختم کردیا۔ امریکہ نے 1933ء میں کاغذی نوٹوں کا اجراء کیا، لیکن ساتھ یہ بھی قانون بنایا دیا کہ کاغذی کرنسی کا کم از کم چالیس فیصد بینک سونے کی صورت رکھیں گے۔ فرانس نے بھی 1933ء میں چالیس فیصد سونا بینکوں میں رکھنا لازمی قرار دے دیا۔ اس کاغذی کرنسی کو زبردستی نافذ
مزید پڑھیے



اسلامی نہیں محدود غیر سودی بینکاری…… (قسط 2)

هفته 01 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
جدید مغربی تہذیب جو اس وقت دراصل پوری دنیا کے لیے ایک سٹینڈرڈ یعنی مسلمہ معیار کا درجہ حاصل کر چکی ہے اس کی ترقی و نشوونما اسکے قائم کردہ سودی عالمی مالیاتی نظام کی مرہون منت ہے۔ اس مالیاتی نظام نے مسلم امہ کے اربابِ فکر و فقہہ کے سامنے ایک بہت بڑا سوال رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس عالمی مالیاتی نظام کو جو سراسر غیر اسلامی ہے یکسر مسترد کردیا جائے یا پھر اسی نظام میں تھوڑی بہت تطہیر کرکے اسے کسی حد تک اس قابل کر لیا جائے تاکہ تھوڑا سا اطمینان قلب نصیب
مزید پڑھیے


اسلامی نہیں محدود غیر سودی بینکاری

جمعرات 30 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
امت کا زوال جو گذشتہ پانچ صدیوں سے جاری ہے اور جس تیزی سے یہ زوال خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور مسلم سرزمین پر عالمی طاقتوں کے قبضے کے بعد آیا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اس پستی کا آغاز دراصل اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب اس امت نے تجدید و احیائے دین سے کنارہ کشی احتیار کی اور تقلیدِ جامد کی مسند پر بیٹھ گئے۔ پھر اسکے بعد یہ ہوا کہ اگلے کئی سو سال تک ہماری ہاں صرف فروعی معاملات پر بحثیں ہوتی رہیں اور یوں'' فکر'' جو مسلم امہ کی پہچان تھی، اس
مزید پڑھیے


کیا عمران خان ناکام ہوگیا؟

جمعرات 23 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بیوروکریسی ہوتی ہے۔ اس کا خمیر اس مٹی سے گندھا ہے جو ہر حال میں مروجہ صورت حال یعنی (Status quo) کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ برصغیر پاک وہند کی بیوروکریسی تو اس فن کی اعلی ترین مثال ہے۔ اس کا آغاز تو ملاحظہ کیجئے۔ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی بنگال اور دیگر علاقوں میں حکومت بنا چکی تھی۔ برطانوی حکومت نے اسے ہندوستان چار لاکھ پاؤنڈ کے اجارہ پر دے رکھا تھا۔ لیکن اس کے افسران میں کرپشن اور اقربا پروری اس قدر بڑھ
مزید پڑھیے


’’باربی‘‘

بدھ 22 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
حقوق نسواں کی علمبردار کہتی ہیں کہ ''باربی'' صرف ایک گڑیا نہیں بلکہ خواتین کی آزادی کا ایک عالمی مجسمہ ہے۔ یہ ایک خاتون کے مثالی اور معیاری خدوخال کی تصویر ہے،جس کے پاس دنیا کا سرمایہ ہے، وہ ایک لاپرواہ اور کھیل کود سے بھرپور زندگی گزارتی ہے اور کہانیوں والی رومانیت اسکی ذات میں رچی بسی ہے۔ ''باربی'' نے جو جدید تہذیبی کردار عورت کو دیا وہ اس صدیوں پرانے گھسے پٹے کردار کی نفی کرتا ہے جس میں وہ ایک ماں تھی، محبت کرنے والی بیوی تھی اور شرم و حیا اسکی پہچان تھی۔ اس گڑیا
مزید پڑھیے


قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں

منگل 21 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
شاہ اسماعیل شہید دلّی میں اپنے علم وفضل، تقویٰ اور طاغوت کے مقابل ایک تلوارِ بے نیام کے طور پر مشہور تھے۔ ان کی کتاب ''منصب امامت'' برصغیر ہی نہیں بلکہ اس دور کی خوابیدہ مسلم امہ کے دلوں میں نشاۃ ثانیہ اور خلافت علیٰ منہاج النبوہ کی اولین ترغیب تھی۔ برصغیر پاک وہند کے عظیم فرزند شاہ ولی اللہ کے پوتے، 29اپریل 1779ء کو پیدا ہوئے۔ یہ وہی سال ہے جب رنجیت سنگھ نے پنجاب میں اپنی پہلی فتح حاصل کر کے اپنے اقتدار کی بنیاد رکھی تھی۔انہوں نے سلوک کی منزلیں شہیدِ بالاکوٹ سید احمد شہید کی مریدی
مزید پڑھیے