BN

اوریا مقبول جان


بنگلہ دیش کے مداحین کے لئے


’’اگر بھارت ان لوگوں کو شہریت دینا شروع کر دے تو آدھا بنگلہ دیش خالی ہو جائے‘‘۔ یہ ایک زناٹے دار معاشی تھپڑہے ، جو ایسے ملک کے وزیرمملکت برائے داخلہ’’جی کشن ریڈی‘‘ کی طرف سے ،جو خود غربت کے حساب سے دنیا میں انچاسویں(49) نمبر پر ہے۔ وہ بھارت اس بنگلہ دیش کو طعنہ دے رہا ہے، جہاں خود 36 کروڑافراد آج بھی بمشکل ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔ امیر اور غریب میں یہی تفاوت ہے کہ ورلڈ بینک آج بھی بھارت کو غربت کے حساب سے ایک ایسے گروپ (Bracket)میں رکھے ہوئے ہے ،جن میں نکارا گوا،
جمعه 09 اکتوبر 2020ء

ترقی اور کامیابی کے سیکولر پیمانے

جمعرات 08 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
سیکولر اور لبرل عالمی لٹریچر اور عالمی نظامِ تعلیم کا صرف اور صرف ایک مقصد ہے کہ پیغمبر، سائنس دان، سیاست دان، فاتح ،تاجر اور دیگر اہم افراد کی عظمت، بڑائی اور کامیابی کو جانچنے اور انہیں ’’کامیاب‘‘ انسان کے منصب پر فائز کرنے کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہیے اور آج کے دن تک وہ ہر کسی کو اس پیمانے کا قائل کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں مائیکل ہارٹ کی کتاب ’’دی ہنڈرڈ‘‘(The 100) جو تاریخ کے سو کامیاب ترین انسانوں پر 1992ء میں لکھی گئی،پہلے دن سے مقبول ہے۔ اس کی
مزید پڑھیے


میڈیا اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ کسی دقیانوس مولوی کے الفاظ نہیں ہیں، مردانہ جارحیت پسند (Male chauvinist) کی گفتگو بھی نہیں، انصار عباسی کا ماتم بھی نہیں، جو اس نے پاکستان ٹیلی ویژن پر خواتین کے اعضاء کو نمایاں کرنے والی ورزش دکھانے پرکیا تھا، یہ اقوامِ متحدہ کے ایک اہم ترین ادارے’’ یونیسف‘‘ (UNICEF) کی پکار ہے، جو اس کی 15 جنوری 2020ء کی رپورٹ میں سنائی دیتی ہے۔ رپورٹ کا آغاز اس فقرے سے ہوتا ہے"The objectification and sexualization of girls in the media, is linked to violence against women and girls worldwide." (دنیا بھر میں لڑکیوں اور عورتوںکے خلاف درندگی کا
مزید پڑھیے


مدینے کی معیشت : قائد اعظم کا خواب

هفته 03 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ تیس برسوں میں کتب کی ورق گردانی اور کتب خانوں کی خاک چھاننے کے دوران لاتعداد کتابیں آنکھوں کو بھائیں، دل میں اتریں اور ذہن پر چھاگئیں۔ ہر کتاب نے اپنا ایک الگ تاثر دل و دماغ پر چھوڑا، لیکن کل سے ایک ایسی کتاب ہاتھ آئی ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے تقریباً دو دہائیوں سے مجھے اسی کی تلاش تھی۔ میں رات بھر جاگ کر اسے پڑھتا رہا اورصبح فجر کی سپیدی نمودار ہوتے وقت مجھے یوں لگا کہ ایسی ہی تحقیق کا تو قائد اعظم کو بھی شدت سے انتظار تھا۔اللہ جب کسی کو توفیق دینا
مزید پڑھیے


مسلم دنیا کے بتانِ رنگ و بو

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت اب روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ستاون سے زیادہ اسلامی ممالک اپنی اصلیت، روح اور پالیسیوں کے اعتبار سے خالصتاً ’’قوم پرست سیکولر‘‘ ریاستیں ہیں۔ امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادکی ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ جب کبھی انکے اپنے ملک،اپنی اتھارٹی اور اپنی سرحدوں کے تحفظ کا معاملہ آن پڑتا ہے ،تو ہر ملک کا حکمران اور بہت حد تک عوام بھی دین تو ایک طرف مسلک تک بھول کر صرف اور صرف قوم پرست محبِ وطن بن جاتے ہیں۔ گذشتہ ستر سالوں میں اس مسلم اُمّہ کے
مزید پڑھیے



دو اہم کتابیں اور تاریخ کی درستگی

جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
ساٹھ ، ستر اور اسّی کی دہائیاں اس مملکتِ پاکستان میں نظریاتی کشمکش کے تیس برسوںسے عبارت ہیں۔ ان برسوںمیں قوم پرست سیاست اور کیمونزم دونوں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سیاست کی وادی ٔپرخار میں نعرہ زن تھے۔ ان میں کانگریس کے ہم رکاب سیاست دان اور علماء بھی تھے ،جن کی سیاست کا قائد اعظم کی مسلم لیگ نے 1947ء میں جنازہ نکال دیا تھا اور ترقی پسند دانش وروں، ادیبوں اور شاعروںکی ایک نسل بھی شامل تھی۔ ان دونوں کی بنیادی نفرت پاکستان کی اسلامی اساس سے تھی۔ تخلیق پاکستان کے روزِ ازل سے ان کیمونسٹ دانشوروں اور
مزید پڑھیے


تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

اتوار 27  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کی آرمی چیف سے ہونے والی دو ملاقاتوں کی خبر، اگر کسی رپورٹر یا اینکر پرسن نے ’’ٹپکائی‘‘ (Leak) ہوتی ، تو اس کی مقبولیت کا گراف راتوں رات آسمان کی بلندیوں کو چھو جاتا، لیکن معاملہ یہ ہے کہ خبر اس شیخ رشید نے طشت از بام کی ہے، جس کو اپنے پروگراموں میں رو برو بٹھا کر ’’ریٹنگ‘‘ میں اضافہ کرنے کی دوڑ، گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ کون ہے جو شیخ رشیدکو پروگراموں میں شامل کرنے کی اس میراتھن میں شامل نہیں۔ کوئی بخوشی اس
مزید پڑھیے


قانون کا لاڈلا بچہ اور سچی گواہی

هفته 26  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
عدل و انصاف کے نظام کی لاتعداد بنیادیں ہیں، ان میں سے ایک بنیاد ایسی ہے جو تقریباً ہر عدالتی نظام میں اساسی حیثیت رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ ’’ملزم قانون کا لاڈلا بچہ ہوتا ہے‘‘۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جس پر کسی جرم کا الزام ہے ،وہ قانون کی نظروں میں اس وقت تک معصوم رہتاہے جب تک انصاف و قانون کے تمام تقاضے پورے کر نے کے بعداسے مجرم ثابت نہیں کر دیا جاتا۔ اسی لیئے مقدمے کے دوران ، ہر طرح کے شک کا فائدہ ملزم کو ہی دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے


جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست

جمعه 25  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
دھوکہ، فریب، لالچ، جھوٹے وعدے، سبز باغ، بے عمل گفتگو، ریا کاری، منافقت، غرض کیا کچھ نہیں ہے جو جمہوری سیاست میں سکہّ رائج الوقت نہیں رہا۔ وہ فرعون صفت قوتیں جو صدیوں سے طاقت کی بنیاد پر ہرعلاقے کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روند کر اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھا کرتی تھیں ، ان نمرودوں، فرعونوں اور سکندروں کو جب یہ اندازہ ہوا کہ اب حکومت کرنے کیلئے صرف اسپِ تازی اور توپ خانہ کافی نہیں،کیونکہ لوگ اب جم غفیر کی طرح بادشاہوں کے مقابل آکر کھڑے ہو رہے ہیں ، توایسے حالات دیکھ کر، ان عیاّر صفت قوتوں
مزید پڑھیے


سیکولر تعلیمی ادارے۔ مکڑی کے گھر

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
لاہور میںایک قدیم تعلیمی ادارہ ہے جسے نہر کے کنارے انگریز مشنریوں نے قائم کیا تھااور جسے بھٹو نے یکساں سلوک کرتے ہوئے پاکستان کے دیگرتعلیمی اداروں کے ساتھ ’’قومیا‘‘ (Nationalise) لیا تھا اور پھرمغرب زدہ پرویز مشرف نے امتیازی سلوک کرتے ہوئے واپس کر دیا تھا۔اس ادارے کی بنیادوں میں عیسائی مذہب کی ترویج کے لئے جمع کیا گیا سرمایہ خرچ ہوا تھاجس میں بچوں کو ’’بائبل کی اخلاقیاتــ‘‘ (Biblical Ethics) پڑھائی جاتی اور سائنس اور دیگر مضامین اس لئے پڑھائے جاتے تھے کہ انگریز سرکار کے لئے اچھے، مطیع، فرمانبردار اور مرعوب کارکن میسر ہو سکیں۔ پرویز مشرف
مزید پڑھیے