BN

اوریا مقبول جان


ہم موقع کھو رہے ہیں


اس عالمِ بے بسی اور قید تنہائی کے عالم میں بھی اگر کوئی مسلمان قرآن پاک کی تعلیمات اور سید الانبیاء ﷺ کی احادیث کی روشنی میں موجودہ حالات کی گتھی سلجھانے کی کوشش نہیں کرتا،تو یقیناً وہ ایسا بدنصیب ہے جس پر ابھی نور ہدایت کے دروازے کھلنے کا وقت نہیں آیا۔ افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور وسیع ریگستانوں میں دنیا کی جدید اور طاقتور ترین جنگی صلاحیت کی ذلت آمیز شکست سے لے کر نیویارک لندن اور پیرس جیسے شہروں میں انسان کی طبی سائنس کی بے بسی تک، کیا یہ سب کچھ کافی نہیں ہے کہ ہم
جمعه 24 اپریل 2020ء

تماشا دکھا کر مداری گیا

جمعرات 23 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
سو سال پہلے بسایا گیا شہر برباد ہونے جا رہا ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ سودی نظام کا خوشنما، خوبصورت اور جاذب نظر چہرہ،شہری زندگی ہے۔ اس کی چکا چوند نے پوری دنیا کی آنکھوں کو ایک سو سال سے چندھیا ہوا تھا۔ وہ شہری زندگی جس کے بارے میں اللہ نے قرآن پاک میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا تھا، '' دنیا کے شہروں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی خوشحالی سے چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین ٹھکانہ
مزید پڑھیے


مسعود مفتی کا ایک اور سچ

اتوار 19 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
عمر کے آخری حصے میں اگر آپ کی وہ خواہش پوری ہو جس کا خواب آپ بچپن سے دیکھتے چلے آئے ہوں تو آپ پر خوشی اور حیرت کی ایک جنونی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ’’کورونا‘‘کی اس جبری تنہائی میں جب مجھے ایک ایسی ہی خوشی میسر آئی تو کیفیت ویسی ہی تھی۔ ایک افسانہ نگار جسے میں نے مسیں بھیگنے کی عمر میں نہ صرف پڑھنا شروع کیا بلکہ اس سے ٹوٹ کر محبت کی اور پھر اس کی تحریروں میں کھوتا چلا گیا۔ یہ پینتالیس سال پہلے کی بات ہے کہ جب میں نے اپنا پہلا افسانہ
مزید پڑھیے


کورونا کی تھانیداری

هفته 18 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
روبنسن کروسو کی کہانی اس وقت بہت خوابناک اور پر لطف لگتی ہے جب آپ دنیا جہان کی آسائشوں سے آراستہ شہر کے کسی گھر میں بیٹھے اسے پڑھ رہے ہوں۔یہ ایک شخص کی کہانی ہے جس کا بحری جہاز طوفان کا شکار ہوکر تباہ ہوجاتا ہے اور وہ جزیرے پر کئی سال گزارتا ہے، جہاں اس کے لاتعداد حیرت انگیز تجربات ڈینل ڈیفو نے اپنے ناول میں درج کیے ہیں۔ ہر کوئی جب یہ ناول پڑھتا ہے، تو اس کی خوبصورت بھول بھلیوں میں ایسے کھو جاتا ہے کہ اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ بھی کسی تنہا
مزید پڑھیے


علامہ سعید اظہر۔کیا کیا ہمیں یاد آیا

جمعه 17 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
حسن نثار صاحب کی محبتوں اور عنایات میں سے ایک علامہ مولوی سعید اظہر سے ملاقات اور تعارف ہے، آگے دلوں میں اترنے کا جادوتو اس کے پاس ایسا تھا کہ گیا ہے تو یوں لگتا ہے دل کے مکان کا وہ کونہ ہی خالی ہوگیا ہے، بقول غالب، '' ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے۔ سعیدِ اظہر ایسا ہی تھا، اسی مصرے کے مصداق۔ ایسا گرم جوش کہ بلا کی حرارت سینے میں چھپائے بیٹھا اور ایسا نرم خو کہ جس سے محبت کرے اس کا نام لیتے ہی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑیں۔ وہ جب
مزید پڑھیے



ڈاکٹر امجد ثاقب ماڈل

جمعرات 16 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
امجد ثاقب ان شخصیات میں سے ہیں جن پر صرف پاکستان نہیں مسلم امہ کو آنے والی کئی صدیاں تک فخر کرنا چاہیے۔ پاکستان کی سول سروس کا قد بھی باقی تمام اداروں سے اس لیے زیادہ بلند دکھائی دیتا ہے کہ اس کے دامن میں امجد ثاقب کا وجود آفتابِ تازہ کی طرح جگمگاتا ہے۔ امجد ثاقب کی اخوت کا کمال یہ ہے کہ جس وقت پوری دنیا ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے عالمی مالیاتی نظام کے آکٹوپس جیسے شکنجے کے تحت دنیا کے مفلوک الحال، پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات کو جال میں پھانسنے کے لئے
مزید پڑھیے


کیا ابھی وقت نہیں آیا

اتوار 12 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
تنہائی اور دنیا سے کٹ کر زندگی گزارنا،شاید گیان حاصل کرنے والوں کے لیے ایک نعمت ہوتی ہوگی، لیکن انسانی تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ قیدِ تنہائی میں اگر ذرا سی بھی لذت ہوتی تو یہ صدیوں سے سزا کے طور پر متعارف نہ ہوتی۔ گذشتہ ایک مہینے کی پابندیاں کسی طور پر بھی مکمل قیدِِ تنہائی تصور نہیں کی جاسکتی۔مگر ''شہر اداس اور گلیاں سونی'' والی کیفیت آدمی کو ایک وسیع قید خانے میں لے جاتی ہے۔ ایک ایسا وسیع قید خانہ کہ جس میں دن کا وقفہ ہوا ہے۔ قیدی اپنی اپنی بیرکوں سے نکل کر
مزید پڑھیے


کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہو

هفته 11 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
یوں لگتا ہے کہ پوری دنیا قومِ عاد کی بستی میں تبدیل ہوچکی ہے جس پر اللہ نے ایسی خوفناک آندھیاں مسلط کی تھیں جو سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہیں۔ مگر وائرس کی آندھی ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس کا انجام تک معلوم نہیں۔ آج سے صرف ایک ماہ پہلے تک وسیع و عریض امریکہ کے دیہاتی علاقوں، جنگلی اور صحرائی آبادیوں کو اس لیے محفوظ تصور کیا جا رہا تھا کہ وہاں لوگوں کی زندگیاں اپنے علاقوں اور دائروں تک محدود ہیں۔ لاتعداد ایسے امریکی ہیں جنہوں نے عمر
مزید پڑھیے


ٹھیک ایک سو سال بعد

جمعه 10 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
روزانہ ساڑھے چار لاکھ افراد اس چوراہے سے پیدل گذرتے تھے، رات بھر روشنیوں اور رنگوں کی برسات رہا کرتی تھی، چونکہ یہ دو سڑکوں کے سنگھم پر اس طرح واقع ہے جیسے غلیل کا دو شاخہ ہوتا ہے، اس لیے اسے اپنی اہمیت کے اعتبار سے’’ دنیا کا چوراہا ‘‘ بھی کہا جاتا رہا ہے۔ نیویارک کا ٹائمز اسکوائر۔۔۔ ہر سال پانچ کروڑ سیاح اس علاقے میں آتے رہے ہیں اور اپنی اپنی دلچسپیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ آج اس ٹائم اسکوائر کی روشنیاں اسی طرح قائم ہیں، وہ بہت بڑا نیو آئن سائن جہاں ہر چند لمحوں
مزید پڑھیے


سازشی نظریہ اور میرا اللہ

جمعرات 09 اپریل 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ اچانک یوٹیوب کو ہوش کیسے آگیا۔ وہ شخص براہ راست ڈھائی گھنٹے گفتگو کرتا رہا، بلکہ لوگوں کے سوالات کے جواب بھی دیتا رہا۔ کون تھا یہ شخص جس کی گفتگو کے بعد ویڈیو، یوٹیوب سے ڈیلیٹ کر دی گئی۔ فورا ایسا نہیں کیا گیا بلکہ بی بی سی کے اس سوال کے بعدکہ ''تم لوگوں نے اس ویڈیو کی اجازت کیسے دے دی''، یوٹیوب نے ویڈیو ڈیلیٹ کی اور اپنے قوانین سخت کرتے ہوئے اعلان کیا، '' ہماری یہ واضح پالیسی ہے کرونا وائرس سے متعلق جو مواد بھی عالمی ادارہ صحت یا کسی ملک کے محکمہ صحت
مزید پڑھیے