BN

اوریا مقبول جان



آزاد کشمیر نہیں ، آزاد ہندوستان


مجھے معلوم ہے بے شمار ایسے لوگ ہونگے جو اس عنوان کو دیکھ کر ہنسے ہوں گے،مجھے جاہل کہا ہوگا، کتنے غصے میں آئے ہوں گے۔ اسی قبیل کے لوگ اس دن بھی میرے جیسے لوگوں کی سوچ پر کھلکھلا کر ہنسے تھے جب 7 اکتوبر 2001ء کو کسی عفریت کی طرح دندناتا ہوا امریکہ اپنے ساتھ اڑتالیس ترقی یافتہ ممالک کی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے ساتھ افغانستان جیسے پسماندہ ملک پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس وقت میرے جیسے دقیانوس، ماضی پرست، معروضی حالات سے بے خبر یہ کہتے تھے کہ اس کائنات کا ایک حقیقی فرمانروا
منگل 06  اگست 2019ء

جمہوریت کا سٹاک ایکسچینج

پیر 05  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا ہم اس دنیا میں اکیلے ہیں جہاں رائے کی قیمت لگتی ہے اور ضمیر خریدے جاتے ہیں۔نہیں ! ہم اس مہذب دنیا کا حصہ ہیں جہاں جمہوری نظام کے اسٹاک ایکسچینجوںمیں شروع دن سے گرم بازاری رہی ہے۔ بھلے زمانوں میںجب انگلستان کے دار الامراء (House of Lords) کا کوئی رکن جب اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لئے اخبار میں اشتہار دیتا توساتھ یہ بھی تحریر کیا کرتا تھا کہ "یہ صرف جائیداد ہی نہیں دار الامراء کی رکنیت بھی اسکے ہمراہ ہے"۔ فرق اتنا آیا ہے کہ بقول عدیم ہاشمی "لوگ بکتے تھے مگر اتنی بھی ارزانی نہ
مزید پڑھیے


مذہبی تعصب اور جمہوری ٹرین

بدھ 31 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے ٹھیک تیرہ سو سات سال قبل، 712 عیسوی میں عماد الدین محمد بن قاسم الثقفی نے دیبل پر حملہ کرکے سندھ کو فتح کیا اور بقول قائداعظم "پاکستان کی بنیاد اسی دن رکھ دی گئی تھی جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا"، اور تاریخ اس کا سہرا اس سترہ سالہ نوجوان کے سر پر باندھتی ہے۔ یوں تو یہ کارنامہ بنو امیہ کے دور میں ہوا اور ان کے بعد آنے والے مورخین نے اپنے تعصب کی ڈھیر ساری کالک بنو امیہ پر تھوپی لیکن اس خاندان کے چند لوگ جو تاریخ کی اس
مزید پڑھیے


خان صاحب ! یہ آگ کا دریا ہے

منگل 30 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
اگر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات ہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت کو جو امریکی راہداریوں میں عزت و تکریم ملی ہے، اس میں انکا کچھ اپنا کمال ہے تو اس خبطِ عظمت کو ذہن سے نکال دیں۔ اس لیے کہ جس قسم کے کردار اور جس قسم کے "مذاکراتی ڈومور" کی پاکستان سے توقع کی جا رہی ہے، وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ ایک جانب مسلّمہ فاتح طالبان ہیں جنہوں نے یہ فتح ،نصرت الٰہی اور "شہادت ہے مقصود و مطلوبِ مومن" کے جوہر سے کشید کی ہے اور دوسری جانب ٹیکنالوجی کے عالمی بت کی
مزید پڑھیے


دفعہ 144کا مجرم

پیر 29 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
عرفان الحق صدیقی ولد عبدالحق صدیقی سکنہ مکان نمبر 82سیکٹر G10/3اسلام آباد تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188کا مرتکب ہوا ہے۔ جرم اس قدر سنگین ہے کہ اسے ہتھکڑی پہنا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ تعزیرات پاکستان کی یہ دفعہ 188ہے کیا؟ یہ دراصل اس حکم کی سزا ہے جو کوئی سرکاری ملازم(Public Servent)دیتاہے۔ پاکستان پینل کوڈ میںاس دفعہ کا انگریزی ٹائٹل ملاحظہ ہو۔ اس میں ’’پبلک سرونٹ‘‘ اور ’’ڈس اوبیڈنس‘‘ کا ترجمہ آپ کے تخیل پر چھوڑتا ہوں۔ ''Disobedience to order due promulgated by Public Servent'' (ایک سرکاری اہلکار کے حکم کی نافرمانی)تعزیرات پاکستان کی یہ دفعہ اچانک وہاں وارد نہیں
مزید پڑھیے




سیندِک سے ریکوڈک تک (آخری قسط)

بدھ 24 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
ریکوڈک کا آسٹریلوی کمپنی بی ایچ پی کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ 19 جولائی 1993 ء کو بلوچستان میں نگران حکومت کے آنے کے صرف دس دن کے اندر اندر منظور کرلیا گیا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد یکم فروری 1994ء کو شروع ہونا تھا، لیکن معاہدے کے آغاز سے ساڑھے چار ماہ قبل بی ایچ پی کے وکیل نے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین عطاء جعفر کو ایک خط لکھا۔ اس خط کے ذریعے مانگی گئیں بے شمار مراعات اور رولز میں ترامیم بلوچستان حکومت نے مان لیں جسکے بعد 20 جنوری 1994 ء کو حکومت
مزید پڑھیے


سیندِک سے ریکوڈک تک (قسط 3)

منگل 23 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
ریکوڈک کی تفصیلات، اسکے ذخائر کی مالیت اور ان کے بارے میں گذشتہ سالوں میں ہونے والی قانونی جنگ کی تفصیلات زبان زد عام ہیں۔ اخبارات کے صفحات ان سے اَٹے پڑے ہیں اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں "پرمغز" تبصرے ہو رہے ہیں۔ ان تمام تبصروں کا لب لباب یہ ہے کہ حکومتِ بلوچستان، حکومتِ پاکستان، سپریم کورٹ اور کچھ ضرورت سے زیادہ اہمیت حاصل کر جانے والے سائنسدانوں نے اپنی جہالت، نااہلی اور کم فہمی کی وجہ سے عالمی معاہدے کی دھجیاں بکھیریں جسکے نتیجے میں عالمی عدالتوں میں رسوائی کا داغ سمیٹا اوراب 6 ارب ڈالر کا
مزید پڑھیے


سیندِک سے ریکوڈک تک قسط 2

پیر 22 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
ریکوڈک کے پڑوس میں واقعہ "سیندک" کی کہانی، سیاسی شعبدہ بازی، بددیانتی، نااہلی اور ناکامی کی بدترین مثال ہے۔ اسکے پہلے پچیس سالوں پر مشتمل رپورٹ بنانے بیٹھا تو حیرتوں کا جہان مجھ پر کھلتا چلا گیا۔ 1956 ء میں پاکستان کے جیالوجیکل سروے اور امریکہ کے جیالوجیکل سروے کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسکے تحت پاکستان میں زیرزمین معدنیاتی وسائل کا کھوج لگا کر انکے نقشے مرتب کرنا مقصود تھا۔ یہ معاہدہ 1970 ء تک چلتا رہا ہے اور اسکے تحت بنائے گئے تمام نقشے اور معدنی وسائل کے بارے میں تمام معلومات امریکہ کی پرنٹنگ پریس
مزید پڑھیے


سیندِک سے ریکوڈک تک (قسط 1)

بدھ 17 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
بلوچستان کا ضلع چاغی جسے اب دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، ایک زمانے میں اس وقت کے صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا سے رقبے میں بڑا تھا۔ کوئٹہ کے گردونواح سے یہ ضلع شروع ہوتا اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ایران کی سرحد پر جا کر ختم ہوتا۔ پاکستان کے نقشے پر جنوب مغربی سمت میں جو ایک کونہ ہے، جہاں تین ممالک ،ایران افغانستان اور پاکستان ملتے ہیں وہ ضلع چاغی کا قصبہ رباط ہے۔ 1897 ء میں انگریز نے خان آف قلات سے یہ علاقہ ایک معاہدے پر حاصل
مزید پڑھیے


استغفار کرو

منگل 16 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے تقریبا تیس سال قبل راولپنڈی کے نیٹ کیفے میں خفیہ ویڈیوز کا ایک سکینڈل منظر عام پر آیا تھا جس نے پاکستانی معاشرے کے ایک مکروہ اور غلیظ روپ کا پردہ چاک کیا تھا۔ اس دور میں نیٹ کی سہولت اتنی عام نہ تھی، اس لیے لوگوں نے جابجا نیٹ کیفے بنا کر رکھے تھے جن میں میں چھوٹے چھوٹے کیبنوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاںانٹر نیٹ کی سہولیات استعمال کرتی تھیں۔ ای میل یا دیگر ذاتی دستاویز تک رسائی کی وجہ سے ان کیبنوں کو ایک لفٹ کی طرح بند ڈبے کی شکل دے دی
مزید پڑھیے