BN

اوریا مقبول جان


اور جگر ؔکو شراب نے مارا


پاکستان میں دانشوری کا چورن جس دن سے میرے جیسے کالم نگاروں کی دکان کی زینت بنا ہے، اس دن سے ہر کسی نے پیرانِ تسمہ پاء کی طرح اپنا اپنا ’’حلقۂ ارادت‘‘ بنا رکھا ہے۔ جو لبرل سیکولر ہے اسے اسلام کی حقانیت پر کچھ بھی مل جائے اپنے چاہنے والے کے ڈر سے نہیں لکھتا، اسی طرح اگرشدت پسند اسلام کے دعویدار کو کسی ظلم کے پیچھے مذہبی لوگوں کا ہاتھ نظر آئے تو وہ اسے گول کر جاتا ہے تاکہ اس کے پڑھنے والوں کی تعداد میں کمی نہ آجائے۔ نظریاتی کالم نگاروں کی تو بات سمجھ
اتوار 09  اگست 2020ء

بلادِ شام کا بیروت: میدانِ جنگ کیوں؟(آخری قسط)

هفته 08  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے اس دھماکے نے دنیا بھر کے سامنے لاتعداد سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سترہ سالہ ’’سول وار‘‘ نے لبنان کی معیشت کو اتنا تباہ نہیں کیا ہو گا جس قدر دور رس اور تباہ کن اثرات اس دھماکے سے مرتب ہوں گے۔ بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ چند سو افراد کی جانیں گئی ہیں، چند ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں اور چند کلو میٹر کے علاقے کی عمارات تباہ ہوئی ہیں۔ اس سے کئی گناہ زیادہ تباہی تو 2006ء میں آئی تھی جب ’’حزب اللہ‘‘ اور
مزید پڑھیے


بلادِ شام کا بیروت: میدانِ جنگ کیوں؟

جمعه 07  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
خلافتِ عثمانیہ کے اختتام، جنگِ عظیم اوّل میں اتحادی افواج کی فتح اور قومی ریاستوں کے قیام کے بعد سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ مسلمانوں کے ذہنوں سے صدیوں پرانا ’’ملتِ اسلامی‘‘ کا جغرافیہ ’’محو‘‘ ہو کر رہ گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ حکیم اور سید الانبیاء ﷺ نے اپنی احادیث میں جن علاقوں کا تذکرہ کیا ہے، ان کی وسعت کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرکے انہیں مخصوص نام دے کر ان کی وہ شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی جو احادیثِ رسول ﷺ میں ملتی ہے۔ اس تقسیم کا سب سے
مزید پڑھیے


آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر

جمعرات 06  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
محبّی محترمی عرفان صدیقی صاحب کا حج کا سفر نامہ آیا تو اس وقت وہ ایک اہم عہدے پر مسندنشین تھے، ان کی عنایت کہ فقیر کو یاد رکھا اور کتاب بھجوائی، لیکن کرم بالائے کرم یہ کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے کرتا دھرتائوں سے یہ کہہ دیا کہ اگر اس کتاب پر کوئی پروگرام کرنا ہو تو نظامت مجھ فقیر سے کروائی جائے۔ جس گداز سے یہ سفر نامہ تحریر کیا گیا ہے، اس کے تو چند صفحات پڑھتے ہوئے آنکھیں یوں بھیگ جاتی ہیں کہ ان کی دھندلاہٹ میں سوائے مکہ و مدینہ کے اور کچھ نظر ہی
مزید پڑھیے


سرد جنگ نہیں کھلی عالمی جنگ اور پاکستان (آخری قسط)

هفته 01  اگست 2020ء
اوریا مقبول جان
جس لہجے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین کے بارے میں گفتگو کی ہے، یہ لہجہ امریکی حکمرانوں نے صرف چند ماہ پہلے ہی اختیار کیا ہے۔ یوں تو دھمکی آمیز گفتگو، سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر ڈانٹنا، جھڑکنا امریکہ کا معمول رہا ہے، مگر یہ ڈانٹ صرف چھوٹے ملکوں تک محدود ہوا کرتی تھی۔ آخری بڑی ڈانٹ جارج بش نے افغانستان پر حملہ آور ہونے کے چند ماہ بعد تین ممالک، ایران، عراق اور شمالی کوریا کو’’ شیاطینی مراکز‘‘ (Axis Of Evil) کا لقب دے کرپلائی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے
مزید پڑھیے



سرد جنگ نہیں کھلی عالمی جنگ اور پاکستان ……(۱)

جمعه 31 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
لاس اینجلس کے پر رونق اور پر ہجوم شہر سے تقریباً پچاس کلومیٹر دور کیلی فورنیا ریاست کی مشہور اورینج کاونٹی کا ایک نسبتاً خاموش اور مضافاتی قصبہ، یوربا لنڈا(Yorba Linda) ہے، جہاں امریکہ کا سب سے جاندار، پر مغز اور امریکی اسٹبلشمنٹ سے نسبتاًباغی سوچ رکھنے والا صدر ’’رچرڈ نکسن‘‘ 1913ء میں پیدا ہوا۔ یہ امریکہ کا سینتیسواں صدر تھا جس نے 20 جنوری 1969ء کوحلف اٹھایااور یہ واحد صدر تھا جس نے اپنی صدارت سے اخلاقی برتری کی مثال بناتے ہوئے استعفیٰ دیا۔ نکسن سے پہلے کا امریکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی سرد جنگ کا امریکہ
مزید پڑھیے


کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے

جمعرات 30 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
آج سے کچھ عرصہ پہلے تک سائنسی تحقیق کا سب سے بڑا موضوع یہ تھا کہ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ حیات کیسے شروع ہوئی؟ اور انسان کن کن ارتقائی مراحل سے گذرتا ہوا موجودہ ترقی یافتہ شکل تک پہنچا۔ ماہرینِ حیاتیات نے اس سلسلے میں اپنی تحقیقات کیں، جن میں ’’ڈارون‘‘ کی مشہور زمانہ کتاب ’’Origin Of Species‘‘ بہت مشہور ہوئی۔ یہ کتاب 1859ء میں شائع ہوئی اور آج ایک سو ساٹھ سال گذرنے کے باوجود بھی اس کی پیش کردہ تھیوری کے سائے ہمارے سائنسی علم کے میدان پر منڈلارہے ہیں۔ اس کی سب سے متنازعہ تھیوری
مزید پڑھیے


تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ پنجاب

اتوار 26 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
پرویز مشرف کی آمریت کے کندھوں پر سوار ہوکر جو لبرل اور سیکولر ملحدین کا جتھہ اس ملک پر مسلط ہو اتھا، مشرف کے جانے کے بعد بھی آج تک جمہوری حکومتوں کی راھداریوں میں زہریلے ناگوں کی طرح پھنکارتا پھر رہا ہے۔ ان کے زہر کا نشانہ اس ملک کی آئندہ آنے والی نسلیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صرف اور صرف نظامِ تعلیم اور خصوصاً نصابِ تعلیم پر حملہ کیا اور اس میں سے ہر اس تصور کو کھرچنے کی کوشش کی جس کا تعلق ہماری اسلامی اساس، طرزِ معاشرت، خاندانی زندگی اور اخلاقی اقدار سے
مزید پڑھیے


جدید مغربی تعلیم سے ’’سیکولر مذہب‘‘ کے نفاذ تک

هفته 25 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
مولانا الطاف حسین حالیؔ ان سوانح نگاروں میں سے ہیں جن کے بارے میں تمام اہل علم متفق ہیں کہ انہوں نے جب بھی کسی شخصیت کی زندگی کے بارے میں تحریر کیا، ہمیشہ اس کے محاسن اور خوبیوں کا ہی تذکرہ کیا اور اس کی کمزوریوں، کوتاہیوں اور خامیوں کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا۔ علامہ اقبال کے بعد اگر کسی ایک شخصیت کو پڑھنے کا مجھے انتخاب کرنا پڑے تو میرے لیے کوئی مشکل نہ ہوگی کہ اردو شعرو نثر کی تاریخ میں حالیؔ جیسا تناور درخت جہالت کی دھوپ میں سائبان کی طرح موجود ہے۔ اردو غزل
مزید پڑھیے


لاپتہ افراد اور ’’علامتی گمشدگی‘‘ کی تاریخ

جمعه 24 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ کا والد شاہ حسین میر صاحب کے گھر مہمان تھا، وہ یہاں تیتر کا شکار کھیلنے آیا تھا۔ میر غلام علی تالپور اس وقت سندھ اسمبلی کے سپیکر بھی تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صوبہ سندھ کا صدر مقام حیدرآباد تھا اور سندھ اسمبلی کا اجلاس دربار ہال میں منعقد ہوتا تھا۔ پاکستان کا گورنر جنرل ایک سابقہ بیوروکریٹ تھا، جس نے لیاقت علی خان کو ’’غریب آدمی کا مشہورِ زمانہ بجٹ‘‘ بنانے میں مدد کی تھی۔۔ یہ ملک غلام محمد بعد میں سیاست میں آیا اور لیاقت علی خان کی وزارتِ عظمیٰ میں
مزید پڑھیے