BN

اوریا مقبول جان



کشمیر: زمین نہیں نظریے کی جنگ


آج سے بہتر(72) سال پہلے ہندوستان تقسیم ہوا تو دنیا کے نقشے پر دو ملک وجود میں آئے۔ ایک خالصتاً مذہب کی بنیاد پر اور دوسرا خالصتاً سیکولر، لبرل قوم پرست نظریے کی بنیاد پر۔ دونوں کی تقسیم علاقائی بنیادوں پر ہوئی اور اصول یہ رکھا گیا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں رہائش پذیر ہیں انہیں بقیہ ہندوستان سے کاٹ کر ایک نیا ملک پاکستان تخلیق کر دیا جائے۔ دوسراملک، بھارت،مسلمہ سکہ رائج الوقت، یعنی جو جس جگہ پیدا ہوتا ہے، اس کا مذہب، رنگ، نسل اور زبان کوئی بھی ہو، وہ اس کا وطن ہے، کی
پیر 07 اکتوبر 2019ء

یورپ میں اسلامو فوبیا کا گزشتہ سال

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھر کا میڈیا پندرہ مارچ 2019 ء کو اس وقت چونک اٹھا تھا جب نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک اٹھائیس سالہ متشدد، جنونی عیسائی برینٹن ٹیرنٹ النور مسجد میں ایک بج کر پچیس منٹ پر گولیاں چلاتا داخل ہوا، اکیاون مسلمانوں کو شہید کیا اور چالیس کو زخمی۔ اس واقع کا اہم ترین پہلو یہ تھا کہ اس شخص نے اپنے اس جنون کی تشہیر کے لیے کسی میڈیا چینل کا سہارا نہ لیا بلکہ اپنی بندوق پر کیمرہ نصب کر کے پوری دنیا کو اس ہولناک منظر کا براہ راست نظارہ کروایا۔ عین ممکن
مزید پڑھیے


حکومتی اعلان جہاد اور فرضیت

منگل 01 اکتوبر 2019ء
اوریا مقبول جان
زبانیں گنگ ہیں اورچہرے سیاہ۔۔۔عمران خان نے یہ کیا کہہ دیا ''کشمیریوں کا ساتھ دینا جہاد ہے''۔ اس لفظ ''جہاد'' کو گالی بنانے میں تو ہمیں نصف صدی لگی تھی۔ یہ لفظ ایک بار پھر کسی مسلمان حکمران کی زبان پر کیسے آگیا۔ کہاں ہیں ''نظم اجتماعی ''کے جدید غامدی فلسفہ اسلام کے امین اور شارع جو گزشتہ دو دہائیاں قلم کی روشنائی، عقل و خِرد کی منطق اور زبان و بیان کی مہارت اس بات پر خرچ کرتے رہے کہ جب مسلمانوں کا ایک نظم اجتماعی قائم ہو جائے تو پھر جہاد صرف ریاست کا حق ہے اور اسی
مزید پڑھیے


ترکھانوں کا بیٹا بازی لے گیا

پیر 30  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
31 اکتوبر1929ء کو غازی علم الدین شہید کو اس میانوالی کے علاقے کی جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا جہاں سے عمران خان کے ددھیال کا بھی تعلق ہے، لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اس عاشق رسول کے آباء واجداد میں سے بابا لہنا نے جب اسلام قبول کیا تو اس نے لاہور کے سرحدی علاقے برکی ہڈیارہ میں آکر اپنا ٹھکانہ بنایا ، یہ وہی برکی ہے جو عمران خان کا ننھیال ہے۔ مجھے کوئی مماثلت نہیں ڈھونڈنی۔ میں تو حیرت میں گم آج سے نوّے سال قبل آنکھوں میں آنسو لیے علامہ اقبال کے
مزید پڑھیے


اہل ایمان کا خیمہ

بدھ 25  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
سب کچھ تیزی سے ہو رہا ہے اور اس میں مزید تیزی آ جائے گی اور اب کھل کر سامنے آنا پڑے گا۔ چمگادڑ کی طرح دونوں جانب کھیلنے کے دن ختم ہو جائیں گے۔ یہ زمانہ اب بہت جلد گزر جائے گا، جس میں ہیوسٹن کے بڑے ہال میں ڈونلڈ ٹرمپ ہندوستان نہیں بلکہ ہندوؤں کو اپنا محبوب قرار دے رہا ہو اور ان کے ساتھ مل کر شدت پسند اسلام کے خلاف جنگ کا اعلان کر رہا ہو۔ اسی دوران روس کے شہر ''اورن برگ'' (Orenburg) میں شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن کے جھنڈے تلے بھارت اور پاکستان کی افواج
مزید پڑھیے




رول ماڈل کی جنگ

منگل 24  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
گڈریا جیسا افسانہ، من چلے کا سودا جیسا ڈرامہ سیریل اور تلقین شاہ جیسا کردار، مدتوں لکھنے کے ساتھ ساتھ اسے لا سلکی ریڈیائی لہروں پر زندہ رکھنے والے اشفاق احمد کہا کرتے تھے کہ ''جو لوگ اللہ، پیغمبرِ خدا اور اسلام کو برا کہنا چاہتے ہیں، لیکن جرأت نہیں رکھتے تو وہ مولوی کو برا کہہ کر اپنی خواہش پوری کرتے ہیں''۔ ایسے کردار آپ کو سیکولر، لبرل دانشوروں میں ملیں گے، ملحد اساتذہ کرام میں نظر آئیں گے یا پھراگر آپ شرابیوں کی کسی محفل میں جا نکلیں، ہیروئن، چرس، بھنگ اور گانجا استعمال کرنے والوں
مزید پڑھیے


جہاد ہند:سرزمین کا آخری نظریاتی معرکہ

پیر 23  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
1925ء میں ناگپور میں راشٹریہ سیوک سنگھ کے قیام نے کیشو بلی رام ہیگواڑ نے ''ہندوتوا '' کی نظریاتی جدوجہد کو ایک پرچم تلے جمع کردیا۔ برطانوی اقتدار کی وجہ سے ہندو مذہب کے لئے سب سے بڑا خطرہ مغربی تہذیب تھی۔ عرصہ دراز سے برہمن یا پنڈت کا کام شادی کے لیے شبھ دن نکالنا، پھیرے لگوانا، پوجا پاٹ کے استھان کی نگرانی کرنا اور مرنے کے بعد کریا کرم کرنے تک محدودہوچکا تھا۔ مذہبی تعلیم میں نہ اصول جہاں بانی سکھائے جاتے تھے اور نہ ہی فلسفہء تجارت و معیشت۔ ایسے میں جدید مغربی تہذیب کا
مزید پڑھیے


جہاد ہند:ایک ہندو مذہبی سیاسی معرکہ

بدھ 18  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
بیسویں صدی کا آغاز دراصل ہندو یا ویدانتی مذہب کی سیاسی نظریاتی بنیادوں پر علمی کام کا دروازہ کھولتا ہے۔ مسلمانوں کی ساڑھے چھ سو سالہ حکومت میں آہستہ آہستہ ادب، فلسفہ، تاریخ اور سیاست سنسکرت کی بجائے سب پہلے فارسی زبان اور پھر اردو میں منتقل ہوگئے تھے۔ یہاں تک کہ بنگال پر قبضے کے بعد 10 جولائی 1800ء میں انگریز نے بھی ایسے فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی جو اردو زبان و ادب کی ترویج کا پہلا جدید مرکز تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب کی وہ کتابیں جو عوام الناس کے لئے چھپتی تھیں، جیسے
مزید پڑھیے


جہاد ہند: معرکے کی نظریاتی بنیادیں

منگل 17  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
جس دن شیواجی اور اس کا نو سالہ بیٹا شام بھوجی، آگرہ میں اورنگزیب عالمگیر کے شاہی مہمان خانے سے پنڈتوں کے قافلے میں ایک فقیر کا روپ دھار کر نکلا تھا، اس دن کو آج کا جدید ہندو قوم پرست ایک ''عظیم اور مقدس فرار'' کا نام دیتا ہے۔ 22 جولائی 1666ئ، دراصل یہ وہ دن تھا جب ہندوستان پر ہندو مذہب کی بالادستی کی جنگ کا نظریاتی آغاز ہوا۔ پورے ہندوستان پر ہندو اقتدار کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ جزیرہ نمائے ہند کبھی بھی ایک ہندو حکمران کے زیرنگیں ایک متحد مملکت کے طورپر
مزید پڑھیے


جہاد ہند:اصل لڑائی کیا ہے

پیر 16  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے ٹھیک اٹھارہ سال قبل، گیارہ ستمبر 2001 کو جب دو طیارے دنیا کے معاشی دارالحکومت کی علامت ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرائے، تو اس کے بعد اس دنیا میں صرف اسلحہ و بارود کی جنگ کا آغاز نہیں ہوا بلکہ دنیا کے ہر خطے میں لاکھوں مضامین اور ہزاروں کتابیں ایسی لکھی گئیں جو مسلمانوں کے فلسفہ جہاد، قرآن و حدیث میں قتال کی اہمیت اور اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے معرکوں کی ایک منفی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرکے مسلمانوں کو ایک خوںریز قوم اور اسلام کو ایک خون آشام مذہب ثابت کرتی تھیں۔ اس کا
مزید پڑھیے