BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


’خبرستان‘ سے قبرستان تک


سنو حسن عظیم!25 نومبر کی شام تو کرونا کے دوسرے چھاپے سے پہلے پہلے چار سے سات میری ایم فل کی آخری آن کیمپس کلاس تھی۔ موضوع ایسا چھڑ گیا تھا کہ یہ سات کے بعد بھی ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ کلاس کے دوران فون سننا مجھے ہمیشہ زہر لگتا ہے لیکن اپنے خرم عباس کے فون میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی لطافت، کوئی نہ کوئی خوش خبری، کوئی نہ کوئی سنسنی چھپی ہوتی ہے، اس لیے مَیں اس کا فون سننے میں تأمل نہیں کرتا لیکن یار آج کا فون سننا تو مجھے بہت مہنگا پڑا۔آج
اتوار 29 نومبر 2020ء

اُڈ پُڈ جانی!

منگل 24 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کوئی چار برس پیچھے کی بات ہے کہ مَیں لاہور کالج یونیورسٹی سے ایم فِل کی کچھ طالبات کا زبانی امتحان لے کے نکل رہا تھا۔ ارادہ قائدِ اعظم لائبریری جا کے ’مخزن‘ کے نئے پرچے کی دیکھ ریکھ کا تھا کہ فون کی گھنٹی دھیان مبذول کرانے سے تجاوز کر کے سرزنش کی حد تک بجتی چلی گئی ۔ یہ بہاولپور سے ہمارے دوست پروفیسر طاہر بخاری تھے۔آواز میں پریشانی اور لہجے میں التماس تھا۔ میرے پوچھنے سے قبل ہی انھوں نے بتانا شروع کیا کہ ان کی اکلوتی بیٹی کا ہماری یونیورسٹی کے انگریزی ایم فِل میں داخلہ
مزید پڑھیے


وبائی قاعدہ (2)

اتوار 22 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم وبا لکھتے رہے ، وہ وفا پڑھتے رہے ایک ہی غلطی نے ہمیں محرم سے مُجرم کر دیا کہتے ہیں وبا اور وفا پلٹ کے آ جائے تو اس میں زیادہ شدت اور حدت ہوتی ہے۔ ان دونوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی کہ دونوں نظر نہیں آتیں، صرف اثرات چھوڑتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ دونوں بعض حالات میں جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں فرق صرف یہ ہے کہ وفا ایک انفرادی عمل بھی ہو سکتا ہے جب کہ وبا اجتماعی طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ یہ انسان
مزید پڑھیے


شگفتہ مزاج دانشور

منگل 17 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہمارے ہاں کسی ثقہ دانشور کی سب سے بڑی نشانی تو یہی سمجھی جاتی ہے کہ اس کے ماتھے پہ تیوری کندہ ہو۔ مزاج میںسختی اور لہجے کی درشتی تو اس کا انتخابی نشان ہوتا ہے۔ اس کی دہشت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس کے دفتر یا گھر کے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے کترائیں۔ کہیں اچانک آمنا سامنا ہو جائے تو جل تُو جلال تُو کا وِرد شروع کر دیں۔ لیکن ان سب کے بیچوں بیچ چند ایک دانش ور ایسے بھی ہیں کہ جن سے مل کے زندگی سے پیار ہو جائے،
مزید پڑھیے


ادبی لطائف و ظرائف

اتوار 15 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کوئی رُبع صدی ادھر کی بات ہے کہ لاہور کے پرانی انارکلی میں واقع الحمد پبلی کیشنز سے میرے شگفتہ خاکوں پر مشتمل پہلی کتاب ’’قلمی دشمنی‘‘ اشاعت پذیر ہوئی۔ اس حوالے سے وہاں آناجانا لگا رہتا تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب وہاں ادیبوں شاعروں کا جمگھٹا لگا رہتا اور دورانِ گفتگو مزے مزے کے جملے اور چٹکلے وجود میں آتے، جن میں بہت سے تو ناقابلِ اشاعت کے زُمرے میں آتے ہیں (مثال کے طور پہ جناب احمد ندیم قاسمی کے ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کو بہنیں بنانے پر جناب احمد راہی کا سنایا ہوا منٹو
مزید پڑھیے



شفیق الرحمن کے سَو سال

منگل 10 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
شفیق الرحمن اُردو ادب کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جو ساٹھ برس تک آسمانِ ادب پر پوری آب و تاب کے ساتھ روشن رہا۔ انھوں نے لکھنے کا آغاز اس وقت کیا جب ترقی پسند تحریک کا غلغلہ ابھی تازہ تازہ بلند ہوا تھا اور ہمارے بے شمار نئے اور پرانے لکھنے والے اس سے بالواسطہ یا بلا واسطہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ شفیق الرحمن نے ان حالات میں بھی کہانی کو سماج کی بجائے مزاج کے تابع رکھا۔مزاج ان کا مزاح سے لگّا کھاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ افسانہ اور مزاح ہی ان کی دو بنیادی محبتیں
مزید پڑھیے


مکڑے، مکھیاں اور اقبال

اتوار 08 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
بڑے شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کے افکار و نظریات زمانی و مکانی حدود سے ماورا ہوتے ہیں۔ ہر زمانے میں اس کے اشعار سے مفہوم و معانی کی نئی نئی پرتیں اور جہتیں نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اُردو میں یہ مقام حضرتِ علّامہ اقبال ( کل جن کا ۱۴۳ واں یومِ ولادت ہے)کو حاصل ہے کہ ہم زندگی کے کسی بھی موضوع و مسئلے پہ بات کرنے لگیں، بات کرنے والے کا تعلق چاہے کسی بھی شعبے سے ہو، علّامہ کے کسی شعر، مصرعے یا نظم کا سہارا لیے یا حوالہ دیے بغیر تحریر و
مزید پڑھیے


ہوسِ اقتدار اور مِکس اچار

منگل 03 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہماری اب تو باقاعدہ کوشش ہوتی ہے کہ سارا وقت اس چوں چوں کا مربہ قسم کی اپوزیشن پہ نہ ضائع کیا جائے، جس کے اندر پہلے ہی بہت سے لطیفے، حریفے، ظریفے اور کثیفے جنم لے چکے ہیں، جس میں کہیں کوئی مولانا نون لیگ کے خرچے سے بنے پلیٹ فارم پہ ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگوا رہے ہیں۔ کہیں نواز شریف کی جمبو سائز تصویر کے نیچے پاکستان پیپلز پارٹی لکھا ہے۔کہیں اس اکٹھ کے سرغنہ کسی دوسرے کے حصے کی تقریر اٹھا کے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہیں آلو ٹماٹر درجنوں کے حساب سے
مزید پڑھیے


ہمارے مسائل کا واحد حل

اتوار 01 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
میرزا غالب ہمارے بڑے ہی متلون مزاج اور منفرد اطوار شاعر تھے، کسی چیز کو خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے۔ان کی شاعری کا مطالعہ کریں تو کہیں وہ ’اورنگِ سلیماں‘ کو اک کھیل قرار دیتے نظر آتے ہیں اور کہیں ’اعجازِ مسیحا‘ کو ایک معمولی بات ثابت کرنے پر بضد ہیں۔ کبھی دنیا کو ’بازیچۂ اطفال ‘ سمجھتے ہیں، تو کہیں خضر وسکندر کو طرح طرح کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر نہ وہ فرہاد کی نیک نامی کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ طور کے واقعے سے دل برداشتہ ہو کر خدا سے ملاقات کے ارادے سے
مزید پڑھیے


ماہِ ولادت با سعادت اور ہم

منگل 27 اکتوبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہماری زندگی میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب ایک دن بطور ایک لااُبالی طالب علم پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے فارسی کی کلاس پڑھ رہے تھے اور اگلے روز سیالکوٹ کے فیڈرل کالج میں ذمہ دار استادبنے کھڑے تھے۔ نوکری ملنے کے بعد لوگوں کی زندگی میں یقینا خوبصورت اتفاقات رونما ہوتے ہیں ہمارے حصے کے اتفاقات میںایک مولوی صاحب نمایاں تھے۔ اجنبی شہر میں کنوارے اساتذہ نے جو مشترکہ مکان کرائے پر حاصل کیا، اس میں مولانا اسلم قریشی میرے ہم کمرہ ٹھہرے، جو اسلامیات کے استاد تھے۔ ایک مخلص دوست ہونے کے ساتھ ساتھ شعر
مزید پڑھیے