BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


ارطغرل غازی اور قوموں کا ماضی


قصے کہانی میں کتنی طاقت ہوتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ربِ رحیم نے تمام مذہبی صحائف اور قرآنِ مجید میں گزری ہوئی قوموں کی بابت واقعات کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ بعد ازاں انھی قصوں کو ’قصص القرآن‘ کی صورت مرتب و مدوّن بھی کیا گیا۔ من و سلویٰ پر ککڑی مسور کو ترجیح دینے والی انسان نامی اس مخلوق کی نفسیات سے خالق و برتر سے زیادہ کون آگاہ ہوگا کہ اسے سیدھے سادے حقائق کی بجائے ترتراتے قصے زیادہ مرغوب ہیں۔ آج کل ہمارے چاروں جانب پانچ
اتوار 12 جولائی 2020ء

’بُڑھیا‘ کی آنکھ سے شہر کو دیکھو

منگل 07 جولائی 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک زمانے تک ’’شبِ رفتہ‘‘ کا نام آتے ہی مجید امجدکے باکمال شعری مجموعے کی طرف ہی دھیان جاتا تھا لیکن دو ایک سال قبل محترمہ پروین عاطف کی ناول کے انداز میں لکھی آپ بیتی بھی اسی عنوان سے منظر عام پر آ چکی ہے۔ شاید انھیں بھی اپنی گزری ہوئی زندگی اور بیان کردہ ملکی و سیاسی حالات کے لیے اس سے بہتر عنوان نہیں سوجھ سکا۔ معروف افسانہ نگارجناب مظہر الاسلام نے ہمیں اپنی افسانوی دنیا گڑیا کی آنکھ سے دکھانے کی کوشش کی تھی، ہم اپنی حقیقی سیاسی و ملکی زندگی آپ کو ایک تجربہ کار
مزید پڑھیے


اپوزیشن اتحاد یا گُرگ آشتی

اتوار 05 جولائی 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
جناب مشتاق احمد یوسفی کا زبان زدِ عام قول ہے کہ: ’’ ساس، سُسر، موسم اور حکومت کے خلاف لکھنے اور بولنے کے لیے دماغ پر زیادہ زور نہیں دینا پڑتا۔‘‘ پہلے تین عناصر پہ مارا ماری تو سارا سال چلتی رہتی ہے بلکہ نہ جانے کب سے چلی آ رہی ہے۔ بقول ڈاکٹر مرغوب حسین طاہر: رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے؟ یوں لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی بہو اپنی ساس سے اور کوئی بندہ موجود موسم سے خوش نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں حکومت کے خلاف بولنے اور لکھنے کا مظاہرہ بھی کچھ نیا
مزید پڑھیے


چاہیے تو یہ تھا ۔۔۔

منگل 30 جون 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ چاہیے تو یہ تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کا اجلاس سال میں دو بار بلا یا جاتا، صوبہ سندھ کے لیے مختص رقم بر وقت ان کے حوالے کی جاتی۔ مشاہد اللہ خاں کا خاں کا کہنا ہے کہ چاہیے تو یہ تھا کہ عمران خان پی آئی اے کے حادثے کے بعد استعفیٰ دے دیتے۔ ایک اور نون غُنہ سوشل میڈیا پہ چیخ چیخ کے کہہ رہا تھا کہ جب میاں شہباز شریف نے ارشاد فرما دیا تھا کہ مَیں بیمار ہوں تو چاہیے تو یہ تھا
مزید پڑھیے


سنتھیارچی باز آ جاؤ !!!

اتوار 28 جون 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مِس سنتھیار ڈی رچی! یا جو بھی تم ہو سن لو! ہم کئی دن تمھارے مشکل نام کی وجہ سے چپ رہے اور کئی دن مشکل کام کی وجہ سے، لیکن آخر کب تک ! میڈیا پہ تمھارے روز روز کے بیانات اور الزامات سن سن کے اب تو ہمارے کان پک چکے ہیں۔ تم نے ہمارے ملک کے عظیم سپوتوں کے کردار اور کاکردگی کے حوالے سے جو تماشا لگایا ہوا ہے، وہ اب ہم سے مزید برداشت نہیں ہو رہا۔ تم یہ مت سمجھو کہ ہمارے اخبارات اور چینلز تمھاری مزے مزے کی تصاویر لوگوں
مزید پڑھیے



کچھ کچھ اور طارق عزیز

منگل 23 جون 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
یہ جنرل ضیا ء الحق کے دورِ حکومت کے آخری دنوں کی بات ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان آ چکی تھیں اور جنرل ضیا کے خلاف پورے شدومد کے ساتھ بر سرِ عمل تھیں۔ یہ دور ہمارا پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اُردو کے زمانۂ طالب علمی کا بھی تھا۔ ایک دن اورینٹل کالج کی کنٹین پہ چائے پیتے ہوئے ہماری ایک خوب صورت اور ہر دل عزیز کلاس فیلو زاہدہ منظورنے اچانک اعلان کیا کہ کون کون ہے جو آج محترمہ بے نظیر بھٹو سے ون ٹو ون ملاقات کا خواہاں ہے؟ زاہدہ منظور چونکہ خود بھی
مزید پڑھیے


مشتاق احمدیوسفی کی دوسری برسی

اتوار 21 جون 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
دوستو! یہ بیس جون ۲۰۱۸ء کی بات ہے کہ ایک مہربان دوست نے پُرسے کے انداز میں موبائل میسج پہ اطلاع دی کہ یوسفی صاحب گزر گئے۔ ٹی وی آن کیاتو ایک ایک چینل جنابِ یوسفی کے غم میں سوگوار دکھائی دیا ۔سوشل میڈیا سے رجوع کیا تو وہ یوسفی کے ماتم سے چھلک رہا تھا۔ شاعرِ مشرق کی وفات کے بعد مَیں نہیں سمجھتا کہ دنیائے ادب میں کسی قلم کار کی موت کو اتنے رقت انگیز انداز میں دیکھا گیا ہو۔ کئی دن تک لوگ آ آ کے بتاتے رہے کہ یار ! یوسفی صاحب سِدھار
مزید پڑھیے


موروثی جمہوریت یا صدارتی نظام !

منگل 16 جون 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
جناب جمیل یوسف بنیادی طور پر تو ایک شاعر ہیں لیکن تاریخ، تنقید اور معاشرت پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں، گزشتہ دنوں ان کی کتاب ’’مسلمانوں کی تاریخ: ایک نظر میں‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ دو ڈھائی سو صفحات کی اس کتاب میں انھوں نے کائنات کے محسنِ اعظم اور قائدِ عظیم حضرت محمد ﷺ سے لے کر پاکستانی مسلمانوں کے سیاسی رہنما قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ تک اور ’میثاقِ مدینہ‘ سے ’سقوطِ ڈھاکہ‘ تک کے نشیب و فراز کو دقت نظری سے پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے عالمِ اسلام میں موروثی سیاست کے در
مزید پڑھیے


آہ ! ڈاکٹرمظہر محمود شیرانی

اتوار 14 جون 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
علمی و ادبی دنیا میں یہ خبر نہایت رنج و ملال کے ساتھ سنی جائے گی کہ اُردو دنیا کے بلا شبہ سب سے بڑے محقق حافظ محمود شیرانی کے پوتے، شاعرِ رومان اختر شیرانی کے فرزندِ ارجمند، فارسی و اُردو زبان کے مستند محقق، منفرد خاکہ نگار اور ایک قابلِ فخر استاد اور انسان جناب ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی ۱۲ جون 2020ء کو شیخوپورہ میں مختصر علالت کے بعد پچاسی سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ شیخوپورہ، پنجاب(پاکستان) کا ایک ایسا ہونہار اور اتھرا سپوت ہے، جس کا تذکرہ زبان پر آتے ہی لاٹھی اور گولی کا حوالہ
مزید پڑھیے


ابنِ انشا اور کورونا

منگل 09 جون 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اب اس واقعے کو بھی پچاس سے اوپر برس ہوتے ہیں جب ہمارا یہ البیلا مزاح نگار ادیبوں کے ایک وفد کے ساتھ ہمارے اصلی اور ازلی دوست ملک چین کے دورے پر گیا ۔ آزادی میں ہم سے دو برس چھوٹے اس ملک کے لوگوں کے طور اطوار ، اُن کے تیوروں کا پتا دیتے تھے۔چین اور وطنِ عزیز کے موازنے سے شگفتگی کی جو کیفیت ہمارے اس بنجارے ادیب نے پیدا کی، اس سے قریب قریب سب اہلِ سخن واقف ہیں۔ یہی وہ پہلا سفرنامہ تھا جس نے ظرافت و شگفتگی کو سفرنامے کی ضرورت بنا دیا۔ ابنِ
مزید پڑھیے