BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک



مزاحِ صغیرہ


ہنسنا ہنسانا دوستو! ہنسنا ہنسانا عبادت بھی ہے، عیادت بھی اور سعادت بھی۔ ہمارا یقین سے بھی زیادہ پختہ خیال ہے کہ : زندہ دل ہونا ، زندہ ہونے سے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ زندہ ہونے کا تعلق طبیعات سے ہے اور زندہ دل ہونے کا طبیعت سے۔ سیانے کہتے ہیں کہ جب انسان دوسروں کی بجائے اپنے اوپر ہنسنا سیکھ لیتا ہے تو وہ انسانیت کے بلند ترین مقام پر فائز ہو جاتاہے۔ ہزاروں مخلوقات میں سے صرف حضرتِ انسان کو ہنسنے کا شرف بخشا گیا ہے، اگر وہ بھی ہنسنا چھوڑ دے تو آپ
منگل 21 جنوری 2020ء

کپتان کا اصل قصور

اتوار 19 جنوری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
’’یار تم نے بانوے کے ورلڈ کپ کا ٹاس دیکھا تھا؟‘‘ ’’اس میں کیا خاص بات تھی؟‘‘ ’’اس میں عمران خان اور گراہم گوچ کی باڈی لینگوئج دیکھنے والی تھی۔‘‘ ’’مطلب ؟‘‘ ’’ مَیں نے کسی جگہ پڑھا ہے کہ دنیا کے ہر طبقے کے لوگوں، کیا کھلاڑی، کیاطالب علم، کیافن کار، سب میں انیس بیس کا فرق ہوتا ہے۔ اصل کمال ذاتی صلاحیتوں پہ اعتماد، اور ان کے مناسب استعمال کا ہوتا ہے۔ مَیں جب بھی بانوے کے ورلڈ کپ کے فائنل میچ کے ٹاس کی ریکارڈنگ دیکھتا ہوں ، تو انگلینڈ جیسی ورلڈ کپ کی مضبوط ترین ٹیم اور پورے ٹورنامنٹ کی
مزید پڑھیے


بھارت کی بلائیں

بدھ 15 جنوری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک ہندو ساہوکار کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا شہر کے معروف ترین بازار کے بیچوں بیچ اچھا خاصا کاروبار تھا۔دکان پہ ہر وقت لوگوں کی ریل پیل رہتی۔ لوگوں سے میل ملاپ اور پوجا پاٹ کے معاملے میں بھی وہ ہمیشہ پیش پیش رہتا۔زندگی بڑی خوشحالی اور بے فکری میں گزر رہی تھی لیکن ایک بات کا دکھ اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا کہ اس کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا کبھی مندر کا رخ نہیں کرتا تھا۔اسی وجہ سے اسے اکثر و بیشتر عزیز و اقارب اور دوستوں کی طرف سے طعن و تشنیع
مزید پڑھیے


کیوں انشا جی کا نام نہ لیں؟

اتوار 12 جنوری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
جنوری کا مہینہ جب بھی آتا ہے ، ہمیں بے شمار چیزوں کے ساتھ ساتھ اُردو کے بے مثل مزاح نگار، لاجواب سفرنامہ نگار،دل فریب شاعر اور سب سے بڑھ کے دنیائے صحافت کے انمول رتن ابنِ انشا کی یاد دلاتا ہے … جنھوں نے اپنا سارا نثری سرمایہ کالموں کی صورت تخلیق کیا۔ کمال یہ ہے کہ جو بھی کالم لکھا، ادبِ عالیہ کی شکل اختیار کر گیا۔ کالم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تیز آنچ پہ کھانا پکانے والا شعبدہ ہے۔اس میں کھانے کے جل جانے، کچا رہ جانے یا بے مزہ ہونے کے سارے
مزید پڑھیے


صحافت، عبادت بھی تو ہو سکتی ہے!

بدھ 08 جنوری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اس بات میں بھلا کسے شک ہو سکتا ہے کہ لفظ نبی کے ایک معنی، خبر دینے والے کے بھی ہیں۔ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ یہ خبر ایک سطح میں علم کے درجے پہ فائز ہے، دوسری سطح پہ خدمت کی خوب صورتی کا عکس ہے اور تیسری سطح پہ امانت کی ہم مقام ہے۔گویا حق گوئی کے ساتھ خبر کی ترسیل ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نبیوں کی معلومات کا منبع اور سلسلہ آسمانی تھا لیکن مقصد، اور فریضہ عین مین یہی تھا: لا علم، گم راہ اور سرکش لوگوںتک علم اور درست
مزید پڑھیے




گھر کا اِنصاف

اتوار 05 جنوری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک دن ہم نے ایسے ہی بیٹھے بٹھائے اپنے محبوب گھر پہ نظر کی تو دیکھا کہ اس کے در و دیوار پہ اداسی اور ویرانی دونوں بغیر بال کھولے سو رہی ہیں۔ گھر جب مَنّتوں مرادوں سے حاصل کیا گیا ہو،اس کی ایک ایک اینٹ اور گارے میں آپ کا خون پسینہ شامل ہو تو اُس کے سُونے اور بنجر پن پہ دل کا بھر آنا تو یقینی ہے ناں! سوچا، جانے اس خوبصورت اور بے مثال گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے کہ اس کے ایک ایک گوشے سے وحشت ٹپک رہی ہے، ایک ایک
مزید پڑھیے


بقلم خود

منگل 31 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
دوستو ! میٹرک کی سند اور میرا سروس ریکارڈ جو بھی کہے ، 30 دسمبر (16 پوہ) میری مرحومہ ماں جی کی تشخیص اور تفتیش کے مطابق میرا ’ اصلی تے وڈا‘ جنم دن ہے۔ ماہِ رواں کے آغاز میں اسی لیے عرض کیا تھا کہ: تیس کو اپنی سالگرہ ہے آ جا کھا لے کیک دسمبر یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ مَیں پچھلی صدی کی ساتویں دہائی میں ایک ایسے چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا ، جہاں سوائے فصلوں اور نسلوں کے کچھ پیدا ہونے کا
مزید پڑھیے


روحِ قائد سے ایک مکالمہ

اتوار 29 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک طرف ہم ۲۵ دسمبر کو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پہ خلقِ خدا کو جھوم جھوم کے، قومی پرچم کو چوم چوم کے قائدِ محترم کی بصیرت، ذہانت ، دیانت، استقامت، عظمت اور کام، کام، کام والی بے مثال حکمتِ عملی کے گُن گاتے دیکھ دیکھ کے شاد ہو رہے تھے۔ لیکن اگلے ہی دن یعنی ۲۶ دسمبر کو منیر نیازی کی برسی کے حوالے سے جب یہ شعر نظر نواز ہوا: ؎ منیر اس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ حرکت تیز
مزید پڑھیے


غالب شریرِ خامہ

هفته 28 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
سب جانتے ہیں ، نہیں جانتے، تو جان جانا چاہیے کہ 2019ء میرزا اسداللہ خاں غالب کی وفات کا ۱۵۰ واں سال اور گزشتہ روز یعنی 27دسمبر کو اسی میرزا نوشہ کی ۲۲۲ ویں سالگرہ تھی۔ آئیے آج اسی اہم موقع پہ اپنے میرزا کی چند انوکھی ادائیں یاد کرتے ہیں۔ اٹھارھویں صدی اپنی کم مائیگی اور بانجھ پن کے احساس سے نڈھال آخری ہچکولے لے رہی تھی کہ اس کے ضعیف بطن سے خوابوں اور تعبیروں کی سرزمین آگرہ میں ایک ایسے انوکھے بچے نے جنم لیا جو اپنی عمر کی پون صدی کا لمحہ لمحہ وقت، زمانے اور حالات
مزید پڑھیے


ہنسپتال

منگل 24 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
بہ قول جناب انور مسعود: ؎ سرہانے سے یہ کیوں اُٹھے ، وہ دنیا سے نہیں اٹھتا مسیحا ہاتھ دھو کر پڑ گیا، بیمار کے پیچھے کہتے ہیں ایک شخص کسی ایسے جنبی ملک میں جا کر بیمار پڑ گیا، جہاں پہ یہ رواج تھا کہ جس ڈاکٹر سے بھی دورانِ علاج کوئی مریض مر جاتا، اسے اپنے کلینک کے باہر اس کی یاد میں ایک بلب روشن کرنا پڑتا۔ وہ شخص، شہر میں جب ڈاکٹر کی تلاش میں نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ڈاکٹروں کے گھروں اور کلینکوں کے باہر چراغاں کی سی
مزید پڑھیے