Common frontend top

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


ظرف کو ظرافت کی آج بھی ضرورت ہے


ہمارے نزدیک زندگی کی گری پڑی جزئیات کو پلکوں سے اُٹھا کے ہونٹوں پہ سجانے کا نام مزاح ہے۔ تفننِ طبع کے لیے سلیقے اور شعور کے ساتھ کوئی خوش گوار بات کرنے یا گھڑنے کا نام ظرافت ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لطافت،شرافت اور ظرافت انسانی زندگی کو قابلِ قبول،قابلِ التفات بلکہ قابلِ رشک بنانے میں معاون،خوب صورت اوربنیادی اقدار ہیں۔ہماری سوچی سمجھی اور دیرینہ رائے ہے کہ زندہ دل ہونا،زندہ ہونے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہ مزاح محض مذاق یا مسخرہ پن نہیں بلکہ یہ ایک غیر سنجیدہ عمل ہوتے ہوئے بھی متانت، دیانت،ذہانتکا متقاضی ہوتا
اتوار 05 جون 2022ء مزید پڑھیے

شہباز شریف کے لیے نادر موقع

اتوار 29 مئی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
وطنِ عزیز کے ہنگامی اور ہنگامہ خیز وزیرِ اعظم جناب شہباز شریف سے میرے تفاعل یا تعارف کو رُبع صدی ہونے کو آئی ہے۔ یہ مسلم لیگ نون کے بھاری مینڈیٹ والے دورِ حکومت کی بات ہے جب شہباز شریف صحیح معنوں میں شہباز شریف ہوا کرتا تھا اور تعلیمی اصلاحات اس کی ترجیحِ اول قرار پائی تھی۔ امتحانوں سے بُوٹی مافیا کا خاتمہ، پوزیشنیں لینے والے طلبہ و طالبات کی عزت افزائی، گھوسٹ سکولوں کی نشان دہی وغیرہ اسی زمانے کی یادیں ہیں۔ اسی دَور میں ایک نیک کام یہ کیا گیا کہ دیہات میں چھوٹے سکولوں کے سربراہان
مزید پڑھیے


تحقیق کو تخلیق کی بد دعا لگی ہوئی ہے (آخری قسط)

اتوار 22 مئی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک زمانہ تھا کہ ادب کے طالب علموں کے لیے اچھا اور کلاسیکی ادب پڑھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع اور امکانات پیدا کیے جاتے تھے اور اسے ہی ادبی تعلیم کا حسن اور سلیقہ سمجھا جاتا تھا۔ ہمارا آج بھی ایمان ہے کہ آپ ادب کے طالب علم کو سو پچاس اچھی کتابیں پڑھا دیجیے، اچھی، خالص اور شستہ تنقید کے رستے وہ خود بنا لے گا۔ خدا لگتی کہتا ہوں کہ اجنبی دیسوںسے سمگل کی جانے والی تحقیق و تنقید کی نئی نئی موشگافیوں نے ہمارے ادب کی خدمت کم کی ہے، سیاپا زیادہ ڈالا ہے۔ ہمیں یہ
مزید پڑھیے


او دیس سے آنے والے بتا!

اتوار 15 مئی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
معروف صحافیوں، ثقہ دانش وروں اور پکے پِیڈے اینکروں کو نوید ہو کہ ناتجربہ کار عمران خان کی مہنگائی، زبانی بیانات اور جذباتی تقاریر والی انتقامی حکومت ختم ہو چکی ہے۔ یہ بھی مان لیا کہ نون لیگ اور پی پی پی کے لیڈروں کی کرپشن کے قصے بھی اسی کھلاڑی کے ذہن کی اختراع تھے اور یقینا اسی ضدی کپتان نے نون لیگ کی حکومت میں پی پی پی اور پی پی پی کے دورِ اقتدار میں نون لیگ کے خلاف بنوائے گئے مقدمات کا آئیڈیا ان کے دھیان، گمان میں ڈالا ہوگا۔ یہ پٹرول اور ڈالر کی چھلانگیں
مزید پڑھیے


تحقیق کو تخلیق کی بد دعا لگی ہوئی ہے

اتوار 08 مئی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اس وقت دنیا بھر کی جامعات، یورپ ہو یا امریکا، جاپان ہو یا ٹانگانیکا، ہر جگہ طلبہ و طالبات کی قابلیت و صلاحیت کو جانچنے کے درجنوں انداز مقرر ہیں، جن میں شخصیت کی پرداخت، باطنی خصائل، ذہنی استعداد، مثبت منفی اخلاقی و اطلاقی رویے، نت نئے تحقیقی تجربات سے واقفیت، انفرادی قابلیت، گروہی سرگرمیاں، حاضری و حاضر دماغی، عملی ذہانت، مجموعی اعتماد اور سب سے بڑھ کے تخلیقی صلاحیتیں،ان سب کی مجموعی جانچ پرکھ سے گریڈ، درجے اور درجۂ حکمت و حرارت کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد عملی زندگی میں اس کا علمی، تحقیقی رجحان اور
مزید پڑھیے



عِیْدِسَعِید ’‘ وَ شِعْرِ جَدِیْد ’‘

اتوار 01 مئی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
بامعنی باتیں کرتے کرتے یا ادبی دنیا میں صراطِ مستقیم کے پودے کو پانی دیتے دیتے کئی بار بندہ اُکتا بھی جاتا ہے اور لایعنی راگ الاپنے کو دل مچلنے لگتا ہے۔ معقولیت، نا معقولیت میں سکون ڈھونڈنے لگتی ہے۔ سِیدھ، ٹیڑھ کے آگے ہاتھ باندھ کے کھڑی ہو جاتی ہے۔ ہماری شاعری کے ساتھ بھی متعدد بار ایسا ہوا کہ بعض اوقات نہایت سنجیدہ اہلِ قلم بھی سارے رسمی آداب چھوڑ چھاڑ، سُلجھے سانچے توڑ تاڑ کے کسی اور ہی انداز میں سخن سرا ہوئے۔ شاعرِ مشرق پہ بھی کبھی ایسا وقت آیا کہ وہ بے ساختہ پکار
مزید پڑھیے


مجاور مزاج لوگ

اتوار 24 اپریل 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں احکاماتِ خداوندی، آسمانی کتب اور فرموداتِ پیغمبری کے علاوہ ہر انسانی بات اور عمل میں اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کبھی گول، کبھی چورس، کبھی بیضوی، کبھی ساکت، کبھی متحرک ہوتی رہی۔ ماں کے دودھ کو بچے کی صحت کے لیے کبھی مفید کہا گیا ، کبھی مضر۔ دینی احکامات میں جہاں جہاں ناقص انسانی مشاہدے اور مضبوط ہٹ دھرمی کا چلن عام ہوا، اختلافی فروعات پھیلتی چلی گئیں۔ اسی طرح اگر دنیا کے ہر بزرگ کی بات کو حرفِ آخر سمجھنا ضروری ہوتا تو قرآنِ پاک
مزید پڑھیے


عمران مخالف مہم

اتوار 17 اپریل 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
یا اللہ! اس بات پہ مَیں تیرا کیسے اور کتنا شکر ادا کروں کہ سنا ہے، ہفتہ دس دن پہلے میرے دیس میں کسی ’یہودی ایجنٹ‘ کی حکومت تھی، جو بھارت سے کشمیر کا بھی سودا کر چکا تھا اور جس نے اپنی کسی ذاتی تسکین کی خاطر ہر چیز مہنگی کر رکھی تھی۔ اُس کے گِرد نالائق اور ملک دشمن لوگوں کا ٹولہ بھی تھا۔ بس پھر کیا تھا ملک کے چپے چپے سے غیرت مندوں اور قومی ہمدردوں کا ایک انبوہِ کثیر اُمڈ کے آیا، جن سے قوم کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ کچھ دن تو وہ
مزید پڑھیے


وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ

اتوار 10 اپریل 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
یہ رمضان المبارک ہی کی ایک سہانی ترین صبح کا ذکر ہے ، جسے مدینہ منورہ کی خوش گوار و معطر فضاؤں نے تقدس کا ہالہ بھی عطا کر رکھا تھا۔ مکہ مکرمہ سے نمازِ تراویح کے بعد چلنے والی ہماری بس، کسی ویران سے عربی ڈھابے سے اجنبی کھانوں کے ساتھ روزہ رکھوانے کے بعد عین نماز فجر کے وقت مدینہ کی حدود میں داخل ہو چکی تھی۔ مسجدِ نبوی ﷺ کے مشرقی دروازے پر بس سے اُترتے اُترتے جماعت کا عمل شروع ہو گیا۔ ہمارا چار لوگوں کا مختصر سا قافلہ ہوٹل کی تلاش کے عمل کو مؤخر
مزید پڑھیے


مِس/ مسٹر/ مسز اسٹیبلشمنٹ!

اتوار 03 اپریل 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
آج اپنی طویل وقت میں گزرنے والی مختصر سی زندگی پہ نظر کرتا ہوں تو اس میں ڈر، خوف، بے یقینی اور تناؤ کا تناسب باقی تمام چیزوں کی نسبت زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ بچپن میں ہماری اخلاقیات درست کرنے کی غرض سے جنوں بھوتوں، چڑیلوں اور بزرگوں سے ڈرایا جاتا تھا۔ حالانکہ ہم نے تمام گندی گالیاں، پھسپھسے لطیفے، بلا وجہ کا غصہ، بات کو بتنگڑ بنانے کا لَفڑا، خوشی کے ہر موقع پر ناراض ہوکے دوسروں کا فنکشن خراب کرنے کی ادا، بلا تحقیق اپنائی گئی فضول قسم کی غیر اسلامی، غیر انسانی رسمیں،جہالت پہ پرلے درجے
مزید پڑھیے








اہم خبریں