Common frontend top

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


کب راج کرے گی خلقِ خدا؟


سترہ جولائی، جسے بعض لوگ ’خطرہ جولائی‘ کے نام سے بھی یاد کر رہے ہیں، میں بپھرے ہوئے عوامی جذبات اور الیکشن پر اُس کے اثرات کا عالم تو تمام لوگوں نے کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ ایک دیہاتی ہونے کے ناطے میرا دیہاتوں، شہروں کے بہت سے عام اور خاص لوگوں سے رابطہ رہتا ہے۔ ربع صدی سے کالم نگاری سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بہت سی سیاسی ہستیوں کی دریدہ دہنی اور بوسیدہ ذہنی حالت سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ کچھ عرصہ سرکاری ملازمت میں رہنے کی بنا پر سرکاری اداروں کی پست کارکردگی اور
پیر 25 جولائی 2022ء مزید پڑھیے

اورینٹل والے بُوٹے کے نام

اتوار 17 جولائی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
میرے دل میں ہنستے رستے بستے اورینٹل کالج کی نکڑ پہ چونتیس سال سے گنوں کے گُن چھانٹتے اور آتے جاتے بے رَس لوگوں میں رَس کی شیرینی بانٹتے بُوٹے، ذرا وَن سوَنّے گاہکوں سے نظر بچا کے میرا سلام قبول کرو! بُوٹے! مَیں تمھیں کیسے بتاؤں کہ جب تم مجھے دُور سے دیکھ کے ریڑھی کیساتھ کھڑے کیے گٹھے میں سے گزٹیڈ قسم کا گنا ڈھونڈکے اُسے مشینی دانتوں سے ٹُٹ پَینے (Disposable) کاغذی گلاس میںپودینے کی شاخ اور لیموں کی کاش کیساتھ نچوڑتے ہو تو تم پہ ٹوٹ کے پیار آتا ہے۔ پیارے بُوٹے! جن ٹُوٹے پھُوٹے رستوں کے
مزید پڑھیے


ایس ایم ایس سے ایس ایم ظفر تک

اتوار 10 جولائی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اگر آپ کو تاریخ اور جغرافیے کے سینے میں اترنا ہے۔ وطنِ عزیز کے ایک ایک پہلو پہ تفصیلی اور تسلی بخش آگاہی چاہیے، خبر سے نظر کی جانب مراجعت درکار ہے، تو آپ کو معروف ماہرِ قانون جناب ایس ایم ظفر کی سات سو صفحات پر مشتمل تازہ ترین اور خوب صورت طباعت کی حامل بائیو گرافی ’’مکالمہ‘‘ سے رجوع کرنا ہوگا، جو یقینا ایک نادر علمی و تاریخی دستاویز ہے اور حقیقی طور پر ہماری زندگی کے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں ایک وکیل کی مشاورت، ایک دانش مند کے تجزیات، ایک محبِ وطن
مزید پڑھیے


تینوں رَب دیاں رَکھاں

اتوار 03 جولائی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
قد آوری کے باب میں اپنی مثال تھا جس آدمی کو شہر کے بَونوں نے جا لیا آج سے پون صدی قبل ایک شاعرِ خوش نوا کے ایکخوش نما خواب کے نتیجے میں برِ صغیر کے شمال مغربی خطے میں روایات کو روندتا ہوا، دنیا کے واحد دینِ کامل کے نام پر ایک منفرد ملک وجود میں آ گیا، جسے دیکھ کر لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ خواب وہ نہیں ہوتا جو نیند کا محتاج ہو، بلکہ اصل خواب وہ ہوتا ہے جو راتوں کی نیندیں اڑا دے۔ یہ ایسا ہی ایک خواب تھا۔ جسے ایک جوانِ رعنا نے
مزید پڑھیے


میرا کچھ کشمیر تمہارے پاس پڑا ہے

اتوار 26 جون 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مشتاق احمد یوسفی نے سچ کہا تھا: زندگی کے جو اَیام پہاڑ پر بسر ہوں، وہ عمر سے منہا نہیں ہوتے۔ پھر اگر وہ پہاڑ بھی کشمیر کے ہوں تو ساتھ ’سبحان اللہ‘ کی داد تو خود بخود زبان سے ادا ہو جاتی ہے۔ کشمیر جنت نظیر، جو کسی کی شاہ رگ، کسی کا اٹوٹ انگ ہے، اس کے بارے میں ایک بات طے ہے کہ مصورِ فطرت نے ذہن و قلب کو منور و معطر کرنے والے سارے رنگ، سارے ڈھنگ، سارے انگ اس خِطۂ ارضی پہ نچھاور کر دیے ہیں۔زندگی کی ہماہمی اور مصروفیات کی کشاکش سے نظر
مزید پڑھیے



ایک نظر انداز شدہ خوبصورت مزاح نگار

اتوار 19 جون 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اُردو ادب بہت خوش قسمت ہے کہ اسے نثری مزاح میں پطرس بخاری، شفیق الرحمن، ابنِ انشا، مشتاق احمد یوسفی، کرنل محمد خاں، عطاء الحق قاسمی اور شاعری میں اکبر الہٰ آبادی، سید محمد جعفری، راجا مہدی علی خاں، عنایت علی خاں، دلاور فگار، سرفراز شاہد، انور مسعود اور انعام الحق جاوید جیسے نابغے میسر آئے۔ سید ضمیر جعفری وہ واحد ہستی ہیں جن کا قلم دونوں طرف پوری آب و تاب اور گھن گرج کے ساتھ چہکتا ہے۔ اسی ضمیر جعفری نے اپنے عہد کے ایک منفرد مزاح کی بابت کہا تھا: شاعر ، سائنس دان ، قلندر ،
مزید پڑھیے


کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا…

اتوار 12 جون 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعر ادیب کسی بھی معاشرے کا سب سے حسّاس طبقہ ہوتا ہے۔حکیم الامت نے اپنی مختصر سی نظم ’شاعر‘ میں معاشرے کے جسم میں شاعر کو آنکھ کا درجہ دیا ہے،کیونکہ پورے وجود میں کہیں بھی مسئلہ ہو آنکھ اس کے لیے اشک بار ہوتی ہے۔آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر ملکی معاملے پر عوام کی براہِ راست نظر ہے۔ یہ ایسا طبقہ ہے جو صرف محسوس ہی نہیں کرتا بلکہ دو ٹوک انداز میں کہہ بھی دیتا ہے۔ ہم موجودہ ملکی حالات و واقعات پر مختلف لوگوں کی آراء پر
مزید پڑھیے


ظرف کو ظرافت کی آج بھی ضرورت ہے

اتوار 05 جون 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہمارے نزدیک زندگی کی گری پڑی جزئیات کو پلکوں سے اُٹھا کے ہونٹوں پہ سجانے کا نام مزاح ہے۔ تفننِ طبع کے لیے سلیقے اور شعور کے ساتھ کوئی خوش گوار بات کرنے یا گھڑنے کا نام ظرافت ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لطافت،شرافت اور ظرافت انسانی زندگی کو قابلِ قبول،قابلِ التفات بلکہ قابلِ رشک بنانے میں معاون،خوب صورت اوربنیادی اقدار ہیں۔ہماری سوچی سمجھی اور دیرینہ رائے ہے کہ زندہ دل ہونا،زندہ ہونے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہ مزاح محض مذاق یا مسخرہ پن نہیں بلکہ یہ ایک غیر سنجیدہ عمل ہوتے ہوئے بھی متانت، دیانت،ذہانتکا متقاضی ہوتا
مزید پڑھیے


شہباز شریف کے لیے نادر موقع

اتوار 29 مئی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
وطنِ عزیز کے ہنگامی اور ہنگامہ خیز وزیرِ اعظم جناب شہباز شریف سے میرے تفاعل یا تعارف کو رُبع صدی ہونے کو آئی ہے۔ یہ مسلم لیگ نون کے بھاری مینڈیٹ والے دورِ حکومت کی بات ہے جب شہباز شریف صحیح معنوں میں شہباز شریف ہوا کرتا تھا اور تعلیمی اصلاحات اس کی ترجیحِ اول قرار پائی تھی۔ امتحانوں سے بُوٹی مافیا کا خاتمہ، پوزیشنیں لینے والے طلبہ و طالبات کی عزت افزائی، گھوسٹ سکولوں کی نشان دہی وغیرہ اسی زمانے کی یادیں ہیں۔ اسی دَور میں ایک نیک کام یہ کیا گیا کہ دیہات میں چھوٹے سکولوں کے سربراہان
مزید پڑھیے


تحقیق کو تخلیق کی بد دعا لگی ہوئی ہے (آخری قسط)

اتوار 22 مئی 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک زمانہ تھا کہ ادب کے طالب علموں کے لیے اچھا اور کلاسیکی ادب پڑھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع اور امکانات پیدا کیے جاتے تھے اور اسے ہی ادبی تعلیم کا حسن اور سلیقہ سمجھا جاتا تھا۔ ہمارا آج بھی ایمان ہے کہ آپ ادب کے طالب علم کو سو پچاس اچھی کتابیں پڑھا دیجیے، اچھی، خالص اور شستہ تنقید کے رستے وہ خود بنا لے گا۔ خدا لگتی کہتا ہوں کہ اجنبی دیسوںسے سمگل کی جانے والی تحقیق و تنقید کی نئی نئی موشگافیوں نے ہمارے ادب کی خدمت کم کی ہے، سیاپا زیادہ ڈالا ہے۔ ہمیں یہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں