Common frontend top

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


عمران مخالف مہم


یا اللہ! اس بات پہ مَیں تیرا کیسے اور کتنا شکر ادا کروں کہ سنا ہے، ہفتہ دس دن پہلے میرے دیس میں کسی ’یہودی ایجنٹ‘ کی حکومت تھی، جو بھارت سے کشمیر کا بھی سودا کر چکا تھا اور جس نے اپنی کسی ذاتی تسکین کی خاطر ہر چیز مہنگی کر رکھی تھی۔ اُس کے گِرد نالائق اور ملک دشمن لوگوں کا ٹولہ بھی تھا۔ بس پھر کیا تھا ملک کے چپے چپے سے غیرت مندوں اور قومی ہمدردوں کا ایک انبوہِ کثیر اُمڈ کے آیا، جن سے قوم کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ کچھ دن تو وہ
اتوار 17 اپریل 2022ء مزید پڑھیے

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ

اتوار 10 اپریل 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
یہ رمضان المبارک ہی کی ایک سہانی ترین صبح کا ذکر ہے ، جسے مدینہ منورہ کی خوش گوار و معطر فضاؤں نے تقدس کا ہالہ بھی عطا کر رکھا تھا۔ مکہ مکرمہ سے نمازِ تراویح کے بعد چلنے والی ہماری بس، کسی ویران سے عربی ڈھابے سے اجنبی کھانوں کے ساتھ روزہ رکھوانے کے بعد عین نماز فجر کے وقت مدینہ کی حدود میں داخل ہو چکی تھی۔ مسجدِ نبوی ﷺ کے مشرقی دروازے پر بس سے اُترتے اُترتے جماعت کا عمل شروع ہو گیا۔ ہمارا چار لوگوں کا مختصر سا قافلہ ہوٹل کی تلاش کے عمل کو مؤخر
مزید پڑھیے


مِس/ مسٹر/ مسز اسٹیبلشمنٹ!

اتوار 03 اپریل 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
آج اپنی طویل وقت میں گزرنے والی مختصر سی زندگی پہ نظر کرتا ہوں تو اس میں ڈر، خوف، بے یقینی اور تناؤ کا تناسب باقی تمام چیزوں کی نسبت زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ بچپن میں ہماری اخلاقیات درست کرنے کی غرض سے جنوں بھوتوں، چڑیلوں اور بزرگوں سے ڈرایا جاتا تھا۔ حالانکہ ہم نے تمام گندی گالیاں، پھسپھسے لطیفے، بلا وجہ کا غصہ، بات کو بتنگڑ بنانے کا لَفڑا، خوشی کے ہر موقع پر ناراض ہوکے دوسروں کا فنکشن خراب کرنے کی ادا، بلا تحقیق اپنائی گئی فضول قسم کی غیر اسلامی، غیر انسانی رسمیں،جہالت پہ پرلے درجے
مزید پڑھیے


سَو سال کا شیخوپورہ

اتوار 27 مارچ 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
شیخوپورہ ایک تاریخی شہر ہے، جس کا پرانا نام وِرک گڑھ تھا۔ مغل فرماں روا نور الدین جہانگیر سلیم شیخو کی شکار ہونے پر اِسے شیخوپورہ کا نام دیا گیا۔ آج سے چار سو سال قبل اپنے پیارے ہرن منسراج کی یاد میں اسی کے ہاتھوں ہرن مینار کی تعمیر عمل میں آئی، جو ایک انوکھی تاریخی ، تفریحی یادگار کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ آج اسی لاڈلے ہرن کی رعایت سے یہاں کے اکلوتے گورنمنٹ کالج کے طلبہ کو ’منسراجین‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، جہاں چھبیس مارچ کو پرنسپل ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی سرکردگی
مزید پڑھیے


موازنہ، توازنہ

اتوار 20 مارچ 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اس ماضی گیری کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے، ہم مکار سیاست دانوں کے تلوے چاٹتے رہے لیکن وطنِ عزیز میں پیدا ہونے والے ہنر مندوں کی قدر نہ کی، جو بالآخر دل برداشتہ ہو کر ملک چھوڑ گئے اور دیارِ غیر میں عزت پائی۔ کسی نے موٹر سائیکل کے انجن سے ہیلی کاپٹر بنایاِ پانی والی ٹینکی سے بجلی ایجاد کی یا بجائے پٹرول پانی سے گاڑی چلا دی تو اس کا مذاق اڑایا۔ دوسری طرف امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی جب ہنر مندوں نے اسی طرح کے کام کیے تھے تو انھوں نے
مزید پڑھیے



کانپیں ٹانگ جاتی ہیں!

اتوار 13 مارچ 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
بلاول بھٹو زرداری، ہماری سیاست کا وہ کردار ہے، جس نے کچھ عرصے سے اپنے بیانات، بھڑکیلے لہجے اور لچکیلے اسلوب سے ہماری رُوکھی پھیکی، سادہ، سپاٹ سیاست کو طراوت، حلاوت اور بشاشت عطا کر رکھی ہے۔ پاکستانی سیاست کے اس ٹھہرے تالاب میں پہلی ہلچل توان کے زندہ، تابندہ، درخشندہ نام سے مچی تھی، جو بہت سے حاسدوںاور روایت پرستوں کو آج تک ہضم نہیں ہوا۔ اس کثیر المقاصد، فقید المثال، عدیم النظیر نام کو ترتیب دینے میں ان کے والدِ محترم نے جس ذہانت، دانائی، ہنر مندی، مستقبل شناسی اور لازوال فن کاری کا مظاہرہ کیا تھا، اس
مزید پڑھیے


کرنے چلے شکار

منگل 08 مارچ 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کون نہیں جانتا کہ طویل عرصے سے ہمارے ہاں سب سے زیادہ فقدان معقول اور ایمان دار لیڈرشپ کا رہا ہے۔ چند برس پہلے تک بچے بچے کی زبان پر یہی بات تھی کہ کوئی ایسا مضبوط حکمران آئے جو کرپٹ لوگوں کو الٹا لٹکا دے۔ ملک اور قوم کی لوٹی دولت ان کا پیٹ پھاڑ کے برآمد کر لے۔ گزشتہ دنوں ان سب ’فنکاروں‘ کے ایک بھیدی سیاست دان کا انٹرویو سنا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ ملک کا لوٹا ہوا مال کیسے واپس آ سکتا ہے؟ انھوں نے دو ٹوک جواب دیا کہ اس حمام میں سب
مزید پڑھیے


تراسی سال کا تارڑ

پیر 28 فروری 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مطلعٔ تقویم پر جب بھی مارچ کا بیش بہار، پُر خمار مہینہ طلوع ہوتا ہے، میرے حواسِ ہشتہ پر غالب کا یہ شعر ہر بار نئے انداز سے ورُود کرتا ہے: آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سَنج اُڑتی سی اِک خبر ہے زبانی طیور کی مارچ کا یہی مہینہ جس سے بچپن میں ہم صرف یومِ پاکستان (۲۳ مارچ) کے حوالے سے متعارف تھے۔ تعلیمی دنیا میں قدم رکھا تو اکتیس مارچ ہر سال امتحانی نتائج کا خوف لیے برآمد ہونے لگا۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں یہ سال ہا سال سے سیاست دانوں کے لانگ مارچ یا رانگ مارچ
مزید پڑھیے


میری دو مادری زبانیں

پیر 21 فروری 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اس بات میں کوئی شک، کوئی مبالغہ،نہیں کہ اُردو اور پنجابی دونوں میری مادری زبانیں ہیں۔ پنجابی میری پیاری ماں کی زبان ہے اور اُردو میرے بچوں کی ماں کی زبان ہے۔ یہی حال میرے دیس کے دیگر علاقوں کا ہے کہ یہ میٹھے لہجے والی اُردو، سندھی، بلوچی، پشتو، کشمیری کے ساتھ محبت اور اپنائیت کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ بلکہ سرحد کے دونوں جانب اگر سیاسی ایجنڈوں کو منہا کر دیں تو اسے ہندی، مراٹھی، گجراتی، ملیالم وغیرہ کے ساتھ بہناپا برقرار رکھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ سب زبانیں صدیوں سے ایک ساتھ رہ بس رہی
مزید پڑھیے


اخلاق کا کینسر

اتوار 13 فروری 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم جس نبی ﷺ کی اُمت ہونے کے دعوے دار ہیں، وہ اُس معاشرے میں صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے، جو ہر طرح کی اخلاقی و معاشرتی برائی سے لبالب تھا۔ یہی دونوں صفات اخلاقیات کی عمارت کے دو مضبوط ستون ہیں۔ آج یہ دونوں صفات اپنی اس سوسائٹی میں خُرد بین لے کے بھی ڈھونڈیے، مفقود پائیں گے۔ ہر مہذب قوم اور سلجھے ہوئے معاشرے میں مذہب، سیاست اور تعلیم ہی کے شعبے اخلاقیات کے سب سے بڑے علم بردار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ تینوں ادارے ریا کاری، منافقت، جھوٹ، خیانت اور جعل سازی سے
مزید پڑھیے








اہم خبریں