Common frontend top

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


کُتب مینار… (2)


یونیسکو کی چند سال پرانی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک مسلمان سال میں اوسطاً ایک سے بھی کم کتاب پڑھتا ہے۔ ایک یورپیئن اوسطاً پینتیس کتب کا مطالعہ کرتا ہے، جب کہ ایک اسرئیلی اتنے ہی دورانیے میں اوسطاً چالیس کتابیں گٹک جاتا ہے۔ اس سے چند سال بعد کے اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہوش رُبا ہیں۔ یہ اس اُمت کی صورتِ حال ہے، جسے بے آب و گیاہ دَور میں بھی حصولِ علم کے لیے چین تک سفر کرنے کا حکم تھا اور جس کی ہدایت کے لیے آسمانوں سے کتاب اتاری گئی ۔
اتوار 06 فروری 2022ء مزید پڑھیے

اخلاق کا کینسر

اتوار 30 جنوری 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ابتدائی جماعتوں میں جب ہمیں پتہ چلا کہ کلاس یا سکول میں جو غیر مسلم طلبہ ہوتے ہیں، انھیں اسلامیات کی جگہ ’اخلاقیات‘ پڑھائی جاتی ہے تو اپنی تمام تر سادگی، بچپنے اور دیہاتی پن کے باوجود یہ سوچ کر ایک دھچکا سا لگا کہ کیا مسلم طلبہ کو اخلاقیات کی کوئی ضرورت نہیں؟ یا یہ اخلاقیات ایسا ہی غیر ضروری مضمون ہے کہ اسے محض اختیاری طور پر اور اتنے محدود پیمانے پر چند غیر مسلموں ہی کو پڑھایا جائے؟آج ہم ایسے ہی غیر مسلموں کی بین الاقوامی شہرت رکھنے والی جامعہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے
مزید پڑھیے


کُتب مینار

اتوار 23 جنوری 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
گزشتہ دنوں چیف جسٹس نے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کو صرف قانون ہی نہیں فلسفہ، تاریخ اور ادب کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے لیکن دوستو! ہم سمجھتے ہیں کہ صرف وکلا ہی پہ کیا موقوف، یہاں سیاست دانوں، دکانداروں، تاجروں، آجروں، ججز، بیوروکریٹس، ڈاکٹروں، انجینئروں، پولیس والوں، فوٹو کاپیوں کی مانگ میں سیندور بھرنے والے تدریسی نوٹس سے آنکھ بچا کے اساتذہ کو، سیاست اور حکمرانوں پہ ہمہ وقت نظر رکھنے والے صحافیوں کو، حتیٰ کہ ادیبوں، شاعروں کو بھی اپنے خود ساختہ بُت خانے (حکیم جی کے بقول کُت خانے) سے نکل کے کچھ کام
مزید پڑھیے


’مری‘ کو مارے شاہ مدار

هفته 15 جنوری 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک زمانہ تھا کہ برِ صغیر کے صاحب اور صاحب مزاج لوگوں کے چھٹیاں منانے، گرمیاں گزارنے اور شملے کو اونچا رکھنے کے لیے سب سے مثالی جگہ کوہِ ہمالیہ کے چرنوں میں واقع، بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کا سب سے بڑا شہرشملہ ہوا کرتا تھا، جو ایک زمانے تک ملکی مسائل پہ غور اور وسائل پہ کچھ اور کرنے کے لیے مناسب ترین جگہ سمجھی جاتی تھی۔ 1864ء میں اسے برطانوی حکومت کا گرمیوں کا دارالحکومت بھی قرار دیا گیا تاکہ وہ ہندوستان کے مستقبل سے متعلق ٹھنڈے دل سے تفکر و تدبر کر سکیں۔ 1903ء
مزید پڑھیے


نیا سال، نئی نسل، نئی دعائیں

اتوار 09 جنوری 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اس بات میں تو اب کسی کو شبہ نہیں کہ رُوئے ارض پہ جتنی تبدیلیاں گزشتہ بیس سالوں میں وارد یا مسلط ہوئیں، اتنی تو بیس صدیوں میں بھی دیکھنے میں نہیں آئیں۔ ایک چھوٹا سا شریر پرزہ جسے عرفِ عام میں ’’موبائل‘‘ کہا جاتا ہے، اس نے انسانی اوقات اور انسان کے اوقات پہ ایسا غضب کا ڈاکا مارا ہے کہ جس کا رونا رویا جا سکتا ہے، نہ کہیں رپٹ درج کرائی جا سکتی ہے۔ اس کی گفتار، مفتار، رفتار ایسی بے ڈھنگی ہے کہ جس کے آگے کوئی بند باندھا جا سکتا ہے، نہ سپیڈ بریکر بنایا
مزید پڑھیے



2021ء کے نشانے پر

اتوار 02 جنوری 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم نے تو دسمبر سے اپنی روایتی چھیڑ چھاڑ کی بنا پر ایسے ہی کسی وقت روا روی میں کہہ دیا تھا: گل سُن میری یار دسمبر چھڈ دے مارو مار دسمبر سانوں گھر وچ قیدی کیتا ٹُر جا اپنے گھار دسمبر لیکن جب سال کے خاتمے پر اپنے ہی ترتیب دیے ہوئے کلینڈر پہ نظر پڑی تو اس ٹھنڈے ٹھار مہینے کے سینے پہ سرد مہری اور گرم مزاجی کا ایسا خوف ناک جغرافیہ کندہ دیکھا کہ اچانک منھ سے نکلا: چل دسمبر ، چل دسمبر تیرا نئیں کوئی حل دسمبر تیرے نال نئیں بننی ساڈی ہور کسے نوں گھل دسمبر ذرا اس خونی جنونی مہینے کی کار گزاری
مزید پڑھیے


ہُوا ہے دل مِرا حیدرآباد

منگل 28 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
’’ اَوَدھ پنچ‘‘ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کی دیکھا دیکھی پورے ہندوستان سے پنچ اخبار برساتی کھمبیوں کی طرح اُگ آئے۔ اس طرح اُردو کے اولیں مزاح نگار اور صحافی جعفر زٹلّی کے سفاکانہ قتل کی بنا پر برِ صغیر پر ڈیڑھ سو سال سے چھائی اداسی کسی حد تک چھٹنے لگی۔ اس کے علاوہ ریاض خیر آبادی کے ’فتنہ‘اور ’عطرِ فتنہ‘ ، نے بھی تاریک ماحول میں تھوڑی بہت جگمگاہٹ پیدا کی۔ پھر سیالکوٹ کا ’شیخ چِلّی‘ ، میرٹھ کا ’ظریف الہند‘، رام پور کا ’مذاق کا پہلا قدم‘ بھی
مزید پڑھیے


دندانِ ساز باز مِرے تیز بہت ہیں!

اتوار 26 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مرغی بی نے دعا مانگی: یا اللہ مجھے صالح پرویز چوزے اور نیک پروین چوزیاں عطا کر! اکیس دن بعد پہلا چوزہ نکلا اور انڈے سے برآمد ہوتے ہی نماز کی نیت باندھ لی… تھوڑی دیر بعد دوسرا چوزہ برآمد ہوا تو ہاتھ میں رنگین منکوں والی تسبیح تھی… تیسرا کتنی ہی دیر نکلا ہی نہیں۔ مستجاب الدعوات مرغی نے آواز دی تو کہنے لگا: ’’ماما! مجھے ڈسٹرب مت کریں، مَیں اعتکاف میں ہوں۔‘‘ سچ پوچھیے تو اس وقت یہی صورتِ حال وطنِ عزیز کی ہے ۔ عشروں سے بھانت بھانت کے سیاسی لیڈروں کے بگاڑے نظام کو درست
مزید پڑھیے


ہوا ہے دل مِرا حیدرآباد!

منگل 21 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

میرے لیے یہ امر باعثِ حیرت و مسرت ہے کہ آج حیدر آباد دکن سے جناب مصطفی کمال کا فون آیا۔ اس بھری دنیا میں دو ہی شہر ایسے ہیں جن کے باسی ’زندہ دلان‘ کی نسبت سے معروف ہیں۔ ایک وہ جہاں سے آج فون آیا، دوسرے وہ جہاں یہ فون مجسم شادمانی کے ساتھ وصول کیا گیا۔ کبھی کبھی تو اس سلطنتِ جلوہ آرائی کی رانی محترمہ فیس بُک اور ہر ایک دل کے عزیزجنابِ وٹس ایپ کی دل و جان سے بلائیں لینے کو جی مچلتا ہے کہ نئے زمانے کے ان سہولت کاروں کی مدد سے
مزید پڑھیے


ہمیں مزید کس کس ویکسین کی ضرورت ہے!

اتوار 19 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ترقی یافتہ اور با شعور دنیا کا دیرینہ دستور ہے کہ وہاں جب بھی کوئی مرض یا مسئلہ سر اٹھاتا ہے ، اس سے آنکھیں نہیں چرائی جاتیں بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے سب سے پہلے اس سے چھٹکارے کی کوئی وقتی تدبیر کر کے متاثرہ افراد کا فوری علاج یا ہنگامی امداد کی جاتی ہے۔ پھر متعلقہ محکمے اور ذمہ دار ادارے حرکت میں آتے ہیں اور ٹھوس تحقیق کے ساتھ اس مسئلے یا مرض کے مستقل تدارک کا کوئی پکا پِیڈا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ بقیہ قوم یا آنے والی نسلوں کو اس سے
مزید پڑھیے








اہم خبریں