Common frontend top

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


ہُوا ہے دل مِرا حیدرآباد


’’ اَوَدھ پنچ‘‘ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کی دیکھا دیکھی پورے ہندوستان سے پنچ اخبار برساتی کھمبیوں کی طرح اُگ آئے۔ اس طرح اُردو کے اولیں مزاح نگار اور صحافی جعفر زٹلّی کے سفاکانہ قتل کی بنا پر برِ صغیر پر ڈیڑھ سو سال سے چھائی اداسی کسی حد تک چھٹنے لگی۔ اس کے علاوہ ریاض خیر آبادی کے ’فتنہ‘اور ’عطرِ فتنہ‘ ، نے بھی تاریک ماحول میں تھوڑی بہت جگمگاہٹ پیدا کی۔ پھر سیالکوٹ کا ’شیخ چِلّی‘ ، میرٹھ کا ’ظریف الہند‘، رام پور کا ’مذاق کا پہلا قدم‘ بھی
منگل 28 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

دندانِ ساز باز مِرے تیز بہت ہیں!

اتوار 26 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مرغی بی نے دعا مانگی: یا اللہ مجھے صالح پرویز چوزے اور نیک پروین چوزیاں عطا کر! اکیس دن بعد پہلا چوزہ نکلا اور انڈے سے برآمد ہوتے ہی نماز کی نیت باندھ لی… تھوڑی دیر بعد دوسرا چوزہ برآمد ہوا تو ہاتھ میں رنگین منکوں والی تسبیح تھی… تیسرا کتنی ہی دیر نکلا ہی نہیں۔ مستجاب الدعوات مرغی نے آواز دی تو کہنے لگا: ’’ماما! مجھے ڈسٹرب مت کریں، مَیں اعتکاف میں ہوں۔‘‘ سچ پوچھیے تو اس وقت یہی صورتِ حال وطنِ عزیز کی ہے ۔ عشروں سے بھانت بھانت کے سیاسی لیڈروں کے بگاڑے نظام کو درست
مزید پڑھیے


ہوا ہے دل مِرا حیدرآباد!

منگل 21 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

میرے لیے یہ امر باعثِ حیرت و مسرت ہے کہ آج حیدر آباد دکن سے جناب مصطفی کمال کا فون آیا۔ اس بھری دنیا میں دو ہی شہر ایسے ہیں جن کے باسی ’زندہ دلان‘ کی نسبت سے معروف ہیں۔ ایک وہ جہاں سے آج فون آیا، دوسرے وہ جہاں یہ فون مجسم شادمانی کے ساتھ وصول کیا گیا۔ کبھی کبھی تو اس سلطنتِ جلوہ آرائی کی رانی محترمہ فیس بُک اور ہر ایک دل کے عزیزجنابِ وٹس ایپ کی دل و جان سے بلائیں لینے کو جی مچلتا ہے کہ نئے زمانے کے ان سہولت کاروں کی مدد سے
مزید پڑھیے


ہمیں مزید کس کس ویکسین کی ضرورت ہے!

اتوار 19 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ترقی یافتہ اور با شعور دنیا کا دیرینہ دستور ہے کہ وہاں جب بھی کوئی مرض یا مسئلہ سر اٹھاتا ہے ، اس سے آنکھیں نہیں چرائی جاتیں بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے سب سے پہلے اس سے چھٹکارے کی کوئی وقتی تدبیر کر کے متاثرہ افراد کا فوری علاج یا ہنگامی امداد کی جاتی ہے۔ پھر متعلقہ محکمے اور ذمہ دار ادارے حرکت میں آتے ہیں اور ٹھوس تحقیق کے ساتھ اس مسئلے یا مرض کے مستقل تدارک کا کوئی پکا پِیڈا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ بقیہ قوم یا آنے والی نسلوں کو اس سے
مزید پڑھیے


دل کی باتیں… (آخری قسط)

منگل 14 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
پھر بیسویں صدی کی شاعری میں تو جا بجا یہی دل بَلیوں اُچھل رہا ہے۔ سَو سال کے عرصے میں ہمارے رنگا رنگ شاعروں نے دل پھینکنے اور رکھنے کے کیا کیا جتن کیے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔ ناصر کاظمی جدید اُردو غزل کا بڑا نفیس تعارف ہے۔ شاید ہی کوئی غزل کا دلدادہ ہو، ناصر کا کوئی نہ کوئی شعر جس کے دل میں دھڑکن بن کر نہ دھڑکتا ہو۔ ذرا دیکھیے کہ ناصر نے اس عضوِ خودسَر کے تاروںکو کس کس انداز سے چھیڑا ہے: دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تِری یاد تھی،
مزید پڑھیے



سرگودھے کا جو ذکر کیا…

اتوار 12 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ڈاکٹر محمد سلیم مظہرجس قدر با ذوق اور با ادب ہیں، اس سے کہیں زیادہ وسیع الظرف بھی ہیں۔ وہ نہایت حلیم الطبع اور سلیم الفطرت انسان ہیں، یہی وجہ ہے کہ قدرت نے انھیں بے پناہ نوازا ہے۔ اورینٹل کالج کے شعبۂ فارسی میں ان کے زمانۂ طالب علمی سے عرصۂ تدریس اور ، رئیسِ شعبہ ، ڈین اور پرو وائس چانسلر جامعہ پنجاب سے لے کے وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی تک کا تمام سفر میری نظروں اور زمانے کی خبروں میں ہے۔ اس دل ربائی اور خوش ادائی کی بابت یہی کہا جا سکتا ہے: یہ رتبۂ بلند
مزید پڑھیے


دل کی باتیں

پیر 06 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کچھ عرصہ قبل 92 نیوز چینل کی صبح کی نشریات میں دل کے موضوع پہ براہِ راست نشر ہونے والے ایک مذاکرے میں ، جہاں ہمیں اُردو شاعری میں دل کے تصور پہ بات کرنے کی غرض سے مدعو کیا گیا تھا، خاتون میزبان (غالباً اقرا بخاری) نے تعارف کے فوراً بعد پوچھا: ’’ڈاکٹر صاحب! آج آپ دل کی بات کرنے آئے ہیں ؟ ‘‘ ہم نے ان کی اصلاح اور اپنے دفاع کی خاطر عرض کیا: ’’محترمہ یہ پروگرام گھر میں میری بیوی بھی دیکھ رہی ہے، اس لیے تصحیح کیے دیتا ہوں کہ آپ نے مجھے دل کی بات
مزید پڑھیے


یہ ڈینگی ڈینگی کیا ہے؟

اتوار 05 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
معروف ادیب اور خانوادۂ نظامیہ کے چشم و چراغ خواجہ حسن نظامی نے آج سے تقریباً ایک صدی قبل مچھر کے حُلیے اور حِیلے کے تذکرے میں لکھا تھا: ’’یہ بِھنبھناتا ہوا ننھا سا پرندہ آپ کو بہت ستاتا ہے۔ رات کی نیند حرام کر دی ہے۔ ہر روز اس کے مقابلے کے لیے مہمیں تیار ہوتی ہیں، جنگ کے نقشے بنائے جاتے ہیں مگر مچھروں کے جرنیل کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ شکست پر شکست ہوئی چلی جاتی ہے اور مچھروں کا لشکر بڑھا چلا جاتا ہے… طاعون نے گڑ بڑ مچائی تو انسان نے کہا کہ طاعون
مزید پڑھیے


اچھے لوگوں کی انوکھی باتیں

منگل 30 نومبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
سعادت حسن منٹو بھی کیسا سفاک حقیقت نگار تھا کہ اس کا قلم جب بھی بولتا، کفن پھاڑ کے بولتا۔ کسی سے رُو رعایت کرنا تو اُس کے مقدر ہی میں نہیں لکھا تھا۔ ہمارے ہاں بد تمیز اور ہر بات منھ پہ بول دینے والے بچے کی بابت کہا جاتا ہے کہ ’اس کی زبان کا تو ٹانکا ہی ٹوٹا ہوا ہے۔‘ اس حساب سے منٹو کے قلم کی زبان کا تو جانے کیا کیا کچھ ٹوٹا ہوا تھا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’ہمارے ہاں جب کوئی بڑا آدمی مر جاتا ہے تو اس کے کردار کو لانڈری میں بھیج
مزید پڑھیے


ای چالان: ایک اور سماجی بد تمیزی

اتوار 28 نومبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہماری بہت سی قومی بد قسمتیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ہر اچھے کام کو بھی نہایت برے طریقے سے کرنے کے عادی ہیں۔ کل ہی ایک لندن پلٹ دوست سے بات چیت ہو رہی تھی جو تفریح و تقاریب کے لیے ہمیشہ وطنِ عزیز کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مَیں سیر و تفریح اور کاروبار کی خاطر بھانت بھانت کے ملکوں میںگھوما ہوں اور پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ قادرِ مطلق نے جتنے متنوع قدرتی وسائل، متبرک موسموں اور متفرق زمینی مزاجوں سے پاکستان کو نوازا ہے، ایسی رنگا رنگی
مزید پڑھیے








اہم خبریں