Common frontend top

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


چلو چلو بہاول پور!


بہاول پور خوابوں اور نوابوں کا شہر ہے، ایسے نوابوں کا جنھوں نے انگریزوں کی ذرا سی کج ادائی پر ان کی بھاری اخراجات اور نخرہ جات سے تیار ہونے والی رولز رائس کو بہاول پور کی سڑکوں پر رول دیا تھا۔ اس ریاست کی بنیاد نواب صادق محمد خاں عباسی اول نے 1727ء میں رکھی۔ 1774ء میں ان کے بیٹے نواب بہاول خان عباسی نے دریائے ستلج کے کنارے ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی، جسے بہاول پور کا نام دیا۔ نواب صادق محمد خاں پنجم کے دور میں اس ریاست کے ہر شعبے نے بہت ترقی کی۔ بالخصوص
منگل 23 نومبر 2021ء مزید پڑھیے

ذرا کرتار پور تک

اتوار 21 نومبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہمارے محب ڈاکٹر علی محمد خاں پانی پتی کو بھی قدرت نے کیا سیماب صفتی عطا کی ہے کہ نچلا بیٹھنا تو دُور کی بات کہیں ٹِک کر بیٹھنے کا بھی نام نہیں لیتے۔ کبھی آسٹریلیا، کبھی انگلینڈ، کبھی دبئی، گویا ایک چکر ہے مِرے پاؤں میں زنجیر نہیں… کبھی ملک میں رہنا نصیب ہو بھی جائے تو بھی زمین کا گز بنے رہتے ہیں۔ اَسّی سال کے ہو گئے لیکن ان کی سرگرمیاں دیکھ کے لگتا ہے ابھی اِسی سال جوان ہوئے ہیں۔ اپنی شادی کی پچاسویں سالگرہ بھی ایسے منائی جیسے کوئی پہلا ہنی مون مناتا ہے۔ بیوی
مزید پڑھیے


ما بعد ظرافت… (آخری قسط)

منگل 16 نومبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
پیروڈی کے بارے میں یہ بھی جان رکھیں کہ یہ اتنی شریر ہوتی ہے کہ کسی بندھے ٹِکے مفہوم یا طے شدہ الفاظ میں ہلکی سی تبدیلی سے قاری، سامع، موضوع اور کبھی کبھی صاحبِ موضوع کی بھی باچھیں کھل جاتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ اتنی ظالم بھی ہے کہ بعض اوقات بڑے بڑوں کے ضمیر اور کردار پہ زہریلے سانپ کی طرح لڑ جاتی ہے۔ مثال کے طور پہ مشتاق احمد یوسفی جب جنرل ضیا سے کسی اختلاف کی بنا پر بینکنگ کونسل کی چیئرمین شپ سے استعفا دے کر لندن چلے گئے اور گیارہ سال یعنی ان
مزید پڑھیے


ما بعد ظرافت

اتوار 14 نومبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
پیروڈی، جسے اُردو میں تحریف کا نام دیا جاتا ہے، ہر زبان کے ادب میں ظرافت کا ایک کارگر اور شریر حربہ خیال کیا جاتا ہے۔یہ اصل میں کسی معروف و مقبول فن پارے کے ساتھ کی جانے والی وہ ہلکی پھلکی سی شرارت ہوتی ہے، جو شگفتگی پہ منتج ہونے کے ساتھ ساتھ سوچ، مزاج اور روایت کا رُخ بھی تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ کسی بھی گوارا عمل کا خوشگوارا ردِ عمل ہوتا ہے۔ یہ ادب کے چاغی میں خوش دماغی کا دھماکہ کرنے جیسی حکمتِ عملی ہے۔یہ دودھ کی نہر کو بھاگ کی جاگ لگا کر بھاگ
مزید پڑھیے


مزید اقبالیات… (آخری قسط)

منگل 09 نومبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
آج ہماری زندگیوں پہ قرآن جیسی لافانی ولاثانی کتاب بلکہ ’نسخۂ کیمیا‘ کا اثر اس لیے دکھائی نہیں دیتا کہ ہم نے اسے سمجھ کے پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ پوری دنیا نے اس سے استفادہ کیا۔ہمارے لوگوںکو آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ نماز کا ایک ایک لفظ دعاؤں، التجاؤں، وفاؤں اور ایفاؤں پر مشتمل ہے۔ ہم نے گریبان میں جھانک کے ’اِیاکَ نعبدُ وَاِیاکَ نستعین‘‘ والے معاہدوں کے عملی اظہار کی صورتوں پہ غور کرنے کی کبھی زحمت ہی نہیں کی۔ اقبال تو اسلام جیسی وقیع امانت ’نیم حکیموں‘ کے سپرد کرنے کے
مزید پڑھیے



مزید اقبالیات

اتوار 07 نومبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
انیسویں صدی کے رُبعِ آخر میں پنجاب کے قصبے سیالکوٹ کے ایک لوئر مڈل گھرانے کے نیم خواندہ اور معمولی سے تاجر شیخ نور محمد اور سیدھی سادھی گھریلو خاتون امام بی بی کے ہاں پیدا ہونے کے بعد معمول کی تعلیم حاصل کرتے، محلّے کے عام بچوں کی طرح کبوتر اڑاتے، کنچے کھیلتے ، اَدرڑھکا پیتے، تہمد باندھتے، کچی عمر میں قریبی عزیزہ کریم بی بی سے شادی کے لیے والدینی خواہش کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے، مناسب سے نمبروں کے ساتھ میٹرک کر کے اپنی ہزاروں خواہشیں اور خاندان کی ڈھیروں امیدیں سینے میں سمائے اعلیٰ تعلیم
مزید پڑھیے


میرے حصے کا ممتاز مفتی (آخری قسط)

منگل 02 نومبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ممتاز مفتی کی آٹھوں حِسیں پوری طرح بیدار ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ دنیا داری اور دلداری ان کے ساتھ سائے کی طرح چلتی تھیں۔ فسادات کے زمانے میں بٹالہ سے احمد بشیر کے ہمراہ جان پہ کھیل کے اعزہ کو بھگا کے لے آنا بھی انھی کی دلیری ہے اور مفادات کے زمانے میں ایک شادی شدہ خاتون کو بھگا کے شادی کرنا بھی انھی کی دیدہ دلیری۔ چھیاسی سال کی عمر میں نوجوان محبوبہ کو سکوٹر پہ بٹھا کے سیر کرانا بھی ایک حقیقت ہے اور خانہ کعبہ میں اللہ
مزید پڑھیے


میرے حصے کا ممتاز مفتی

اتوار 31 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اُردو ادب سے میری محبت کا سلسلہ بہت دیرینہ اور پیچیدہ ہے۔ اس مرض کے صحیح آغاز کا پتا تو نہیں چلایا جا سکا، البتہ اتنا یاد ہے کہ جب وجدان نے آنکھیں اور شعور نے کھاتا کھولا تو الفاظ کے دروبست کے لیے میرے اندر خوش گوار دھڑکنیں موجود تھیں۔ابتدائی جماعتوں ہی سے اُردو کہانیاں اور نصابی شاعری دریچۂ دل پہ دستک دینے لگی تھیں۔ اس سے باقاعدہ دوستی کا آغاز مطالعے کی میز پر ہوا۔ مطالعے کی رفتار اور شدت طوفانی تھی، جس میں اخبار ، رسائل، کتب، ڈائجسٹ، بلا تفریقِ ’’رنگ و نسل‘‘ آتے چلے گئے، لیکن
مزید پڑھیے


لاہور: تقریباً تقریبات کا شہر

منگل 26 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ باغوں، باغیوں، پھولوں، کالجوں، جلسے، جلوسوں اور رنگا رنگ بلکہ دنگا دنگ تقاریب کا شہر ہے۔ ہر روز اس نگری میںتقاریب کی صورت ایسا گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ بہت بچ بچا کے بھی چلیں تو ہفتے میں ایک دو مقامات پہ حاضری ہو ہی جاتی ہے۔ ٓان تقریبات کی بھی کئی قسمیں ہیں: بعض تقاریب بہرِ ملاقات ہوتی ہیں، بعض بہرِ مفادات اور بعض بہرِ مکافات۔ گزشتہ دنوں جیسے ہی مسٹر کرونا کی جانب سے زندگی کو کچھ رعایت ملی، تقاریب کی تو جیسے جھڑی لگ گئی۔ چند دنوں
مزید پڑھیے


مصلح اعظم ﷺ اور مزاح… (آخری قسط)

اتوار 24 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
حضرتِ انسان کہ جس سے متعلق باری تعالیٰ نے سورۃ والتین میں چار چیزوں (انجیر، زیتون، طورِ سینا اور امن والے شہر مکہ) کی قسم کھا کے فرمایا: لَقَد خَلَقنا الاِنسانَ فی اُحسن تَقویم ہم نے اس انسان کو نہایت بہترین انداز سے تخلیق کیا بلکہ ایک جگہ تو یہ بھی ارشاد ہے کہ ’ہم نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔‘ خدائے واحد کی اس بے مثل تخلیق کو ذہنی یا جسمانی کسی حوالے سے بھی پرکھیں، اس کی اس سے بہتر تعریف(praise اور definition دونوں معنوں میں) ممکن ہی نہیں۔یہ خدا کی بنائی واحد مخلوق ہے جسے نیابت اور
مزید پڑھیے








اہم خبریں