ڈاکٹر اشفاق احمد ورک



آہ حفیظ الرحمن احسن!


یادش بخیر! یہ دسمبر 1986ء کا لاہور ہے۔ اورینٹل کالج کے شعبۂ اردو میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی صدارت میں منعقد ہونے والے ادبی اجلاس جس میں ڈاکٹر سہیل احمد خاں، ڈاکٹر سجاد باقر رضوی، ڈاکٹر عبید اللہ خاں، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر تحسین فراقی ، جناب فخرالحق نوری اور ایم اے اردو سالِ اول و دوم کے طلبہ و طالبات کی موجودگی میں پڑھے جانیوالے اپنے پہلے مزاحیہ مضمون ’’آج جمعرات ہے‘‘ کی قرأت کے دوران چند مقامات پر بجنے والی تالیوں اور اساتذہ کرام کے چند تعریفی جملوں کا اتنا فائدہ تو ہوا کہ
بدھ 04 مارچ 2020ء

اکاسی سال کا تارڑ اور لاہور

اتوار 01 مارچ 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہمارے دوست دیدہ دلیر کا کہنا ہے کہ اتنا لہور تو خود لاہور میں نہیں ملتا، جتنا مستنصر حسین تارڑ کی تحریروں میں ملتا ہے۔ اپنے اس دوست کی بات کو خواہ مخواہ کے مبالغے کی نظر ہونے سے بچانے کی خاطر ایک سچا واقعہ بھی سن لیجیے۔ دو ایک سال ادھر کی بات ہے کہ لاہور کالج یونیورسٹی سے ایم فِل کی سند کے حصول کے لیے لکھا گیا ایک تحقیقی مقالہ زبانی امتحان کی غرض سے میرے پاس آیا، جو مستنصر حسین تارڑ کی تحریروں میں لاہور کے مختلف مقامات کی نشان دہی کی ایک کاوش تھی۔ مجھے
مزید پڑھیے


فیض: ایک شاعر، ایک شوہر

منگل 25 فروری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک دوست مجھ سے کہنے لگے: ’’ذرا جٹ کی تعریف کریں!!‘‘ عرض کیا: ’’ہوش کے ناخن لو!‘‘ بولے: ’’آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میری مراد Definition والی تعریف سے تھی۔‘‘ پھر عرض کیا: ’’معافی چاہتا ہوں، جٹ کی وہ والی تعریف بھی مشکل ہے!!‘‘ ’’کیا مطلب؟‘‘ ’’مطلب یہ کہ جس کی تعریف متعین کرنے کی کسی کو آج تک جرأت ہی نہیں ہوئی۔ آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ جس لفظ کے ساتھ ’ وحشی‘ یا ’ کھڑاک‘ جیسے سابقے، لاحقے لگائے بغیر اس کا پروٹوکول مکمل نہ ہوتا ہو، اور جو لفظ، لغت سے زیادہ جگت
مزید پڑھیے


جو ہو گیا، سو ہو گیا؟؟

اتوار 23 فروری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
جو ہو گیا، سو ہو گیا… مٹی پاؤ … ماضی کو چھوڑیں، آگے کی بات کریں … کس نے کتنا لُوٹا؟ اب اس کا کیا تذکرہ؟ … تیس پینتیس سالوں میں اگر کچھ نہیں ہوا تو کوئی بات نہیں، یہ بتائیںایک سال میں کیا کیا؟؟؟… یہ اور اس طرح کا جو فتنہ پرور، مفاد پرستانہ اور بد نیتی پر مبنی بیانیہ کچھ عرصے سے میڈیا اور سوشل میڈیا پہ مسلط کر دیا گیا۔ کچے ذہن اور بچگانہ ذہنیت کو باور کرا دیا گیا ہے کہ ماضی کی طرف نہیں دیکھنا، پیچھے کی جانب دھیان نہیں دینا…گند صاف کرنے کا تذکرہ
مزید پڑھیے


ابلیس بنام نریندر مودی

منگل 18 فروری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
برادر ِبزرگ، آداب! مجھے امید ہے کہ آپ بزرگ کہلائے جانے پر برا نہیں منائیں گے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بزرگی کا تعلق عمر سے نہیں کارناموں سے ہوتا ہے، اور اس وقت آپ اپنے مخصوص اور اہلِ صفا کی نظروں میں منحوس کارناموں کی بنا پر اتنے بڑے ہو گئے ہیں کہ کئی بار تو مجھے اپنا عہدہ چھن جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔میرے عزیز! روز ازل، اس زمیں پر اترنے سے قبل میں نے خدا کو ایک چیلنج دیا تھا کہ میں اُس کی اِس اشرف مخلوق کو اپنا مطیع بناکے دم لوں گا۔ اس وقت
مزید پڑھیے




اورینٹل، امجد اسلام امجد اور مَیں

اتوار 16 فروری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
آج سے چونتیس برس قبل جب مَیں شیخوپورہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے، پڑھ لکھ کے باؤ بننے کی غرض سے اورینٹل کالج آیا تو یہاں کے چپے چپے، ٹہنی ٹہنی، پتے پتے پر امجد اسلام امجد بکھرا پڑا تھا۔ لائبریری سے کوئی کتاب لینے جاتے تو یا تو وہ کتاب ہی امجد اسلام امجد کی ہوتی، یا اس کے خالی صفحات پہ بعض دل جلوں یا من چلوں کے ہاتھ سے لکھے امجد صاحب کے اشعار ملتے۔ لاہور کی کسی ادبی تقریب میں جاتے تو بھی اس کے کرتا دھرتا امجد صاحب ہوتے یا وہ تقریب ہی امجد
مزید پڑھیے


یہ جو کتابوں سے عشق سا ہے!!

منگل 11 فروری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
وہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا، وہی لکھنے پڑھنے کا شوق ہے تِرا نام لکھنا کتاب پر ، تیرا نام پڑھنا کتاب میں دوستو! اللہ کے فضل سے اس طویل مختصر زندگی کے بہت سے ذائقے چکھے ہیں، لیکن یہ بات پورے اعتماد اور وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان سب ذائقوں میں کتاب کا ذائقہ سب سے برتر و افضل بلکہ بے مثل ہے۔ میرا ایمان ہے کہ جو لوگ کتاب کی چاشنی، اہمیت، دوستی، ذائقے، فضیلت اور توقیر سے نا آشنا ہیں، ان کی اوقات یا حدود اربعہ کا احاطہ کرنے کے لیے ’’ بد قسمت‘‘ کا
مزید پڑھیے


سفرنامے اور صِفرنامے

اتوار 09 فروری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
سفرنامے دو طرح کے ہوتے ہیں: نمبر ایک وہ جن میں مصنف سفر کرتا ہے۔ دوسرے وہ جن میں پہلے قاری اور پھر ادب سفر(Suffer) کرتا ہے۔ سفر اگرچہ گھر سے دوری، اعزہ سے جدائی، فرائض سے چشم پوشی، معمولات سے فرار اور خواہ مخواہ کی در بدری کا نام ہے لیکن قدرت نے جانے اس میں کیا مزہ رکھا ہے کہ نئے سے نئے علاقوں، نئی سے نئی تہذیبوں، نئے سے نئے موسموں، نئے سے نئے ذائقوں، نئے سے نئے لوگوں اور نئے سے نئے حالات و واقعات سے بغل گیری کے لیے حضرتِ انسان کی رال روزِ ازل سے ٹپکتی رہی
مزید پڑھیے


کشمیر اور عالمی ضمیر

بدھ 05 فروری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اُردو ادب کے اَوکھے اور انوکھے ادیب ممتاز مفتی مرحوم نے اپنی معروفِ زمانہ اور عجیب و غریب نام والی کتاب ’’رام دین‘‘ میں اسی عنوان سے تحریر کردہ مضمون میں ہندو قوم کی ذہنیت کی بابت لکھا تھا: ’’ ہندو ایک ایسی قوم ہے جو گوشت نہیں کھاتی لیکن قوموں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ تاریخ شاہد ہے کہ برِ صغیر میں جتنی بھی قومیں آئیں، اسی مکارانہ، متعصبانہ اور ظالمانہ ’ہندتوا‘ کے مضبوط اور ڈھیٹ ہاضمے کی نذر ہو گئیں۔ آریہ آئے، دراوڑ آئے، بدھ آئے، ہندو مت نے ان سب کو ڈکار لیا۔ یا پھر ان کے او پر
مزید پڑھیے


نفاذِاُردو کا المیہ

پیر 03 فروری 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کہیں ریشم ، کہیں اطلس ، کہیں خوشبو رکھ دوں یہ تمنا ہے تِری یاد کو ہر سُو رکھ دوں یہ تبسم ، یہ تکلم ، یہ نفاست ، یہ ادا جی میں آتا ہے تِرا نام مَیں اُردو رکھ دوں دوستو! قوموں کی زندگی محض سانس لینے سے عبارت نہیں ہوتی بلکہ ان کی نبض کو متحرک رکھنے میں اس خطے کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، روایات اور اجتماعی شعور بھرپور کردار ادا کرتے ہیں اور جہاں کسی قوم کی جڑیں براہ راست کسی دین اور تہذیب میں پیوست ہوں، وہاں ان چیزوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ خطۂ ارضی کہ
مزید پڑھیے