BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



ٹرمپ کے دورہ بھارت کے مقاصد


کبھی کبھی مجھے بے پناہ حیرت ہوتی ہے کہ مرشداقبال نے محض چند برس کے مطالعے اور مشاہدے کے دوران تہذیب مغرب کے چہرے پر ترقی کے تہہ در تہہ غازے کے نیچے اس کے انسانیت کش ایجنڈے تک رسائی کیسے حاصل کر لی تھی ‘دیکھئے اقبال کتنی گہری حقیقت کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ؎ یہ علم‘ یہ حکمت‘ یہ تدبر‘ یہ حکومت پیتے ہیں لہو‘ دیتے ہیں تعلیم مساوات ہماری سادگی اور سادہ دلی دیکھیے کہ دو حرف تسلی کے جو کہہ دیتا ہے اسے نقدِ دل پیش کر دیتے ہیں۔ گزشتہ برس امریکی
منگل 25 فروری 2020ء

کہانی ہماری آنے والی نسلوں کو سنانا

جمعرات 20 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ 23اپریل 2019ء کا دن ہے۔ بلوچستان کے علاقے چمن میں چند روتے بلکتے لوگ ایک میت کو چارپائی پر رکھے احتجاج کر رہے ہیں۔یہ میت تو ایک شہید کی ہے۔ ایک ایسے شہید کی جس نے قوم کے روشن مستقبل کی خاطر اپنی جان کی قربانی دی تو پھر یہ آہ و فغاں کیسی یہ رونا دھونا کیسا؟ یہ آہ و فغاں ہماری قومی بے حسی پر ہے۔ دو لیڈی پولیو ورکرز23اپریل 2019ء کو اپنا مقدس فرض ادا کرنے نکلیں۔ وہ گھر گھر دستک دے کر پھول سے بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچانے کے لئے پولیو
مزید پڑھیے


حکمرانوں کی خواہشات

منگل 18 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
حکمرانی کے جوہر دکھانے‘تبدیلی لانے اور پاکستانی عوام کی تقدیر بدلنے کے لئے جتنے سازگار حالات جناب عمران خان کو ملے ہیں اتنے ماضی قریب بلکہ ماضی بعید کی سول حکومتوں کو نہ ملے تھے۔ پچھلی کی دوہائیوں سے جاری دہشت گردی کا خان صاحب کے برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا تھا۔سوائے مولانا فضل الرحمن کے ساری اپوزیشن منقارزیر پر ہے۔ جب انصاف گھر کی دہلیز پر تو کجا ،خستہ حال عوام کو لاکھ جتن کے بعد بھی نہیں ملتا اور خان صاحب کے ریاست مدینہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے
مزید پڑھیے


لاہور کا کتاب میلہ اور پڑھنے والوں کی بہتات

جمعرات 13 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہماری صحافتی برادری میں سے برادر عزیز عامر خاکوانی کتاب بینی‘ کتاب نویسی اور کتاب دوستی کا حق ادا کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف لاہور کے کتاب میلے میں جاتے ہیں بلکہ وہ پہروں استغراق کے ساتھ کتابیں دیکھتے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برس سے قارئین کی دلچسپی اور رہنمائی کے لئے کتابوں کا جائزہ پیش کر رہے ہیں اور یوں شوق کتاب بینی کو مہمیزکرنے کا کارخیر انجام دے رہے ہیں۔ میں کتاب میلے کے آخری روز پیر کے دن شام ڈھلے پہنچا تو ابھی ہجوم عاشقاں موجود تھا اور اکثر سٹالوں پر کھوے سے کھو اچھل رہا تھا۔ہمارے
مزید پڑھیے


دیوارِ خستگی

منگل 11 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب ڈاکٹر اسلم انصاری لطیف جذبات‘ شدت احساس اور عمیق افکار کے شاعر ہیں۔ لاہور میں ہوتے تو آفتاب علم و ادب بن کر اپنی تب و تاب سے ایک جہان کو منورکرتے۔ تاہم ملتان کے باسی ہوتے ہوئے بھی کسی درخشندہ ستارے سے کم نہیں۔ ذرا ان کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے: دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے قمرالزماں کائرہ پیپلز پارٹی کے نہایت سنجیدہ لیڈر ہیں۔ طنز طعنے کی بجائے فکر انگیز بات کرتے ہیں دو تین روز قبل انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو آسرا دینے کی ضرورت ہے
مزید پڑھیے




وہ حسیں منظر کہ جس کو دیکھنا کافی نہ تھا

جمعرات 06 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ

اس سال لاہور میں ایک طرف سردی میں شدت تھی تو دوسری طرف گیس میں حدت نہ تھی۔ رگوں میں خون منجمد کرنے والی سردی۔ مجھے سردیوں میں چمکتا ہوا سورج بہت اچھا لگتا ہے۔ تین چار روز قبل موٹر وے کے ذریعے لاہور سے اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو وہ حسین منظر کہ دیکھنے کو ملا کہ جسے دیکھنا کافی نہ تھا۔بادل کہیں نام کو نہ تھے، ہر طرف سورج کی رو پہلی کرنیں پھیلی ہوئی تھیں اوپر صاف نیلگوں آسمان اور تاحد نگاہ سبزہ ہی سبزہ۔ سڑک کے دونوں طرف سربفلک یو کلپٹس کے شجر مستعد
مزید پڑھیے


اہل کشمیر !تمہاری جوانمردی کو سلام

منگل 04 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ذرا چشم تصور سے سوچئے کہ باہر منفی 5درجہ حرارت ہو۔ نہ صرف کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہو بلکہ برفباری بھی ہو رہی ہو۔ سرد موسم کی شدت میں ہم رضائیوں کے اندر دبک جاتے ہیں یا آتشدانوں کے سامنے ٹھنڈے ہاتھوں کو سینکتے ہیں۔ ایسے میں دو چار نہیں ہزاروں انسان ہر طرح کی رکاوٹیں عبور کر کے اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر نکل آتے ہیں۔ وہ گرتی ہوئی برف کو خاطر میں نہیں لاتے۔وہ اپنے لہو رنگ جوانوں کو دفنانے جا رہے ہیں۔ ان میں جوان ہی نہیں بوڑھے بھی ہیں‘ مرد ہی نہیں
مزید پڑھیے


ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

جمعرات 30 جنوری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ مصرع کہ ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا جناب منیر نیازی نے نہ جانے کس پیرائے میں کہا ہو گا مگر یہ آج کی ریلوے پر یوں صادق آتا ہے کہ ادھر ریل کی سیٹی بجتی ہے ادھر انجن چھک چھک کرتا ہے اور ساتھ ہی گاڑی میں بیٹھے مسافر کا دل دھک دھک کرتا ہے کہ خدا خیر کرے۔ ہر مسافر خطرے میں سفر کرتا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران جناب چیف جسٹس نے ریلوے اور اس کے وزیر کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ ایک طرف ریلوے کی سچی تصویر ہے اور دوسری
مزید پڑھیے


کیا جماعت اسلامی سیاسی خلا پُر کر سکے گی؟

منگل 28 جنوری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب عمران خان نے گزشتہ کئی برس سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو کٹہرے میں کھڑا کر رکھا تھا اور ان پر کرپشن کے الزامات لگا کر مسلسل چاند ماری کر رہے تھے۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان کا شوق سنگ باری ماند پڑنے کی بجائے افزوں تر ہو گیا۔ داخلی میدان ہو یا خارجہ محاذ خان صاحب کا مرغوب موضوع یہی ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے مالی کرپشن کی حد کر دی تھی۔ عمران خاں کی کرشماتی و طلسماتی شخصیت کے ساتھ لوگوں نے بہت زیادہ امیدیں باندھ لیں تھیں۔ اس میں کوئی شک
مزید پڑھیے


نئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ

جمعرات 23 جنوری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مجھے ملک کے اندر اور باہر سے کئی دوستوں کے فون اور میسجز آئے کہ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر نئے نامزد کردہ چیف الیکشن کمشنر کا تعلق تمہارے شہر بھیرہ سے ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ تاریخی شہر بھیرہ ضلع سرگودھا کی تحصیل ہے۔ نئے چیف الیکشن کمشنر کا تعلق بھیرہ کے ساتھ ملحقہ میانی لوکڑی کے رہنے والے ہیں۔ پنجابی میں لوکڑی بہت چھوٹے سے گائوں کو کہتے ہیں۔ وہ 1959ء میں اسی گائوں میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے حاصل کی۔ بعدازاں غالباً ساتویں جماعت کے بعد
مزید پڑھیے