BN

ڈاکٹر حسین پراچہ


آئی ایم ایف کا ایجنڈا اور بڑا بول


بڑائی اور کبریائی رب ذوالجلال کے لئے ہے اور بندوں کے لئے کیا ہے؟ بندوں کے لئے عاجزی‘ انکساری اور ہمدردی و غمخواری ہے۔ جناب عمران خان نے برسر اقتدار آنے سے پہلے ایک بڑا بول یہ بولا تھا کہ میں خودکشی کر لوں گا مگر کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جائوں گا۔ اللہ نہ کرے وہ کبھی خودکشی کریں۔ اللہ انہیں زندہ و سلامت رکھے مگر اپنے بڑے بول کا خمیازہ وہ خود بھی بھگت رہے ہیں اور ساری قوم بھی بھگت رہی ہے۔ اس سے زیادہ توہین آمیز سلوک کیا ہو گا کہ آئی ایم ایف اس
منگل 07 مئی 2019ء

دو بڑی پارٹیوں کے اندرونی حالات

هفته 04 مئی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کارکن بیچارے ادھر کے ہوں یا اُدھر کے انہیں کچھ پتہ نہیں کہ اندر ہی اندر کیا ہو رہا ہے۔ کون آ رہا ہے کون جا رہا ہے کسی کو کچھ خبر نہیں۔ بہت عرصے سے مسلم لیگ(ن) کے اکابر و اصاغر کا بیانیہ خامشی ہے۔ خموشی گفتگو ہے‘ بے زبانی ہے زبان میری اس ’’خموشستان‘‘ میں۔ ایک میں رونے کو تنہا انجمن میں رہ گیا۔ بلکہ ’’رہ گئی‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ اکیلی مریم اورنگزیب نے مسلم لیگ(ن) کی ترجمانی کا محاذ سنبھال رکھا ہے مگر ان کے بھی ایک دو روز پہلے کے لب و لہجے سے یہ اندازہ
مزید پڑھیے


دینی تعلیم اور قومی دھارا

جمعرات 02 مئی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
دو روز قبل میجر جنرل آصف غفور اپنی پریس کانفرنس کے آغاز میں جب یہ بات کہہ رہے تھے کہ اگر1971ء میں آج کی طرح میڈیا آزاد اور باخبر ہوتا تو سقوط ڈھاکہ کی ٹریجڈی سے ہم محفوظ رہتے اور پاکستان دو لخت نہ ہوتا۔ میں عموماً جم کر کسی میڈیا بریفنگ کو نہیں دیکھتا مگر اس روز میں ہمہ تن گوش تھا اور میری نظریں ٹیلی ویژن اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔ جب جنرل صاحب نے یہ بات کہی تو ان کے الفاظ اور ان کی باڈی لینگوئج میں مکمل ہم آہنگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے
مزید پڑھیے


آدھا تمہارا آدھا ہمارا

منگل 30 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ تیس بتیس برس کے دوران سندھ بالخصوص کراچی میں جو خوفناک فلم چلتی رہی اس کے کسی بھی سین کا تصور رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ آج اگر اس فلم کے کسی ہولناک منظرکو ریوائنڈ کر کے دیکھیں تو آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ انسانوں کی بستی میں وہ کچھ ہوتا رہا جو کسی درندوں کی ’’بستی‘‘ میں نہیں ہوتا۔ تبھی تو اس زمانے میں کراچی کے ایک شاعر نے کہا تھا: بھاگتے کتے نے اپنے ساتھی کتے سے کہا بھاگ ‘ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا کراچی کی یہ’’ہارر مووی‘‘ کبھی سیاسی مصلحتوں اور کبھی مہربانوں کی
مزید پڑھیے


سرمایہ آ رہا ہے یا جا رہا ہے؟

هفته 27 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب وزیر اعظم کو بولنے سے فرصت ملے تو وہ سوچنے پر توجہ دیں۔ عمران خان گزشتہ بائیس برس سے مسلسل بولتے چلے جا رہے ہیں۔ غالباً یہ عربی محاورہ ان کی نظر سے نہیں گزرا۔’’السکوت افصح من الکلام‘‘ کہ بسا اوقات خاموشی میں گفتگو سے کہیں بڑھ کر ابلاغ ہوتا ہے۔ جناب عمران خان ملک سے باہر جانے لگتے ہیں تو دل دھڑکنا شروع کر دیتا ہے۔ خارجہ امور کی نزاکتوں اور باریکیوں کا احساس کئے بغیر وہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس کے بارے میں کبھی دوسرے ممالک جوابدہی کرتے ہیں اور کبھی پاکستان میں خان صاحب
مزید پڑھیے



ناٹرے ڈیم سے کا شانۂ اقبال تک

جمعرات 25 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
دس روز پہلے ساڑھے آٹھ سو سال پرانے نوٹرے ڈیم چرچ میں آگ لگی تو اس کا غم صرف فرانس میں نہیں ساری دنیا میں محسوس کیا گیا۔ ناٹرے ڈیم کا تاریخی چرچ پیرس ہی کی نہیں بلکہ سارے فرانس کی پہچان ہے۔ جب آگ کے شعلے چرچ کی بلند و بالا عمارت سے بلند ہورہے تھے تو ناٹرے ڈیم کے اردگرد کی گلیوں میں پیرس کے لوگ رو رہے تھے اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہے تھے تا کہ اس تاریخی ورثے کو نقصان نہ پہنچے۔ ناٹرے ڈیم کے قرب و جوار میں ہی نہیں، ساری دنیا میں
مزید پڑھیے


نرالے لوگ اور غیر ضروری بحثیں

منگل 23 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مستقل مزاجی اور ثابت قدمی وہ اوصاف ہیں جو قوموں کو اوج ثریا تک لے جاتے ہیں۔ یہی قانون فطرت ہے۔ یہی ارشاد باری تعالیٰ ہے جو سورہ آل عمران میں نازل فرمایا گیا ہے! ’’پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔‘‘ جو قومیں قدم قدم پر راستہ بدل لیتی ہیں وہ کبھی منزل مقصود پر نہیں پہنچتیں۔ راستے ہی میں بار بار بھٹک جاتی ہیں۔ جو قومیں جہانبانی و حکمرانی جیسے سنجیدہ و ذمہ دارانہ کام کو بازیچہ اطفال بنا دیتی ہیں وہ آگے بڑھنے کی بجائے بار بار آپس کی بحثوں
مزید پڑھیے


کیا اب تبدیلی آ جائے گی؟

هفته 20 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہمیں خود ذاتی طور پر شہر اقتدار کا تجربہ ہے کہ یہاں شام تک سب اچھا ہوتا ہے مگر اگلی صبح آپ بیدار ہوتے ہیں تو بڑے بڑے برج الٹ چکے ہوتے ہیں۔ شہر اقتدار میں ’’اقتدار‘‘ کو آنکھیں پھیرنے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔ جناب اسد عمر آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کے بعد اسلام آباد لوٹے تو ان سے اخباری رپورٹروں نے پوچھا کہ یہاں تو آپ کے جانے کی افواہیں گرم ہیں‘ آپ کے پیچھے آپ کے کچھ مہربان سرگرم عمل رہے۔ اس پر اسد عمر نے کمال سادگی اور خود اعتمادی سے جواب دیا کہ: ہزاروں
مزید پڑھیے


نیب کا مستحسن فیصلہ

جمعرات 18 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
پنجاب کے جس علاقے سے چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کے آبائو اجداد کا تعلق ہے ہم بھی وہاں کے رہنے والے ہیں۔ اس علاقے میں یہ اکھان بہت مشہور ہے کہ ’’ددھیاں دھیانیاں سانجھیاں ہوندیاں نے‘‘ یعنی بہو بیٹیوں کی عزت و تکریم سب پر واجب ہوتی ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی بیمار بیگم نصرت شہباز اور ان کی دو صاحبزادیوں کی نیب میں طلبی کے احکامات منسوخ کیے تو میڈیا و سوشل میڈیا پر خیالی گھوڑے دور دور تک دوڑائے گئے، کچھ تجزیہ کاروں نے اسے نیب کی کمزوری پر معمول کیا، کچھ
مزید پڑھیے


جلیانوالہ باغ سے گجرات تک

منگل 16 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تاریخ کو بدلا تو نہیں جا سکتا مگر ماضی میں ڈھائے گئے مظالم پر شرمسار تو ہوا جا سکتا ہے۔ بھارت میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر نے جلیانوالہ باغ کی یاد گار پر پھول چڑھانے کے بعد ملکہ برطانیہ کا پیغام پڑھتے ہوئے کہا کہ ہم تاریخ کو شاید دوبارہ لکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں البتہ ہم تاریخ سے صرف سبق سیکھ سکتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ خود کو مہذب اور ترقی یافتہ کہنے والی دنیا تاریخ سے سبق حاصل کرنے پر آمادہ نہیں اور بار بار اسی ظالمانہ تاریخ کودوہرانے پر مصر ہے۔
مزید پڑھیے