BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



عورت مارچ کا ہنگامہ


میری خاتون اینکر کولیگ نے برہمی سے کہا کہ ہم تو آپ کو اچھا خاصا ماڈرن سمجھتے تھے مگر آپ بھی اندر سے مولوی نکلے۔ میں نے پوچھا کیوں کیا ہوا؟ کہنے لگیں آپ عورتوں کی آزادی کے خلاف ہیں۔ جواباً عرض کیا بی بی! میں عورتوں کی آزادی کے نہیں بے حیائی کے خلاف ہوں۔ گزشتہ برس کے عورت مارچ کا غالب پلے کارڈ تھا۔ میرا جسم میری مرضی۔ ایک پوسٹر پر نیم عریاں لباس میں ملبوس ایک لڑکی کو نہایت بے ہودہ طریقے سے بیٹھے ہوئے دکھایا گیا تھا جس کے نیچے یہ طنزیہ جملہ درج تھا کہ لو
جمعرات 05 مارچ 2020ء

دو تاریخی لمحے

منگل 03 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تاریخی لمحے قوموں کی قسمت بدل دیتے ہیں بشرطیکہ ان کی قدرو قیمت کو کماحقہ پہچانا جائے۔25فروری 1989ء افغانستان کی حالیہ تاریخ کا وہ پہلا تاریخی لمحہ تھا جب غیور افغان قوم کے سربکف مجاہدین نے ایک سپر پاور کو ناکوں چنے چبوائے ‘اسے ہزیمت سے دوچار کیا اور اسے اپنی مقدس سرزمین سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔سپر پاور کے نکل جانے کے بعد جب قومی مفاہمت اور ایک متفقہ حکومت کے قیام کا مرحلہ آیا تو اس میں افغان قوم بالغ نظری اور دور اندیشی سے کام نہ لے سکی۔ لہٰذا ملک میں خانہ جنگی شروع ہو
مزید پڑھیے


’’بابائے کراچی‘‘ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ

جمعرات 27 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ سابق میئر کراچی سے ہماری پرانی نیاز مندی تھی۔ کچھ مدت پہلے انہیں مانچسٹر ایئر پورٹ پر دیکھا۔ میں قطار میں پیچھے تھا وہ مجھ سے آگے وہ تیز تیز قدم اٹھاتے جا رہے تھے۔ غالباً مانچسٹر ہی ان کی منزل تھا جبکہ میں ٹرانزٹ مسافر تھا۔ لپک کر ان کی طرف بڑھا مگر وہ مسافروں کے ہجوم میں آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ بروز منگل انہوں نے ساری دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ تاہم خدمت خلق کے لئے ان کے سینکڑوں منصوبے انہیں کبھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں
مزید پڑھیے


ٹرمپ کے دورہ بھارت کے مقاصد

منگل 25 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کبھی کبھی مجھے بے پناہ حیرت ہوتی ہے کہ مرشداقبال نے محض چند برس کے مطالعے اور مشاہدے کے دوران تہذیب مغرب کے چہرے پر ترقی کے تہہ در تہہ غازے کے نیچے اس کے انسانیت کش ایجنڈے تک رسائی کیسے حاصل کر لی تھی ‘دیکھئے اقبال کتنی گہری حقیقت کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ؎ یہ علم‘ یہ حکمت‘ یہ تدبر‘ یہ حکومت پیتے ہیں لہو‘ دیتے ہیں تعلیم مساوات ہماری سادگی اور سادہ دلی دیکھیے کہ دو حرف تسلی کے جو کہہ دیتا ہے اسے نقدِ دل پیش کر دیتے ہیں۔ گزشتہ برس امریکی
مزید پڑھیے


کہانی ہماری آنے والی نسلوں کو سنانا

جمعرات 20 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ 23اپریل 2019ء کا دن ہے۔ بلوچستان کے علاقے چمن میں چند روتے بلکتے لوگ ایک میت کو چارپائی پر رکھے احتجاج کر رہے ہیں۔یہ میت تو ایک شہید کی ہے۔ ایک ایسے شہید کی جس نے قوم کے روشن مستقبل کی خاطر اپنی جان کی قربانی دی تو پھر یہ آہ و فغاں کیسی یہ رونا دھونا کیسا؟ یہ آہ و فغاں ہماری قومی بے حسی پر ہے۔ دو لیڈی پولیو ورکرز23اپریل 2019ء کو اپنا مقدس فرض ادا کرنے نکلیں۔ وہ گھر گھر دستک دے کر پھول سے بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچانے کے لئے پولیو
مزید پڑھیے




حکمرانوں کی خواہشات

منگل 18 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
حکمرانی کے جوہر دکھانے‘تبدیلی لانے اور پاکستانی عوام کی تقدیر بدلنے کے لئے جتنے سازگار حالات جناب عمران خان کو ملے ہیں اتنے ماضی قریب بلکہ ماضی بعید کی سول حکومتوں کو نہ ملے تھے۔ پچھلی کی دوہائیوں سے جاری دہشت گردی کا خان صاحب کے برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا تھا۔سوائے مولانا فضل الرحمن کے ساری اپوزیشن منقارزیر پر ہے۔ جب انصاف گھر کی دہلیز پر تو کجا ،خستہ حال عوام کو لاکھ جتن کے بعد بھی نہیں ملتا اور خان صاحب کے ریاست مدینہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے
مزید پڑھیے


لاہور کا کتاب میلہ اور پڑھنے والوں کی بہتات

جمعرات 13 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہماری صحافتی برادری میں سے برادر عزیز عامر خاکوانی کتاب بینی‘ کتاب نویسی اور کتاب دوستی کا حق ادا کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف لاہور کے کتاب میلے میں جاتے ہیں بلکہ وہ پہروں استغراق کے ساتھ کتابیں دیکھتے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برس سے قارئین کی دلچسپی اور رہنمائی کے لئے کتابوں کا جائزہ پیش کر رہے ہیں اور یوں شوق کتاب بینی کو مہمیزکرنے کا کارخیر انجام دے رہے ہیں۔ میں کتاب میلے کے آخری روز پیر کے دن شام ڈھلے پہنچا تو ابھی ہجوم عاشقاں موجود تھا اور اکثر سٹالوں پر کھوے سے کھو اچھل رہا تھا۔ہمارے
مزید پڑھیے


دیوارِ خستگی

منگل 11 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب ڈاکٹر اسلم انصاری لطیف جذبات‘ شدت احساس اور عمیق افکار کے شاعر ہیں۔ لاہور میں ہوتے تو آفتاب علم و ادب بن کر اپنی تب و تاب سے ایک جہان کو منورکرتے۔ تاہم ملتان کے باسی ہوتے ہوئے بھی کسی درخشندہ ستارے سے کم نہیں۔ ذرا ان کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے: دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے قمرالزماں کائرہ پیپلز پارٹی کے نہایت سنجیدہ لیڈر ہیں۔ طنز طعنے کی بجائے فکر انگیز بات کرتے ہیں دو تین روز قبل انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو آسرا دینے کی ضرورت ہے
مزید پڑھیے


وہ حسیں منظر کہ جس کو دیکھنا کافی نہ تھا

جمعرات 06 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ

اس سال لاہور میں ایک طرف سردی میں شدت تھی تو دوسری طرف گیس میں حدت نہ تھی۔ رگوں میں خون منجمد کرنے والی سردی۔ مجھے سردیوں میں چمکتا ہوا سورج بہت اچھا لگتا ہے۔ تین چار روز قبل موٹر وے کے ذریعے لاہور سے اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو وہ حسین منظر کہ دیکھنے کو ملا کہ جسے دیکھنا کافی نہ تھا۔بادل کہیں نام کو نہ تھے، ہر طرف سورج کی رو پہلی کرنیں پھیلی ہوئی تھیں اوپر صاف نیلگوں آسمان اور تاحد نگاہ سبزہ ہی سبزہ۔ سڑک کے دونوں طرف سربفلک یو کلپٹس کے شجر مستعد
مزید پڑھیے


اہل کشمیر !تمہاری جوانمردی کو سلام

منگل 04 فروری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ذرا چشم تصور سے سوچئے کہ باہر منفی 5درجہ حرارت ہو۔ نہ صرف کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہو بلکہ برفباری بھی ہو رہی ہو۔ سرد موسم کی شدت میں ہم رضائیوں کے اندر دبک جاتے ہیں یا آتشدانوں کے سامنے ٹھنڈے ہاتھوں کو سینکتے ہیں۔ ایسے میں دو چار نہیں ہزاروں انسان ہر طرح کی رکاوٹیں عبور کر کے اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر نکل آتے ہیں۔ وہ گرتی ہوئی برف کو خاطر میں نہیں لاتے۔وہ اپنے لہو رنگ جوانوں کو دفنانے جا رہے ہیں۔ ان میں جوان ہی نہیں بوڑھے بھی ہیں‘ مرد ہی نہیں
مزید پڑھیے