BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



میں وہ محروم کہ پایا نہ زمانہ تیرا


قائد اعظم ؒ کی وفات سے لے کر آج تک قدم قدم پر قوم اپنے محسن کو یاد کرتی اور شدید محرومیت محسوس کرتی ہے۔ میں بھی خود کو بہت محروم محسوس کرتا ہوں مگر میرا احساس قدرے مختلف ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ یہاں طاقت کے سرچشموں اور اقتدار کی غلام گردشوں سے پنپنے والی سرگرمیوں اور سازشوں سے شاید بابائے قوم بھی محفوظ نہ رہتے، جیسے ان کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان مشکلات سے گزرنا پڑا۔ انتخاب میں انہیں 1964ء کے بالواسطہ شکست دی گئی اور انہیں نہایت ہی ناروا القابات سے نوازا
جمعرات 26 دسمبر 2019ء

’’صدر نہیں قانون بادشاہ ہے‘‘

منگل 24 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ

میرے ایک بزرگ ڈاکٹر حافظ عبدالحق مرحوم برس ہا برس طائف کے سرکاری ہسپتال میں طبی خدمات انجام دیتے رہے پھر ریٹائر ہو کر کئی دہائیوں تک مکتہ المکرمہ میں مقیم رہے۔ بڑے اللہ والے تھے۔ حکیمانہ نصیحت نہایت دل نشیں انداز میں کیا کرتے تھے۔ گزشتہ برس ان کا انتقال ہوا۔ ان کی زندگی کی آخری ساعتوں تک ان سے رابطہ رہا۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا کرتے کہ کبھی کسی ایونٹ یا خبر کے بارے میں چٹاخ پٹاخ فی الفور بات نہ کیا کرو۔ خوب غور و فکر اور زیر بحث موضوع کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے
مزید پڑھیے


سرخ سویرا اور طلبہ یونین

بدھ 04 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مجھے اس بات سے زیادہ غرض نہیں کہ پہلے لاہور کے فیض امن میلے اور پھر 29نومبر کو ملک کے مختلف شہروں میں ایشیا کو سرخ بنانے کے خواہش مند طلبہ و طالبات مٹھی بھر تھے یا چند سو تھے‘ اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی داخلی دنیا تک خود کو محدود کرنے والے نوجوان منظر عام پر تو آئے۔ لب بام تو آئے اور ہمیں یہ معلوم ہوا کہ محدود ہی سہی مگر کچھ نوجوان سماج کی بعض اقدار سے گھٹن محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تو بعد میں دیکھتے ہیں کہ ان طلبہ و طالبات کو سرخ
مزید پڑھیے


پنجاب: بغیر کپتان کے ٹیم

منگل 03 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب عمران خان کا طرزِ سیاست بڑا دلچسپ ہے۔ بعض لوگ اسے پیچیدہ سمجھتے ہیں مگر دراصل یہ اندازِ حکمرانی بڑا سادہ ہے۔ اپنے اعتراض کریں یا نہ کریں اپنی کابینہ کے لوگ دبی زبان میں فریاد پیش کریں یا اپوزیشن نالائقی کے علی الاعلان طعنے دے، خان صاحب ایک تابڑ توڑ جواب دے کر مخالفین کی زبانیں گنگ کروا دیتے ہیں۔ اپنے ہوں یا ’’پرائے‘‘ سب یک زبان ہیں کہ پنجاب میں گورننس نام کی کوئی شے نہیں، ترقیاتی کام نہیں ہو رہے، کئی ماہ سے لاہور اور دوسرے شہروں میں ڈینگی نے اودھم مچا رکھا ہے۔ لاہور شہر
مزید پڑھیے


راستہ

اتوار 01 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر وقت کسی نجات دھندہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کسی ایسے طلسماتی کردار کی راہ تکتے ہیں جو آئیگا اور ہمارے سارے زخم سی دے گا، ہمارا ہر دکھ سکھ میں بدل دے گا اور ہماری ہر محرومی کو مسرت و شادمانی کا خوش رنگ لباس پہنا دے گا۔ ہم اجتماعی دانش کی اہمیت کو ابھی تک سمجھتے ہیں اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جونہی کوئی دو حرف تسلی کے کہتا ہے ہم اس سے ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی دو حرف تسلی کے جس نے بھی کہے
مزید پڑھیے




آصف علی زرداری کے بارے میں ایک کالم

بدھ 27 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آج موضوعات کا ہجوم ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک موضوع اہم اور فوری نوعیت کا حامل ہے آج بروز منگل اسلام آباد ہائی کورٹ اس درخواست کی سماعت کرے گا جو سابق صدر پرویز مشرف اور حکومت نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ دائر کی ہے اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 28نومبر کو سپیشل کورٹ کی جانب سے غداری کیس کا آنے والا فیصلہ روک دیا جائے۔ ادھر الیکشن کمشن روزانہ کی بنیاد پر پی ٹی آئی فارنگ فنڈنگ کیس کی سماعت شروع کر رہا ہے جس کیس کو پی ٹی ائی مختلف قانونی موشگافیوں
مزید پڑھیے


قرآن سوزی کا دل خراش واقعہ

منگل 26 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مسلمان ایمان اور اعمال کے کسی درجے میں بھی کیوں نہ ہو، وہ اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید اور اللہ کے آخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھتا ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرتا۔ مغرب کو بھی یقینا مسلمانوں کی اس حساسیت کا پوری طرح اندازہ ہے۔ اسی لیے آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ مغربی دنیا میں رونما ہو جاتا ہے یا برپا کر دیا جاتا ہے کہ جس میں کتاب اللہ کی بے حرمتی یا نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم
مزید پڑھیے


قیس سعید کی حیرتناک کامیابی

هفته 23 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
قیس سعید مجھے ہی نہیں ساری دنیا کو حیران کر گیا ہے۔ قانون کا ریٹائرڈ پروفیسر‘ نہ شعلہ بیانی نہ گرم گفتاری اور نہ ہی ’’شیریں مقالی‘‘سادگی ‘سنجیدگی اور سمجھداری ہی قیس سعید کا سہ لفظی تعارف ہے۔ اسی سال اکتوبر میں جب ہم اپنے داخلی معاملات و مسائل میں الجھے ہوئے تھے تب تیونس کے صدارتی انتخابات میں 61سالہ پروفیسر نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا۔ اس کے مقابلے میں قلب تونس پارٹی کا ارب پتی امیدوار نبیل القروی تھا۔ حیران کن آدمی نے چند ہزار روپے خرچ کر کے حیران کن کامیابی حاصل کی اور جدید
مزید پڑھیے


کیا 2020ء الیکشن کا سال ہے؟

بدھ 20 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
بنوامیہ کا حکمران سلیمان بن عبدالملک شدید بیمار ہو گیا۔ اس نے چاہا کہ اپنے کمسن بیٹے ایوب کو خلیفہ نامزد کر دے مگر معروف صاحبِ علم حضرت رجاد بن حیاۃ نے ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ سلیمان نے حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے بارے میں پوچھا تو حضرت رجاد نے کہا واللہ یہ حسنِ انتخاب ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کو سن گن ملی تو انہوں نے حضرت رجاد سے درخواست کی کہ اگر سلیمان کا روئے سخن میری طرف ہو تو میرے نام کی مخالفت کرنا۔ جب سلیمان کا انتقال ہوا تو حضرت رجاد نے جامع مسجد
مزید پڑھیے


آٹھ آنے

منگل 19 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
پہلے مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد میں دھرنے پر وہاں کے پرائمری سکول کے ایک طالب علم کا تبصرہ سن لیجیے۔ دھرنے کے دوران صبح اسلام آباد میں سکول جاتے بچے نے اپنے دوست سے کہا یارا جو دھرنا ایک دن کے لئے سکول بند نہیں کرا سکا وہ وزیر اعظم کا استعفیٰ کیا خاک لے گا۔ اس تبصرے میں اس دھرنا تربیت کا عکس موجود ہے جو گزشتہ کئی برس سے ہمارے قائدین کرام نسل نو کی کر رہے ہیں۔ اب ایک جھلک اس تربیت کی بھی دیکھ لیجئے جو قائد اعظم محمد علی جناح اپنی قوم کے
مزید پڑھیے