BN

ڈاکٹر طاہر اشرف


امریکہ اور چین کے مابین سرد جنگ کا آغاز


صدر جو بائیڈن نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکہ تائیوان کا دفاع کرے گا۔ سی این این کی ایک ٹاؤن ہال تقریب کے موقع پر حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہ چین نے ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا ہے جب صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ "تائیوان کی حفاظت کا عہد" کر سکتے ہیں ، اور وہ چین کی عسکری ترقی کو جاری رکھنے کے لیے کیا کریں گے تو امریکی صدر نے جواب دیا: "ہاں اور ہاں۔ اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں
پیر 25 اکتوبر 2021ء مزید پڑھیے

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا مستقبل؟

پیر 18 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
پاکستان اور امریکہ کے درمیان موجودہ باہمی تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں جنہیں جمود کی کیفیت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں بھی دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات اتار چڑھاؤ کی صورتحال کا سامنا کرتے رہے ہیں مگر جب سے جو بائیڈن نے امریکی صدارت سنبھالی ہے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں موجودہ سرد مہری کے پیچھے ایک اہم عنصر افغانستان کی صورتحال ہے خصوصی طور پر جب سے افغانستان میں طالبان نے حکومت کی باگ ڈور
مزید پڑھیے


افغانستان، ایران تعلقات کا مستقبل

پیر 11 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
کون کہہ سکتا تھا کہ افغان طالبان اور ایران کے مابین باہمی قریبی تعلقات بھی قائم ہوسکتے ہیں مگر دونوں نے نہ صرف باہمی روابط استوار کیے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کیا۔1996 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام میں آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کے بگاڑ میں اِضافہ ہونا شروع ہوگیا اور اِس کی توقع بھی کی جا رہی تھی کیونکہ دونوں ملکوں میں اِسلام کے مختلف مسالک کو ماننے والے اور سخت گیر موّقف کے حامل گروپوں کو حکومتی نظام میں مرکزی فوقیت حاصل تھی۔ اِسی پس منظر میں1998
مزید پڑھیے


امریکہ،فرانس تعلقات میں دراڑ کے یورپی یونین پر ممکنہ اثرات

اتوار 03 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دینا اور اس کا تحفظ یقینی بنانا انسانی فطرت میں شامل ہے۔قومیں اور ملک افراد سے بنتے ہیں،اِسی لیے انکے رویے بھی انسانی فطرت کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں اور عالمی سیاست کے اَکھاڑے میں ہر ملک اپنے مفاد کو عزیز رکھتا ہے اور اِسی کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ اِس کی تازہ مثال فرانس اور امریکہ کے درمیان باہمی تعلقات کی حالیہ نوعیت کی دی جا سکتی ہے۔فرانس اور امریکہ کے باہمی قریبی تعلقات صدی پرانے ہیں،دونوں ملک جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوئم میں بھی حلیف تھے جبکہ جنگ عظیم
مزید پڑھیے


افغانستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کا ممکنہ کردار

منگل 21  ستمبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
گزشتہ ہفتے تاجکستان کے شہر دوشنبے میں منعقد ہو نے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے 20 ویں سربراہی اجلاس میں افغان طالبان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امریکی پسپائی اور طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد مزید جامع حکومت کو اقتدار سونپیں اور مغرب کو بالعموم اور امریکہ کو خاص طور پر یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ گزشتہ ماہ ملک میں اپنی 20 سالہ موجودگی کو ختم کرنے کے بعد افغانستان میں انسانی تباہی کی بحران سے بچنے میں مدد کریں۔ علاقائی تعاون ، افغانستان میں جاری
مزید پڑھیے



افغانستان میں امریکی طاقت کے اِظہار کا اِختتامیہ

پیر 13  ستمبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
دوسری عالمگیرجنگ کے بعد امریکہ ایک عالمی طاقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا جب برطانیہ جیسی ورلڈ پاور دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں کمزور ہو چکی تھی اور اس کے لئے عالمی سٹیج پر قائدانہ کردار ادا کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اِس سے پہلے بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں لینن کی قیادت میں کیمونسٹ اِنقلاب آ چکا تھا اور مغربی جمہوری نظام کے مقابل ایک متبادل سیاسی اور معاشی نظام پیش کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ دوسری عالمی جنگ عظیم میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور سوویت یونین نے اکٹھے ہو کر ایشائی اور یورپی
مزید پڑھیے


افغانستان:دنیا کے لیے کیا سبق ہے؟

پیر 06  ستمبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
امریکہ اور طالبان کے مابین بیس سال سے جاری جنگ امریکہ کی شکست اور با لآخر 31 اگست کو افغانستان سے مکمل انخلا کی صورت میں اختتام پزیر ہوا ہے جبکہ طالبان کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد حکومت سازی کے مراحل میں مصروف ہیں۔طالبان نے عالمی برادری سے یہ وعدہ بھی کر رکھا ہے کہ وہ اِتفاقِ رائے پر مبنی ایک حکومت تشکیل دیں گے، جو سب کے لیے قابلِ قبول ہوگی لیکن بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ اقوامِ عالم خاص طور پر مغربی ممالک طالبان کی طرف سے اس ضمن میں دئیے گئے، بیانات
مزید پڑھیے


امریکہ کی افغانستان میں شکست کے اسباب

بدھ 01  ستمبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
بیس سال پہلے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا جب وہاں پر طالبان کی حکومت تھی۔ طالبان کے ساتھ جنگ کرنے کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ طالبان نے نیویارک میں دہشت گردوں کے حملوں کے ماسٹر مائینڈ اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان بیس سال جاری رہنے والی جنگ15اگست کو کابل پر طالبان کے قبضہ اور31 اگست کوامریکہ کے افغانستان سے انخلا کی تکمیل کے بعد باقاعدہ طور پر ختم ہو گئی ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ امریکہ اور طالبان
مزید پڑھیے


طالبان کا افغانستان: داخلی اور خارجی چیلینجز؟

پیر 23  اگست 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
بیس سال سے طالبان اور امریکہ کے مابین افغانستان میں جاری لڑائی 15اگست کو طالبان کے کابل پر قبضہ ہو جانے کے بعد سے ختم ہوگئی ہے۔ اگرچہ جنگ اور قبضہ ختم ہو چکا ہے مگر افغانستان میں معاملات مکمل طور پر حل نہیں ہو ئے۔ غیر یقینی کا گرد و غبار اگرچہ بیٹھ رہا ہے لیکن ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ افغان قوم یا جنگ کے مرکزی کرداروں امریکہ اور طالبان ، اور علاقائی امن و استحکام کا کیا مستقبل ہو گا۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی برادری
مزید پڑھیے


نئے عہد کا افغانستان!

پیر 16  اگست 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
طالبان نے 6 اگست سے اب تک کابل کے علاوہ افغانستان کے تمام بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اتوار کی صبح کو طالبان نے بغیر لڑے جلال آباد کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جو کہ مشرقی افغانستان کا اہم شہر ہے جبکہ اس سے پہلے دوسرے بڑے صوبے بلخ کے دارالحکومت مزار شریف سمیت افغانستان کے 34 صوبائی دارالحکومتوں میں سے 20 کا کنٹرول طالبان سنبھال چکے ہیں۔ ہفتہ کے روز ضلع چار اسیاب پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب طالبان کابل کے جنوب میں صرف 11 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ہفتہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں