BN

ایچ اقبال


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 141)


میں فوری طور پر فیصلہ نہیں کرسکی کہ عماد کو اس کے پلان پر عمل کرنے دوں یا جو لائحہ عمل میرا تھا ، اس کے مطابق عمل کیا جائے لیکن ضرور میرے دماغ نے بڑی تیزی سے سوچ کر عماد کا پلان کسی خطرے سے دوچار ہوئے بغیر کام یاب ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ عماد نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بلند آواز میں کہا ۔ ’’ڈور ون اب ہمارے قبضے میں ہے ۔‘‘ ’’کون ہو تم ؟‘‘ چونک کر پوچھا گیا ۔ پوچھنے والی مسز راحت ہی تھی ۔ ’’اس سے تمہیں کوئی غرض نہیں ہونی چاہئے ۔‘‘ عماد نے
اتوار 02 دسمبر 2018ء

سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 138)

اتوار 25 نومبر 2018ء
ایچ اقبال
میں اس طرح کھڑی ہوئی جیسے ڈیوڈ ڈورون کا احترام مجھ پر لازم ہو ۔ میرے ساتھ ہی حجازی بھی کھڑا ہوا ۔ ڈیوڈ ڈورون آہستہ آہستہ وھیل چیئر کو ہمارے قریب لایا ۔ اس کی نظریں مجھ پر جمی ہوئی تھیں ۔ ’’ سر!‘‘ میں نے احترام سے سر بھی خفیف سا خم کیا ۔ یہ مجھے جونی نے بتایا تھا کہ بیسٹ ہائوس میں ہر شخص ڈورون کو ’’ سر‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور جب کوئی اجنبی ڈورون سے ملنے آتا ہے تو اس کے سامنے احترام سے جھکتا بھی ہے ۔ میں نے اسے ’’
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 136)

اتوار 18 نومبر 2018ء
ایچ اقبال
جب حجازی میری کار میں ڈرائیونگ سیٹ کے برابر میں بیٹھا تو اس کی نظر کار کے اس مکینزم پر پڑی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔ اس کے چہرے پر حیرت کا تاثر ابھرا لیکن وہ کچھ بولا نہیں ۔ میں نے بھی اسے اس مکینزم کے بارے میں بتانا ضروری نہیں سمجھا ۔ جب میں ضرورت پڑنے پر اس مکینزم کے کسی حصے کو استعمال میں لاتی ، تبھی وہ جان لیتا کہ یہ غیر معمولی صفات کی حامل کار ہے ۔ ہوا کی تیزی میں بہت دھیمے دھیمے ضافہ ہورہا تھا ۔ حجازی کی
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 133)

اتوار 11 نومبر 2018ء
ایچ اقبال
رات کو ہم نے کھانا کھایا ۔ پھر لائونج میں بیٹھ کر ٹی وی سے خبریں سنیں ۔ ٹی وی بند کرنے کے بعد بانو نے چولستان میں میرے پروگرام کے بارے میں باتیں کیں ۔ میں نے انہیں اس وقت بہت وضاحت سے بتایا کہ میں کیا کرنا چاہتی ہوں ۔ سات ‘دس بج چکے تھے جب بانو نے میرا ہاتھ پکڑ کر خواب گاہ کا رخ کیا ۔ بستر پر لیٹنے کے بعد انہوں نے کہا ۔ ’’ بس اب سوجائو!‘‘ ’’ ابھی سے۔؟‘‘ مجھے تعجب ہوا تھا ۔ ’’ ہاں ۔‘‘ بانو نے کہا ۔ ’’ میں کچھ سوچنا
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 130)

اتوار 04 نومبر 2018ء
ایچ اقبال
میں تیزی سے جمال کے قریب پہنچی اور دھیمی آواز میں بولی ۔ ’’ میں یہاں سے فوراً نکل جانا چاہتی ہوں ۔ پولیس کی وجہ سے میرا وقت ضائع ہوگا ۔ تم معاملہ سنبھال لوگے ؟ میں چولستان کی طرف جائوں گی ۔‘‘ ’’ جی ہاں ۔‘‘ جمال نے بھی آہستہ سے جواب دیا ۔ ’’ معاملہ تو میں سنبھال لوں گا پولیس ابھی کچھ دور ہے لیکن وہ آپ کی کار یہاں سے جاتے ہوئے تو دیکھ لے گی ۔ شاید وہ آپ کے پیچھے آئے ۔ ‘‘ ’’ وہ میں دیکھ لوں گی ۔ ‘‘ ’’ تو آپ جائیں !‘‘ سوٹ
مزید پڑھیے



سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے(قسط 127)

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
ایچ اقبال
سڑک اس وقت بالکل سنسان تھی لیکن جب میں نقاب پوش کر پکڑنے کی کوئی دوسری تدبیر سوچ ہی رہی تھی کہ مجھے سامنے سے ایک کار آتی نظر آئی ۔ زیادہ فاصلے کی وجہ سے وہ بہت چھوٹی سے نظر آئی تھی لیکن یہ دکھائی دے گیا تھا کہ وہ سفید تھی ۔ مجھے فوراً خیال آیا کہ اس میں کیپٹن جمال بھی ہوسکتا ہے ۔ میری ذہنی رو دوسری طرف چلی گئی ۔ یہ چانس لیا جاسکتا تھا کہ کیپٹن جمال اپنی کار رانگ سائڈ پر لے آئے ، یعنی نقاب پوش کی کار کے سامنے ! اسی
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 124)

پیر 22 اکتوبر 2018ء
ایچ اقبال
ہم سبھی چونک پڑے ! اور پھر پے در پے گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ ایسا معلوم ہوا جیسے دو گروہ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے ہوں۔ اﷲ ڈینو تیزی سے دروازے کی طرف لپکا اور اس کے پیچھے میں !..... میرے ساتھ ہی کیپٹن عماد بھی تیزی سے حرکت میں آیا تھا اور عدنان بھی ۔ میں نے دروازے سے نکلتے نکلتے جونی کی آواز سنی ۔’’ حملہ کردیا ان لوگوں نے !‘‘ اس کے لہجے میں خوف تھا۔ اﷲ ڈینو نے چیخ کر اپنے آدمیوں سے کچھ کہا ۔ اس نے یہی پوچھا ہوگا کہ یہ کیا ہوا ہے
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 123)

اتوار 21 اکتوبر 2018ء
ایچ اقبال
جو خیال مجھے آیا تھا ، وہ غلط ہی ثابت ہوا ۔ جونی کے جواب سے عماد کو بھی مایوسی ہوئی ہوگی ۔ جونی نے کہا تھا ۔ ’’ مسز راحت نے پہلی ہی ملاقات میں مجھ سے موبائل لے کر اپنی تصویر ڈیلیٹ کردی تھی ۔ ‘‘ عماد کو مایوس کرنے والا یہ جواب میرے لیے بھی مایوس کن تھا ۔ ’’ کب ملے تھے تم اس سے ؟‘‘ عماد نے پوچھا ۔ ’’ کہاں ملے تھے؟‘‘ ’’ اسی کے گھر پر ۔ ‘‘ جونی نے جواب دیا ۔ ’’ اس نے واٹس ایپ پر مجھ سے کہا تھا کہ وہ ایک
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 120)

اتوار 14 اکتوبر 2018ء
ایچ اقبال
اللہ ڈینو نے میری بات کا جواب نہیں دیا ۔ اس کے چہرے پر غور و فکر کے ساتھ تشویش کے آثار بھی دکھائی دینے لگے تھے ۔ میں پھر بولی ۔ ’’ آپ نے جواب نہیں دیا ؟‘‘ ’’ دوں گا ۔‘‘ اللہ ڈینو نے جواب دیا ۔ ’’ ضرور دوں گا ۔ آپ کو آپ کا کمرا دکھا دوں ۔ اگر آپ اجازت دیں گی تو وہیں بیٹھ کر بات کروں گا ۔‘‘ ’’ اس کے لیے آپ کو میری اجازت کی ضرورت نہیں ۔ بانو مجھ سے کہہ چکی ہیں کہ میں آپ پر ہر قسم کا اعتماد کرسکتی
مزید پڑھیے


سنسنی خیز اور تحیر انگیز سلسلہ وار کہانی تاریک دریچے (قسط 118)

بدھ 10 اکتوبر 2018ء
ایچ اقبال
شام کا دھندلکا پھیلنے والا تھا جب میری فائٹر کار ایک ایسے مقام پر پہنچی جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر ایک محل نظر آرہا تھا ۔ ’’ اس علاقے میں ؟‘‘ عدنان کچھ حیرت سے بولا ۔’’ محل؟‘‘ میں نے بانو سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں جواب دیا ۔ ’’ یہ وہ محل ہے جہاں وہ عرب آکر قیام کرتے ہیں جنہیں یہاں تلور کا شکار کرنا ہوتا ہے ۔ مقامی لوگ اسے شاہ جو ڈیرو کہتے ہیں۔‘‘ ’’ ان لوگوں کی دولت کا کوئی ٹھکانا نہیں ۔‘‘ ’’ وہ تو ہے ، تیل کی دولت جو ہے ان کے پاس۔‘‘
مزید پڑھیے