BN

ثروت ولیم


مختاریا! گل ود گئی اے


سیاست ہو یا کھیل دونوں ہی اعصاب شکن ہیں مخالف کے حاوی ہوتے ہی بوکھلاہٹ میں ایسی غلطیاں سرزد ہونے لگتی ہیں جو کھیل کا پانسا پلٹ دیتی ہیں۔ اور اب کی بار کھیل میں دلچسپی کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ ایک طرف اپنے کھیل کا ماہر کپتان ہے تو دوسری طرف سیاست کے پرانے کھلاڑی۔ فائنل سے پہلے فائنل میچ کا تاثر بے حد مضبوط ہو رہا ہے۔ رات کے تین بج رہے ہیں سردی کی چادر میں لحاف اوڑھے قوم سو رہی ہے ماسوائے حکومتی نمائندوں، اپوزیشن اور کارکنوں کے۔ کہ ملتان میں سیاسی میچ کا
منگل 01 دسمبر 2020ء

سڑکوں پر تو بس تماشا ہوا کرتا ہے

منگل 24 نومبر 2020ء
ثروت ولیم
گلی کی نکڑ سے اچانک ایک عجیب حلیے کا انسان برآمد ہوا،جو ہم بچوں کے لئے کسی اور دنیا کی مخلوق کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ اس شخص کے ساتھ پہلا تعارف تھا۔مختلف جگہوں سے پھٹے ہوئے ،میلے کچیلے بد بو دار کپڑے ، گرد میں اٹے بال اور چہرے پر کالی سیاہی کا لیپ، بچوں کو خوف میں مبتلا کرنے کے لئے کافی تھا۔اسے اپنی جانب آتا دیکھ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی، جس کوجہاں پناہ ملی، غنیمت جانا، مگر زینہ چڑھ کر چھت سے نیچے اس عجیب مخلوق کو نہ دیکھنا بھی بے عزتی
مزید پڑھیے


آدھے ادھورے جی جان والے لوگ

منگل 17 نومبر 2020ء
ثروت ولیم
عوام نے نئے گلگت بلتستان کی بنیاد رکھ دی۔اس سطر کو تحریر کرنے کی وجہ کوئی سیاسی نہیں اور نا ہی کسی سیاسی جماعت کی جیت سے منسلک ہے۔ ہاں مگر گلگت کے عوام جی جان والے ضرور ہے،ہم جیسوں کو تو ٹھنڈ کے نام پر گرم لحاف فورا یاد آنے لگتے ہیں، سرد ہوا کے ایک جھونکے پر نزلہ زکام اور کام نہ کرنے کے ہزار بہانے، میرا ذاتی اندازہ ہے، بدلتا موسم،ہماری سستی اور کاہلی میں دس بیس نہیں پورے سو فیصد اضافہ کر دیتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی سمیت پچھلے دو دن سے
مزید پڑھیے


ہم زندہ قوم ہیں

منگل 10 نومبر 2020ء
ثروت ولیم
پوری قوم کے اجتماعی ضمیر پر فاتحہ پڑھنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔جب فاقہ کش کو روٹی نہیں ملے گی ،گھر میں چولہا نہیں جلے گا،فاقے سے تڑپنے پر وہ دست سوال ہی دراز کرے گا،بے روزگار گھر کی دہلیز پر بیٹھنے کی بجاے نوکری کی تلاش میں ہی نکلے گا،کیا قیدی آزادی کے لئے نہیں تڑپے گا ؟ کسی جانور سے بھی حق چھین لیں تو وہ حملہ آور ہوتا ہے ،انسان تو پھر اشر ف المخلوقات ہے ۔اللہ فرماتا ہے :اپنے وعدوں کو پورا کرو،بیشک وعدوں کی بابت پوچھا جائے گا۔کسانوں کے ساتھ وعدے ایفا ہوئے؟ اگر ہوتے تو
مزید پڑھیے


مجھے رہبروں کی تلاش ہے

منگل 03 نومبر 2020ء
ثروت ولیم
بچپن کا دور بھی کیا خوبصورت ہوتا ہے،ہر چہرہ،ہر بات اور شرارتیں سب یاد رہتی ہیں۔عالم تو یہ ہے اکثر و بیشتر صبح کا ناشتہ جس جگہ سے آتا تھا، اس کا ذائقہ آج بھی زبان پہ زندہ ہے۔انسانی دماغ اور گھر کا سٹور روم نئی پرانی چیزوں اور یادوں کو سنبھالے رکھتے ہیں۔چھٹی کے روز صفائی کے خیال نے ایک ایسے صندوق سے سامنا کروا دیا،جس کی چابی گمشدہ اور تالا زنگ آلود۔ توڑنے پر ہی اکتفا ہوا۔صندوق کھلنے پر معلوم ہوا،یہاں تو پورا پچپن محفوظ ہے۔ دوستوں اور بہن بھائیوں سے وصول عید کارڈز جن میں ٹوٹی پھوٹی
مزید پڑھیے



ہم موت کے جبڑوں میں پڑے ہیں

منگل 27 اکتوبر 2020ء
ثروت ولیم
تا حد نگاہ،عوام کا جم غفیر۔نعروں کی گونج پرچموں کی بہار۔کوئٹہ کا جلسہ بہت حد تک کامیاب رہا۔ایک دہشت گردی کا الرٹ نیکٹا نے جاری کیا، جس کو پیروں تلے روندتے ہوئے ،جلسہ کیا گیا اور انجام بھی آنکھوں کے سامنے۔ بلوچستان حکومت کی اپیل ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دی گئی۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اپوزیشن کا کام حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہے مگر کیا اس میں ان تمام جانوں کو قربان کرنا بھی شامل ہے۔ جو ایسے حالات میں بلائے یا زبردستی لائے جا تے ہیں۔جب دہشت گردی سمیت کرونا سے
مزید پڑھیے


پولیو زدہ معاشرہ

منگل 13 اکتوبر 2020ء
ثروت ولیم
ویسے کیا خوب ہیں ہم۔ جس سے لڑنا چاہئیے، اس کے بارے بات کرنا گوارا نہیں۔ جہاں ضرورت نہیں، وہاں ہماری پھرتیاں کمال ہیں۔کئی دنوں سے یہ جاننے کی کوششں میں ہوں، کہ ہم کیسی سوچ کے مالک ہیں۔ اہم اور غیر اہم کا فرق تک نہیں جانتے۔ مگر فکر،سوچ، فلسفہ اور باتوں میں ارسطو کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ۔ بحیثیت اشرف المخلوقات افضل ٹھہرے۔ عقل ،شعور ہونے کے باوجود، اس سوچ سے لڑنے کے قابل نہیں،جو ہماری پوری شخصیت کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ پولیو کو ہی لے لیجیے۔ اس ایک لفظ کے اندر کتنی
مزید پڑھیے