BN

جسٹس نذیر غازی


آواز دے رہے ہو خدا کے عذاب کو


طے شدہ امور کو بار بار چھیڑنا اور پھر چھیڑ کر اپنی دانائی کا خراج وصول کرنے کی تمنائے خام کو جنم دینا نہایت درجے کی حماقت ہے اور یہ حماقت ایک متعدی وبا ہے۔ جو قوم اور ملک کو دیمک کی طرح چاٹتی ہے۔ آئین اور قانون نے راستہ بنا دیا اور وہ راستہ ایک طویل ایمانی‘ عوامی اور مسلسل جدوجہد کے بعد وجود میں آیا ہے۔ خائن فکر‘ مخالفین ،بے وقت کی راگنیوں اور بے مقصد موشگافیوں نے اس حسن جدوجہد کو بے قیمت کرنے کی بہت کوشش کی‘ لیکن ملت و وطن کی فطرت تخلیق نے تمام مزاحمتوں
منگل 11  اگست 2020ء

میرے وطن کے شعلہ نوا رہے ابلیسی

بدھ 29 جولائی 2020ء
جسٹس نذیر غازی
اضطراب اور بے چینی ترقی افزوں ہے اور کسی طرح بھی کوئی بند بندھتا ہوا نظر نہیں آتا۔ فرد کو تو حالات نے بہت زیادہ پریشان کر دیا ہے اور افراد کو ہانکنے والے گدڑیوں نے ابھی تک اپنی خو نہیں بدلی۔ چوری اور سینہ زوری کا مقابلہ بہت بڑھ گیا ہے۔ نصیحت کرنے والے مر گئے اور نصیحت نہ سننے والے ایسے بگڑے کہ وہ ناصحین کا کفن کھسوٹ کر بھی نچلے نہیں بیٹھ پا رہے۔کورونا نجانے کتنے پنجے گاڑ چکا ہے اور یہ بلائے ناگہانی ابھی کتنی دیر تک پوری دنیا کو زیر و زبر کرتی رہے گی۔
مزید پڑھیے


تم کیسی کرامات کرو ہو (2)

هفته 04 جولائی 2020ء
جسٹس نذیر غازی
گزشتہ معروضات میں قرآنیات کی تعلیم کی تجویز نہیں بلکہ باقاعدہ سرکاری حکم پر تبصرہ تحریر تھا۔ جس کا اہم پیغام یہ تھا کہ جامعات کی سطح پر قرآنی تعلیم کے لئے یکسر اور بیک جنبش قلم کوئی حکم ہرگز مفید اور ثمر آور نہیں ہو سکتا‘جب تک ابتدائی تعلیم سے لے کر قبل از جامعات کی تعلیم کا مکمل تفصیلی و تنقیدی جائزہ ماہرانہ جائزہ نہ لیا جائے تب تک قرآنی تعلیم کا مقصد کبھی بھی پورا نہیں ہو گا۔ جناب گورنر نے جس موقع پر یہ حکم جاری فرمایا ہے۔ بادی النظر میں ملک میں جس وبائے ناگہانی نے
مزید پڑھیے


تم کیسی کرامات کروہو!

منگل 30 جون 2020ء
جسٹس نذیر غازی
کاروبار بند نہیں ہوتا۔ کاروبار کائنات بہت خاموشی سے اپنے اتار چڑھائو سمیت مائل بہ سفر رہتا ہے۔ نبض کائنات ہر وقت سریع الحرکت نظام کی دسترس میں ہے۔ اظہار ہوتا ہے تو زاویے ذرا مختلف نظر آتے ہیں۔ اگر بصیرت کی روشنی ذرا مدھم ہو تو بہت بڑا فرق واقع ہوتا ہے۔ ضعیف البصیرت بے چارے ٹامک ٹوئیوں کا نام تجزیہ رکھتے ہیں۔ بے مقدور رصدگاہوں سے ساتویں آسمان کی خبر ٹٹولنے کی غیر مفید مشق آزمائی ان کا وسیلۂ نان مرغن ہے۔ الفاظ کے تیر قلم کے کمان سے اڑانا سب بے وقعت وقار قرار پایا ہے۔ اس لیے
مزید پڑھیے


آپ اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

جمعه 19 جون 2020ء
جسٹس نذیر غازی
مذاہب کی جنگ ہو یا تہذیبوں کا تصادم‘ایک دم سے اچانک نہیں ہوتا پس منظر میں ایک طویل سرد جنگ کا خاموش ماحول ہوتا ہے‘ اس ماحول کو قوت فراہم کرتے ہیں مذاہب کے شرپسند مفسدین کے وہ نمائندے جن کے اعصاب و قویٰ پر ابلیسی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں۔ علم معاشرت کی تاریخ میں جتنے بھی مفکرین نظر آتے ہیں ان کے ظن و تخمین کی پیداوار وہ عمرانی افکار ہیں جن کو سست فکر اور جدال پسند طبائع بہت جلد قبول کرلیتی ہیں۔ انسانی فلاح اور باہمی انسانی رواداری کے لئے جن عمرانی افکار کی ضرورت ہے وہ محض
مزید پڑھیے



احترامِ سلف بھی دہشت کی زد میں آ گیا

منگل 09 جون 2020ء
جسٹس نذیر غازی
سادہ سا ایک غریب آدمی ہسپتال میں کھڑا اپنے پرانے سے رومال سے کبھی آنسو پونچھتا تھا اور کبھی بہتے ہوئے نزلے کو روکتا تھا اور آہستہ آہستہ بڑ بڑاتا ہوا سسکیاں بھی لے رہا تھا۔ اس پریشان حال کو ذرا قریب ہو کر دیکھا تو بہت ہی نحیف اور بے کس نظر آیا۔ پوچھا کہ بھائی میں تمہاری کوئی مدد کر سکتا ہوں تو اس نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا اور جواب دیا کہ بائوجی بس معاف کرو۔یہاں کوئی کسی کا نہیں ہے۔ پندرہ دن ہو گئے اس ہسپتال میں میری بیوی داخل ہے کوئی علاج نہیں ہو رہا۔
مزید پڑھیے


اک سہارا تھا درد والوں کا

جمعه 29 مئی 2020ء
جسٹس نذیر غازی
قوموں کا امتحان ہوتا ہے‘زندہ قومیں زندہ دلی سے اور خوش جبینی سے ان حالات کو تسلیم کرتی ہیں۔ بے نیاز خالق کی جانب سے حالات کا جبر اترتا ہے‘ فطرت کی تبدیلیوں کا اہتمام مقصود ہے۔ اشیا کو ان کے مقام پر صحیح رکھنے کا خدائی نظم ہے۔ خدائی نظم میں مکمل تدبیر کارفرما ہوا کرتی ہے۔ اس تدبیر کی ظاہری تکمیل اور تعبیر فرشتگان ذی تدبیر کے ذریعے سے عمل میں آتی ہے۔ کتاب آخر میں ان کارکنان تقدیر کو مدبرات اِمر کا انتظامی منصب عطا کیا گیا ہے۔ فرشتے نوری مخلوق ہیں وہ مدبرانہ امور میں مصروف
مزید پڑھیے


شاہیں بچوں کے بال و پر نوچے گئے

منگل 12 مئی 2020ء
جسٹس نذیر غازی
تقدیر اور تدبیر کا راستہ کیا ہے؟بے بہرہ اور کوتاہ دانش لوگ اصرار کر رہے ہیں کہ ان پر ساتوں آسمانوں کی کائنات کا نقشہ ہتھیلی پر عیاں ہے۔ دعوے میں خود اعتمادی سے بھی بڑھ کر خودسری کا عنصر ایسے جھلکتا نظر آتا ہے گویا اب سب پرانے مرضوں کا علاج پلک جھپکنے میں میسر آ جائے گا۔ روز قلم یار عقل کی قلمرو میں خیالات کے اشہب منہ زور پر سوار اس فاتحانہ انداز سے بیان جاری کرتے ہیں حل مشکلات کا مژدہ محسوس ہوتا ہے۔ مسئلہ کیا ہے؟ یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے ان کا مسئلہ یہ
مزید پڑھیے


جوانوں کو مری آہِ سحر دے

اتوار 03 مئی 2020ء
جسٹس نذیر غازی
کچھ اختصار اور اجمال ہے اہل دانش کی باتوں میں اور بہت سے ایسے احباب ہیں جو تفصیل سے وضاحت سے اور شفاف طریق پر اپنی بات کہنا چاہتے ہیں۔ اختصار پسند نئے موضوعات کی تلاش میں اپنا رزق تلاشتے ہیں اور بات کہنے سے غرض رکھتے ہیں۔ انہیں کیا کہنا چاہیے یا انہیں کیا تجویز کرنا چاہیے۔ اسے وہ اپنی ذمہ داری میں شمار نہیں کرتے۔ لوگ ان کی باتوں کو سنتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے کچھ پڑھتے ہیں۔کبھی بہت غور کرتے ہیں اور کبھی بعجلت اعراض کرتے ہوئے کسی اور طرف دھیان پھیر کر سکون میں آ
مزید پڑھیے


کلمہ ہی اب بچائے گا

منگل 21 اپریل 2020ء
جسٹس نذیر غازی
روزمرہ کا رونا دھونا اور آئے دن بے یقینی کا فسانہ ہے۔ غریب عوام اور اتنے غریب کہ غربت خود ان سے شرمندہ ہوتی ہے۔ بھوک ہے۔ افلاس کا سورج ڈھلتا نظر نہیں آتا۔ بیماری ہے ‘ وبا ہے۔ مخلص اور ہمدرد بھی موجود نہیں۔ہر وقت اور ہر موقع غریب کی درگت بنانے کے لئے بگڑے دل سرمایہ دار ٹھگوں اور جاگیردار قزاقوں کے لئے رنگ بہاراں ہوتا ہے۔ وقت کی سرعت رفتاری کورونا کو اپنے ساتھ ساتھ گھسیٹ رہی ہے۔ سارا ماحول اس وبا کے آلودہ ذکر سے ذہنی آلودگی کی گود میں جا پڑا ہے۔ اہل فکر بالکل ہی بے
مزید پڑھیے