BN

جسٹس نذیر غازی



اے خدائے بے کساں فریاد ہے


ضعف ‘ بے بسی‘شکستگی اور سراسیمگی کا اعتراف ہے۔ کوئی قدم ارادے کی مضبوطی سے نہیں اٹھ پا رہا ہے۔ ادھر ادھر کی سنی ہوئی پر یقین ہے‘ پھر ذرا دیر کے بعد تشکیک کا دورہ پڑتا ہے اور کسی سمت کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ہاں وہ بڑے سیانے جو چوری کے ماہر اور ڈاکہ زنی کا مجرب دبستان ہیں۔ اسی طرح سے مگن اپنے شطرنجی کھیل میں مصروف ہیں۔ذرا جُوں تو کیا رینگے‘ ان کے احساس پر مفادات‘ گروہی سیاست اور من پرستی کی برف جمی ہوئی ہے۔ ڈھٹائی سے اپنی پرانی طرز کو ہی ہر
جمعه 03 اپریل 2020ء

ہم تجھے بھولے ہیں‘ تو نہ ہم کو بھول جا

جمعه 27 مارچ 2020ء
جسٹس نذیر غازی
آخر کو ایک ہی خیال دامنگیر ہے‘ کیسے بچا جائے؟ وبا کا آخری سرا کیا ہے؟ کس کس پر یہ بلا ٹوٹے گی اور کب تک ،یہ بے یقینی اور کب تک یہ مایوسی؟ ہر طبقہ خیال اور ہر طبقہ عمر اپنی اپنی سی کئے جا رہا ہے۔ طے شدہ حقیقت ہے کہ ایک وبال ہے‘ عذاب ہے‘ تنبیہ ہے۔ واپس لوٹنے کا اشارہ ہے۔ برائی سے توبہ کا حکم ہے۔ بے حیائی سے کنارا کرنے کی ہدایت ہے۔ قوموں کو جگانے کا آسمانی اعلان ہے۔ انسانوں کی پہاڑوں جیسی گھنائونی خطائوں اور دل دہلا دینے والے حیوانی گناہوں کا آسمانی
مزید پڑھیے


انہی کے نام سے آئی بلائیں ٹلتی ہیں

جمعرات 19 مارچ 2020ء
جسٹس نذیر غازی
بری لت پڑ گئی ہے روزانہ نئی بات گھڑنے کی اور پھر اسے فکر بالغ کے نام پر متعارف کروایا جاتا ہے۔ بہت سے ندیدے آنکھیں پھاڑے اس بقراطیت پر داد دیتے نظر آتے ہیں۔ انہیں کچھ بھی نظر آ جائے تو اسے ماورائے کائنات بنا کر اپنی شری جبلت کو تسکین دینا ایسے لوگوں کا روزمرہ کا وتیرہ ہے اور وہ لوگ جو سادہ سوچ اور سادہ زندگی کے حصار میں ہیں اس طرز کے فنکاروں کے کھیل کے مستقل تماشائی ہیں۔کون کیا بیچتا ہے؟ اور کون کیسے بکتا ہے، قزاقوں نے اتنی خوبصورت اور دلکش دکان سجائی ہے
مزید پڑھیے


یہ تیرا مسلمان کدھر جائے

هفته 07 مارچ 2020ء
جسٹس نذیر غازی
درد‘ غیرت‘ احساس‘ مروت کا عجب ہنگام امتحان ہے۔ پوری امت اب خدائی امتحان کی زد میں ہے۔ غفلت کے دبیز پردوں نے حقیقت فراموشی کی انتہا کر دی ہے۔مسلمان یکے بعد دیگرے مظلومیت کا مرقع بنتے جا رہے ہیں دنیا کی ہر جدید تہذیب نے یہ طے کر لیا ہے کہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔کفار اور منکرین حق کے وہ منظم گروہ جن کو کسی نہ کسی انداز سے اقوام عالم پر بالادستی حاصل ہے وہ اپنی مضبوط قوت کو آزمانے کیلئے مسلمانوں ہی کا انتخاب کرتے ہیں۔ مغرب اور مشرق کی تفریق نہیں ہے۔شعور
مزید پڑھیے


جن و بشر سلام کو حاضر ہیں‘ السلام

پیر 17 فروری 2020ء
جسٹس نذیر غازی
مذہب کی ضرورت تو بہرحال رہتی ہے۔ تسلیم یا عدم تسلیم کا اختیار تو انسان کا نفس ازخود حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔زندگی کی ابتدا ولادت سے ہوتی ہے اور انتہا موت پر ہوتی ہے۔ پھر ایک نئی سوچ‘نئے انداز‘ نیا جہاں‘نئے معمولات اور نئے سماج سے واسطہ پڑتا ہے‘ پھر نجانے کتنے زمانے گزرتے ہیں۔ ان زمانوں کے سفر میں روزمرہ کا معمول ہے کہ لاکھوں انسان جنم لیتے ہیں اور لاکھوں بتدریج سفر فطرت کی ہمنوائی کرتے ہوئے قبر اور حشر کی منازل کی جانب رواں دواں رہتے ہیں۔ مذہب حقیقت آشنائی کے لئے دائمی رہنما ہے۔ پھر مذہب
مزید پڑھیے




ہر ہار میں تیری جیت چھپی ہے

بدھ 29 جنوری 2020ء
جسٹس نذیر غازی
کتنا بڑا پیمانہ ہے ہمارے قومی انتخابی تاجروں کے ہاتھ میں؟ شاید ہی کوئی سادہ لوح سیاسی طالب علم اندازہ کر پائے۔ بہت ہی الجھا ہوا نصاب سیاست ہے، اس سیاست میں خود فروشی اور قوم فراموشی ایک ہی باب کی دو فصلیں ہیں۔ اس نصاب سیاست میں حقیقت کو منہ چڑا کر مفادِ تعلیم حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک عرصہ دراز سے یہ نصاب لوگوں کے نزدیک دائمی اور مستقل سندیسۂ نجات ہے۔ کچھ جنون خیز طبیعت کے اسیر ناتجربہ کاری اور ان دیکھے حقائق کے اندھیروں میں اپنی بصیرت کھو بیٹھتے ہیں۔ اندھا اندھیرے میں لاٹھیاں گھما کر شاید
مزید پڑھیے


ظلم پھر ظلم ہے‘ بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

جمعرات 16 جنوری 2020ء
جسٹس نذیر غازی
ہر روز کی نئی خبر محض خبر نہیں ہوتی‘ ایک پیغام ہوتی ہے یا تنبیہ اور کبھی دل کی آسودگی کا سامان یا کبھی دھمکی‘ بس ہم گزرتے جائیں۔ دھیان دیں یا نہ دیں خبر تو اپنے اثرات کو کو مہم جوئی کے انداز میں پھیلانے کا کام جاری رکھتی ہے۔ قوم کا ہر فرداپنی جگہ بیدار رہے۔ دشمن کی چال سے ہوشیار رہے۔ پھر اپنی اجتماعی قومی ترقی سے بیگانہ نہ رہے تو ہر پاکستانی کا ملی فریضہ ہے۔ لیکن اس فریضے سے غفلت کا ہم سب شکار ہیں۔ایک اہم خبر جو روز ہمیں پیغام دیتی ہے۔ بیدار کرتی
مزید پڑھیے


وقت بہت ہی نازک ہے

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک روایتی مشق جاری ہے ان لوگوں کی ذہنی عداوت کی، جن کا سرمایہ فکر الجھنا اور الجھانا ہے۔ دلائل کا انبار اور گفتگو کا پیرایہ بہت دلفریب ہوتا ہے۔ کاروبار معاش ہے‘ اسی پر جیتے ہیں۔ الفاظ کا تیور جلے بھنے کلیجے سے برآمد ہوتاہے۔ قارئین رنگ مزاح میں ایک عجیب طرز قوس قزح کا نظارہ کرتے ہیں۔ پھر ذرا دیربعد غروب آفتاب کا وقت ہو جاتا ہے۔ یہ ایک مستقل رویہ ہے ہمارے ان قلم بازوں کا جو روزانہ نئی جلوہ طرازی کو ایمان صحافت کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کے ہاں دادفن کا ایک اندازِ بلیغ ہے۔ بالکل
مزید پڑھیے


کچھ درد چاہیے‘ احساس چاہیے

هفته 14 دسمبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک جھگڑے سے فرصت نہیں ملتی کہ دوسرے کی تلاش کا شوق فراواں دامنگیر رہتا ہے۔ عادت ہے یا پیشہ اہل فن کا کچھ سمجھ نہیں آتا۔ وطن ہے ‘ قوم ہے لیکن فساد کا دلدر گھر میں موجود رہتا ہے۔ پریشانی بڑھتی ہے اور پریشانی کو بڑھانے کے لئے بھی پریشان رہنا مزاج کا مستقل مشغلہ ہے۔ یہ مشغلہ دل ناصبور اپنی قلمرو کا رقبہ پر آن بڑھاتا ہے۔ کیا واعظ اور کیا دانشور اور کیا لکھاری عاقبت نااندیشی کے نشہ میں چور پریشانی سے بغلگیر ہونے کے لئے افتاں و خیزاں حرکت میں رہتے ہیں۔ دشمن بہت بیدار رہتا ہے۔
مزید پڑھیے


اب ذرا تو وقت کی رفتار دیکھ!

منگل 03 دسمبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کبھی تو سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور کبھی ایسی بے حسی کی چادر لپیٹتے ہیں گویا سب ٹھیک ہے، یہ رویہ ہے ہمارے اساطین ملت کا، کبھی درد ہوتا ہے تو وہ قوم کے نام کرنا ان کا شریفانہ وطیرہ ہے۔ لکھنے والے اور بولنے والے مضامین نو سے بالکل عاری ہیں۔ ایسے ایسے جادوگر ہیں اہل سیاست کہ رشک بنگال و مصر کہلانے کے مستحق ہیں۔ کسی دور میں فرعون کے ہمنوا اور ہم رکابی میں ہوتے تھے ساحران وقت، لیکن اب زمانے کا الٹ پھیر ایسا کہ فراعنۂ وقت خود جادوگروں کو مات دیتے ہیں۔ فن فریب
مزید پڑھیے