BN

جسٹس نذیر غازی



آج میلاد النبی ؐ ہے کیا سہانا نور ہے


ہدایت درکار ہے ہر لمحہ اور ہر جگہ پر انسان کو اور ہدایت کی ضرورت سے انکار کرنا گویا فطرت کی بنیادی اقدار کا منہ چڑانا ہے۔ روز اول ہی سے انسان اور انسانی معاشرے کی مصلحین اسی ہدایت کی شفاف روشنی کی تلاش میں ہیں۔ عقل ناقص کو چراغ راہ کرتے ہیں اور کبھی جذبات کی قوت کو اپنی منزل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عقل و جذبات کے توازن کے لیے اس انسان ضعیف البنیان کے لیے کوئی مستحکم ترازو ہے اور نہ ہی کوئی معتدل معیار طبیعت ہے، اسی بے بنیاد وجود اور لڑکھڑاتے فکر کے ساتھ
بدھ 21 نومبر 2018ء

روک کے رکھ اپنی زباں نشۂ سلطانی میں

جمعه 16 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ہر جگہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے اور اگر احتیاط کا دامن کوئی بھی ذمہ دار چھوڑ دے تو حالات بہت زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ روزانہ کی بنیاد پر فطرت کا خاموش احتساب تو بہرحال جاری ہے لیکن ہمارے ظاہری دشمن اور ہمارے دوست نما دشمن اپنی ہنر مندی سے پوری قوم کا راستہ کھوٹا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم پاکستان میں بسنے والے مسلمان اپنی زندگانی کی جملہ ترجیحات میں اہم ترین ترجیح اپنے ایمان اور عقیدے کے تحفظ کو قرار دیتے ہیں۔ طے شدہ اور سب سے مسلمہ حقیقت یہی ہے کہ یہ وطن
مزید پڑھیے


خدا دیکھ رہا ہے

جمعه 09 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ان احتجاجی مظاہروں میں شریک صاحبان شعور بھی تھے، اہل علم و تجربہ بھی تھے اور جذبات کا شکار وہ نوجوان بھی تھے جو اپنی جان ہتھیلی پر دھرے تحفظ ایمان کے قانون پر نچھاور ہونے کے لیے برسر میدان تھے۔ اس احتجاج میں فرزانہ و دیوانہ دونوں طرح ہی کے افراد شریک تھے۔ کچھ وہ تھے جو دلیل سے بات کر رہے تھے اور کچھ وہ تھے جو جذب و جنون میں ڈوبے اپنے ذوق کی آبیاری کے لیے احتیاط کی نعمت سے ہٹے ہوئے مجذوبانہ الفاظ استعمال کر رہے تھے۔ صورتحال بڑی واضح تھی کہ پوری امت
مزید پڑھیے


خدا دیکھ رہا ہے

جمعرات 08 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
حواس باختہ گروہ ہے جو انسانیت کی شرمندگی کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ملت اسلامیہ کے آزار کا سبب بنا ہے اور اس کی مستقل کارستانیاں پاکستان کے استحکام پر آری چلانے میں مشغول ہیں۔ حکومت وقت کو قرار آ جائے تو تب ان دین بیزار لبرل گروہوں سے وابستہ عقل مار بے چینی کا کوئی دروازہ کھولنے پر آمادہ کار رہتے ہیں اور اگر کسی بھی سبب سے حکومت وقت انتشار کی رسی سے بندھ جائے تو یہ کرائے کے دانش مار ملک و ملت کے لیے ایک ناسور بن کر قومی سلامتی سے یوں کھیلتے ہیں گویا بندر
مزید پڑھیے


اب ہوش کے ناخن لو‘ ایمان ہے خطرے میں

جمعرات 18 اکتوبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ایک بڑا اور وسیع دائرہ فکر ہے جس میں انسانوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں علم ہے‘ خیالات ہیں اور جذبات ہیں اور جو شخص انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے پر ذمہ داری محسوس کرتا ہے تو اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ ذمہ داری کے تقاضوں کا پوری طرح علم رکھتا ہو۔ انسانی خیالات کی نزاکت بھی اس کے آئینہ فکر میں منعکس ہونا ضروری ہے اور جذبات دل‘ جذبات ایمان کی حساسیت سے بہت زیادہ واقف ہونا ضروری ہے۔ ہمارے حکمران ہیں اور ان کے اردگرد مصاحبین اور درباریوں کا جھنڈ ہے۔ قرب
مزید پڑھیے




انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

بدھ 10 اکتوبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
گرمی ٔتماشہ کے خوگر اپنی عادت کو پوری قوم میں منتقل کرنے کی ضد کر رہے ہیں۔ چاند کھیلن کو مانگ رہے تھے کہ حالات کے ڈھلتے سورج کی زد میں آ گئے۔ سندھ‘ پنجاب میں ذرا بڑے اور روایتی تماشہ گروں نے اتنے دلفریب اور پر فریب لباس پہنے ہوئے ہیں جن کی قیمت اور افادیت کے بارے میں سادہ عوام کبھی بھی نہیں جان سکیں گے۔ خاندانی وراثت میں سیاست اور محکوم عوام بھی ورثہ خاص قرار پائے ہر جگہ اور ہر معاشرے میں ایسی بدبختی کے آثار بہرحال موجود رہتے ہیں۔ یورپ میں ایسا نظر نہیں آتا ‘
مزید پڑھیے


میاں جی کی باتیں یاد رہیں گی

هفته 06 اکتوبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ایک فطرت ہے کہ بچہ ہمیشہ ہی اپنی پناہ اپنے والدین کو سمجھتا ہے اور اس کی شخصیت پر اس کے والدین کے کردار اور ان کی تربیت کے اثرات اتنے انمٹ اور گہرے ہوتے ہیں کہ زمانے کے لاکھ تاثر بچے کو اپنی جانب مائل کریں لیکن کردار میں ودیعت کی ہوئی والدین کی تربیت ہمیشہ ہی جھلکتی ہے۔ سوچ، انداز، کلام، غم و خوشی میں اظہار سب ہی تو والدین کی تربیت کا پتہ دیتے ہیں۔ ازخود ان سے وابستگی کو بچہ خود بھی چاہتے ہوئے فراموش نہیں کرسکتا۔ نظام کائنات میں انسان کا وجود اور اس وجود کا تسلسل
مزید پڑھیے


ہر دور کے فرعون کو ذلت ہی ملی

اتوار 30  ستمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
قرار کسے آئے‘ وہ بے چارے جن کا کاروبار حیات اور سیاست کا دھندہ پیرائے مال سے جواں رہتا ہے۔ دل مضطر کو سر بازار لئے ہوئے ہیں کہ کوئی خرید لے نہ سلیقے کا تاجر میسر آ رہا ہے اور نہ ہی کوئی خیریت معلوم کرنے والا مزاج پرسی کی رسم دلبری ادا کرتا نظر آتا ہے۔ اب شیخ سیاست اوزار سازش کندھے پر لٹکائے کوچہ حسرت میں کھڑے بے دست و پا نظر آتے ہیں۔ کتنے ہی جفادری میں جو شرافت و عصمت کا بھیس بدلے اس قوم کے سادہ لوح شہریوں کو ہر موڑ پر چکمہ دینے کا برا
مزید پڑھیے


مجھ سے میرا حسینؓہے…میں ہوں حسینؓ سے

منگل 18  ستمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
درد‘ دیوانگی ‘ کم علمی‘ جہالت‘ ان چار عناصر میں کیسے فرق کریں کہ خبر ہو جائے کہ مریض ہے یا ہٹ دھرم‘ خیر ہٹ دھرمی بھی تو ایک مرض بذذوقی کا دوسرا نام ہے۔ ایک کہاوت ادب میں معاشرت کو سنوارتی اور بیدار کرتی آئی ہے کہ راج ہٹ‘ بال ہٹ اور تریاہٹ بری ہوتی ہیں کہ اگرراجہ کو ضد ہو جائے تو وہ بستیاں اجاڑنے کو دل کا چین سمجھتا ہے اور اگر بچے ضد پر اتر آئے تو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر میا بابا کو جھکا لیتا ہے پھر عورت اپنی ضد کو پالے تو پورا گھر کا
مزید پڑھیے


اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقت دعا ہے

جمعرات 13  ستمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
پوری توجہ اور نہایت ایمانی ذوق کا تقاضا ہے کہ ملت کے اجتماعی دینی مسائل میں ملت کے تمام طبقات کے خیالات اور ان کی ہر طرز کی جدوجہد کو پیش نظر رکھا جائے۔ عالم اسلام کو جن بدترین مسائل کا سامنا ہے‘ ان میں ایک اہم مسئلہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ناموس مبارک کا تحفظ ہے۔ اور ناموس اقدس پر حملہ آور مغربی قوتیں اور ان کے زیر حمایت نام نہاد مسلمان جو دراصل منافقین خالص ہیں، اپنی پوری ابلیسی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ اہل اسلام کے ذرائع ابلاغ اور سفارتی محاذ بہت حد تک کمزور ہیں اس کے
مزید پڑھیے