BN

جسٹس نذیر غازی



سو رہے ہیں قبر میں وہ ‘ نوری چادر اوڑھ کر


باپ شجر سایہ دار ہوتا ہے اور شفقت اس کو خلاق فطرت نے اتنی زیادہ ودیعت کر دی ہوتی ہے کہ وہ نسلوں کو فیض بخشتا رہے۔ انسانی اقدار کو تربیت میں اتارتا رہے اور امانت اخلاق‘ نفس و قلب میں ایسے بٹھا دے کہ انسان کا بچہ انسان بن جائے۔ عجب فطرت ہے انسان کی‘ جب ذرا سے ہوش کے ناخن لیتا ہے تو اسے فطرت کے عطا کردہ سائے کی ضرورت محسوس ہونا شروع ہوتی ہے اور وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو اتنی جلدی پروان چڑھاتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ شعور کا مرقع نظر آتا ہے
اتوار 06 مئی 2018ء

تیری ہر بات میں سو سو فسانے پنہاں

منگل 01 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی

اب مکمل افراتفری کا سماں ہے۔ کاروباری لوگوں کے نزدیک فصل سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر آڑھتی چاہتا ہے کہ اس کی آڑھت پر کل فصل ڈھیر ہو جائے اور اس کی اجارہ داری مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے۔ کھیلنے والے اور کھلوانے والے پوری کاروباری دیانت اور سیان پت سے اپنے اپنے مورچوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ پیسہ نجانے کہاں سے آتا ہے اور کیسے آتا ہے؟ ایک سادہ آدمی ہونق بنا دیکھتا ہے اسے بالکل سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ تو اپنی دنیائے شکم کا اسیر ہے۔ اس کے نزدیک سب حساب کتاب
مزید پڑھیے