BN

خاور نعیم ہاشمی



ذاتی ڈائری کا ایک ورق


میں نے اس دور میں روزانہ ڈائری لکھنا شروع کی تھی جب واقعتاً صحافت پابہ زنجیر تھی مگر زندہ تھی اور محب وطن صحافی آزادی صحافت کے لئے جہد مسلسل میں مصروف تھے۔ آج اگرآزاد صحافت اورآزاد صحافی کا تصور ختم ہو رہا ہے یا ختم کیا جا رہا ہے تو یہ عمل ایک سال میں شروع نہیں ہوا۔ آج سوشل میڈیا نے ہر شہری کو صحافی بنا دیا ہے تو یہ بھی کوئی عجوبہ نہیں۔ سوشل میڈیا نے آج جنم نہیں لیا، یہ تو روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ پھلتا پھولتا رہا ہے۔ جب کوئی حکومت ترکی جیسے
بدھ 16 اکتوبر 2019ء

انا پرستی کا مارا ہوا ایک شخص

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں میرا ایک بھائیوں جیسا دوست ایسا بھی ہے جو دوستیوں اور محبتوں میں مجھ سے چار قدم آگے ہے۔ یہ میں نے بارہا عملی طور پر دیکھا ہے کہ وہ جب بھی کہیں بھی میرے ساتھ ہوتا ہے تو لوگوں کا رخ اس کی جانب ہوجاتا ہے۔ یہ بات میرے لئے قابل فخر بن جاتی ہے کہ میرے اس دوست کو لوگ کتنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ہی نہیں، بیرونی ممالک میں بھی اس کی مقبولیت
مزید پڑھیے


امتیاز راشد بھی اک یاد بن گئے

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
انیس سو ستر میں جب پہلے عام انتخابات ہونے جا رہے تھے، اس وقت میں اس اخبار میں کام کر رہا تھا جو شیخ مجیب الرحمان اور ان کی جماعت،، عوامی لیگ،، کا ترجمان تھا، یہ شعبہ صحافت میں میری پہلی جاب تھی، مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی ،، مقبولیت،، کا یہ عالم تھا کہ بائیں بازو کے گنے چنے دانشوروں کے سوا اس کا کوئی ووٹر دکھائی نہیں دیتا تھا، میں اس زمانے میں شاہ حسین کالج میں پڑھ بھی رہا تھا، میں بلا وجہ شیخ مجیب کے چھ نکات کا حامی تھا، کالج میں اسٹوڈنٹ یونین
مزید پڑھیے


مٹی کے کھلونے اورلنگرخانے

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
مجھے اعتراض مولانا فضل کے آزادی مارچ یا دھرنا پر نہیں، خوف یہ ہے کہ جب ملک بھر سے دینی مدارس کے طالبان سڑکوں پر نکلیں گے تو انہیں واپس بھجوانا مشکل ہوجائے گا، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن والے بھی شاید اسی خدشے کی بنیاد پر مولانا کے ساتھ چلنے یا نہ چلنے کا حتمی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے، لیکن تازہ ترین صورتحال میں اب مولانا فضل الرحمان کو ان دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی کسی قسم کی حمایت یا مدد کی ضرورت ہی نہیں رہی، مولانا کو سارا اسلحہ، سارا ڈیزل، خود حکومتی وزراء
مزید پڑھیے


بی بی شہید کے پہلے دور کا ایک واقعہ

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے تحفظات کے باوجود بالآخر آزادی مارچ اور دھرنا کی تاریخ کا اعلان کر ہی دیا، اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں اب کمرہ امتحان میں جا بیٹھی ہیں۔ بلاول بھٹو اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مولانا کے احتجاج میں تو شریک ہوں گے لیکن دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ن لیگ کے صدر شہباز شریف کی کمر میں پھر درد نکل آیا ہے۔ سنا جا رہا ہے کہ نواز شریف مولانا کا ساتھ دینے کا حکم صادر کر چکے ہیں۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
مزید پڑھیے




شہر اور سماج

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
جب ہم نے شہر گردی شروع کی،لاہور اس وقت تک آلودہ نہیں ہوا تھا، سارا شہر گھر کی مانند تھا۔ ایک دوسرے پر اعتماد کا عالم یہ کہ اگر کوئی مہمان دروازے پر کھڑا ہو کر اندر آنے کی اجازت طلب کر لیتا تو گھر والے برا مناتے، اسے کہا جاتا کہ تم کوئی غیر تو نہیں ہو، آ جاؤ اندر ۔ کسی کو بھوک لگتی تو وہ کسی بھی جاننے والے کے گھر چلا جاتا ، کوئی دکھاوا نہیں ہوا کرتا تھا۔ جو بھی روکھی سوکھی ہوتی سب مل کر کھا لیا کرتے۔ میکلوڈ روڈ پر نان چنے
مزید پڑھیے


بیوی کا بھی ماموں

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
منو بھائی مرحوم سے اکثر مجالس میں یہ سوال پوچھ لیا جاتا تھا کہ،، آپ کی بیگم آپ کو کیا کہہ کر مخاطب کرتی ہیں؟ وہ ہمیشہ بے ساختہ اور برجستہ جواب دیتے،، منو بھائی،، آج میں شہر کی ایک اور مقبول عام اور ہر دلعزیز ہستی سے آپ کو ملواتا ہوں جو جگت ماموں ہیں اور انہیں ان کی اہلیہ ہی نہیں، اپنے بچے بھی ماموں کہہ کر پکار نے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، ماموں کا لاحقہ ان کے نام کے ساتھ تخلص کی طرح چپک کر رہ گیا ہے، اور یہ ماموں ہیں معروف پالمسٹ
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کو اب کیا کرنا ہے؟

اتوار 29  ستمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
جہاں’’دشمن‘‘ کی تعریف بھی بنتی ہو، کرنی چاہئے۔ عمران خان تو ہم سب کے وزیر اعظم ہیں، سیاسی اختلافات اور نظریات اپنی جگہ، مگر قومی معاملات پر تو یگانگت دکھائی دینی چاہئے۔ بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی میں اپنے سیاسی کیرئیر کی بہترین تقریر کی، برجستہ اور ٹو دی پوائنٹ، جبکہ بعض کو خدشہ تھا کہ ان کا سارا خطاب مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر محیط ہوگا، لیکن انہوں نے کشمیر ایشو کو چوتھے نمبر پر رکھا، کئی ناقدین کہہ رہے ہیں کہ ان کی تقریر کے پہلے تین نکات بھی اہم تھے
مزید پڑھیے


بھوک ہے زندگی کا دروازہ

جمعه 27  ستمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پچھلے کالم میں شاید تھوڑاجذباتی ہوگیا تھا، میں واقعی غصے میں تھا، غصہ پر بمشکل قابو پایا تھا اور کالم کا رخ اصل موضوع سے ہٹا کر،، جہانگیر کی کہانی،، کی جانب لے گیا تھا، لیکن کب تک؟ کب تک کوئی اپنے جذبات پر قابو رکھ سکتا ہے؟ ہم ان لوگوں کی اگلی نسلیں ہیں جو عمر بھر یہ کہتے اور یہ سنتے قبروں میں اترتے رہے کہ،،، حالات جلد ٹھیک ہو جائیں گے،،،، عمران خان صاحب! آپ ’’ہم عوام‘‘ کی شاید آخری امید تھے، آپ نے امیدوں کے ادھ بجھے چراغ مکمل بجھا دیے ، مگر،ہاں! جو
مزید پڑھیے


ضرورت جب گھنگرو باندھ لیتی ہے

بدھ 25  ستمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
عمران خان کی حکومت صحیح سمت میں رواں دواں ہے، مہنگائی اور غربت کا رونا پیٹنے والے سب کے سب پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین اور مولانا فضل الرحمان کے پیروکار ہیں، اگر معاشی حالات ابتر ہیں تو پھر بتائیے کہ شرح اموات میں اضافہ کیوں نہیں ہوا؟ خود کشیوں کی شرح نواز شریف کے دور سے کیوں نہیں بڑھی؟ آپ کے پاس میرے سوال کا جواب ہے یا نہیں، جواب بھی میں خود ہی دیے دیتا ہوں۔ضرورت آخری منزل پر پہنچ کر گھنگرو باندھ لیتی ہے، میرے علم میں نہیں ہے کہ محکمہ شماریات کی کیا کیا ذمہ
مزید پڑھیے