BN

خاور نعیم ہاشمی



ایک تھا جلال


یہ پچاس کی دہائی کے آخری دو تین سالوں کی بات ہے، میں پانچ سال کا اور میرا بھائی تین سال کا تھا، صبح ناشتہ کے بعد ہماری ماں ہم دونوں بھائیوں کو نہلانا دھلانا شروع کر دیتی تھیں، سردیوں کی دوپہروں میں وہ ہمیں گھر کی چھت پر لے جاتیں، چارپائی پر بٹھا کر روزانہ نیا لباس پہناتیں اور ہمارے بال سنوارتیں، مجھے کہتیں، تمہارے بال لمبے ہیں اس لئے ان پر چڑیا بنا رہی ہوں، اسی دوران بارہ، تیرہ سال کا ایک گورا چٹا پٹھان لڑکا ہمارے گھر میں داخل ہوتا اور ہم دونوں بھائیوں کو چھت سے
جمعه 13 دسمبر 2019ء

بندر کا انصاف

جمعه 06 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
آپ نے بندر بانٹ کا محاورہ ہزاروں بار سنا ہوگا، ہزاروں بار خود بھی استعمال کیا ہوگا لیکن شاید آپ نے اس محاورے کے پیچھے کہانی کیا ہے وہ کبھی نہ سنی ہو،آج یہ کہانی ہم دوہرا دیتے ہیں تاکہ پاکستان کی ہمیشہ سے قائم سیاست کو سمجھنے میں آپ کو کوئی کوفت نہ ہو، کہانی سنانے سے پہلے ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ دنیا میں جتنے بھی انسان، چرند پرند اور درندے ہیں بندر واحد جانور ہے جس کے دو دماغ ہوتے ہیں، ملائشیا ، سنگا پوراور انڈونیشیا میں بندروں کے دماغ کا سالن مقبول ترین
مزید پڑھیے


چیف جسٹس کو توسیع کیوں نہیں؟

اتوار 01 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
جو لوگ کہتے تھے وزیر اعظم عمران خان دسمبر میں نظر نہیں آئیں گے اب انہوں نے انہیں مارچ2020تک کی ،، توسیع ،، دیدی ہے لیکن میرے خیال میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کے اقتدار کو کم از کم ایک سال کے لئے تو دوام بخش دیا ہے، اب عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ خود کہاں تک ٹھہرتے ہیں، اگر انہوں نے اپنی سیاست اور حکومت کا محور اپنی موجودہ ٹیم کو ہی بنائے رکھا تو کوئی بڑے سے بڑا نجومی بھی کوئی پیش گوئی کرنے سے قاصر رہے گا، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے
مزید پڑھیے


ابھی بات ختم نہیں ہوئی

جمعه 29 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پاکستانی سیاست کی تاریخ دھماکہ خیز واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن جو دھماکے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کر دیے ان کی گونج کبھی ختم نہ ہوگی۔ سوچا تھا اب جمہوریت پٹری پر چڑھ جائے گی۔ 1977ء کے بعد اب تک جمہوریت کا چہرہ داغ دار ہے، اس کی سرجری کی ضرورت تھی، چیف جسٹس اس کے لئے آخری حد تک گئے۔ میرا کیا ہے میں تو دو اور دو چار والا آدمی ہوں اور یہ اصول جذباتیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں کبھی دو اور دو چار نہیں ہوتے۔ بدھ کی رات
مزید پڑھیے


اب پچھتائے کیا ہوت

اتوار 24 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
وزیر اعظم عمران خان چلتے پھرتے نواز شریف کو ٹی وی اسکرینوں پر دیکھ کر بہت پریشان ہیں اور ہماری پریشانی یہ ہے کہ ہم نے نواز شریف اور ان کے خاندان کی بجائے وزیر اعظم پر اعتبار کیا، مریم اورنگ زیب کی نواز شریف کی صحت کے بارے میں روزانہ بریفنگ ہمیں متاثر نہیں کر رہی تھی ہمیں تو نواز شریف کی بیماری کی سنگینی کا اعتبار اس وقت آیا تھا جب خود وزیر اعظم نے اس کی مسلسل تصدیق کی اور اعلان کیا کہ نواز شریف کا علاج ان ڈاکٹروں اور اس اسپتال سے کرایا جائے جہاں
مزید پڑھیے




سب کچھ بدلنے والا ہے

جمعه 22 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا ،، پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں بشمول حلیف جماعتوں کے،سب کی سب پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کے خلاف متحد ہیں، آج ہم یہ امکان غالب ظاہر کر رہے ہیں کہ اب کوئی’’ دوسرا‘‘ بھی عمران خان کے ساتھ نہیں،،،جن کے بارے میں ایک پیج پر ہونے دعوے کئے جاتے تھے وہ بھی اب عوام کی حالت زار کی جانب دیکھ رہے ہوں گے، وزیر اعظم سوا سال تک جنہیں لٹکانے کے دعوے کرتے رہے وہ بھی بحفاظت ان کی پہنچ سے دور جا چکے، رہی بات آصف زرداری کی تو
مزید پڑھیے


بالآخر دونوں جیت گئے

اتوار 17 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
لاہور ہائی کورٹ کے دو معزز ججوں نے آخرکار بیمار نوازشریف کے علاج کے لئے باہر جانے کا مسئلہ انتہائی احسن طریقے سے حل کر دیا اور پھر فیصلہ آ گیا۔ وفاق کے وکلاء کی طرف سے کچھ اعتراضات کئے گئے جنہیں عدالت خاطر میں نہ لائی۔ اب نواز شریف چار ہفتوں کیلئے علاج کرا سکیں گے اور ضرورت پڑی تو اس میں توسیع ہو سکے گی۔ شہباز شریف کی درخواست پر سماعت شروع ہوتے ہی عدالت نے ریمارکس دیے ،، ہم یہ معاملہ دونوں فریقوں کی رضامندی سے حل کرنا چاہتے ہیں،، اور پھر ایسے ہی ہوا، فیڈریشن نے
مزید پڑھیے


نواز شریف پر پھر ڈیل کا الزام

اتوار 10 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
میرا یقین تو اب تک کامل ہے کہ نواز شریف واقعی علیل ہیں اور ان کی بیماری اس خطرناک موڑ تک پہنچی ہوئی ہے جہاں،، کچھ ،،بھی ہو جایا کرتا ہے، لیکن ,,میرے اس یقین کا کسی ڈیل کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے، بتایا جا رہا ہے کہ میاں صاحب آج شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو رہے ہیں، میں میاں صاحب کی علالت اور ان کی بیرون ملک روانگی کو علیحدہ علیحدہ منظر میں دیکھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں خود باہر چلے جانے کی ،، اجازت،،
مزید پڑھیے


اہل صحافت کیا کیا گل کھلاتے رہے

جمعه 08 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پاکستان میں آج سیاست اور صحافت جس نازک موڑ پر کھڑی ہیں یہ کئی نام نہاد سیاستدانوں اور نادان صحافیوں کا نامہ اعمال ہے۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہو گیا، اس تباہی کے پیچھے ایک طویل’’جدوجہد‘‘ ہے۔ طے شدہ منصوبوں اور حادثاتی طور پر صحافی اور سیاستدان بن جانے والے افراد نے تباہیوں اور بربادیوں کی تاریخ رقم کی ہے اور یہ کہانی ہے کم از کم نصف صدی کی اور میں سمجھتا ہوں کہ صحافت اور سیاست کے اصل منصب کی بحالی کے لئے اگر آج جدووجہد شروع کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو یہ
مزید پڑھیے


دھرنے کومحفوظ راستے کی ضرورت

اتوار 03 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
یہ کالم میں دو دن پہلے جمعہ کی رات اس وقت لکھ رہا ہوں جب مولانا فضل الرحمان کا دھرنا عروج پر دکھائی دے رہا ہے، بے شک وہاں مدرسوں کے طلباء کا جم غفیر ہے، میں ذاتی طور پر اپنے رسک پر وہاں موجود لوگوں کی تعداد کو ایک لاکھ سے سوا لاکھ تک تصور کر رہا ہوں،چاہے وہاں ساٹھ ستر ہزار سے بھی کم لوگ ہوں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو چھوڑئیے، کراچی سے اسلام آباد تک کے اس سفر میں کوئی ایک عام شہری بھی مولانا کا شریک سفر نہ ہوا، نجانے کیوں
مزید پڑھیے