BN

خاور نعیم ہاشمی



حمیرا ارشد کو طلب کرنے والے افسر کی نئی واردات


آج تک ہزاروں تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں،لیکن جو واقعہ عباس اطہر صاحب کی برسی کی تقریب میں دیکھا وہ اپنی نوعیت کا منفرد اور ناقابل یقین واقعہ لگتا ہے،جسے میں نے ہی نہیں لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی ہال میں موجود سو سے زیادہ لوگوں نے دیکھا اور یہ سب کے لئے ہی عجب تھا، اس سے پہلے کہ اس انہونی پر بات کی جائے پہلے تھوڑا سا ذکر امریکہ سے آئی ہوئیں فوزیہ عباس کی جانب سے اپنے والد محترم کی یاد میں سجائی گئی اس بزم کا جس میں حکمران پارٹی کے کسی نمائندے کے
بدھ 08 مئی 2019ء

سید عباس اطہر کو یاد کرنے کا دن

اتوار 05 مئی 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
وہ شام کے وقت نیوز روم جانے کیلئے روزنامہ آزاد کی راہداری سے گزرتے تو سب ان کی جانب متوجہ ہوجاتے ، ہر نگاہ ان کا تعاقب کرتی، عباس اطہر صاحب اپنے خیالوں میں مگن سیدھے نیوز روم میں داخل ہوتے، جہاں جاتے ہوئے ان دنوں میرے جیسے طفل مکتب کو تو بہت ڈر لگتا تھا، اس زمانے میں ہر اخبار کے نیوز رومز دنیا جہان کے جینئیس لوگوں سے مزین ہوتے تھے،ایک سے بڑھ کر ایک دانشور، سوائے عالمی سیاست اور عالمی ادب و فن کے ان لوگوں کے پاس گفتگو کا دوسرا موضوع ہی نہیں ہوتا تھا، دنیا
مزید پڑھیے


پرواز کی تیاریاں یا کچھ اور

جمعه 03 مئی 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
سوچ رہا تھا کہ میشا شفیع اور علی ظفر کی لو اسٹوری پر ایک سال بعد پھر کالم لکھا جائے اور ان دونوں گہرے اورپرانے دوستوں کی لڑائی کے اصل محرکات سے پردہ اٹھا دیا جائے، ان حقائق سے جنہیں علی ظفر نے ابھی تک سینے میں چھپا رکھا ہے۔ حقائق تو بڑی حد تک ہمارے علم میں بھی ہیں، جیسا کہ علی ظفر نے اپنے آخری بیان میں کچھ اشارے بھی دیے ہیں لیکن کالم تو شائع ہونا تھا جمعہ کو اور یہ جمعہ کسی پرانی فلم کو چلانے کیلئے ہرگز ہرگز مناسب نہ لگا، اور وہ بھی ان
مزید پڑھیے


پانچ روپے کا ادھار

منگل 30 اپریل 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
ہمارے دادا حضور نورالدین جنہیں ہم باباجی کہتے تھے، سعدی پارک مزنگ میں اپنے ہم عمروں کی بیٹھک میں بیٹھا کرتے تھے، مزنگ بازار اور چاہ پچھواڑا کے درمیانی راستے میں ایک چھوٹا سا لکڑی کادروازہ تھا، جو بظاہر کسی چھوٹے سے گھر کا داخلی راستہ معلوم ہوتا تھا، درحقیقت یہ دروازہ (جو اب بھی موجود ہے)، سعدی پارک اور چاہ پچھواڑے کا شارٹ کٹ تھا جسے صرف محلے کے لوگ ہی جانتے تھے ، ہم اسی دروازے سے اسکول جایا کرتے تھے، اس دروازے میں داخل ہوتے ہی گھنے قدیمی درخت آپ کا استقبال کرتے ،شروع میں ہی
مزید پڑھیے


ایک خط جو مجھے 43سال سے رُلا رہا ہے

اتوار 28 اپریل 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
خاور…!میں تمہارے ابو کے جنازے پر نہیں پہنچ سکا، آج دوپہر سے دل کی حالت یہ ہے کہ اسے سڑک پر حرکت کرتی ہوئی ہر چیز ایک جنازہ لگتی ہے۔ ہرچیز اپنی زندگی کا سفرپورا کر کے دم بدم موت کے اندھیروں میں گم ہوتی جا رہی ہے۔میرا خیال تھا کہ دوسرے لوگ بھی دیر سے آئیں گے اور رخصت ہونے والا ’’دانشوروں‘‘ کے انتظار میں اپنا سفر دراز کر دے گا۔قبرستان میں رکشہ جا کر رکا میں نے دیکھا کہ زمین پر ایک نئی قبر اُبھر آئی ہے، اس پر تازہ پھول پڑے ہیں، جانے والوں کے نشان باقی
مزید پڑھیے




ڈونلڈ ٹرمپ ، میرا بھی تو ہے

جمعه 26 اپریل 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
اللہ کتنا بے نیاز ہے، امریکہ کو ڈونلڈ ٹرمپ دیا تو پاکستان کو عمران خان دیدیا، اگر دنیا کی سپر پاور اور امداد پر گزارا کرنے والے ملک کے سربراہ مملکت ایک جیسے ہیں تو پھر یقین جانیے کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی دنیا کی ایک نئی سپر پاور بن کر ابھرے گا اور امریکہ کی طرح فیصلے کیا کرے گا کہ کس غریب کو کتنی امداد دینی ہے اور اس کے بعد اس امداد کے عوض اس کا حشر نشر کیسے کرنا ہے، عمران خان نے پاکستان کو معاشی اور سیاسی طور پر مکمل خود مختار
مزید پڑھیے


گیسٹ ہاؤس کی ایک رات

منگل 23 اپریل 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
ضلع کچہری راولپنڈی کے مین گیٹ کے عین سامنے ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس ہوا کرتا تھا، جو دو دہائیاں پہلے بیشمار واقعات اور داستانوں کا امین بنا جب بینظیر بھٹو کے آخری دور حکومت میں مجھے لاہور بدر ہونا پڑا تھا، لاہور سے راولپنڈی تبادلہ کیوں کرایا؟ یہ ایک علیحدہ کہانی ہے جس سے پھر کبھی پردہ اٹھاؤں گا،میرے وہاں جانے سے پہلے جواد نظیر بھی پنڈی پہنچا ہوا تھا، اس کی بھی خواہش تھی کہ میں وہاں آجاؤں، جواد نے کشمیر ہاؤس میں ٹھکانہ بنا رکھا تھا، مگر میں نے رہائش کے لئے اس گیسٹ ہاؤس کا انتخاب
مزید پڑھیے


اتنا ڈرامائی انداز کیوں؟

اتوار 21 اپریل 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پاکستان کی سیاسی اور فوجی حکومتوں کی تاریخ میں کابینہ میں رد و بدل کئی کئی بار ہوتا رہا ہے، وزیر تبدیل ہی نہیں معزول اور زلیل ہوتے بھی دیکھے گئے، ماضی کی کس حکومت میں کابینہ کے حوالے سے کیا کچھ نہیں ہوا، لیکن اٹھارہ اپریل کو عمران خان حکومت کی کابینہ میں جس پراسرار اور ڈرامائی طریقے سے رد و بدل ہوا، اس نے پاکستان کے عوام کے سامنے کئی پیچیدہ سوالات لا کھڑے کئے ہیں، بات صرف اسد عمر کو وزارت خزانہ سے ہٹائے جانے تک محدود رہتی تو گوارا تھی، اور عبدلحفیظ شیخ کو خالی
مزید پڑھیے


تم بہت یاد آتے ہو

جمعه 19 اپریل 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پاکستان پیپلز پارٹی اس لحاظ سے واحد سیاسی جماعت ہے جس کے جیالے اپنی اعلی قیادت پر بھی کھلی تنقید کر جاتے ہیں، صرف ذوالفقار علی بھٹو واحد شخصیت ہیں، جنہیں یہ اپنا سیاسی گرو مانتے ہیں اور انہیں بھٹو صاحب کی ذات میں کبھی کوئی منفی چیز نظر نہیں آتی، یہ جیالے تو شہید محترمہ بینظیر بھٹو سے بھی بہت ساری باتوں میں اختلاف رکھتے تھے اور آج بھی اس کا اظہار کر دیتے ہیں، یہ قول پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا ہی ہے کہ جس سیاسی جماعت کو آمر ضیاء الحق تھا ختم نہ کر سکا
مزید پڑھیے


یار مسعود منور، واپس نہ جانا

منگل 16 اپریل 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
وہ 1970ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کرنے کے بعد روزنامہ آزاد سے بحیثیت سب ایڈیٹر منسلک ہوا، میری اس سے پہلی ملاقات بھی آزاد میں ہی ہوئی، وہ خوبصورت شعر کہنے والا آزاد منش اور درویش شخص تھا، عمومآ کرتا پاجامہ پہنتا، حس مزاح بہت تیز تھی، اتنی تیز کہ میرے جیسا آدمی بھی گرمی کھا جاتا، وہ حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں بھی دکھائی دیتا، اشعار میں مشکل الفاظ تو استعمال کرتا تھا مگر شاعری آسانی سے سمجھ آجاتی تھی، ابتداء میں اس کی شاعری کا محور عورت ہوا کرتی تھی، حالانکہ شکل سے
مزید پڑھیے