BN

ذوالفقار چودھری


یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا


سیزر بیکاریا اور جرمی بینتھم نے کہا تھا’’ ریاست اور فرد کے درمیان ایک دکھائی نہ دینے والا رشتہ ہوتا ہے۔یہ رشتہ ریاست کو انارکی اور لاقانونیت سے محفوظ رکھتا ہے ‘‘۔ریاست میں فرد خود کو ایک نظام اجتماعی کا پابند کرتا ہے۔ یہ نظام اجتماعی ریاست کے قوانین سے تشکیل پاتا ہے۔ماہرین سماجیات اس بات پر متفق ہیں کہ قانون کا نفاذ ریاست کی رٹ پر منحصر ہوتا ہے۔ کسی ملک میں ریاست کی رٹ جتنی کمزور ہو گی اس میں اتنی ہی لاقانونیت اور جرائم ہوں گے۔ میک شین نے اپنی تحقیقات سے ثابت کیا کہ قانون
اتوار 20  ستمبر 2020ء

درندے ساتھ رہنا چاہتے ہیں آدمی کے

اتوار 13  ستمبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
ہابز نے کہا انسان خود غرض اور درندہ ہے۔ یہ معاشرہ ہی ہے جو انسان کو اپنی خود غرضی اور وحشت کو لگام ڈالنا سکھاتا ہے۔ ماہرین سماجیات کے مطابق معاشرتی اقدار اور معاشرے کے اجتماعی رویوں کی تشکیل میں اس ملک کے قوانین اور حکومتی رٹ کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ مگر حکومتیں معاشرے سے جرائم کے انسداد کے لئے صرف قوانین اور سزائوں پر ہی انحصار نہیں کیا کرتیں۔آج دنیا بھر میں جرائم کے تدارک کے لئے کریمنل سائیکالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ماہرین نفسیات عدالتوں کی معاونت بھی کر رہے ہیں۔ ترکی
مزید پڑھیے


جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی

اتوار 30  اگست 2020ء
ذوالفقار چودھری
قومیں بیرونی حملوں‘ ناگہانی آفتوں اور تباہی سے نہیں اندرونی خلفشار ،بدعنوانی اور سازشوں سے مٹتی ہیں۔ عالمی جنگوں میں جاپان ،جرمنی اورسلطنت عثمانیہ اتحادی تھے۔ مگر جاپانی اور جرمن قوم متحد تھیں۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی تین دن تک جلتے رہے ،دھائیوںتک جاپان میں معذور بچے پیدا ہوتے رہے۔ جرمنی کے شہر برلن کے بیچ دیوار کھینچ دی گئی مگر قومی یکجہتی اور اجتماعی قربانیوں کے باعث دونوں ممالک چند دھائیوں بعد ہی دنیا کی پانچ مضبوط معیشتوں میں شمار ہونے لگے۔ سلطنت عثمانیہ کو جنگ کے ساتھ باہمی خلفشار‘ اندرونی سازشوں اور بدعنوانی کا بھی سامنا
مزید پڑھیے


ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے

اتوار 23  اگست 2020ء
ذوالفقار چودھری
اقتدار اور اختیار کی خواہش انسانی جبلت ہے۔ افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قوم بنتی ہے۔ قومیں مہینوں برسوں میں نہیں صدیوں میں بنتی اور بکھرتی ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں امریکہ میں جمہوری اور یورپ میں نو آبادیاتی نظام تشکیل پانا شروع ہوا۔ انیسویں صدی میں امریکہ میں جمہوری اور یورپ میں نو آبادیاتی نظام مضبوط ہوا ۔امریکہ اور یورپ نئے عالمی نظام میں حریف بھی تھے اور حلیف بھی۔ بیسویں صدی میں جس برطانیہ کے راج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اس برطانیہ کی مسلمانوں کے پٹرول کے ذخائر پر قبضے کی خواہش نے دنیا
مزید پڑھیے


تحریک انصاف کے دو سال

جمعرات 20  اگست 2020ء
ذوالفقار چودھری
تحریک انصاف اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کر چکی ۔ ان دو برسوں میں عوام نے تو مہنگائی اور بے روزگاری کا جو جبر بھگتا سو بھگتا خود حکومت پر بھی یہ 24ماہ خاصے بھاری رہے۔ عمران خان کو اس عرصے میں چومکھی لڑنا پڑی۔ ان کومعاشی بدحالی اور غیر ملکی قرضوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے کشکول اٹھانے کے ساتھ بیورو کریسی کے عدم تعاون کا بھی سامنا رہا۔ یہ افسر شاہی کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نتیجہ تھا کہ حکومتی رٹ ختم ہو کر رہ گئی
مزید پڑھیے



عالمی سیاست کا بدلتا منظر نامہ

اتوار 16  اگست 2020ء
ذوالفقار چودھری
ریاستیں اپنے مفادات کے انڈے کبھی کسی ایک ملک کی ٹوکری میں نہیں رکھتیں۔ عالمی سیاسی معاملات میں ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو والا معاملہ ہوا کرتا ہے۔ ماضی میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور امریکہ اور چین دونوں کا اتحادی رہا۔ چین سے ہماری دوستی سردگرم حالات، ہر آزمائش پر پورا اترتی رہی تو امریکہ سے تعلقات میں بھی وقت اور ضرورت کے لحاظ سے تغیر کے شکار رہے ۔چین نے پاکستان کے لئے سی پیک کے ذریعے کثیر سرمایہ کاری کی، ترقی و خوشحالی کے دروازے
مزید پڑھیے


ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

اتوار 09  اگست 2020ء
ذوالفقار چودھری
ریاستوں کے تعلقات جذبات پر نہیں باہمی مفادات پر استوار ہوتے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کی واحد ریاست ہے جس کے ساتھ مسلمانان عالم کی جذباتی وابستگی ہے۔ پاکستانی قوم کا تو سعودی عرب سے محبت نہیں عشق کا رشتہ ہے۔ یہ مداراتیں یک طرفہ بھی نہیں۔ سعودی عرب ہر مشکل وقت میں پاکستان کا معاشی اور سفارتی سہارا بنتا رہا ہے تو پاکستان نے بھی ارض مقدس کے تحفظ کے عزم کا ہمیشہ اعادہ ہی نہیں ،عملی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی سات دہائیوں پر مبنی تاریخ ہے مگر پھر یکایک کیا ہوا کہ
مزید پڑھیے


بیوروکریسی:قریب آئے تو چہرے بدل گئے!

اتوار 26 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
گزشتہ کالم میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت اقتدار کی خواہش تھی یا مجبوری۔ حقیقت منکشف ہو چکی کہ پاکستان کے پہلے دو وزرائے اعظم خواجہ ناظم الدین اور محمد علی بوگرہ کو 1951-55ء کے عرصے میں گھر بھیجنے والی فوج نہیں بلکہ بیورو کریٹ غلام محمد تھا۔ دوسرے بیورو کریٹ سکندر مرزا نے چار وزرائے اعظم چودھری محمد علی‘ حسین شہید سہروردی‘ آئی آئی چندریگر اور فیروز خان کی حکومتیں چلتی کیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی بیورو کریسی اس قدر طاقتور کیوں ہے کہ جب چاہے
مزید پڑھیے


فوج پر الزام دھرنے کا فیشن

اتوار 19 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
اجتماعی شعور کی نابالیدگی کے باعث عوامی سوچ ان سوکھے پتوں کے ماند ہوتی جن کو پراپیگنڈہ کا طوفان من چاہی سمت میں اڑاتا لیے پھرتا ہے۔ پاکستان کو 74سال بعد بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ میڈیا پراپیگنڈا مہم نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک تاثر پیدا کر دیا ہے، سیاسی اشرافیہ یہاں تک کہ دانشور حلقوں میں بھی سیاسی ناکامیوں کا الزام عسکری اداروں پر دھرنے کا فیشن بن چکا ہے۔ حق گوئی کا عالم یہ ہے کہ بڑے سے بڑا سیاستدان اور دانشور کھل کر بات کرنے کے بجائے مقتدر حلقے‘بحرانوں اور ناکامیوں کا
مزید پڑھیے


دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

اتوار 12 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
جمہوری نظام میں عوام کی حمایت اور اعتماد حکمران کو با اختیار بناتا ہے۔ عمران خان نے احتساب‘ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی احتساب‘ ترقی و خوشحالی کے خواب دکھا کر عوام سے ووٹ مانگے۔ صبر جواب دینے لگا تو الیکٹیبلز کو اقتدار کی سیڑھی بنایا پھر بھی بات نہ بنی تو اتحادیوں کی بیساکھیوں کا سہارا لیا۔ اقتدارتو مل گیا مگر عوام کے اعتمادکی طاقت کمزور پڑنے سے اختیار کی ڈور ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ بھان متی کے حکومتی کنبے میں 38وزیر مشیر غیر منتخب ہیں‘ جو منتخب ہو کر آئے ہیں ان کو تحریک انصاف کے منشور اور
مزید پڑھیے