BN

ذوالفقار چودھری



آزادی مارچ اور مولانا کی کثیر الجہتی سیاست


روزگار کے غم دلفریب ہوتے ہیں یہ تو فیض احمد فیض بھی کہہ گئے ہیں مگر غم روزگار کی دلفریبی خود فریبی بلکہ مستی اور پھر جنوں میں بدل جاتی ہے اس کا اندازہ اپنے ماضی کے حکمرانوں کی حالت کو دیکھ کر ہو جاتا ہے جن کا معاملہ مادھو رام جوہر کے مطابق پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیا دل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظرکچھ بھی نہیں! ان کی اقتدار کے روزگار سے بچھڑنے کے بعد جو حالت ہے اس کومیر نے کچھ یوں بیان کیا ہے ع روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی
اتوار 13 اکتوبر 2019ء

بچوں کے قاتل جو بھی ہوں قصور وارصرف حکومت!

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
کوئی بھی قوم جب اجتماعی طور پر بدعملی‘ بداخلاقی اور بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے تو تباہی و برباد ی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ مہذب معاشرے اپنی بقا کے لئے نئی نسل کی اخلاقی تربیت سے صرف نظر نہیں برتا کرتے۔ سویڈن کے ایک چھوٹے سے قصبے میں مارچ کی یخ بستہ سردی میں ایک 13برس کی لڑکی نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ بظاہر یہ خودکشی کا معمول کا واقعہ تھا مگر اس زندہ قوم نے اس ایک بچی کی موت کو سویڈن کے مستقبل کی موت تصور کرتے ہوئے خودکشی
مزید پڑھیے


میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی!

اتوار 29  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
خاندان سے معاشرے اور معاشرے سے ریاست وجود میں آتی ہے۔ روسو نے کہا تھا کہ ریاست امیر لوگوں نے اپنی جائیداد کی حفاظت کے لئے بنائی ہے۔ عدم مساوات ریاست کی سرپرستی میں پروان چڑھتی ہے ۔طاقت کا حصول کمزوروں کے وسائل پر قبضہ آج کی جدید ریاستوں کا غیر اعلانیہ منشور ہے۔ یہ طاقت کے حصول اور وسائل پر قبضہ کی خواہش ہی تھی کہ دو عظیم جنگیں لڑنے اور کروڑوں انسانوں کے قتل عام کے بعد جب 5بڑی طاقتیں مستقبل میں جنگوں کی تباہی سے بچنے کے لئے اقوام متحدہ ایسا ادارہ بنانے پر مجبور ہوئیں
مزید پڑھیے


مولانا کا آزادی مارچ اور ردِ نامعقولات

اتوار 22  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
کج فہم ہیں جو اقتدار پر نشہ کی تہمت باندھتے ہیں۔ یہ عشق کی مستی ہے‘ جو مقتدران کو مخمور کیے رکھتی ہے۔ اگر اقتدار میں نشہ ہوتا تو اہلیان اختیار و اقتدار کے بجائے ایوان اقتدار ناچا کرتے۔ وہ تو اہل کمال و فن مذہب کو سیاست سے جدا اس لئے نہیں ہونے دیتے کہ کہیں سیاست صرف چنگیزی نہ رہ جائے۔ یہ سچ ہے کہ جب اقتدار کی شرابوں میں اعتقادات ودینیات کی شراب طہورہ ملتی ہے تو نشہ بھی سوا ہو جاتا ہے اور عشاق مستی میں دیوانہ وار جھومتے اور معتقدیان سردھنتے ہیں۔ اس مستی بلکہ
مزید پڑھیے


افغان طالبان کا یقین اور بکھرتی واحد سپر پاور

اتوار 15  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
جنگیں اسلحہ بارود سے نہیں نصرت الٰہی ‘حق پر ہونے کے یقین سے جیتی جاتی ہیں۔ یہ یقین کی قوت ہی تھی جس نے 313کو بے سروسامانی میں ایک ہزار کے مقابل لاکھڑا کیا۔ تباہ حال افغانیوں کو یقین کی قوت نے ہی دنیا کی واحد سپر پاور کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ دیا۔ آخر دنیا بھر کے وسائل اور وقت کی جدید ترین ٹیکنالوجی یقین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔ افغان طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات اور امن معاہدے پر اصولی اتفاق کوئی معجزہ نہیں عزم واستقلال کی بے یقینی پر فتح تھی ۔یہ
مزید پڑھیے




ذہنی مریض کون: صلاح الدین، حکمران یا سماج؟

اتوار 08  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
حقائق اور خواہشوں کو دبانے سے محرومی جنم لیتی ہے اور محرومی کی کوکھ سے غصہ پھوٹتا ہے۔ انفرادی رویوں میں اصلاح کے بغیر سماج کا سد ھار ممکن نہیں۔ہم ایسے پرتشدد اور اذیت پسند سماج میں جی رہے ہیں جو ایک جان لیوا بحران کا شکار ہے۔ ہماری محرومیاں اور اذیت پسندی ہی اس بحران کی صورت گری کر رہی ہیں۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہم نفرت کی تجارت کرتے ہیں اور اس کاروبار کی سب سے بڑی منڈی سوشل میڈیا ہے۔ یہ جادو کی وہ نگری ہے جہاں کوئلے کی کان میں سونے کا بیوپار ہوتا
مزید پڑھیے


سرکاری خونخوار اور بے نور آنکھیں

اتوار 01  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
قاتل جانوں کے نہیں ارمانوں کے بھی ہوتے ہیں۔ جان لینے والا تو ایک ہی وار میں کام تمام کرتا ہے اور مقتول تمام دکھوں تکلیفوں سے ہمیشہ کے لئے مکت ہوجاتا ہے ۔ ابوالکلام آزاد نے ’’درس وفا‘‘ میں لکھا’’شیر خونخوار ہے مگر غیروں کے لئے سانپ، زہریلا ہے دوسروں کے لئے، چیتا درندہ ہے مگر اپنے سے کم تر جانوروں کے لئے‘ لیکن انسان دنیا کی اعلیٰ ترین مخلوق خود اپنے ہی ہم جنسوں اور اپنے ہی ابنائے نوع کے لئے درندہ و خونخوار ہے‘‘۔ ستم تو یہ ہوا کہ حضرت انسان نے اپنی خونخواری کو دلفریبی اور
مزید پڑھیے


تشدد پسندی کی طرف بڑھتی دنیا

اتوار 25  اگست 2019ء
ذوالفقار چودھری
جنگ چھیڑنا، وقت کا انتخاب اور اصول طے کرنا ہمیشہ طاقت ور کا اختیار رہا ہے۔ کمزور تو اپنے دفاع اور بقا کے لئے صرف مزاحم ہوتا ہے اور طاقت کی چکی میں پس کر تقسیم در تقسیم کے ذریعے کمزور سے کمزور تر ہوتا جاتا ہے۔ انسانی ترقی کا کرشمہ مگر یہ ہے کہ دو عظیم جنگوں کے زخم چاٹتے یورپ سے طاقت کا مرکز امریکہ منتقل ہوا تو ملکوں کو فتح کرنے اور اقوام کو غلام بنانے کی پالیسی کمزور اور کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے اقوام کو ذہنی غلام بنا کر طاقت اور وسائل بڑھانے کی حکمت
مزید پڑھیے


امن کے نام پر مسلم کش عالمی ایجنڈا

اتوار 18  اگست 2019ء
ذوالفقار چودھری
جبر کے کھیت میں امن کے پھول نہیں کھلتے‘ نفرت کی جھاڑیاں اگتی ہیں۔ سماج کے اجتماعی شعور میں نفرت کا لاوا بغاوت بن کر ظلم کی سنگلاخ چٹانوں کو چیر کر پھوٹتا ہے۔ آج مسلمان دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بھی ہیںاور دہشت گردی کا لیبل لگا کردنیا نسل کشی بھی ان ہی کی کر رہی ہے۔ تاریخ مظلوم اور ظالم کاقصہ بیان نہیں کرتی،فاتح کی جیت کے گیت گاتی ہے۔برطانوی مورخ آرنولڈ ٹوائن بی نے 1961ء میں کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی میں اسرائیل کے عربوں پر مظالم کا تذکرہ ہوئے کہا تھا: نازیوں نے 60لاکھ
مزید پڑھیے


آزادیٔ کشمیر کی قیمت

اتوار 11  اگست 2019ء
ذوالفقار چودھری
آزادی کی قیمت خون ہے اور ہمیشہ انسانی خون ہی رہے گی۔ آزادی کی راہ میں جان دینے والے کبھی نہیں مرتے بھلے ہی منوں مٹی تلے دفن ہوں مگر ان کا جذبہ آزادی اور عزم و حوصلہ ہزاروں لاکھوں زندہ آزادی کے متوالوں کی رگوں میں لہو بن کر دوڑتا ہے۔ تحریک پاکستان کی شمع بھی شہیدوں کے خون سے روشن ہوئی تھی جس نے آگے چل کر وہ چراغ جلائے جن کی روشنی میں مسلمانان برصغیر نے منزل پاکستان کی صورت میں حاصل کی۔ پھر ہجرت کا سفر بھی ایک آگ اور خون کا دریا تھا جو عبور
مزید پڑھیے