BN

ذوالفقار چودھری


اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دبائو اور عالمی منظر نامہ


پاکستانیوں کی ارض مقدس سے جذباتی محبت اور اس کی حفاظت کے لئے آخری سانس تک لڑنے اور کٹ مرنے کا عزم غیر مشروط ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستوں کے تعلقات جذبات نہیں مفادات سے جڑے ہوتے ہیں۔ عالمی منظر نامے میں ریاستوں کی نئی صف بندیاں جاری ہیں ۔چین امریکہ کی واحد سپر پاور کی حیثیت کو چیلنج کر رہا ہے دوسری طرف امریکہ نے اپنی حیثیت تسلیم کروانے کے لئے نہ صرف بھارت، جاپان آسٹریلیا کے ساتھ مل کر چین کے خلاف محاذ بھی بنا رہا ہے بلکہ امریکی بحری بیڑے کی جنوبی چین
اتوار 29 نومبر 2020ء

علیشا اور اس دیس کے اندھے حاکم

اتوار 22 نومبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
اقوام کی تاریخ مہینوں برسوں میں نہیں دھائیوں اور صدیوں میں بنتی ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ قوم کے زوال سے پہلے اس معاشرے کا اخلاق تباہ ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں انسان نہیں انسانیت مرتی ہے۔ جہاں انسانیت نہ ہو وہاں اچھائی اور برائی کا فرق ختم اور انسان خواہشات اور ہوس کے غلام بن جاتے ہیں۔ اصلاح احوال کے بجائے حالات کے ماتم کاچلن قوم کا وطیرہ بن جاتا ہے۔ سماج سے انصاف اٹھ جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے اسی بے حسی اور بے راہ روی سے گزر رہا ہے ۔ ہمارا حال یہ ہے کہ
مزید پڑھیے


امریکی ملٹری انڈسٹری کمپلیکس، ٹرمپ اور کرامت بخاری

اتوار 15 نومبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
نومبر 2016ء کے امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی جیت پر حیران و پریشان امریکی اتحادیوں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کو نومبر 2020ء میں بائیڈن کی فتح کے بعد اطمینان کا سانس نصیب ہوا ۔دنیا واحد سپر پاور کے صدارتی انتخابات کو اپنے اپنے مفادات کے آئینے میں دیکھتی ہے مگر امریکی صدر کے فیصلے عالمی خواہشات نہیں امریکہ کے مفادات اور اہداف کے حصول کے لئے کرنا ہوتے ہیں۔ اگر امریکی صدور کے فیصلوں میں عالمی مفادات ترجیح ہوتے تو اپنے نام کے ساتھ حسین لکھنے پر بضد باراک اوبامہ مسلمانوں پر تباہی اور جنگ مسلط کرنے کے امریکی فیصلوں پر
مزید پڑھیے


تحریک انصاف اور کسانوں کا لہو!!

اتوار 08 نومبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
غربت ،محرومی اور استحصال سیاسی بے چینی اور مسلح تصادم کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ عمران خان حکومتی وسائل انسانوں پر خرچ کر کے نچلے طبقے کو اوپر اٹھا کر تبدیلی لانے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ اسے سیاست کی کرشمہ سازی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد تبدیلی لانے والوں کے خود رنگ بدلنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی انصاف کی تحریک اقتدار میں آ کر ایسے رنگ بدل رہی ہے کہ اقتدار کے دربار میں نواز‘ زرداری‘ عمران ایک ہونے والا معاملہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ وزیر اعظم کے وسیم
مزید پڑھیے


تونے وعدہ کیا تھا یاد تو کر

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
معروف جرمن فلاسفر فیڈرک نشطے مقصد سے ہٹ جانے کو سب سے بڑی حماقت کہتے ہیں۔ آج اگر عوام کی وزیر اعظم عمران خان سے امیدیں مایوسی سے بڑھ کر ناامیدی میں بدل رہی ہیں تو اس کی وجہ بھی وزیر اعظم کا اپنے مقصد سے ہٹ جانا ہے۔ وزیر اعظم کا اقتدار حاصل کرنے کا مقصد کیا تھا؟وہ خود یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ دولت اور شہرت بہت حاصل کر چکے اب وہ عوام کی خوشحالی اور ملک کی ترقی کے لئے اقتدار چاہتے ہیں۔ انہوں نے عوام کو بار بار یہ باور بھی کروایا کہ پاکستان کے
مزید پڑھیے



میں تو اس کی باقی زندگی گزار رہا ہوں

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
جمہوریت میں جمہور کو قانون کی لاٹھی سے ہانکا نہیں جاتا بلکہ اخلاقی زنجیر سے باندھا جاتا ہے۔ عمران خان خود حکمرانی کے اخلاقی جواز کے پرچارک اور اقتدار کے لئے 22سال جدوجہد کے دعویدار رہے ہیں۔ اسلام آباد دھرنوں میں 126دن تک ملک کو درپیش مسائل، ان کے اسباب اور حل پر لیکچر دیتے رہے ۔ان کے دعوئوں اور دھرنے میں پیش کیے گئے اعداد و شمار پر اعتبار کی وجہ سے عوام نے ان سے امید باندھی اور دو سال تک پیٹ پر پتھر رکھ کر تبدیلی کے منتظر بھی رہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ تحریک انصاف
مزید پڑھیے


وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
پاکستان میں موسم کی حدت جوں جوں کم ہو رہی ہے۔سیاست کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق میاں نواز شریف نے اے، پی۔ سی میں قومی سلامتی کے اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد اپنی پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں پارٹی کارکنوں سے انقلاب برپا کرنے کا حلف بھی لے لیا ہے۔اس انقلاب کی نوعیت کیوں آئی اب یہ راز نہیں رہا ۔تہذیب حافی نے کہا ہے نا کہ: وہ جس کی چھائوں میں پچیس سال گزرے ہیں وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں
مزید پڑھیے


جس کو بھی دیکھنا کئی بار دیکھنا

اتوار 27  ستمبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
نیلسن منڈیلا نے کہا تھا سیاستدان اگلے الیکشن اور لیڈر اگلی نسل کے مستقبل کا سوچتا ہے۔ پاکستان کا المیہ مگر یہ ہے کہ ہمارے لیڈر اپنے خاندان اور اپنی نسل سے آگے کبھی دیکھ ہی نہ پائے۔ دنیا بھر کی طرح یہاں سیاست تو اقتدار کے حصول کے لئے ہوتی ہے مگر اقتدار کو عوام کے بجائے اپنے مفاد اور لوٹ مار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاست کے تجارت بننے کی گواہی ماضی میں جنرل مشرف کے مارشل لاء کے مقابلے اور نواز شریف کو مشرف کی قید سے رہائی دلانے کے لئے چلائی گئی تحریک اے
مزید پڑھیے


یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اتوار 20  ستمبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
سیزر بیکاریا اور جرمی بینتھم نے کہا تھا’’ ریاست اور فرد کے درمیان ایک دکھائی نہ دینے والا رشتہ ہوتا ہے۔یہ رشتہ ریاست کو انارکی اور لاقانونیت سے محفوظ رکھتا ہے ‘‘۔ریاست میں فرد خود کو ایک نظام اجتماعی کا پابند کرتا ہے۔ یہ نظام اجتماعی ریاست کے قوانین سے تشکیل پاتا ہے۔ماہرین سماجیات اس بات پر متفق ہیں کہ قانون کا نفاذ ریاست کی رٹ پر منحصر ہوتا ہے۔ کسی ملک میں ریاست کی رٹ جتنی کمزور ہو گی اس میں اتنی ہی لاقانونیت اور جرائم ہوں گے۔ میک شین نے اپنی تحقیقات سے ثابت کیا کہ قانون
مزید پڑھیے


درندے ساتھ رہنا چاہتے ہیں آدمی کے

اتوار 13  ستمبر 2020ء
ذوالفقار چودھری
ہابز نے کہا انسان خود غرض اور درندہ ہے۔ یہ معاشرہ ہی ہے جو انسان کو اپنی خود غرضی اور وحشت کو لگام ڈالنا سکھاتا ہے۔ ماہرین سماجیات کے مطابق معاشرتی اقدار اور معاشرے کے اجتماعی رویوں کی تشکیل میں اس ملک کے قوانین اور حکومتی رٹ کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ مگر حکومتیں معاشرے سے جرائم کے انسداد کے لئے صرف قوانین اور سزائوں پر ہی انحصار نہیں کیا کرتیں۔آج دنیا بھر میں جرائم کے تدارک کے لئے کریمنل سائیکالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ماہرین نفسیات عدالتوں کی معاونت بھی کر رہے ہیں۔ ترکی
مزید پڑھیے