Common frontend top

ذوالفقار چوہدری


اختیارات وقانون کے غلط استعمال کاوتیرہ!


امریکہ کی معروف کریمنل سائیکالوجسٹ پیٹریشیا کارویل نے کہاہے کہ طاقت اور اختیارات کا غلط استعمال تمام برائیوں کی جڑ ہے کس طرح! اس کا جواب ٹیڈ نوجینٹ نے یوں دیا ہے کہ جب ریاست کی رٹ نہ ہو، قانون طاقتور کو نکیل ڈالنے میں بے بس ہو تو ریاست بدعنوانی دھوکہ دہی اور کرپشن کے سمندر میں پھولی ہوئی لاش کی مانند رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں پھر بھی ایک بھرم تھا کہ اشرافیہ کی اقتدار اور مفادات کی جنگ میں بھلے ہی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہو مگر غریب کو تاخیر سے ہی
جمعرات 21 مارچ 2024ء مزید پڑھیے

قرض کی مے ،مگر کب تک

جمعه 15 مارچ 2024ء
ذوالفقار چوہدری
لی ایچ ہیملٹن نے کہا تھا امداد وہاں کام کر سکتی ہے جہاں گڈ گورننس ہو، جہاں حکومتوں کی اپنے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں دلچسپی ہی نہ ہو وہاں امداد کرپشن کے فروغ کا ذریعہ ہی بنتی ہے۔وزارت خزانہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کو درپیش 8 بڑے خطرات کی نشاندہی کی ہے،جس میں میکرو اکنامک عدم توازن،بڑھتے ہوئے قرضے،سرکاری اداروں کے خسارے، ماحولیاتی تنزلی،پبلک پرائیویٹ شراکت داری کو لاحق خطرات، صوبائی مالیاتی نظم وضبط اور گورننس کے مسائل شامل ہیں۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رواں سال کے حوالے سے
مزید پڑھیے


’’جمال فرش و فلک‘‘

جمعرات 07 مارچ 2024ء
ذوالفقار چوہدری
گزشتہ دنوں برادرم اقبال حسین اقبال لاہور تشریف لائے تو حیدر خان حیدر کی کتاب ’’جمال فرش و فلک‘‘ بچوں اور نوجوانوں کے لئے ماحولیاتی شعری کا گلدستہ ہدیہ کی۔ جمال فرش و فلک کے نام سے پہلا تاثر یہی تھا کہ گلگت بلتستان کی فطری حسن اور سحر انگیزی کا تذکرہ ہو گا کیونکہ جمالیات کا تعلق حسن اور اس کیفیات و مظاہر سے ہے۔ حسن اور فن کو مجموعی طور پر جمالیات کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ بات بہت سادہ سی دکھائی دیتی ہے لیکن اس سادگی کے بھی ہزار پہلو ہیں۔ جمالیات زمین سے عرش
مزید پڑھیے


مریم نواز کا اسمبلی میں افتتاحی خطاب اور معذور افرد کی امیدیں!

جمعرات 29 فروری 2024ء
ذوالفقار چوہدری
وعدوں کی کوکھ سے امیدیں جنم لیتی ہیں۔پاکستان میں انتخابات دعووں اور وعدوں کا موسم ہوتا ہے۔ الیکشن کے بعد پاکستانی وعدے وفا ہونیکا انتظار کرنے لگتے ہیں یہاں تک کے پھر الیکشن آجاتے ہیں اور پاکستانی پھر وعدوں کے سیراب کی طرف بھاگنے لگتے ہیں۔ پاکستان کے انتخابات کے بارے میں ہی شایدالطاف حسین حالی نے کہا ہے۔ وہ امید کیا جس کی ہو انتہا /وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا پنجاب میں پہلی خاتوں وزیراعلیٰ مریم نواز کے اسمبلی میں خطاب اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کے عزم پر امجد صدیقی نے ایک کھلا
مزید پڑھیے


اہل دانش نے بہت سوچ کر الجھائی ہے

جمعرات 22 فروری 2024ء
ذوالفقار چوہدری
ادیو کوینیکان نے کہا ہے ’’مجھے وہ لوگ دکھائیں جن کو آپ کے ملک کے نوجوان اپنا ہیرو اور رہبر مانتے ہیں، میں آپ کو آپ کے ملک کا مستقبل بتائوں گا ۔انتخابات کا فیصلہ عوامی خواہش کے خلاف ہی سہی مگر قوم کے مستقبل کی ایک پیش گوئی علامہ اقبال نے بھی کی ہے’’قومیں شاعروں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں جبکہ سیاستدانوں کے ہاتھوں تباہ ہوتی ہیں۔پاکستان اور پاکستانیوں کے مستقبل کا اندازہ انتخابی عمل اور مہم کے دوران شاعروں کے کلام سے لگایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے



’’ووٹ‘‘ کے ذریعے ’’بدلہ‘‘ کی پالیسی اورپاکستان کا مستقبل!!

جمعه 09 فروری 2024ء
ذوالفقار چوہدری
وکٹرہیوگو نے کہا تھا ستاروں کی طرح قوموں کو بھی گرہن لگتا ہے۔ بڑی بات نہیں۔انہونی بات یہ ہے کہ گرہن کے بعد روشنی واپس نہ آئے۔پاکستان کی 77 سالہ تاریخ نشیب وفراز سے عبارت ہے۔ مملکت خداداد جمہوری طریقہ کار کے تحت وجود میں آئی مگر بانی پاکستان کی ناگہانی وفات کے بعد غیر جمہوری قوتوں نے سازشیں شروع کیں اور جمہوریت کو نومولود مملکت میں جڑیںہی نہ پکڑنے دیں۔ قائد کے ساتھیوں اور غیر جمہوری قوتوں کی کشمکش 1958ء میں آمریت کے گرہن پر منتج ہوئی۔ آمر نے کنٹرولڈ ڈیمو کریسی کا ڈھونگ رچا کر عوام کی
مزید پڑھیے


عدل و انصاف اور قوم کا اجتماعی شعور

جمعرات 11 جنوری 2024ء
ذوالفقار چوہدری
گلوریا سٹینم نے کہا ’’ضروری نہیں قانون اور انصاف ہمیشہ ایک ساتھ ہوں اگر ایسا ہو تو قانون کو رد کرنا ہی قانون کی تبدیلی اور عدل کا آغاز ہو سکتا ہے۔ انصاف اور عدل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ قاضی کے سامنے ایک جوان اور ایک بچے کے درمیان 4روٹیوں کی تقسیم کا معاملہ آئے تو اگر قاضی دونوں میں دو دو روٹیاں تقسیم کرتا ہے تو اس نے انصاف کیا جبکہ اگر قاضی یہ سوچ کر فیصلہ کرتا ہے کہ جوان آدمی کا پیٹ دو روٹیوں سے نہیں بھرے گا اور بچے کے لئے دو روٹیاں بہت
مزید پڑھیے


مقامیت اور سندھ گلال!

جمعرات 04 جنوری 2024ء
ذوالفقار چوہدری
کسی بھی دھرتی پر رہنے والے اس کے رہائشی تو ہو سکتے ہیں‘ زمین زاد نہیں۔ جو دھرتی پر ننگے پائوں چلتے ، زمین کی لمس‘ فضائوں کی خوشبو محسوس کرتے اور دھرتی کی محبت میں گیت گاتے ہیں یہ زمین زاد کہلاتے ہیں۔ زمین زاد اپنے خون سے زمین کو گلال کرتا ہے اسی لئے زمین کا رنگ گلابی ہوتا ہے، گلاب زمین سے رنگ چراتے ہیں۔ زمین زاد دھرتی کا عاشق اور زمین اس کی محبوبہ ہے۔ کہنے کو تو ’’ہر چہرہ کسی کا محبوب ہوتا ہے مگر محبوب محب کی محرومیوں کی آگ میں کندن بن
مزید پڑھیے


انڈس: اللہ پریقین اور قوم سے امید کا استعارہ

جمعه 29 دسمبر 2023ء
ذوالفقار چوہدری
جان ہوم نے کہا تھا تسکین قلب کے لیے اس سے بہت اور کوئی عمل نہیں کہ بے سہاروں کا سہارا بنا جائے ۔ سہارابھی تو وہی بنتے ہیںجو اللہ رب العزت کی جانب سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ کہنے کو ملک میں ہزاروں فلاحی ادارے ہیں جو خدمت خلق کی آڑ میں اپنی چاندی کر رہے ہیں۔ سینکڑوںایسے ٹرسٹ ہیں جہاں غریب کے نام پر کاروبار ہوتا ہے اگر کسی کو آٹے میں نمک کے مصداق دیا بھی جاتا ہے تو اس میں بھی خدا کی خوشنودی سے زیادہ تشہیرکی خواہش غالب ہوتی ہے۔ ہزاروں کی اس
مزید پڑھیے


اجتماعی قومی شعور اور سامراجی نظام!!

جمعه 22 دسمبر 2023ء
ذوالفقار چوہدری
مفادات کے مشترک ہونے سے گروہ تو بن سکتے ہیں قوم نہیں۔ قومیں اجتماعی شعور سے تشکیل پاتی ہیں۔ اجتماعی شعور کی تشکیل پیچیدہ عمل ہے۔ پاکستان کے قیام کو 77برس گزر چکے۔ ان سات دھائیوں میں پاکستانیوں نے قوم بننے کے عمل میں جمہوریت اور آمریت کے تجربات آزمائے۔ 25 برس بعد ہی اپنے مشرقی بازو کے کٹنے کا درد اور اپنی بے بسی اور لاچاری کا کرب محسوس کیا۔مشرقی پاکستانی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو سامراج کے شکنجے سے نکالنے والے نجات دہندہ کے روپ میں دیکھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب سامراج کے اشاروں پر ناچنے
مزید پڑھیے








اہم خبریں