BN

راحیل اظہر


یروشلم سے گولان تک!


اْس عاشق کی طرح، جس کی بات، جی کی جی میں ہی رہ جاتی ہے، تاریخ بھی، ان کہی بے شمار داستانوں کا قبرستان ہے۔ یہ آثار اور یادگاریں، جو ہم اور آپ آج دیکھتے ہیں، خْدا جانے، کتنی عمارتوں کے کھنڈروں پر قائم ہیں۔ کہنا چاہیے کہ ع ہے فنا پر ہی یہاں بنیاد ہر تعمیر کی ہاں! لیکن وہ چند برگْزیدہ، خْدا کے نیک بندے، جن پر یہ خاص عنایت کی گئی کہ ہم ان کے نام سے ہی نہیں، کام سے بھی واقف ہیں۔ انہیں محفوظ، دست ِقدرت نے رکھا ہے، سو کوئی گزند انہیں کیوں پہنچے؟ یہ کتبہ
منگل 02 جون 2020ء

اندھی تقلید

بدھ 27 مئی 2020ء
راحیل اظہر
مَثَل مشہور ہے کہ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں! امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا میں عبادت گاہوں کو، کھولا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ایک انتباہ، ریاستوں کے گورنروں کے لیے جاری ہوا ہے کہ اس میں کوئی رکاوٹ، برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہاں بحث اس سے نہیں ہے کہ ڈاکٹروں کی ساری تنبیہوں کو، نظر انداز کرنا، کتنا مْضر، بلکہ مہلک ہو سکتا ہے، کہنا یہ ہے کہ یہی بات، اگر کسی "غیر مہذب" مْلک کے حکمران نے کہی ہوتی تو اسے مثالیں، مغربی ممالک کی دی جاتیں کہ ع دیکھ!
مزید پڑھیے


یروشلم کا شہر ِقدیم، شہر ِبے مثال!

منگل 19 مئی 2020ء
راحیل اظہر
شہروں کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ آدمی کا دل، کسی میں لگتا ہے اور کسی میں نہیں۔ اپنا شہر، کسے اچھا نہیں لگتا؟ اپنے شہر کو "عالَم میں انتخاب" کہنے والے شاعر نے، یہ بھی کہا تھا ع دلی کے نہ تھے کوچے، اوراق ِمصور تھے شہر تباہ ہوتا ہے، شاعر بھی خانہ خراب ہو کر، لکھنئو پہنچتا ہے۔ پر یہ نیا شہر، اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود، اسے ذرا نہیں بھاتا۔ شاعر پْکار اْٹھتا ہے ع خرابہ دلی کا دِہ چند، بہتر لکھنئو سے تھا کسی زمانے میں، پورے ہندوستان کے بے سہارے اور بے آسرے ادیبوں اور شاعروں کی دست گیری،
مزید پڑھیے


نہ گریۂ سحری، نہ آہ ِنیم شبی

منگل 12 مئی 2020ء
راحیل اظہر
ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ دنیا رواں دواں تھی۔ منزل کی فکر سے بے نیاز، بگٹٹ دوڑے چلی جا رہی تھی۔ پھر اچانک، جیسے کسی نے سِحر پڑھ کر، اس پر پھونک دیا۔ چلتے ہوئے کاروبار ٹھپ ہو گئے۔ دوڑنے والے تھم کر رہ گئے۔ انسان، اگر اپنے انجام سے آگاہ ہو جائے، تو ہر قدم، صرف حقیقت کی جانب اْٹھائے! اس شے کی طرف بڑھنے کا فائدہ ہی کیا، جو مصنوعی ہو، عارضی ہو اور دلدل کی طرح، پھنساتی ہی جائے! فارسی کے کسی استاد شاعر نے کہا ہے ماز آغاز و ز انجام ِجہان بی خَبَریم اول و
مزید پڑھیے


یروشلم میں!

منگل 05 مئی 2020ء
راحیل اظہر
واشنگٹن ڈی سی سے تیل ابیب تک کی پرواز، براہ ِراست تھی۔ دونوں ایئرپورٹوں پر، جگہ جگہ، جنوب مشرق کے باشندے، اور ان میں بھی خصوصا چینی، چہروں پر ماسک چڑھائے، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے کسی شرمندہ مجرم کی طرح، سر جھْکائے ہوئے نظر آئے۔ دو سال پہلے، یہی قوم، جتھوں کی شکل میں، دوسروں کا راستہ کاٹتے، بارہا دیکھی تھی۔ آج ایک وائرس کی بدولت، انہیں یہ دن دیکھنا پڑے۔ پورے سفر میں ان کے منہ، ماسک سے ڈھکے رہے۔ یہ واقعہ فروری کا ہے۔ اب سوچتا ہوں کہ معاملہ ع دیوانے کو، ایک ہْو بہت ہے؟ کورونا وائرس
مزید پڑھیے



خوف اور بے یقینی کے دن

منگل 28 اپریل 2020ء
راحیل اظہر
ایسی ٹکسال کو کیا کہیے، جس کے سکّے، بظاہر مختلف ہوں، لیکن بباطن، بالکل ایک جیسے نکلیں! کسی بھی "جمہوری" ملک پر نظر ڈال جائیے، سیاست کی ٹکسال سے نکلی ہوئی، آپ کو دو جماعتیں ملیں گی۔ ایک کا تعلق دائیں بازو سے ہو گا اور دوسرے کا بائیں سے۔ مگر نتائج کے اعتبار سے، یہ ایک ہی ثابت ہوں گے۔ امریکا میں بھی بڑی پارٹیاں دو ہیں۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ۔ ایک آدھ کے سوا، ہر اہم موضوع پر اور اہم مسئلے میں، ان کی راے ایک دوسرے سے یکسر جْدا ہوتی ہے۔ پر حتمی تجزیے میں، یہ
مزید پڑھیے


اک ذرا فلسطین اور اسرائیل تک!

منگل 21 اپریل 2020ء
راحیل اظہر
کرونا وائرس نے، سیر اور سفر کو یوں محدود کیا ہے کہ بڑے بڑے جہاں گردوں کو بھی، گویا ہاتھ پائوں توڑ کر، گھر میں ڈال دیا ہے! اس خاکسار کی سراسر خوش بختی ہے کہ چند ہفتے قبل، کرہ ٔ ارض کے مبارک ترین مقامات کی زیارت نصیب ہو گئی۔ سید سلیمان ندوی کی عام شہرت سیرت ِنبویؐ کے مصنف اور اسلامی ادیب کی ہے۔ کم لوگ واقف ہیں کہ مرحوم، خوش گو شاعر بھی تھے۔ ان کا یہ شعر علمی حلقوں میں، خصوصاً بہت مقبول ہوا۔ ہزار بار، مجھے لے گیا ہے مقتل میں وہ ایک قطرہ ء
مزید پڑھیے


ایک تھپیڑے کی دیر تھی؟

منگل 14 اپریل 2020ء
راحیل اظہر

علامہ اقبال نے جب کہا تھا کہ ع ہر قطرہ ٔ دریا میں، دریا کی ہے پہنائی تو یہ "نری شاعری" نہیں تھی! خْدا کی قدرت کے مظاہر، ہر طرف موجود ہیں اور انسان کی بے بسی کے مناظر بھی! یہاں پہاڑ ہیں، جنہیں زمین کی میخیں کہا گیا ہے۔ ان میں کچھ تو اتنے اونچے ہیں کہ سر اٹھا کر دیکھنے والے کی ٹوپی، سچ مچ گر گر جائے۔ ایسے ہیبت ناک سمندر بھی یہاں ہیں، جن پر قْدرت پانے کی کوشش تو کجا، سلامت ان سے گزرنا بھی دشوار ہے! اس لا چاری کے باوجود، انسان کوشاں رہا
مزید پڑھیے


تماشائی اور تماشا!

منگل 01 اکتوبر 2019ء
راحیل اظہر
کیا فائدہ اس ادب یا آرٹ کا، زندگی میں جو مدد نہ دے سکے، کچھ بھی دل جْوئی نہ کر سکے؟ عمدہ ادب ع عروس ِجمیل و لباس ِحریر کا مثیل ہونا چاہیے! یعنی ع لفظ بھی چْست ہوں، مضمون بھی عالی ہووے یہ نہ ہو کہ ع کوا اندھیری رات میں، شب بھر اْڑا کیا یا وہ مشہور سیالکوٹی شاعر، جو لفظ بڑے لطیف اور نہایت ملائم لاتے تھے، مگر موزوں یہ لفظ شاذ ہی ہوتے! بڑا ادب، ہر دور کے لیے اور اچھا ادب، کم از کم اپنے عہد کا آئینہ ہوتا ہے! غالب کے مشہور قطعے "ظلمت کدے میں۔۔ اِلخ" اور
مزید پڑھیے


پاکستان کا مستقبل!

منگل 17  ستمبر 2019ء
راحیل اظہر
چائے کے رسیا، صرف ابوالکلام آزاد نہیں، مولانا ظفر علی خاں بھی تھے۔ بقول ان کے، چاے کا کپ، پینے کے لائق تب ہوتا ہے، جب وہ لب ریز ہو، لب سوز ہو اور لب دوز ہو! گویا بھرا ہوا ظرف، اٹھتی ہوئی بھاپ اور ہونٹوں کو مِلا دینے والی مٹھاس! چائے کے عادی کو اس کی طلب، واقعی عاجز کر دیتی ہے! مولانا کہتے ہیں… کہاں سے لائوں مضامین ِغیب کی سْرخی علی الصباح، اگر چائے کا غرارہ نہ ہو دوسری چیٹک، قوم کو جس نے مار رکھا ہے، تازہ اخبار ہے۔ اس کی بابت کہا گیا ہے۔ مجھے بھی دیجیے اخبار کا
مزید پڑھیے