BN

راحیل اظہر


کورونا اور میں!


سننے میں نام، کتنا رْومانی اور شاعرانہ ہے۔ لیکن اس کی قہرمانیوں نے، کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ اس سے کوئی بھلی یاد وابستہ کی جائے! کسی شے کی صحیح قدر، اس کے کھو یا گھٹ جانے کے بعد آتی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے رّب کی، کون کون سی نعمتوں کو جھْٹلائو گے؟ واقعی! صرف جسم و جان ہی میں، اتنی تہہ داری اور ان گنت ایسی نعمتیں رکھ دی گئی ہیں کہ شمار ممکن نہیں۔ جان اور بدن کا معاملہ، اتنا نازک اور لطیف ہے کہ اس کا سمجھنا محال ہے۔ کیوں نہ ہو؟
منگل 28 جولائی 2020ء

غزہ کے دروازے تک!

بدھ 08 جولائی 2020ء
راحیل اظہر
سفرنامہ نگار اپنا کام، عموماً جھوٹ یا کم از کم مبالغے سے چلاتے ہیں۔ یہ "واردات" غزہ کے سلسلے میں کرنا، اَور بھی آسان ہے۔ مگر یہاں حال یہ ہے کہ طبیعت مبالغے تک سے اِبا کرتی ہے۔ عنوان سے بھی یہ نہ لگے کہ لکھنے والا، منزل ِمقصود تک، جیمز بانڈ کے مانند، اِسے غچہ دے، اْسے چپت لگا، اَوگھٹ گھاٹیاں پھلانگتا، ماوراے ِعقل رکاوٹیں عبور کرتا، منزلوں پر منزلیں مارتا، آخر ِکار، جا پہنچتا ہے۔ یا ضمیر جعفری مرحوم کے فلمی ہیرو کی طرح: اکیلے ہاتھ سے، دس بیس تلواریں چلاتا ہے جہاں چڑھنا بھی مشکل ہو، وہاں سے کْود
مزید پڑھیے


زمانے کا اْلٹ پھیر

منگل 23 جون 2020ء
راحیل اظہر
وفا کی کمیابی کی طرح، ہْنر کی ناقدری کا بھی رونا، بہت پْرانا ہے۔ اس کی دشمنوں سے تو کیا شکایت؟ بقول ِسعدی ہْنر بچشم ِعداوت، بزرگ تر عیب است گْل است سعدی و در چشم ِدشمنان خار است ا(دشمنوں کو، خوبی ہی سب سے بڑی بْرائی دکھائی دیتی ہے۔ سعدی کی مثال پھْول کی سی ہے، مگر دشمنوں کے نزدیک، وہ کانٹا ہے)۔ زمانہ بدلا اور شاعر کا شکوہ بھی! ہوا کچھ اَور ہی عالَم کی چلتی جاتی ہے/ہْنر کی عیب کی صورت، بدلتی جاتی ہے/لیکن رفتہ رفتہ، نوبت باین جا رسید کہ/عیب نکلا، جو ہْنر پیدا کیا/ہم نے کھویا، جس قدر
مزید پڑھیے


گولان کی پہاڑیوں پر!

منگل 16 جون 2020ء
راحیل اظہر
یروشلم سے گولان کی پہاڑیوں تک کا سفر، لگ بھگ تین گھنٹے کا ہے۔ آدمی ٹھیکیاں لیتا ہوا چلے، تو ظاہر ہے کہ تین کو چار بنتے، کیا دیر لگتی ہے؟ یروشلم کا نان "یروشلم بیگل"، یہاں کا مشہور کھاجا ہے۔ یہ نان، سڑک کے کنارے، جگہ جگہ بکتا نظر آیا۔ اسے کھانے کا صحیح لطف تب اْٹھتا ہے، جب زیت ِزیتون یعنی آلِو آئیل اور زعتر کے لگاون ساتھ ہوں۔ تِلوں سے بھرا یہ نان خریدیے اور زعتر کا پْڑا ساتھ مفت لیجیے۔ زعتر بڑا ہی خوش مزہ مْرکب ہے دھنیے اور کچھ مصالحوں کا۔ ہم اہتمام سے ایک
مزید پڑھیے


خْود کْشی حرام ہے!

جمعه 12 جون 2020ء
راحیل اظہر
آپ، ممکن ہے کہ بہت دلیر ہوں۔ زندگی، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بسر کرتے آئے ہوں۔ اْڑتے ہوئے تیر کے مقابل ہو جانا، آپ کا شیوہ رہا ہو۔ خطروں سے کھیلنا، آپ کی فطرت ِثانیہ بن چکی ہو۔ لیکن معاملہ، اب آپ کی صرف "بہادری" کا نہیں ہے! اب امتحان ہے آپ کی ایمان داری کا، آپ کی رحم دلی کا، شرافت کا اور آپ کی انسانیت کا! ان سب کا تقاضا ہے کہ اپنے ساتھ، اپنے اہل ِخانہ کی بھی خیریت کا سوچیے۔ اپنے ہمسایوں، اپنے محلے داروں، اپنے دیہات، گائوں، شہروں اور مْلک و قوم
مزید پڑھیے



یروشلم سے گولان تک!

منگل 02 جون 2020ء
راحیل اظہر
اْس عاشق کی طرح، جس کی بات، جی کی جی میں ہی رہ جاتی ہے، تاریخ بھی، ان کہی بے شمار داستانوں کا قبرستان ہے۔ یہ آثار اور یادگاریں، جو ہم اور آپ آج دیکھتے ہیں، خْدا جانے، کتنی عمارتوں کے کھنڈروں پر قائم ہیں۔ کہنا چاہیے کہ ع ہے فنا پر ہی یہاں بنیاد ہر تعمیر کی ہاں! لیکن وہ چند برگْزیدہ، خْدا کے نیک بندے، جن پر یہ خاص عنایت کی گئی کہ ہم ان کے نام سے ہی نہیں، کام سے بھی واقف ہیں۔ انہیں محفوظ، دست ِقدرت نے رکھا ہے، سو کوئی گزند انہیں کیوں پہنچے؟ یہ کتبہ
مزید پڑھیے


اندھی تقلید

بدھ 27 مئی 2020ء
راحیل اظہر
مَثَل مشہور ہے کہ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں! امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا میں عبادت گاہوں کو، کھولا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ایک انتباہ، ریاستوں کے گورنروں کے لیے جاری ہوا ہے کہ اس میں کوئی رکاوٹ، برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہاں بحث اس سے نہیں ہے کہ ڈاکٹروں کی ساری تنبیہوں کو، نظر انداز کرنا، کتنا مْضر، بلکہ مہلک ہو سکتا ہے، کہنا یہ ہے کہ یہی بات، اگر کسی "غیر مہذب" مْلک کے حکمران نے کہی ہوتی تو اسے مثالیں، مغربی ممالک کی دی جاتیں کہ ع دیکھ!
مزید پڑھیے


یروشلم کا شہر ِقدیم، شہر ِبے مثال!

منگل 19 مئی 2020ء
راحیل اظہر
شہروں کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ آدمی کا دل، کسی میں لگتا ہے اور کسی میں نہیں۔ اپنا شہر، کسے اچھا نہیں لگتا؟ اپنے شہر کو "عالَم میں انتخاب" کہنے والے شاعر نے، یہ بھی کہا تھا ع دلی کے نہ تھے کوچے، اوراق ِمصور تھے شہر تباہ ہوتا ہے، شاعر بھی خانہ خراب ہو کر، لکھنئو پہنچتا ہے۔ پر یہ نیا شہر، اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود، اسے ذرا نہیں بھاتا۔ شاعر پْکار اْٹھتا ہے ع خرابہ دلی کا دِہ چند، بہتر لکھنئو سے تھا کسی زمانے میں، پورے ہندوستان کے بے سہارے اور بے آسرے ادیبوں اور شاعروں کی دست گیری،
مزید پڑھیے


نہ گریۂ سحری، نہ آہ ِنیم شبی

منگل 12 مئی 2020ء
راحیل اظہر
ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ دنیا رواں دواں تھی۔ منزل کی فکر سے بے نیاز، بگٹٹ دوڑے چلی جا رہی تھی۔ پھر اچانک، جیسے کسی نے سِحر پڑھ کر، اس پر پھونک دیا۔ چلتے ہوئے کاروبار ٹھپ ہو گئے۔ دوڑنے والے تھم کر رہ گئے۔ انسان، اگر اپنے انجام سے آگاہ ہو جائے، تو ہر قدم، صرف حقیقت کی جانب اْٹھائے! اس شے کی طرف بڑھنے کا فائدہ ہی کیا، جو مصنوعی ہو، عارضی ہو اور دلدل کی طرح، پھنساتی ہی جائے! فارسی کے کسی استاد شاعر نے کہا ہے ماز آغاز و ز انجام ِجہان بی خَبَریم اول و
مزید پڑھیے


یروشلم میں!

منگل 05 مئی 2020ء
راحیل اظہر
واشنگٹن ڈی سی سے تیل ابیب تک کی پرواز، براہ ِراست تھی۔ دونوں ایئرپورٹوں پر، جگہ جگہ، جنوب مشرق کے باشندے، اور ان میں بھی خصوصا چینی، چہروں پر ماسک چڑھائے، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے کسی شرمندہ مجرم کی طرح، سر جھْکائے ہوئے نظر آئے۔ دو سال پہلے، یہی قوم، جتھوں کی شکل میں، دوسروں کا راستہ کاٹتے، بارہا دیکھی تھی۔ آج ایک وائرس کی بدولت، انہیں یہ دن دیکھنا پڑے۔ پورے سفر میں ان کے منہ، ماسک سے ڈھکے رہے۔ یہ واقعہ فروری کا ہے۔ اب سوچتا ہوں کہ معاملہ ع دیوانے کو، ایک ہْو بہت ہے؟ کورونا وائرس
مزید پڑھیے