راحیل اظہر



تماشائی اور تماشا!


کیا فائدہ اس ادب یا آرٹ کا، زندگی میں جو مدد نہ دے سکے، کچھ بھی دل جْوئی نہ کر سکے؟ عمدہ ادب ع عروس ِجمیل و لباس ِحریر کا مثیل ہونا چاہیے! یعنی ع لفظ بھی چْست ہوں، مضمون بھی عالی ہووے یہ نہ ہو کہ ع کوا اندھیری رات میں، شب بھر اْڑا کیا یا وہ مشہور سیالکوٹی شاعر، جو لفظ بڑے لطیف اور نہایت ملائم لاتے تھے، مگر موزوں یہ لفظ شاذ ہی ہوتے! بڑا ادب، ہر دور کے لیے اور اچھا ادب، کم از کم اپنے عہد کا آئینہ ہوتا ہے! غالب کے مشہور قطعے "ظلمت کدے میں۔۔ اِلخ" اور
منگل 01 اکتوبر 2019ء

پاکستان کا مستقبل!

منگل 17  ستمبر 2019ء
راحیل اظہر
چائے کے رسیا، صرف ابوالکلام آزاد نہیں، مولانا ظفر علی خاں بھی تھے۔ بقول ان کے، چاے کا کپ، پینے کے لائق تب ہوتا ہے، جب وہ لب ریز ہو، لب سوز ہو اور لب دوز ہو! گویا بھرا ہوا ظرف، اٹھتی ہوئی بھاپ اور ہونٹوں کو مِلا دینے والی مٹھاس! چائے کے عادی کو اس کی طلب، واقعی عاجز کر دیتی ہے! مولانا کہتے ہیں… کہاں سے لائوں مضامین ِغیب کی سْرخی علی الصباح، اگر چائے کا غرارہ نہ ہو دوسری چیٹک، قوم کو جس نے مار رکھا ہے، تازہ اخبار ہے۔ اس کی بابت کہا گیا ہے۔ مجھے بھی دیجیے اخبار کا
مزید پڑھیے


زیاں ہے نہ سْود ہے؟

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
راحیل اظہر
میر تقی میر کہتے ہیں جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کو کَل اس پہ یہیں شور ہے پھِر نوحہ گری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت؟ اسباب لْٹا راہ میں یاں ہر سفری کا سر سے غرور، تاج، شور اور نوحہ کی نسبتیں، ظاہر ہیں۔ مگر "اس(سر) پہ یہیں" کا جواب نہیں! اور اسباب کے لْٹنے سے مْراد، آخر کیا ہے؟ یہ نہ سمجھا جائے کہ اس سے غرض، صرف اسباب ِدنیا یا اعظا، قْوٰی اور حواس ِخمسہ کی فنائیت کا بیان ہے۔ وہ بات آتش نے کہی ہے بدن سا شہر نہیں، دِل سا بادشاہ نہیں حواس ِخمسہ سے بڑھ
مزید پڑھیے


اعتدال کا راستہ اور دماغ کا توازن!

منگل 03  ستمبر 2019ء
راحیل اظہر
مولانا رومی صاحب دل تھے اور صاحب حکمت بھی! ان کے پیغام پر توجہ کرنے کے بجائے، لفظوں میں اْلجھا گیا، تو فرمایا من ندانم فاعلاتْن فاعلات شعر می گویم، بِہ از آب ِحیات (شعر کے اوزان اور بحریں وغیرہ، دوسرے بہتر جانتے ہوں گے۔ میرے شعر تاثیر، البتہ آب ِحیات سے بھی بہتر رکھتے ہیں)۔ ایک اَور جگہ کہتے ہیں در نیابد حال ِپختہ ہیچ خام پس سخن کوتاہ باید، والسلام گویا وہی بات، جو ریاض خیر آبادی نے مولانا عبدالسلام کی تنقید پر کہی تھی سمجھے بخوب ہی، میرے مْہمل کلام کو پہنچے سلام دْور سے عبدالسلام کو! کسی دوسری حکایت میں ارشاد ہوا۔ درحق ِاْو مدح و
مزید پڑھیے


کشمیر۔ سیکولرازم کا ٹیسٹ کیس

اتوار 25  اگست 2019ء
راحیل اظہر
آزادی کے بعد جغرافیے اور اسباب کے سوا، لوگوں کا بھی بٹ جانا، مقدر تھا! بہت سے ایسے علماء اور فضلاء ، جن کا پاکستان آنا یقینی سمجھا گیا، ہندوستان میں رہ پڑے اور کئی ایسے زعماء ، جنہیں پاکستان کبھی نہ آنا تھا، بے سان و گمان، یہاں چلے آئے! جن بزرگوں نے ہندوستان میں رہنا، قبول کیا یا اختیار کیا، ان میں پروفیسر رشید احمد صدیقی اور مولانا عبدالماجد دریابادی بھی تھے۔ اردو کے باقی انشاء پردازوں کی گاڑی دو تین کتابوں سے آگے نہیں بڑھی۔ اکثر کی تو ایک آدھ میں ہی سانس پھول گئی۔ مثلاً
مزید پڑھیے




تائید ایزدی

پیر 05  اگست 2019ء
راحیل اظہر
سمجھی ہوئی باتوں نے، پریشان کیا ہے مْشتاق ہوں اْس کا، جو سمجھ میں نہیں آتا! اگلے وقتوں کے بزرگوں کی بات بات میں نصیحت ہوتی تھی۔ پْرانے شعروں، حکایتوں اور تذکروں کا رنگ دیکھ لیجیے۔ یہ جو آج، ہر قدیم شاعر کو صوفی قرار دیا جاتا ہے، اس کی بھی وجہ، یہی ہے! اس زمانے کی عام باتیں، آج خاص نظر آتی ہیں! اسماعیل میرٹھی کہتے ہیں۔ کیا کیا خیال باندھے، ناداں نے اپنے دِل میں پر اْونٹ کی سمائی، کب ہو چْوہے کے بِل میں انسانی دماغ اور اس کی رسائی بھی، بَس اتنی ہے کہ ایک حّد ِمقررہ سے آگے نہیں بڑھ
مزید پڑھیے


دوستی، مگر کتنی؟

هفته 27 جولائی 2019ء
راحیل اظہر
ملیے اس شخص سے، جو آدم ہووے ناز اس کو کمال پر، بہت کم ہووے ہو گرم ِسخن، تو گِرد آووے اک خلق خاموش رہے، تو ایک عالَم ہووے آدمی کی جو تعریف، میر نے کی ہے، اس پر پورا اترنا، کارے دارد! حال یہ ہے کہ صاحب کمالوں کو چھوڑ، بے کمال بھی دماغ دار ہیں! مولانا حالی فرماتے ہیں۔ جانور، آدمی، فرشتہ، خْدا آدمی کی ہیں سینکڑوں قسمیں واقعی، انسان اپنی طرز کی واحد مخلوق ہے! اسے اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔ مگر انہی میں، ایسے بھی لوگ پائے گئے ہیں، جو اس کا سارا شرف، کھو دینے والے نکلے! کسی اْستاد نے کہا
مزید پڑھیے


عقل کی زیادتی، خوف ِخدا کی کمی!

اتوار 21 جولائی 2019ء
راحیل اظہر
زندگی میں بڑا حوصلہ اور رہنمائی، شاعروں سے مِل سکتی ہے۔ اگر، از دِل خیزد، بر دِل ریزد! انسان کو انہیں، مجاز سے حقیقت کی طرف لانا تھا۔ لیکن ان میں سے بیشتر، اَور رستے کے مسافر ہیں! ان کا مبالغہ، ضرب المثل بن چکا۔ ان کے معشوق کی کمر پتلی ہوتے ہوتے، معدوم ہو چکی۔ زمین و آسمان کے قلابے ملاتے، دور کی کوڑیاں لاتے، ان کی باتیں بعید از عقل ہوتی گئیں۔ ایک قسم ان کی وہ ہے، جو ’’زبان کی شاعری‘‘ کرتی ہے۔ بقول شخصے دِل چھوڑ کر، زبان کے پہلو میں آ پڑے یہ لوگ شاعری سے،
مزید پڑھیے


سفر ہے شرط!

هفته 13 جولائی 2019ء
راحیل اظہر
شیخ سعدی کہتے ہیں۔ تا بدْکّان و خانہ در گروی ہرگز اے خام! آدمی نہ شوی برو! اندر جہان، تفرّج کْن پیش ازان روز، کز جہان بروی یعنی، "گھر سے نکل کر دنیا کو دیکھو گے نہیں تو خام ہی رہو گے۔ تا آنکہ تمہارا آخری سفر آ پہنچے، یہ سیر کر لو"۔ اٹلی کا شہر روم دیکھنے کی، بڑی خواہش تھی۔ دنیا کے سب سے تاریخی شہروں میں، یہ بھی شامل ہے۔ یورپ کا پھیرا، یوں تو آٹھ دس بار ہوا، مگر روم دیکھنے کی تمنا ہی رہی۔ سو ٹھان رکھی تھی کہ نئے شہروں میں پہل، اسی سے کی جائے۔ روم کو دیکھ
مزید پڑھیے


اک ذرا لاہور تک!

اتوار 07 جولائی 2019ء
راحیل اظہر
طویل غیر حاضریوں کی معذرتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب معذرتوں کی بھی معذرت واجب ہے! دراصل پچھلے آٹھ دس روز، سفر میں گزرے۔ پائوں کا چکر، اب واشنگٹن ڈی سی پہنچ کر رْکا ہے۔ امریکا آتے ہوئے، روم، نِیس اور بارسلونا، پہلی بار دیکھ لیے۔ سوچا تھا کہ ذرا قرار آئے تو یہ رْوداد، ایک ہی نشست میں لکھ دی جائے۔ لیکن عرفت ربی بفسخ العزائم! خیر، پہلے لاہور کا قصہ سنیے، جہاں اب کی بار، کھڑی سواری جانا ہوا۔ پڑائو، بمشکل پانچ چھے گھنٹے کا تھا، اس میں شہر اور شہریوں کی کیفیت تو معلوم کیا
مزید پڑھیے