BN

راوٗ خالد



کرائسٹ چرچ کی یادیں


کیا سانحہ گزر گیا اور ایک ایسے شہر میں جسکے بارے میں وہم و گمان نہیں تھا کہ کرائسٹ چرچ میں یہ قیامت بھی برپا ہو گی۔اس شہر پر قدرتی آفات کے بہت سے عذاب اترے ہیں جو زلزلے کی صورت میں تھے۔ لیکن ایک انسان اس شہر میں قیامت برپا کر دے گا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر میں تو یقین نہیں کر پا رہا کیونکہ میں اس شہر تین روز قیام کر چکا ہوں اور جانتا ہوں کہ وہاں کے لوگ کس قدر شاندار، مہمان نواز اور معصوم ہیں۔میری جو یادیں اس
اتوار 17 مارچ 2019ء

اب ہماری سنو

اتوار 10 مارچ 2019ء
راوٗ خالد
جب سے ہوش سنبھالا ہے پوری دنیا کو یہ بتاتے سنا ہے کہ پاکستان کو اس طرح کرنا چاہئے، یہ کیوں کر رہا ہے ، وہ کیوں نہیں کرتا۔کبھی داد وتحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں کہ روس کے ٹکڑے کر دئیے کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میںہمیں دنیا کی فرنٹ لائن سٹیٹ ہونے کا مژدہ سنایا جاتا ہے اور پھر ہمیں طالبان کو تخلیق کرنے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے مجاہدین ہمارے ہاں بھیج کر انکی بھرپور مدد کی جاتی ہے بھلے وہ معاشی ہو، جنگی ہو یا اخلاقی ہو۔ اپنی کتاب چارلی ولسن
مزید پڑھیے


امن کا وقت ہوا چاہتا ہے

اتوار 03 مارچ 2019ء
راوٗ خالد
گزشتہ کالم ان الفاظ پر ختم کیا تھا؛ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ نیا پاکستان ہے اور فوج کے ترجمان کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی فوج نئی فوج ہے تو اس بات پر بھارت بھی یقین کرے۔ امن کی آفر کو اپنے الیکشن کی فتح کی خاطر نظر انداز نہ کرے ورنہ ، جنوب مشرقی ایشیا ایک نیا خطہ بننے جا رہا ہے جہاں پر امن اور ترقی اب شروع ہونے کو ہے، بھارت اسکا موئثر حصہ بننے سے محروم بھی ہو سکتا ہے۔ یہ ایک تجزیہ بھی اور ایک ایسی حقیقت ہے جس کو نظر انداز
مزید پڑھیے


پلوامہ حملہ، ایک فیصلہ کن واقعہ

اتوار 24 فروری 2019ء
راوٗ خالد
پلوامہ شاید آخری واقعہ ہو جسکی بندوق ایک بار پھر بھارت پاکستان کے کندھے پر رکھ کر چلانے کی ناکام کوشش کر چکا ہے۔ اس واقعے کے بعد جس قسم کا واویلا بھارت نے مچایا ہے وہ نیا نہیں ہے لیکن جو بین ا لاقوامی رد عمل آیا ہے وہ با لکل نیا ہے۔اس سے پہلے بھلے ممبئی حملہ ہو، پٹھانکوٹ ہو یا بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا واقعہ، امریکہ سے لے کر بھوٹان تک پاکستان پر الزام تراشی میں بھارت کے ہمنوا ہوتے تھے۔ اس بار ایسا نہیں ہوا۔آپ کب تک بین الاقوامی برادری کو بیوقوف بنا سکتے
مزید پڑھیے


اَھلا ًو سَھلا ً

اتوار 17 فروری 2019ء
راوٗ خالد
میں پاکستانیوں کی اس نسل سے ہوں جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی ایوب خان کے خلاف تحریک اور پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ناگہانی سانحہ دیکھا اور یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ میں نے اپنے والدصاحب کو اشکبار اور شدید مایوس دیکھا کیونکہ وہ بطور طالبعلم تحریک پاکستان کا حصہ رہے تھے اور ملک کے دو لخت ہونے پر بہت رنجیدہ تو تھے ہی لیکن باقی ماندہ پاکستان کے حوالے سے متفکر بھی۔پھر بھٹو صاحب کو زمام اقتدار سنبھالتے دیکھا جنہوں نے اس مایوسی کے عالم میں ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جسکو عالم اسلام کا
مزید پڑھیے




ڈیل یا ڈھیل، ممکنات و اثرات

اتوار 10 فروری 2019ء
راوٗ خالد
ایک بار پھر کسی ڈیل یا این آر او کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔کیا ایسا ممکن ہے کہ حکومت یہ فیصلہ کرے اور یہ ڈیل سرے چڑھ جائے۔ ہمارے ہاں کیونکہ ڈیل اور ڈھیل جیسے معاملات ماضی میں سیاسی سطح پر ہوچکے ہیں اس لئے ایسی کسی بھی بات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے بھلے یہ افواہ ہی ہو۔ بنیادی طور پر تین ماڈل ہمارے ہاں رائج رہے ہیں۔ پہلا ماڈل تو ضیاء الحق والا ہے جس میں سیاسی مخالفین کو ہانکا کر کے ملک بدر کر دیا جائے جیسا کے انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کو
مزید پڑھیے


افغان امن عمل اور مشکلات

اتوار 03 فروری 2019ء
راوٗ خالد
چار ماہ پہلے تحریر کیا تھا کہ پاکستان کی گزشتہ دس سال سے جس تجویز کو ڈبل گیم کہاجا رہا تھا، اب امریکہ اسی تجویز کے ساتھ پاکستان کی جان کو آیا ہوا ہے کہ افغانستان کے اندر اپنا اثرو رسوخ استعمال کر کے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے تا کہ اس مسئلے کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔اور اسکے بعد امریکہ اپنی فوجیںلے کر یہاں سے واپس چلا جائے۔اسوقت اس سارے ہنگامی مذاکرات اور امن عمل کی وجہ امریکی انتظامیہ کا اس بات پر قائل ہونا ہے کہ وہ یہاں پر جنگ جیت نہیں سکتے۔
مزید پڑھیے


نظام سے خوفزدہ عوام

اتوار 27 جنوری 2019ء
راوٗ خالد
ساہیوال کے واقعے کے بعد میرے جیسے بزعم خود بہت دلیر لوگ بھی شدید خوف کا شکار ہیں۔ رات کو لیٹ دفتر سے گھر جاتے ہوئے پولیس کی گشت کرتی ہوئی گاڑی کی فلیش لائٹس دیکھ کر میں دور سے ہی راستہ تبدیل کر لیتا ہوں کیا خبر کسی نے انکو دہشت گرد کے اسلام آباد کی سڑکوں پر سفر کرنے کی اطلاع دی ہو اور وہ اپنی بندوقیں لوڈ کئے اسے ڈھونڈتے پھر رہے ہوں۔ اتنا موقع تو وہ دیں گے نہیں کہ میں اپنے صحافی ہونے کا رعب ان پر ڈال سکوں۔ ہر رات گھر پہنچ کر اللہ
مزید پڑھیے


عدلیہ اور خواہشات

اتوار 20 جنوری 2019ء
راوٗ خالد
چیف جسٹس افتخار چوہدری ریٹائر ہوں یا چیف جسٹس ثاقب نثار ایک خاص ٹولہء متاثرین بحر حال اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے شروع کر دیتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص کی اپنی خواہشات اور انصاف کا اپنا معیار ہے اور جو کوئی بھی جج یا اہم عہدے پر موجود شخص ان کی خواہشات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا توانکی ناراضگی شروع ہو جاتی ہے۔گزشتہ دو روز سے جسٹس ثاقب نثارایسے لوگوں کے نشانے پر ہیں ۔ایک بہت ہی نامی گرامی بیرسٹر ایک ٹی وی پروگرام میں انکے بطور چیف جسٹس عرصے کو ایک تاریک دور
مزید پڑھیے


طالبان، امریکہ اور مذاکرات

منگل 15 جنوری 2019ء
راوٗ خالد
بالآخر امریکہ بہادر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کسی حد تک سنجیدہ ہوتا نظر آ رہا ہے کہ اس بار جب مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا ہے تو ابھی تک کوئی ایسی سازش دیکھنے میں نہیں آئی جو پہلے ان مذاکرات کے آغا ز کے وقت دو بارہو چکا ہے۔پہلی دفعہ جب مری میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے تمام متعلقہ فریق پہنچ چکے تھے تو ایک رات قبل تین سال پہلے فوت ہوئے تحریک طالبان کے بانی ملاّ عمر کی موت کا اعلان کر دیا گیا جس سے ان مذاکرات کا آغاز ہی نہ ہو پایا۔ دوسری دفعہ
مزید پڑھیے