راوٗ خالد


کوفے کی سیاست!


دو روز قبل محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی بارہویں برسی تھی،لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کے دوران، کیا خوبصورت جملہ بولا ہے جناب بلاول بھٹو زرداری نے، ’’ کوفے کی سیاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی‘‘ اور کیا جواب دیا ہے حکومت کی ترجمان معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ،’’بی بی کا مشن اور کمیشن اکٹھا نہیں چل سکتا‘‘۔یہی ہماری سیاست ہے، جملے بازی، جگت بازی اور ایکدوسرے کی توہین، اسکو کوفے کی سیاست کہہ لیں یا عوام کو بیوقوف بنانے کی۔ کیا کوئی بتائے گا خاص طور پر بی بی کی شہادت کے بعد حکمران
اتوار 29 دسمبر 2019ء

بیانیوں کی حقیقت جانئے

جمعه 27 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
دوستوں کے ساتھ مختلف سیاسی اور غیر سیاسی موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے تو اکثرجذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں اور اچھی خاصی معقول گفتگو تو تڑاک تک پہنچ جاتی ہے۔ مسئلہ کسی کا ذاتی نہیں ہوتالیکن ہمارے ہاں مختلف ایشوز کے حوالے سے اتنا کنفیوژن ہے کہ سنی سنائی باتوں پر دلائل کی بنیاد جب رکھی جاتی ہے تو اسکا نتیجہ اختلاف رائے کی بجائے ذاتی رنجش کی صورت میں نکلتا ہے۔ دوسری وجہ جو سمجھ آتی ہے وہ ہمارے معاشرے کی تقسیم در تقسیم ہے جو ذات برادری، فرقے، علاقے، زبان اور سیاسی ہمدردیوں کی
مزید پڑھیے


انصاف کا بہائو

اتوار 22 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
کہتے ہیں پانی نیچی جگہ کا رخ کرتا ہے، ہمارے ہاں انصاف کا یہی چلن بہت عرصہ رہا کہ کمزور کی نسلیں انصاف کو ترس جاتیں لیکن طاقتور آڑے آتا۔ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بقول 2009ء کے بعد کی عدلیہ بدل گئی ہے۔انصاف کے بہائو میں اگرچہ بہتری ہوئی ہے اور گزشتہ کچھ برسوں سے طاقتوروں کو انصاف کا سامنا ہے اور وزراء اعظم سے لیکر جنرل مشرف تک کٹہرے میں ہیں اور انکے مقدمات کے فیصلے دھڑا دھڑ ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلے پسند کئے جائیں یا نہیں لیکن بحر حال اس ملک کے بڑے اور
مزید پڑھیے


جنرل پرویز مشرف

جمعه 20 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
آرٹیکل چھ کے تحت آئین کی پامالی کے حوالے سے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈپرویز مشرف کا ٹرائیل خصوصی عدالت میںمکمل ہوا اور اسکا فیصلہ بھی سنا دیا گیا اس حوالے سے بہت سے تبصرے اور رد عمل آ رہے ہیں جس میں سب سے سخت بیان انکے اپنے ادارے کی طرف سے آیا۔ اسکی شدت اور غصے کو مجھے سمجھنے میں اس لئے دقت نہیں ہو رہی کہ جب جنرل مشرف نے ملک میں مارشل لاء لگایا تھا اور چیف ایگزیٹو کا عہدہ سنبھالا مجھے سرکاری نیوز ایجنسی (اے پی پی) کے فارن ایڈیٹر ہونے کے ناطے
مزید پڑھیے


گلو بٹ خوش ہوا

اتوار 15 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
آج گلو بٹ بہت خوش ہے، اسکی باچھیں کھلی ہوئی ہیں اور وہ اٹھلاتا پھر رہا ہے۔ایک وجہ تو اسکی خوشی کی یہ ہے کہ ہزاروں کی تعدا میں اسکے بھائی بند کالے اور سفید کوٹ میں پیدا ہو چکے ہیں اور وہ آئے دن کسی ہسپتال، سڑک، گلی، عدالتوں غرضیکہ ہر جگہ دندناتے پھرتے ہیںاور موقعہ پر ہی سستا اور فوری انصاف فراہم کرتے ہیں جسکے بارے میں وطن عزیز کی ہر حکومت غریب عوام کے ساتھ وعدہ کرتی رہی ہے لیکن ستربر سوں میں اسکے آثار بھی نظر نہیں آ رہے۔ سب سے بڑی وجہ گلو بٹ کے
مزید پڑھیے



سموگ ہی سموگ

جمعه 13 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
لاہور تو سموگ کا شکار ہے ہی لیکن یہاں ہر منظر دھندلا رہا ہے،ہر طرف سموگ ہی سموگ ہے۔ ایک ایسے مرحلے پر جب ملک کی معاشی حالت کے بارے میں بین الاقوامی ادارے خیر کی خبر دے رہے ہیں۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اور حکومتیں پاکستان کے اندر سرمایہ کے لئے امڈے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ چار روز سے روس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد موجود ہے جو دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کر رہا ہے۔ سیاحت کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پسندیدہ ترین ملکوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
مزید پڑھیے


جمہوریت پسند

اتوار 01 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
پہلا سیاسی احتجاج جو دیکھا اور میں اس کا حصہ بھی تھا لیکن شعوری طور پر اس لئے نہیں گردانتا کہ میری عمر اس وقت ایسی تھی جب سیاسی معاملات کی سمجھ بوجھ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور خاص طور پر جمہوریت اور آمریت کے فرق کو تو با لکل نہیں سمجھ سکتا تھا۔یہ جنرل ایو ب خان کے چل چلائو کا دور تھا انہوں نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے 1969 میں ملک بھر میں ٹرین مارچ کا آغاز کیا۔ میں جدید پرائمری سکول گوجرہ میں پانچویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ سکول میں پتہ چلا کہ
مزید پڑھیے


مزاحمتی سے علالتی بیانئے تک

اتوار 24 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
وزیر اعظم عمران خان کی فرسٹریشن بلا وجہ نہیںہے۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغازبے لاگ انصاف کے نعرے سے کیا اور طاقتور اور کمزور کے لئے ایک قانون کی بات کی۔2018ء کاا نتخاب انصاف کے ساتھ احتساب کے نعرے سے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ اپوزیشن جو بھی الزام لگائے لیکن انکو بھی پتہ ہے کہ انتخابات میں انہوں نے جیتنے کے لئے الیکٹیبل کا سہارا لیا تھا اور یہی کام عمران خان نے کیا۔ الیکٹیبل سے سیانی مخلوق کہیں نہیں پائی جاتی۔ وہ بر وقت جیتنے والی پارٹی میںجانے کی حس سے مزّین ہیں اور انہیں کسی کو بتانے
مزید پڑھیے


دو نظام عدل!

جمعه 22 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
وزیر اعظم عمران خان بہت جز بز ہو رہے ہیں کیونکہ بظاہر انکی مرضی کے خلاف میاں نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی لاہور ہائیکورٹ نے اجازت دیدی ہے۔ہزارہ موٹروے کے افتتاح کے موقع پر انہوں دو کی بجائے ایک نظام عدل رائج کرنے کی بات کی اور اس کے لئے انہوں نے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور انکے بعد بننے والے چیف جسٹس گلزار احمد سے اپیل کی کہ وہ اس نظام کوطاقتور اور کمزور کے لئے یکساں بنانے میں مدد کریں اسکے لئے حکومت تمام وسائل مہیا کرنے کو تیار ہے۔ اسکے جواب میں
مزید پڑھیے


جمہوریت کا درد

اتوار 17 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
جب بھی کوئی پارٹی بلکہ شخصیت اقتدار سے باہر ہوتی ہے جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے اور سب ہارنے والے قائدین کے پیٹ میں جمہوریت کا مروڑ اٹھنے لگتا ہے جیسے کہ آجکل مولانا فضل الرحمٰن کو ہو رہا ہے کہ اصلی تے وڈی جمہوریت ملک سے نا پید ہو گئی ہے اور انہوں نے اسکی بحالی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انکا مشن تو بہت جلد مکمل ہونے والا ہے اور انکو اسی جمہوریت پر گزر بسر کرنا ہوگی اور چار سال بعد شاید انکو دوبارہ موقع ملے کہ جس قسم کی جمہوریت انکو درکار ہے وہ قائم کر
مزید پڑھیے