BN

راوٗ خالد



انتخابات اور خدشات


اگلے چوبیس گھنٹوں میں 2018 ء کی انتخابی مہم انجام کو پہنچے گی جس کے بعد تمام جماعتیں اور امیدوار ایک دن کے لئے عوام کے رحم و کرم پر ہونگے۔اسکے بعد اگلے پانچ سال عوام جیتنے والے امیدوار یا جماعت کی مہربانیوں کے منتظر رہیں گے۔ تا حال جاری انتخابی مہم میں دو انتہائی افسوسناک دہشت گردی کے واقعات ہوئے جنہوں نے وقتی طور پر پورے ملک میں اس عمل کو کسی حد تک متاثر کیا لیکن ایک بار پھر سیاسی قائدین تمام خطرات کے باوجود بھر پور طریقے سے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو
اتوار 22 جولائی 2018ء

شہباز اور پرواز

اتوار 15 جولائی 2018ء
راوٗ خالد
فلم کی دنیا میں بڑے نامی گرامی ولن گزرے ہیں، انکے کردار سے زیادہ انکا ہر فلم میں کوئی مخصوص ڈائیلاگ اصل شہرت کا باعث ہو تا ہے۔اپنی فلمی صنعت کی بات کریں تو مصطفیٰ قریشی جیسا دبنگ ولن اور انکا زبان زد خاص و عام ڈائیلاگ " نواں آیا ایں سوہنیا" کسے یاد نہیں ہے۔پھر اس سے پہلے معروف ولن مظہر شاہ ہوا کرتے تھے۔انکے ڈائیلاگ"میں ٹبر کھا جاں تے ڈکار نہ ماراں"اور "نبوں وانگوں پھہ کے رکھ دیا گاں"بہت مشہور ہوئے۔اسی طرح سے ہر فلم میں ایک ایسا کردار ہوتا ہے جو لڑائی کے دوران کسی کونے یا
مزید پڑھیے


پانچ اور چھ جولائی

پیر 09 جولائی 2018ء
راوٗ خالد
پانچ جولائی کے بعد چھ جولائی بھی ہوتا ہے۔ پانچ جولائی1977ء کے وقت شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گاکہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی کوکھ سے ایک ایسا لیڈر جنم لے گا جو اسکی سوچ اور نظریے کا امین ہونے کا دعویدار ہو گا۔پاکستان کی سیاست میںجو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کسی حد تک جمہوری ہوتی جا رہی تھی اور کم از کم کرپشن جیسی بیماری اسکو لاحق نہیں ہوئی تھی اس سیاست کا نہ صرف خاتمہ ہو جائے گا بلکہ ملک میں ایک ایسی سیاست کی بنیاد رکھی جائیگی جو
مزید پڑھیے


سیاست اور خلقت

اتوار 01 جولائی 2018ء
راوٗ خالد
انتخابات کا دور دورہ ہے ہر سیاستدان بساط بھر اس کوشش میں ہے کہ جس جماعت سے اس کا تعلق ہے وہ اسے اپنا لے اور انتخابی ٹکٹ جاری کر دے۔ایک بڑی تعداد ایسے سیاستدانوں کی ہے جو اس بات پر "جیہڑا جتیّ اودھے نال" کے فارمولے پر یقین رکھتے ہیں اس لئے ہر موسم میں انکے لئے نئی جماعت ضروری ہے کیونکہ ملکی تاریخ میں شاذونادر ہی ہوا ہے کہ حکومت سے جانے والی جماعت اگلی ٹرم حاصل کر پائے۔حالیہ سیاسی تاریخ میں ایک دو تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں کہ ایک توسندھ اور پنجاب میں صوبائی
مزید پڑھیے


مالشئے اور پالشئے

اتوار 24 جون 2018ء
راوٗ خالد
جب سے مالشیوں اور پالشیوں کا ذکر شروع ہوا ہے مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو ایسے لوگوں کے طریقہ واردات کے بارے میں ہے۔ ایک دوست جو کہ موبائل فون کا کاروبار کرتے تھے انکے ہاں میں کسی خریداری کے لئے گیا تو انہوں نے چائے کے لئے بٹھا لیا اور اپنی کرسی جو پیسوں والے غلے کے پاس پڑی تھی آفر کر دی۔ ابھی کچھ ہی لمحے گزرے تھے کلف شدہ لٹھے کی شلوار قمیض میں ایک صاحب دکان میں داخل ہوئے جو کہ میرے اندازے کے مطابق دوست کے شناسا تھے، انہوں نے بہت رازدار
مزید پڑھیے




نگرانوں کی نگرانی

اتوار 10 جون 2018ء
راوٗ خالد
میاں شہباز شریف اپنی وزارت اعلیٰ کی مقررہ مدت سے آٹھ دن زیادہ صرف اس لئے حکومت کر پائے کہ پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کے لئے حکومت اور اپوزیشن مین اتفاق نہیں ہو پایا۔ الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ کرنا پڑا اور انہوں نے پروفیسر حسن عسکری جیسے عالم فاضل جو جمہوریت کے بارے میںبا علم چند ایک لوگوں میں سے ہیں کا انتخاب کیا۔ اسکے ساتھ ہی بلوچستان میںنگران وزیر اعلیٰ کا تقرر بھی الیکشن کمیشن کرچکا ہے ۔ گزشتہ جمعرات سے ملک بھر میں با قاعدہ نگرانوں کا دور شروع ہو چکا ہے۔ ان حکومتوں کے لئے
مزید پڑھیے


حکمران مخلوق اور ڈاکٹر ایلس کی تھیوری

اتوار 03 جون 2018ء
راوٗ خالد
پنجاب میں دس سال اور مرکز میں پانچ سال حکومت کرنے کے بعد بالآخر شریف حکومت 31مئی کو اپنے انجام کو پہنچی۔کارکردگی کا جائزہ عوام آنے والے انتخابات میں اپنی بساط کے مطابق لیں گے لیکن لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے جس بیان پر میاں شہباز شریف نے اپنی حکومت کا اختتام کیا ہے اس کا ذکر کرتے رہنا بہت ضروری ہے کیونکہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا نعرہ ہی تھا2013 ء میں مسلم لیگ (ن) نے جس کو اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنایا اور گزشتہ پانچ سال اسی نعرے کی آڑ میں نہ صرف پیپلز پارٹی کی دھلائی
مزید پڑھیے


سبیکا اور ہم

اتوار 27 مئی 2018ء
راوٗ خالد
اگر ٹیکساس امریکہ میں واقع سانتا فے ہائی سکول میںفائرنگ کا اندوہناک واقعہ نہ ہوا ہوتا تو ہمیں پتہ ہی نہ چلتا کہ سبیکا شیخ کون ہے، بھلے وہ کتنا ہی اچھا کام کر رہی ہوتی، ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت یا سفارتکار بننے کا خواب پورا کر چکی ہوتی۔ لیکن اسکی شہادت نے ہمارے اوپر اپنی نوجوان نسل کا وہ پہلو آشکار کیا ہے جس کی وجہ سے آج سارا امریکہ سبیکا شیخ کی نرم دلی، اخلاص، محبت ، اپنی روایات اور مذہب سے لگائو کے گن گا رہا ہے۔ وہ ہماری ان اقدار سے نہ صرف آشنا ہوا
مزید پڑھیے


الزامات کی سیاست

اتوار 20 مئی 2018ء
راوٗ خالد
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگانے کی دہائیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ ہے۔ اس کی طرف سے سازشوں کے الزامات ہر سیاستدان لگاتا رہا ہے، اور حکمرانی ختم ہونے کے بعد خاص طور پر ملک کو لاحق خطرات کے بارے میں بھی آگاہی دی جاتی رہی ہے ۔ اس بات سے انکار مشکل ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کاکو ئی کردار نہیں رہا۔اگر بہت پرانی باتوں کا ذکر نہ بھی کریں تو اس کا ذکرآئی جے آئی کی تشکیل سے لے کر 2013 ء کے انتخابات تک بار بار ملتا ہے۔آئی جے آئی کا مقدمہ تو زیر تفتیش
مزید پڑھیے


خلائی مخلوق

اتوار 13 مئی 2018ء
راوٗ خالد
میاں نواز شریف کے خلائی مخلوق کے کارناموں اور کارروائیوں پر بیان کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انکا تجربہ ان ساری نادیدہ قوتوں کے ساتھ ایسا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہو سکتا ہے کہ انکا ایسی چیزوں پر یقین رکھنا بنتا ہے۔ بقول جنرل ریٹائرڈ حمید گل (مرحوم) نواز شریف ہمارے ہاتھ کا بنایا ہوا نشان ہے۔اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ وہ اس قسم کا بیان دے رہے ہوں۔ جب وہ آئی جے آئی بنانے والوں سے پیسے لے کر ملک میں پہلی بار وزیر اعظم بننے کی راہ پر گامزن تھے اس
مزید پڑھیے