BN

رضا رومی



سول سروس میں اصلاحات : رکاوٹ کیا ہے؟


پاکستان میں سیاسی سطح پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ سول سروس میں اصلاحات اور بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے ۔ سیاست دان اور جنرل تھانے اور کچہری کا کلچر تبدیل کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ چالیس برسوں کے دوران کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس سلسلے میں کی گئی آخری کوشش کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیںنکلا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین، جو مشرف دور میں ’’نیشنل کمیشن فار گورنمنٹ ریفارمز‘‘ کے سربراہ تھے، آج ایک مرتبہ پھر
منگل 02 اکتوبر 2018ء

نئے وزیر ِاعظم کے سامنے ہنگامہ خیز دور

پیر 13  اگست 2018ء
رضا رومی
عمران خان کے لیے اسلام آباد میں وزارت ِاعظمیٰ کا منصب پھولوں کی سیج نہیں ہوگا۔ اُنہیں اب تک احساس ہوچکا ہوگا کہ آنے والے برسوں کی مسافت ہموار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پنڈت اُن کی حکومت کے استحکام اور مقبولیت کے لیے پہلے سو دنوں کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔ یقینا چند ایک ماہ کے دوران عمران خان کی حکومت کوئی معجزانہ تبدیلیاں برپا نہیں کرسکتی اور نہ ہی ان کی توقع کرنا چاہیے اور پھر پاکستان میں کم پارلیمانی اکثریت کے ساتھ حکومت کرنا بذات ِخود کسی جوکھم سے کم نہیں۔ سیاسی جماعتوں میں دھڑے
مزید پڑھیے


عمران کا دور آگیا ہے

منگل 31 جولائی 2018ء
رضا رومی
توقع کے مطابق حالیہ انتخابات میں کامیابی کا سہرا پاکستان تحریک ِ انصاف کے سر بندھا ہے ۔ عمران خان کی دو عشروں پر محیط جدوجہد خاص طور پر گزشتہ چند ایک سالوں سے رنگ لارہی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں اُنھوں نے خیبرپختونخواہ میں حکومت بنائی، اب وہ مرکز اور ممکنہ طور پر پنجاب میں بھی حکومت بنانے جارہے ہیں ۔ خیر یہ کوئی راز نہیں کہ عمران خان اسلام آباد جارہے ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اُنہیں لاکھوں رائے دہندگان کا مینڈیٹ اور اعتماد حاصل ہے ۔ یقینا یہ ایک منفرد ادغام ہے ، لیکن ضروری ہے
مزید پڑھیے


الیکشن 2018 ء ۔۔۔۔ سات تشویش ناک علامات

پیر 16 جولائی 2018ء
رضا رومی
عام حالات میں اب تک انتخابی مہم اپنے عروج پر ہونی چاہیے تھی۔ سیاسی جماعتیں اور اُن کے امیدوار کارنر میٹنگز کررہے ہوتے، گھرگھرجاکر ووٹروں سے رابطہ کرتے اور الیکشن کے دن کی پلاننگ کرتے ۔ اس وقت کہنے کو تو نگران انتظامیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا نیٹ ورک موجودہیں لیکن ان کا کوئی جاندار کردار دکھائی نہیں دیتا۔ ہر طرف افراتفری کی سی فضا ہے۔ جن کے فرائض کچھ اور تھے، سیاسی عمل کی کڑی نگرانی کررہے ہیں ۔ اس ضمن میں سات تشویش ناک عوامل ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ پہلا پریشان کن عامل سب جماعتوں کو یکساں
مزید پڑھیے


2018 ء کے عام انتخابات اور جمہوری استحکام

منگل 03 جولائی 2018ء
رضا رومی
پاکستانی رائے دہندگان ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد اگلی حکومت کا انتخاب کررہے ہوں گے ۔ اگرچہ فعال سیاسی انجینئرنگ اور انتخابات کو کنٹرول کرنے کے حربوں پر بات ہورہی ہے لیکن کل کہانی یہی نہیں ہے۔ ان انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں خود بھی افراتفری کا شکار ہیں۔ امیدواروں کے انتخاب میں اُن کی چوائس اور پارٹی منشور پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر مجموعی طور پر تمام سیاسی اشرافیہ جمہوری عمل کی جزوی گراوٹ کی ذمہ دار ٹھہرے گی۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت،
مزید پڑھیے




پاکستان کی انتخابی دلدل

پیر 11 جون 2018ء
رضا رومی
ملک عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے ، گویا ہم نے ایک اور سنگ ِ میل عبور کرلیا۔تمام تر مشکلات کے باوجود پارلیمنٹ نے اپنی آئینی مدت مکمل کرلی ، اور پچیس جولائی کے بعد انتقال ِ اقتدار کا مرحلہ طے پانے جارہا ہے ۔ یقینا یہ خوشی کا موقع ہے ، خاص طور پر جب گزشتہ سال سے افواہ ساز فیکٹریاں انتخابات کے التوا اور جمہوری طریقے سے انتقال ِ اقتدار میں رکاوٹ کی خبریں پھیلا رہی تھیں۔ موجودہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تمام خدشات بے بنیا دتھے۔ اب اگر جولائی کے آخری ہفتے سے
مزید پڑھیے


ایک اور شمع بجھ گئی

پیر 30 اپریل 2018ء
رضا رومی

کسی دوست کی اچانک رحلت کو یاد کرنا آسان نہیں۔ یہ احساس کتنا جانگسل ہے کہ اب وہ چہرہ کبھی دکھائی نہیں دے گا۔ میری مدیحہ گوہر سے پچیس سال پہلے لاہور میں پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہم نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ہماری دوستی ایک مضبو ط تعلق میں ڈھل گئی۔ مدیحہ گوہر توانائی، ذہانت اور تخلیق کا سرچشمہ تھیں۔ ایسے دوست بہت نایاب ہوتے ہیں جن سے تحریک بھی ملتی ہے اور تعاون بھی اور میں بہت خو ش قسمت ہوں مجھے مدیحہ کی صورت ایک ایسی دوست ملی۔ افسوس، مجھے 2014 ء میں
مزید پڑھیے