BN

رعایت اللہ فاروقی



رات کے اس پار


کوجک ٹاپ سے اتریں تو وسیع میدانی علاقہ شروع ہوتا ہے جس کے بیچوں بیچ وہ چمن شہر پھیلا ہوا ہے جہاں سمگلر، جے یو آئی، پختون نیشنلسٹ اور طالبان ایک گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔ہم سیدھے ان شورومز پر پہنچے جہاں افغان ٹرانزٹ کی بیش قیمت کاریں فروخت ہوتی ہیں۔جو گاڑیاں ہمارے ہاں کروڑوں کی ہیں وہ وہاں چند لاکھ میں دستیاب ہیں۔ کیونکہ وہاں یہ کسٹم ڈیوٹی کے بغیر دستیاب ہیں۔ ہم نے کئی شورومز پر "سنجیدہ بھاؤ تاؤ" بھی کیا حالانکہ جیب پیسے بس اتنے ہی تھے کہ فرشی ریستورانوں پر دو چار وقت کا وہ مشہور
اتوار 25  اگست 2019ء

سچ کی تلاش

جمعه 23  اگست 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ اکتوبر 1996ء کی ایک شام تھی جب میں نے عصر کی نماز طورخم بارڈر کی پاکستانی جانب ادا کی اور سرحد عبور کر گیا۔ ہم تین ہمسفر تھے مگر طورخم پر ایک دوسرے سے لاتعلق۔ سرحد کی دوسری جانب تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مخصوص دکان کے مقابل پاکستان کی جانب رخ کئے ایک گاڑی ہماری منتظر تھی۔ ہم دس دس منٹ کے وقفے سے اس گاڑی میں جا بیٹھے تو وہ جلال آباد روانہ ہوگئی۔ مغرب کی نماز ہم نے جلال آباد میں ادا کی اور جب اندھیرا پوری طرح چھا گیا تو سیاہ شیشوں والی
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا ایکٹوسٹ

هفته 17  اگست 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
دو برس قبل کراچی آنا ہوا تو کلفٹن میں واقع گرافک ڈیزائننگ کے ادارے میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے ایک ماہر ٹکر گئے، پوچھنے لگے "آپ فیس بک استعمال کرتے ہیں ؟" عرض کیا"جی کرتا ہوں !" فرمانے لگے"پوسٹیں لکھتے ہیں ؟" عرض کیا"تھوڑی بہت لکھ لیتا ہوں" بولے"کریکٹ می اف آئی رونگ کہ لائیکس صرف تصاویر پر آتے ہوں گے، لکھی ہوئی پوسٹ پر دو چار لائیکس ہی آتے ہوں گے ؟" عرض کیا"دو چار تو نہیں تھوڑے زیادہ ہی آجاتے ہیں لیکن تصاویر سے واقعی کم ہوتے ہیں" فرمانے لگے" کریکٹ می اِف آئی رونگ، لکھی پوسٹ پر دس بیس لائیکس آجاتے ہوں گے ؟
مزید پڑھیے


یوم عرفہ کا روزہ

هفته 10  اگست 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
دو چار سال ادھر کی بات ہے، اپنے گھر کی قریبی مارکیٹ میں جانا ہوا۔ اس روز حجاج میدان عرفات میں تھے اور بیشتر چینلز اس کے لائیو مناظر دکھا رہے تھے۔ مارکیٹ میں ایک جانب تین نوجوان موبائل فون کے ساتھ کچھ کرتے نظر آئے۔ میں نے پوچھا، بیٹا ! آج یوم عرفہ ہے نا ؟ تینوں نے کہا "جی انکل" وہاں سے دودھ والے کی دوکان پر گیا، اس سے بھی یہی سوال کیا، میری داڑھی کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا "یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کو پتہ نہ ہو کہ آج یوم عرفہ ہی ہے" وہاں سے نکلا
مزید پڑھیے


"زبان اورکیفیت"

منگل 06  اگست 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
اردو پر بھپتی کسنے کے لئے بھی عجیب عجیب طرح کے سہارے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ فرمایا گیا ہے، عشق و مستی کی جو کیفیت پنجابی زبان میں ملتی ہے وہ اردو میں ناپید ہے۔ یہی بات اگر کوئی پشتون پشتو زبان کے لئے کہے اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ یہ خوبی پشتو زبان کے ساتھ خاص ہے تب بھی بات غلط ہی ہوگی۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس خطے میں سندھی، پنجابی، پشتو اور بلوچی وغیرہ مخصوص اقوام کی مقامی زبانیں ہیں جبکہ عربی فارسی اور اردو قومی زبانیں ہیں جو مختلف ثقافتی پس منظر والوں
مزید پڑھیے




قانون کے اس پار !

هفته 27 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
کان پک گئے یہ سنتے سنتے کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں قانون سے ماورا اقدام کی حمایت کرنے والے اپنے آپ کو تھوڑی دیر کے لئے ان لاپتہ افراد کے عزیز رشتہ داروں کی جگہ رکھ کر سوچیں۔ گزارش ہے کہ میں ان میں سے ہوں جن کے سگے مشرف دور میں لاپتہ کئے گئے لھذا مجھے کسی پردہ تصور پر "تھوڑی دیر" ان کی جگہ لینے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ میرا سگا بھائی 28 ماہ تک لاپتہ رہا۔ اور وہ 28 ماہ نہ تو کسی پردہ تصور پر تھے اور نہ ہی انہیں "تھوڑی دیر" کہا جا
مزید پڑھیے


کراچی: کیا سے کیا ہوگیا !

منگل 23 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
میری یادوں کے اس پار کہیں اکتوبر 1971ء کی وہ سہ پہر پڑی ہے جب میں اپنے بابا کی گود میں اس کراچی کے کینٹ سٹیشن پر اترا تھا جس کی غریب پروری ضرب المثل بنتی جا رہی تھی۔ وہاں محض پہنچ جانا ہی برسرِ روزگار ہونے کی سند تھی اور اس خوبی نے اسے یہ امتیاز بخش رکھا تھا کہ وہ پاکستان کا واحد شہر تھا جہاں ملک کے ہر ضلع کے لوگ آ موجود ہوئے تھے اور یہی اس کے ’’منی پاکستان‘‘قرار پانے کا سبب بنا تھا۔ وہ عجیب ہی شہر تھا، اس کی گلیاں نفرت، کدورت، عناد
مزید پڑھیے


تعصب کا زہر

هفته 20 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
پچھلے کالم "پنجابی سامراج" پر بعض پختونوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا کرنے والوں میں ایک ایسے حضرت بھی شامل رہے جن کا جبہ، رومال، ٹوپی اور مجھ سے دگنی داڑھی کسی فرشتے کا گمان پیدا کرتی ہے۔ ان احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ڈھائی سال پختونوں، اس کے بعد کے 22 سال مہاجروں اور اس کے بعد کے 25 سال پنجابیوں کے ساتھ گزارے ہیں۔ میرے والد کا ہم پر یہ احسان اپنی جگہ کہ ہمیں کراچی میں مستقل بسایا لیکن معمولی یہ
مزید پڑھیے


’’پنجابی سامراج‘‘

منگل 16 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ نومبر 1994ء کی بات ہے جب میں نہایت مخدوش حالات والے کراچی سے نہایت پرسکون بود و باش والے اسلام آباد منتقل ہوا۔ تب میں 25 برس کا پختون نوجوان تھا اور میں یہ سنتے سنتے جوان ہوا تھا کہ اس ملک میں "حقوق" نام کا کوئی لولی پاپ پایا جاتا ہے جسے پنجابی اکیلے اکیلے چوس چاٹ رہے ہیں۔ کراچی کی تین بڑی اکائیاں مہاجر، پختون اور سندھی تھے۔ اور پنجابیوں پر حقوق غصب کرنے کا الزام لگاتی سب سے اونچی آوازیں الطاف حسین، خان عبدالولی خان اور جی ایم سید کی تھیں۔ جب کسی شہر میں ڈھائی
مزید پڑھیے


’’ہمارے کرتوت‘‘

هفته 13 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہمیں لاحق خطرہ بھارت، افغانستان نہیں بلکہ غیر ملکی فنڈز پر پلنے والی وہ مخلوق ہے جو ان ممالک سے ٹینشن کے ہر موقع پر کورس کی شکل میں گاتے ہوئے کہتی ہے۔ "ہمیں اپنے کرتوتوں پر بھی غور کرنا چاہئے، یہ ممالک ویسے ہی ہمارے خلاف تو نہیں ہوسکتے" چلئے ان ممالک کے حوالے سے اپنے تنازعات کی جڑ میں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کرتوت ہمارے ٹھیک نہیں یا ان کے جن کی آپ قوالی گا رہے ہیں۔ پہلے نمبر پر بھارت کو دیکھ لیجئے. بھارت سے ہماری دشمنی کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ ڈوگرہ مہاراجہ لاکھوں
مزید پڑھیے