BN

رعایت اللہ فاروقی



کپتان


وزیر اعظم کی ٹیم میں ردوبدل دیکھ کر ان کا بطور کرکٹ کپتان وہ دورہ بھارت یاد آگیا جو 1987ء میں ہوا تھا۔ اس دورے کے پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہوئے تو انہوں نے ٹیم میں ردوبدل کے لئے اقبال قاسم، یونس احمد اور اعجاز فقیہ کو پاکستان سے طلب کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں کھلاڑی کرکٹ کی اصطلاح کے مطابق "بوڑھے" تھے۔ ان میں سے اقبال قاسم تھے تو اہم باؤلر مگر غیر علانیہ ریٹائرڈ تصور کئے جا رہے تھے۔ جبکہ باقی دونوں میں سے اعجاز فقیہ نے کل 4 ٹیسٹ میچ کھیل کر
هفته 20 اپریل 2019ء

لاپتہ افراد

منگل 16 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
2007ء کے شروع کی بات ہے مجھے اطلاع ملی کہ سوات کے چار باغ علاقے کا ایک لاپتہ فرد رہا ہو کر آیا ہے۔ چونکہ میرا بھائی بھی ان دنوں لاپتہ تھا تو میں ایک رات مغرب اور عشاء کے مابین چار باغ اس لاپتہ نوجوان سے ملنے جا پہنچا۔ وہ بہت ہی زندہ دل شخص تھا۔ ہم نے فجر کی نماز تک گپ شپ کی جس میں اس کی داستان کی تقریبا ہر ضروری تفصیل شامل تھی۔ گفتگو کا آغاز یوں ہوا تھا "آپ کو کس الزام میں اٹھایا گیا تھا ؟" "مجھ پر الزام تھا کہ میں نے جنرل مشرف
مزید پڑھیے


عظیم لوگ اور انتخابی سیاست !

هفته 13 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
آپ نے یہ تو سن رکھا ہوگا کہ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں اللہ نے ایسی برکت رکھی ہوتی ہے اور انہیں ایسی صلاحیتوں سے نوازا ہوتا ہے کہ وہ جس چیز کو ہاتھ لگادیں وہ سونا بن جاتی ہے لیکن ایسا کوئی شخص شائد دیکھا نہ ہو۔ چلئے آپ کو آج ایسے ہی ایک شخص سے متعارف کراتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ پاکستانی عوام نے وقت آنے پر اس کی کتنی "قدر" کی۔ ایئر مارشل نور خان 22 فروری 1923ء کو تلہ گنگ، چکوال میں پیدا ہوئے۔ وہ 6 جنوری 1941ء کو رائل انڈین ایئرفورس میں شامل
مزید پڑھیے


پاک بھارت مسلمان اور برہمن سامراج

منگل 09 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
پاکستان اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں جو پارٹ ٹائم نہیں بلکہ سال کے 12 ماہ ایک دوسرے کے خلاف سرد اور نیم گرم جنگ میں مشغول رہتے ہیں۔ دونوں جانب کے انٹیلی جنس ادارے زندگی کے ہر شعبے میں ایک دوسرے کے خلاف اپنے اپنے ایجنٹ رکھتے ہیں۔ نہ اس سرایت سے سیاستدان محفوظ ہیں اور نہ ہی دفاعی ادارے۔ نہ صحافی محفوظ ہیں اور نہ شاعر و ادیب۔ نہ گلوکار محفوظ ہیں اور نہ ہی ڈانسر و مصور۔ نہ سائنسدان محفوظ ہیں اور نہ ٹیچرز و پروفیسرز۔ نہ بزنس مین محفوظ ہیں اور نہ ہی تاجر
مزید پڑھیے


"حریت فکر"

هفته 06 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی ترقی پذیر ممالک کی شامت آگئی اور امریکہ ڈنڈا لے کر ان کے پیچھے پڑ گیا کہ آپ اپنا نظام چلانے کا حق نہیں رکھتے۔ آپ کو کیپٹلزم مکمل طور پر اختیار کرکے ملک کو جدید جمہوری تقاضوں کے تحت چلانا ہوگا اور یہ تقاضے سیکولرزم کے تحت لبرل معاشرت کے مطالبات کے ساتھ سامنے لائے گئے۔ یہ غلامی کی سب سے بدتر شکل ہے جو فوجی قبضے کے بجائے یو این اور مالیاتی اداروں کی مدد سے ممالک پر مسلط کی جاتی ہے جس سے شہریوں کو یہ احساس تک نہیں رہتا
مزید پڑھیے




’’جرگہ پاکستان‘‘

منگل 02 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
سوشل میڈیا میں سے یوٹیوب ویڈیوز، انسٹاگرام تصاویر، ورڈپریس مضامین تو ٹویٹر ون لائنر کی مدد سے اظہار خیال کے منظم مواقع ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ یہ آن لائن کاروبار کے حوالے سے بھی اپنا لوہا منوا چکے۔ مگر سوشل میڈیا کی اس دنیا میں فیس بک کی امتیازی حیثیت یہ ہے کہ یہ بیک وقت ویڈیوز، تصاویر، مضامین اور ون لائنر کے ذریعے اظہار خیال کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "اظہار خیال" کے ان پلیٹ فارمز میں سے فیس بک مقبولیت کے لحاظ سے سب سے آگے ہے۔ پانچ برس قبل تک صورتحال یہ
مزید پڑھیے


جیسنڈا آرڈرن کا متبادل بیانیہ

منگل 26 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہم نے 15 سے 22 مارچ کے دوران عالمی منظر نامے پر کچھ تاریخ ساز مناظر دیکھے۔ ایسے مناظر جو آنے والے ماہ و سال پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا بھرپور امکان رکھتے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں پچاس مسلمانوں کے خون ناحق نے امید کا ایک ایسا دیا روشن کیا ہے جو نائن الیون کے بعد والے اس تاریک 18 سالہ عرصے میں پہلی بار روشن ہوا ہے جس میں لاکھوں مسلمان مارے گئے اور کروڑوں اس سے کسی نہ کسی صورت متاثر ہوئے۔ امریکہ میں نائن الیون ہوا تو اس کی تحقیقات کے لئے ایک عدد "نائن الیون
مزید پڑھیے


عسکری تنظیمیں تاریخ کے آئینے میں… آخری قسط

جمعرات 14 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
عسکریت کے موضوع سے میرا تعلق تقریبا 32 برس پر محیط ہے۔ ان 32 برسوں کے ابتدائی دس سال میں حرکت المجاہدین اور حرکت الانصار کا حصہ رہا ہوں۔ پھر خاص طور پر حرکت الانصار کا میں نومبر 1994ء سے اکتوبر 1997ء تک ناظم اطلاعات و نشریات بھی رہا۔ اکتوبر 1997ء میں عسکریت سے راہیں الگ کیں تو تب سے تادم تحریر ایک تجزیہ کار کے طور پر اس موضوع پر غور فکر ہی میرا خصوصی میدان چلا آرہا ہے۔ اپنے اس غوروفکر کے نتیجے میں میں نے ایک ہولناک حقیقت دریافت کی ہے جس کی جانب پیشہ ور عسکری
مزید پڑھیے


عسکری تنظیمیں تاریخ کے آئینے میں…4

بدھ 13 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
سوویت یونین جیسی سپر طاقت کو اپنی تیار کردہ عسکری تنظیموں کی مدد سے توڑ دینا اتنی بڑی کامیابی تھی کہ اسے پیش نظر رکھ کر کوئی بھی آرام سے یہ سوچ سکتا تھا کہ یہ تجربہ کشمیر میں بھی کیوں نہ کر لیا جائے ؟۔ افغان جہاد کے دوران 1984ء میں پاکستانیوں پر مشتمل پہلی عسکری تنظیم بن چکی تھی جو اگلے تین سالوں میں تین ٹکڑوں میں بٹ کر تین الگ الگ تنظیموں کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ پھر جماعت اسلامی کی البدر وغیرہ ملا کر سوویت افواج کے انخلاء تک پاکستانیوں کی پانچ تنظیمیں وجود میں
مزید پڑھیے


عسکری تنظیمیں تاریخ کے آئینے میں…3

منگل 12 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
قیام پاکستان کے وقت ایک اہم مسئلہ اس وقت کے این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختون خواہ) صوبے کا تھا افغانستان اسے ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت اپنا حصہ مانتا تھا لیکن خود اس صوبے کے لوگوں میں افغانستان کے ساتھ شمولیت کا سوال ہی زیر بحث نہ تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ اس صوبے بھارت کا حصہ بننا ہے یا پاکستان کا ؟ چنانچہ یہاں اسی سوال پر 2 جولائی 1947ء کو ریفرینڈم کرا لیا گیا. اس ریفرنڈم میں 572798 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 289244 ووٹ جو کاسٹ ہونے والے ووٹوں کا 99.2 بنتے ہیں پاکستان کے حق
مزید پڑھیے