رعایت اللہ فاروقی



قانون کے اس پار !


کان پک گئے یہ سنتے سنتے کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں قانون سے ماورا اقدام کی حمایت کرنے والے اپنے آپ کو تھوڑی دیر کے لئے ان لاپتہ افراد کے عزیز رشتہ داروں کی جگہ رکھ کر سوچیں۔ گزارش ہے کہ میں ان میں سے ہوں جن کے سگے مشرف دور میں لاپتہ کئے گئے لھذا مجھے کسی پردہ تصور پر "تھوڑی دیر" ان کی جگہ لینے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ میرا سگا بھائی 28 ماہ تک لاپتہ رہا۔ اور وہ 28 ماہ نہ تو کسی پردہ تصور پر تھے اور نہ ہی انہیں "تھوڑی دیر" کہا جا
هفته 27 جولائی 2019ء

کراچی: کیا سے کیا ہوگیا !

منگل 23 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
میری یادوں کے اس پار کہیں اکتوبر 1971ء کی وہ سہ پہر پڑی ہے جب میں اپنے بابا کی گود میں اس کراچی کے کینٹ سٹیشن پر اترا تھا جس کی غریب پروری ضرب المثل بنتی جا رہی تھی۔ وہاں محض پہنچ جانا ہی برسرِ روزگار ہونے کی سند تھی اور اس خوبی نے اسے یہ امتیاز بخش رکھا تھا کہ وہ پاکستان کا واحد شہر تھا جہاں ملک کے ہر ضلع کے لوگ آ موجود ہوئے تھے اور یہی اس کے ’’منی پاکستان‘‘قرار پانے کا سبب بنا تھا۔ وہ عجیب ہی شہر تھا، اس کی گلیاں نفرت، کدورت، عناد
مزید پڑھیے


تعصب کا زہر

هفته 20 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
پچھلے کالم "پنجابی سامراج" پر بعض پختونوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا کرنے والوں میں ایک ایسے حضرت بھی شامل رہے جن کا جبہ، رومال، ٹوپی اور مجھ سے دگنی داڑھی کسی فرشتے کا گمان پیدا کرتی ہے۔ ان احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ڈھائی سال پختونوں، اس کے بعد کے 22 سال مہاجروں اور اس کے بعد کے 25 سال پنجابیوں کے ساتھ گزارے ہیں۔ میرے والد کا ہم پر یہ احسان اپنی جگہ کہ ہمیں کراچی میں مستقل بسایا لیکن معمولی یہ
مزید پڑھیے


’’پنجابی سامراج‘‘

منگل 16 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ نومبر 1994ء کی بات ہے جب میں نہایت مخدوش حالات والے کراچی سے نہایت پرسکون بود و باش والے اسلام آباد منتقل ہوا۔ تب میں 25 برس کا پختون نوجوان تھا اور میں یہ سنتے سنتے جوان ہوا تھا کہ اس ملک میں "حقوق" نام کا کوئی لولی پاپ پایا جاتا ہے جسے پنجابی اکیلے اکیلے چوس چاٹ رہے ہیں۔ کراچی کی تین بڑی اکائیاں مہاجر، پختون اور سندھی تھے۔ اور پنجابیوں پر حقوق غصب کرنے کا الزام لگاتی سب سے اونچی آوازیں الطاف حسین، خان عبدالولی خان اور جی ایم سید کی تھیں۔ جب کسی شہر میں ڈھائی
مزید پڑھیے


’’ہمارے کرتوت‘‘

هفته 13 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہمیں لاحق خطرہ بھارت، افغانستان نہیں بلکہ غیر ملکی فنڈز پر پلنے والی وہ مخلوق ہے جو ان ممالک سے ٹینشن کے ہر موقع پر کورس کی شکل میں گاتے ہوئے کہتی ہے۔ "ہمیں اپنے کرتوتوں پر بھی غور کرنا چاہئے، یہ ممالک ویسے ہی ہمارے خلاف تو نہیں ہوسکتے" چلئے ان ممالک کے حوالے سے اپنے تنازعات کی جڑ میں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کرتوت ہمارے ٹھیک نہیں یا ان کے جن کی آپ قوالی گا رہے ہیں۔ پہلے نمبر پر بھارت کو دیکھ لیجئے. بھارت سے ہماری دشمنی کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ ڈوگرہ مہاراجہ لاکھوں
مزید پڑھیے




مولوی، ناولز اور فلمیں

جمعرات 04 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
جس طرح بات سے بات نکلتی ہے اسی طرح بسا اوقات کالم سے کالم بھی نکلتا ہے۔ پچھلے کالم میں اپنے بڑے شوق اور ذوق دو گنوائے، ایک مطالعہ اور دوسرا فلمیں دیکھنامگر تفصیل صرف بچپن و لڑکپن کے مطالعے کی پیش کی ۔اس پر بعض قارئین نے فلموں کے حوالے تشنگی کا شکوہ کیا جب کہ نوجوان علماء نے اصرار کیا کہ مجھے نوجوانوں کو فلم جیسی "مضر" چیز سے بچانے کے لئے کوئی اصلاحی کالم لکھنا چاہئے۔سو پیش خدمت ہے "اصلاحی کالم" آپ دو باتیں تو جانتے ہی ہوں گے۔ایک یہ کہ میری پوری تعلیم مدرسے کی ہے،
مزید پڑھیے


نصابی اور غیر نصابی

منگل 02 جولائی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
زندگی میں دو کام ایسے ہیں جو بچپن میں جس پرجوش سرگرمی کے ساتھ شروع کئے اسی جوش و خروش کے ساتھ آج پچاس برس کی عمر میں بھی کئے جا رہا ہوں۔ایک کتابیں پڑھنا اور دوسرا فلمیں دیکھنا۔ لطف کی بات دیکھئے کہ ان دونوں "جرائم" پر بچپن میں پٹا بھی بہت ہوں۔پٹنے کا سبب یہ ہوا کہ کتاب کے معاملے میں صاحب ذوق تھا اور طالب علم میں مدرسے کا تھا، جو اس لحاظ سے ایک تضاد تھا کہ دنیا کی سب سے بدذائقہ کتب درسی کتب ہوتی ہیں اور اگر یہ کتب مدارس کی ہوں تو سمجھئے
مزید پڑھیے


جو عرش کو ہلا دے

هفته 22 جون 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
جب کسی جوڑے کی اولاد نہ ہو رہی ہو تو وہ فوری طور پر ڈاکٹرز سے رجوع کرتا ہے جو دونوں کے میڈیکل ٹیسٹ کرکے دیکھتے ہیں کہ یہ طبی لحاظ سے بچہ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ بعض کیسز میں یہ سامنے آجاتا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کی بنیادی اہلیت تو رکھتے ہیں مگر اس کی راہ میں کچھ عارضی رکاوٹیں حائل ہیں۔ چنانچہ وہ علاج کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کردیتے ہیں اور یوں اس جوڑے کے ہاں بچے کی ولادت ہو جاتی ہے۔ بعض کیسز میں رپورٹس یہ بتا دیتی ہیں
مزید پڑھیے


غْنے کا عشق !

هفته 15 جون 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
جب سے آن لائن قرآن مجید کی کلاسز عام ہوئی ہیں عشق کے باب میں "غنے کا عشق" بھی متعارف ہو گیا ہے۔ غنے کے اس عشق کو سمجھنے کے لئے تین باتیں ذہن میں ہونی ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ قرآن مجید کی آن لائن کلاسز میں 95 فیصد یہ ہوتا ہے کہ قاری صاحب پاکستان میں جبکہ ان کا طالب علم بیرون ملک بیٹھا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ پاکستانی لبرلز کی اکثریت کو یہی نہیں پتہ کہ لبرل حقیقی تعریف کے مطابق ہوتا کیا ہے ؟ یہاں اکثریت صرف خود کو کھلا ڈلا بتانے کے
مزید پڑھیے


بلی کیوں نہیں ؟

اتوار 09 جون 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
حکیم مرسلین خان دہلوی بلا شبہ پاکستان کے سب سے ممتاز حکیم ہیں۔ سو برس کے لگ بھگ عمر ہے۔دہلی کے شہرہ آفاق طبیب مسیح الملک محمد اجمل خان دہلوی کے شاگرد ہیں اور نباض ایسے کہ ان کی انگلیوں کا لمس پاتے ہی ڈھیٹ سے ڈھیٹ نبض بھی ٹھیک ٹھیک منزل سنانی شروع کر دیتی ہے۔ یوں تو وہ جملہ امراض انسانی پر مکمل گرفت رکھتے ہیں مگر بالخصوص معدے کے امورپر آپ کی مہارت ایسی کہ کراچی کا ہر خوش خوراک مولوی زندگی کے کسی مطعمی موڑ پر آپ کے مطب کے آس پاس ضروری دیکھا گیا ہے.
مزید پڑھیے