BN

رعایت اللہ فاروقی



منظور پشتین کا امتحان


دسمبر 2017ء کے ابتدائی ایام میں وزیرستان سے یہ سنگین شکایت سامنے آئی کہ سکیورٹی ادارے کی گاڑی پر ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کے بعد جائے وقوعہ کے قریب واقع گاؤں پر نصف شب کے دوران چھاپہ مارا گیا اور اس گاؤں کے لوگوں کو تنگ کیا گیا۔ اس مسئلے کو وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی کے سرگرم کارکن خالد داوڑ سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے لائے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کنفلکٹ زون کی خبریں مبالغہ آرائی پر مبنی ہونے کے سبب پہلے اعتبار اور پھر توجہ کھو دیتی ہیں۔ مبالغہ اور عسکریت
هفته 04 مئی 2019ء

"والدین کی بدنامی"

هفته 27 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
24 اپریل کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں کامسیٹس یونیورسٹی کا کانوکیشن تھا۔ اس کانوکیشن میں جن طلبہ کو کو ڈگری ملنی تھی۔ سو میں اور میری اہلیہ نے بھی کراچی سے آکر بہت سے دیگر والدین کے ہمراہ اس میں شریک ہونا تھا. میرے بھائی یعقوب عالم نے بھی کانوکیشن میں شرکت کی خواہش ظاہر کی تو میں نے شعبہ تعلیم سے وابستہ ایک دوست کے ذریعے اس کے لئے پاس حاصل کرنے کی سعی کی جو ناکام ثابت ہوئی۔ یہ بات حیران کن تھی کیونکہ عام طور پر کانوکیشن میں صدر پاکستان یا وزیراعظم کی آمد کی
مزید پڑھیے


قصوروار کون ؟

منگل 23 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
آج کے نوجوان نوے کی دہائی میں بچپن کے مرحلے میں تھے۔ اس لئے انہیں اندازہ ہی نہیں کہ سیاسی طور پر وہ دہائی بغض اور نفرت کا کیسا نمونہ تھی۔ 80 کی دہائی تو اس سے بھی گئی گزری تھی کہ ملک ایک ایسے مارشل لاء سے گزر رہا تھا جو سرعام کوڑوں اور پھانسیوں والا مارشل لاء تھا۔ اس سے پیچھے چلے جائیں تو ستر کی وہ دہائی آجاتی ہے جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بدترین دہائی ہے۔ اس دہائی کو میں نے بچپن کی آنکھ سے دیکھا لیکن وہ بچپن کی یادیں بھی ایسی
مزید پڑھیے


کپتان

هفته 20 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
وزیر اعظم کی ٹیم میں ردوبدل دیکھ کر ان کا بطور کرکٹ کپتان وہ دورہ بھارت یاد آگیا جو 1987ء میں ہوا تھا۔ اس دورے کے پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہوئے تو انہوں نے ٹیم میں ردوبدل کے لئے اقبال قاسم، یونس احمد اور اعجاز فقیہ کو پاکستان سے طلب کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں کھلاڑی کرکٹ کی اصطلاح کے مطابق "بوڑھے" تھے۔ ان میں سے اقبال قاسم تھے تو اہم باؤلر مگر غیر علانیہ ریٹائرڈ تصور کئے جا رہے تھے۔ جبکہ باقی دونوں میں سے اعجاز فقیہ نے کل 4 ٹیسٹ میچ کھیل کر
مزید پڑھیے


لاپتہ افراد

منگل 16 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
2007ء کے شروع کی بات ہے مجھے اطلاع ملی کہ سوات کے چار باغ علاقے کا ایک لاپتہ فرد رہا ہو کر آیا ہے۔ چونکہ میرا بھائی بھی ان دنوں لاپتہ تھا تو میں ایک رات مغرب اور عشاء کے مابین چار باغ اس لاپتہ نوجوان سے ملنے جا پہنچا۔ وہ بہت ہی زندہ دل شخص تھا۔ ہم نے فجر کی نماز تک گپ شپ کی جس میں اس کی داستان کی تقریبا ہر ضروری تفصیل شامل تھی۔ گفتگو کا آغاز یوں ہوا تھا "آپ کو کس الزام میں اٹھایا گیا تھا ؟" "مجھ پر الزام تھا کہ میں نے جنرل مشرف
مزید پڑھیے




عظیم لوگ اور انتخابی سیاست !

هفته 13 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
آپ نے یہ تو سن رکھا ہوگا کہ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں اللہ نے ایسی برکت رکھی ہوتی ہے اور انہیں ایسی صلاحیتوں سے نوازا ہوتا ہے کہ وہ جس چیز کو ہاتھ لگادیں وہ سونا بن جاتی ہے لیکن ایسا کوئی شخص شائد دیکھا نہ ہو۔ چلئے آپ کو آج ایسے ہی ایک شخص سے متعارف کراتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ پاکستانی عوام نے وقت آنے پر اس کی کتنی "قدر" کی۔ ایئر مارشل نور خان 22 فروری 1923ء کو تلہ گنگ، چکوال میں پیدا ہوئے۔ وہ 6 جنوری 1941ء کو رائل انڈین ایئرفورس میں شامل
مزید پڑھیے


پاک بھارت مسلمان اور برہمن سامراج

منگل 09 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
پاکستان اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں جو پارٹ ٹائم نہیں بلکہ سال کے 12 ماہ ایک دوسرے کے خلاف سرد اور نیم گرم جنگ میں مشغول رہتے ہیں۔ دونوں جانب کے انٹیلی جنس ادارے زندگی کے ہر شعبے میں ایک دوسرے کے خلاف اپنے اپنے ایجنٹ رکھتے ہیں۔ نہ اس سرایت سے سیاستدان محفوظ ہیں اور نہ ہی دفاعی ادارے۔ نہ صحافی محفوظ ہیں اور نہ شاعر و ادیب۔ نہ گلوکار محفوظ ہیں اور نہ ہی ڈانسر و مصور۔ نہ سائنسدان محفوظ ہیں اور نہ ٹیچرز و پروفیسرز۔ نہ بزنس مین محفوظ ہیں اور نہ ہی تاجر
مزید پڑھیے


"حریت فکر"

هفته 06 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی ترقی پذیر ممالک کی شامت آگئی اور امریکہ ڈنڈا لے کر ان کے پیچھے پڑ گیا کہ آپ اپنا نظام چلانے کا حق نہیں رکھتے۔ آپ کو کیپٹلزم مکمل طور پر اختیار کرکے ملک کو جدید جمہوری تقاضوں کے تحت چلانا ہوگا اور یہ تقاضے سیکولرزم کے تحت لبرل معاشرت کے مطالبات کے ساتھ سامنے لائے گئے۔ یہ غلامی کی سب سے بدتر شکل ہے جو فوجی قبضے کے بجائے یو این اور مالیاتی اداروں کی مدد سے ممالک پر مسلط کی جاتی ہے جس سے شہریوں کو یہ احساس تک نہیں رہتا
مزید پڑھیے


’’جرگہ پاکستان‘‘

منگل 02 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
سوشل میڈیا میں سے یوٹیوب ویڈیوز، انسٹاگرام تصاویر، ورڈپریس مضامین تو ٹویٹر ون لائنر کی مدد سے اظہار خیال کے منظم مواقع ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ یہ آن لائن کاروبار کے حوالے سے بھی اپنا لوہا منوا چکے۔ مگر سوشل میڈیا کی اس دنیا میں فیس بک کی امتیازی حیثیت یہ ہے کہ یہ بیک وقت ویڈیوز، تصاویر، مضامین اور ون لائنر کے ذریعے اظہار خیال کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "اظہار خیال" کے ان پلیٹ فارمز میں سے فیس بک مقبولیت کے لحاظ سے سب سے آگے ہے۔ پانچ برس قبل تک صورتحال یہ
مزید پڑھیے


جیسنڈا آرڈرن کا متبادل بیانیہ

منگل 26 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہم نے 15 سے 22 مارچ کے دوران عالمی منظر نامے پر کچھ تاریخ ساز مناظر دیکھے۔ ایسے مناظر جو آنے والے ماہ و سال پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا بھرپور امکان رکھتے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں پچاس مسلمانوں کے خون ناحق نے امید کا ایک ایسا دیا روشن کیا ہے جو نائن الیون کے بعد والے اس تاریک 18 سالہ عرصے میں پہلی بار روشن ہوا ہے جس میں لاکھوں مسلمان مارے گئے اور کروڑوں اس سے کسی نہ کسی صورت متاثر ہوئے۔ امریکہ میں نائن الیون ہوا تو اس کی تحقیقات کے لئے ایک عدد "نائن الیون
مزید پڑھیے