BN

رعایت اللہ فاروقی



اپنا لقمان !


عمر یہی کوئی بیس برس رہی ہوگی جب عثمانیہ سوسائٹی کراچی کی جامع مسجد عثمانیہ کے کچھ بزرگ نمازیوں کے ساتھ مستقل رفاقت قائم ہوگئی۔ لگ بھگ ہر نماز میں ان سے آمنا سامنا ہوتا، یہ آمنا سامنا کھڑے کھڑے سلام دعا میں بدلا اور سلام دعا باقاعدہ مجلس میں بدل گئی۔ مجلس اشراق کے بعد مسجد کے کشادہ وضو خانے یا صحن میں جمتی۔ رفتہ رفتہ یہ مجالس روزانہ کا باقاعدہ معمول بن گئیں اور وہ بھی اس درجے کی کہ عام دنوں میں معاملہ صرف مجلس تک رہتا لیکن ہر جمعے کے روز اس مجلس کے بعد کراچی
منگل 01 جنوری 2019ء

’’کیا گائے بھاگ جائے گی ؟‘‘

منگل 25 دسمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
امریکہ کی معاشی و سائنسی طاقت کو فکری دیوتا بنانے والوں نے کبھی سوچا بھی تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب مذاکرات کی میز پر بیٹھے امریکی مذاکرات کار افغانستان کے ملاؤں سے چھ ماہ کی سیز فائر بھیک مانگیں گے ؟ جب آپ علم کو علم کے بجائے دو وقت کی اچھی روٹی اور طاقت کے حصول کی نیت سے ڈھونڈنے کی ترغیب دیں تو پھر لازم ہوجاتا ہے کہ یہ سائنسی طاقت سر نگوں نہ ہو۔ لیکن یہ دوسری بار ہے جب سائنسی عظمت درویشوں کے قدموں میں پڑی جان کی امان چاہ رہی ہے۔
مزید پڑھیے


’’اس میں بھی خیر ہوگی‘‘

هفته 22 دسمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
کہتے ہیں پرانے وقتوں میں ایک بادشاہ سلامت کو بھیس بدل کر اپنی رعایا کا حال جاننے کا شوق ہوا۔ انہوں نے اپنے فیورٹ وزیر کو ساتھ لیا اور نکل کھڑے ہوئے، سلطنت گھومنے۔ مشن چونکہ بھیس بدل کر گھومنے کا تھا سو سکیورٹی اہلکار ہمراہ رکھے بھی بہت محدود گئے اور ہدایت بھی انہیں یہ تھی کہ بھیس بدل کر کچھ فاصلے سے ہمراہ رہیں۔ دوران سفر بادشاہ سلامت کے انگوٹھے پر چوٹ لگ گئی۔ چہیتا وزیر جھٹ سے بولا ’’بادشاہ سلامت ! اس میں کوئی خیر ہی ہوگی‘‘ درد سے کراہتے بادشاہ سلامت نے خفیہ والوں کو اشارے
مزید پڑھیے


فاشزم کا عرصہ تمام ہوا

منگل 18 دسمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
چالیس برس پر تین اوپر ہوئے کہ ایک بچہ اپنے والد کی گود میں کراچی کے کینٹ ریلوے سٹیشن پر اترا۔ اس پر بچپن، لڑکپن اور جوانی کا عرصہ اسی شہر میں گزرا۔ اس نے دیکھا کہ کراچی آنے والا ہر نیا شخص چند ہی روز میں اپنے حصے کی یہ گواہی ضرور دیتا کہ اس شہر میں زندگی کی رفتار بہت تیز ہے۔ زندگی کی اس تیز رفتار سے ہر شخص کا وقت بہت اچھا گزرتا۔ اتنا اچھا کہ ’’غریب پروری‘‘ اس شہر کا استعارہ بن گیا اور کیوں نہ بنتا کہ یہ ہندوستان سے آنے والے ان مہاجرین
مزید پڑھیے


’’سوشل میڈیا کی اخلاقیات‘‘

هفته 15 دسمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
سوشل میڈیا اس لحاظ سے ایک بہت ہی منفرد فورم ہے کہ یہاں موچی سے لے کر یونیورسٹی کے ڈین تک، چپڑاسی سے لے کر وزیر تک اور کارکن سے لے کر قائد تک سب ایک چھتری تلے جمع نظر آتے ہیں۔ بادی النظر میں یوں لگتا ہے کہ یہ کوئی ٹائم پاس قسم کا فورم ہے جہاں لوگ فرصت کے اوقات میں وقت گزاری کے لئے آتے ہیں، لیکن ایسا ہے ہرگز نہیں۔ ایسی تعداد بہت ہی قلیل ہے جن کے لئے یہ محض تفریح یا وقت گزاری کا فورم ہے۔ پچھلے پانچ سال میں سوشل میڈیا پر بہت
مزید پڑھیے




’’ڈاڑھی دیکھو ، حرکتیں دیکھو !‘‘

منگل 11 دسمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
یوں تو لاقانونیت کے حساب سے سندھ پورا ہی اپنی مثال آپ ہے لیکن اگر ملک کے بڑے شہروں کا تقابل کیا جائے تو اس کے سب سے بڑے شہر کراچی کا حال اور بھی افسوسناک ہے۔ ہونے کو تو لاقانونیت کے ضمن میں یہاں بہت کچھ ہوتا ہے مگر جو حیران کن منظر آج کے کالم کا باعث بنا اس کا تعلق تعمیراتی شعبے سے ہے۔ اسے یہاں کی معمول کی کارروائی سمجھ لیجئے کہ اگر شہر کے مضافاتی علاقوں میں کوئی شخص اپنے مکان کی تعمیر شروع کرنے لگے تو لازم ہے کہ متعلقہ تھانے جا کر لاکھ
مزید پڑھیے


مدرسہ فنڈ اور قومی مالیاتی ڈسپلن

جمعه 07 دسمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
دینی مدارس کے حوالے سے ہمارے میڈیا میں جب بھی بات ہوتی ہے تنقیدی پہلو سے ہی ہوتی ہے۔ اور کچھ عرصہ قبل تک تو یہ ہوتی بھی صرف نصاب کی حد تک رہی ہے۔ اب جا کر اس میں فنڈز کا معاملہ بھی شامل ہوا ہے۔ ہماری ریاست کا حال بھی عجیب ہی ہے۔ جس کی جیب میں چار روپے دیکھ لے، اس سے یہ ضرور پوچھتی ہے کہ ’’یہ کہاں سے آئے ؟‘‘ مگر جس کے پیٹ میں پورے دن میں ایک بھی نوالہ نہ گیا ہو اس سے یہ نہیں کہتی کہ ’’تم بھوکے کیوں ہو ؟
مزید پڑھیے


’’کوئی ہے جو پہل کرے ؟‘‘

منگل 04 دسمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
یوں تو ہمارے ہاں تخلیقی عمل ہر سطح پر بری طرح متاثر ہورہا ہے جس میں تصویر، تحریر اور تقریر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پھر ان تین میں بھی بالخصوص خطابت تو کالج و یونیورسٹی سطح سے تقریباً فارغ ہوچکی۔ کالج و یونیورسٹیز سے خطیبانہ آہنگ لے کر سیاسی میدان میں آنے والی ہمارے پاس بس آخری نسل ہی رہ گئی ہے۔ میری مرادوہ نسل ہے جس میں جاوید ہاشمی، اعتزاز احسن، خواجہ آصف، رضا ربانی، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ہیں۔ اس نسل کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اسے بچپن و لڑکپن وہ میسر
مزید پڑھیے


زوال کا سبب !

هفته 01 دسمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
کبھی آپ نے اس سادہ سے سوال پر غور کیا کہ علمی تحقیق کے ذریعے انسان حاصل کیا کرنا چاہتا ہے ؟ تحقیق جس شعبے کی بھی ہو انسان پہنچنا "حقیقت" تک چاہتا ہے کیونکہ کسی چیز کو رد تو شاید شک کی بنیاد پر بھی کردیا جائے لیکن قبول تب تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کی حقیقت معلوم نہ ہو جائے۔ کائنات کی تمام حقیقتوں کا کچھ حصہ روح میں پوشیدہ ہے تو کچھ مادے میں اور انسان مختلف علوم، فنون اور ریاضتوں کی مدد سے اپنے اپنے شوق و ذوق کے شعبہ حیات کی "حقیقت" تک
مزید پڑھیے


’’سیاست اور سوشل میڈیا‘‘

منگل 27 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
اگر آپ سوشل میڈیا کا مستقل استعمال کرتے ہیں تو اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے وہاں بنیادی طور پر دو چار طرح کی مہمات ہی سر کرنے کی کوششیں ہورہی ہوتی ہیں۔ پہلی نون لیگ کی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ والی مہم جو آج کل ذرا ٹھنڈی پڑی ہے کیونکہ نئی حکومت کو پہلے ہنی مون پیریڈ تک مکمل چھوٹ دینے اور پھر ’’کم از کم ایک سال تو موقع دیجئے‘‘ والی رعایت کا مرحلہ درپیش ہے۔ دوسری مہم پی ٹی آئی کی ’’نیا پاکستان‘‘ مہم ہے جس کے لئے وہ اپوزیشن والے دور سے نکل کر
مزید پڑھیے