BN

رعایت اللہ فاروقی



’’وہ ماں اور وہ باپ‘‘


بچوں کا خیال رکھنے کے حوالے سے تو کئی کالم ہوئے، سوچا کیوں نہ ایک کالم ان بڑوں سے متعلق بھی ہوجائے جو ساری زندگی ان بچوں کے ہاتھوں دُکھتے رہتے ہیں۔ یعنی وہ ماں ہے جو یہ جاننے کے باوجود پہلی بار ماں بننے کے احساس سے سرشار ہوگئی تھی کہ یہ انسانی زندگی کے کٹھن ترین نو ماہ کا آغاز ہے اور وہ باپ جو باپ بننے کی خوشخبری پا کر پہلے مسرت سے جھوم اٹھا اور پھر گہری سوچوں میں غرق ہوگیا۔ وہ ماں جس نے گائنا کولوجسٹ کے کان میں سرگوشی کی تھی کہ اگر کوئی
هفته 24 نومبر 2018ء

’’پختونوں کا نقصان‘‘

منگل 20 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
گزشتہ کالم کے ردعمل میں تین باتیں پوچھی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ فضل اللہ کو اتنی ڈھیل کیوں دی گئی کہ وہ ایک آفت بن گیا ؟ دوسری یہ کہ خیبر پختون خوا کب تک پاکستان اور افغانستان کے بیچ میدان جنگ بنا رہے گا ؟ اور تیسری یہ کہ پاکستان کے دفاع کی جنگ پختون علاقوں میں لڑنے کے نتیجے میں پختونوں کا جو نقصان ہوا ہے وہ کون پورا کرے گا ؟ پاکستان میں رہنے والے پختونوں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک وحدت بننے کے بجائے تین طرح کے قانونی نظاموں میں بٹے چلے
مزید پڑھیے


’’پاک افغان تعلقات کے تین ادوار‘‘

هفته 17 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پاکستان قائم ہوا تو افغانستان اس کے اس صوبہ سرحد پر ڈیورنڈ لائن معاہدے کی بنیاد پر دعویدار کے طور پر سامنے آگیا جس کے شہریوں نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان سے اپنی وابستگی کا فیصلہ سنایا تھا۔ بات فقط اتنی نہیں تھی کہ پختونوں نے پاکستان کے حق میں بہت ہی بڑی تعداد میں ووٹ دیئے بلکہ اس ووٹ کے ذریعے سرحدی گاندھی اور ان کی سیاست بھی مسترد ہوگئی تھی اور افغانستان کا یہ دعویٰ بھی کہ یہ علاقہ اب بھی اس کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ باچاخانی پکوڑے جب تک افغان تیل میں تلتے
مزید پڑھیے


’ ’آزادی اظہار اور دوہرا معیار‘‘

منگل 13 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
چلئے کچھ دوٹوک بات کرتے ہیں۔ وہ بات جو یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہو اور جو تصویر کے ایک رخ پر ہی ساری توجہ مبذول نہ کرتی ہو بلکہ تصویر کے اس رخ کا بھی احاطہ کرتی ہو جو ہمارے نام نہاد لبرل ڈیموکریٹس کی حقیقت پسندی کا پول کھولتی ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کبھی کم تو کبھی زیادہ لیکن اس ملک میں سنسر شپ ہر دور میں رہی ہے۔ اور صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں دنیا کے ہرملک میں ہر دور میں موجود رہی ہے۔ آزادی کا سب سے بڑا علمبردار امریکہ ہی ہے نا؟ کیا کوئی
مزید پڑھیے


’’بچہ اور تعلیم‘‘

هفته 10 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
میں تو اپنے حساب سے بچوں کی تربیت والا موضوع نمٹا چکا تھا اور خیال یہی تھا کہ اس بار ’’خطابی وزیراعظم‘‘ اور ان کے ہنی مون پیریڈ کے حوالے سے ہی کچھ ہلکا پھلکا لکھا جائے کہ بعض قارئین نے اس جانب متوجہ کیا کہ بچوں کے تعلیمی پہلو پر تو سرے سے بات ہی نہیں ہوئی۔ سچ پوچھئے تو خود مجھے بھی حیرت ہوئی کہ یہ اس قدر اہم پہلو نظر انداز کیسے ہوگیا ؟ اس حوالے سے میرا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ بچے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو تعلیمی ہوتے ہیں اور
مزید پڑھیے




’’بچہ اور چاچے مامے‘‘

بدھ 07 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
جناب عمران خان کے حکومت سنبھالنے کا مجھے اور میرے قارئین کو یہ بڑا فائدہ ہوگیا کہ ان کے ہنی مون پیریڈ کو بدمزہ نہ کرنے کی خاطر سیاسی موضوعات سے کنارہ کشی اختیار کرکے بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک پوری سیریز چلانے کا موقع میسر آگیا۔ قارئین کے زبردست رسپانس سے اس موضوع میں ان کی بے پناہ دلچسپی کا اندازہ ہوتا رہا جس سے مجھے لکھنے میں بھی لطف آیا۔ اور یہ لطف اس قدر بھرپور رہا کہ اب تو جی کرنے لگا ہے کہ اگلے چند ماہ میں ایک بار پھر کوئی نیا وزیر اعظم
مزید پڑھیے


’’ذمہ داریاں اور درکار عمر‘‘

هفته 03 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
اگر انسانی نفسیات کا مناسب سا شعور میسر ہو تو بچوں کی تربیت ذرا بھی مشکل کام نہیں، بلکہ یہ وہ دلچسپ ترین مشغلہ ہے جس کا لطف آپ ہی نہیں آپ کے بچے بھی لے سکتے ہیں۔ مثلاً یہی دیکھ لیجئے کہ عربی زبان کا مقولہ ہے ’’ الانسان حریص فی ما منع‘‘ یعنی انسان اس چیز کا حریص ہوتا ہے جس سے اسے روک دیا جائے۔ یہ مقولہ انسانی نفسیات کی ایک اہم حقیقت کو بہت سادگی کے ساتھ عیاں کر رہا ہے۔ اسی نفسیاتی اصول کا استعمال کرتے ہوئے سالوں قبل ایک روز میں گھر میں داخل
مزید پڑھیے


’’نازک اندام مرد‘‘

منگل 30 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ 25 جنوری 1981ء کی شام تھی جب میں پی اے ایف بیس مسرور کراچی میں اپنے گھر سے پانچ چھ فرلانگ کے فاصلے پر واقع فٹبال گراؤنڈ میں گول کیپنگ کر رہا تھا۔ اس گراؤنڈ اور ہمارے گھر کے مابین ایک وسیع خالی رقبہ تھا جس پر کوئی آبادی وغیرہ نہیں تھی۔ ہمارا گھر درختوں کے جھنڈ کے بیچوں بیچ واقع تنہا مکان تھا۔ میں نے اچانک درختوں کے اس جھنڈ میں سے اپنی والدہ کو نمودار ہوکر بہت بیقرار انداز سے اپنا دپٹہ لہراتے دیکھا۔ میں دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا تو انہوں گھبرائے ہوئے لہجے میں
مزید پڑھیے


’’پھر اطمینان سے فوت ہونا ہے‘‘

هفته 27 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
میرا ایک بچہ تین اور دوسرا ایک برس کا تھا جب میں نے خود کو اس سوال کے روبرو پایا کہ مجھے اپنی ساری زندگی ان بچوں کے لئے سرمایہ کمانے میں لگانی چاہئے یا خود انہیں سرمایہ بنانے کے لئے اپنی زندگی وقف کردینی چاہئے ؟ اس کا سادہ سا مطلب یہ تھا کہ اگر ان سے متعلق میری ذمہ داری یہ ہے کہ مجھے ان کے لئے کمائی کرنی ہے تو پھر پیسہ میری ترجیح ہونا چاہئے۔ اور ترجیح بھی ایسی کہ اس کی راہ میں اگر یہ بچے بھی حائل ہوں تو میں ان کی بھی پروا
مزید پڑھیے


’’بچہ، سپانسر اور باپ‘‘

منگل 23 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
گزشتہ کالم کے حوالے سے خیال یہ تھا کہ سمندر پار پاکستانی اسے تنقید کا نشانہ بنائیں گے کہ ہم اپنے بچوں کے لئے ہی نہیں بلکہ وطن کے لئے بھی خطیر زرمبادلہ کما رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ایسی آسودگی کو آگ لگے جس کے حصول کے لئے اپنے بچوں سے دور رہنا پڑے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا اور ای میلز کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اس کالم کو اپنے دل کی آواز بتایا۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ بچوں سے دوری کے جو نقصانات خود
مزید پڑھیے