BN

ریاض مسن


ملتانی چال


میدانوں میں بہتے دریا بظاہر سمندر کی طرح پرسکون نظر آتے ہیں لیکن تہہ در تہہ اپنی اگلی منزل کی طرف بہہ رہے ہوتے ہیں۔ کام کی ایسی حکمت عملی ملتانی چال کہلاتی ہے۔ کچھ علما کے نزدیک اسکا مطلب کچھ نہ کرنا لیکن کچھ کرتے نظر آنا ہے لیکن یہ مبالغہ آرائی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کہ کسی کام یا منصبوبے کو سست روی کا شکار کرنا ہو تو اسے ملتانی چال پر لگادیا جاتا ہے۔ منصوبہ اہداف کی طرف بڑھ تو رہا ہوتا ہے لیکن کچھوے کی چال سے۔ ملتانی چال میں جتنی الجھنیں ہیں
اتوار 17 جنوری 2021ء

سمہ سٹہ

اتوار 10 جنوری 2021ء
ریاض مسن
آگرہ ، لاہور اور پشاورسے کراچی کو جانے والی ریلوے ٹریفک کا مقام اتصا ل سمہ سٹہ ریلوے جنکشن اس وقت زبوںحالی کا شکار ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پے درپے جنگوں سے آگرہ کا روٹ براستہ بٹھنڈہ) ایسا کٹا کہ آج تک بحال نہیں ہوسکا۔ملتان، یا دوسرے لفظوں میں ضلعین ،سے آنیوالی مسافر ٹرینیں ، یہاں سے چیختی چنگھاڑتی ، خانپور جا کر دم لیتی ہیں۔ بہاول نگر سیکشن بند ہوگیا ہے۔ احمدپور روڈ پر واقع خانقاہ شریف سے سمہ سٹہ کو ملانے والی لا ئن تجاوزات کی زد میں ہے۔ ملازمین کے لیے بنا ئے جانے والے
مزید پڑھیے


علاج

اتوار 03 جنوری 2021ء
ریاض مسن
ملک میں عدالتیں کام کر رہی ہیں اور احتساب کا ادارہ بھی، لیکن کوئی پوچھے کہ عدل کا بول بالا ہے تو جواب ندارد۔ چلئے معاملے کو سمجھنے کے لیے سوال بدل دیتے ہیں: کیا ریاست ظلم کا راستہ روک پارہی ہے؟ بھلا ایک جاگیردارانہ سماج میں بھی ظلم کے آگے بند کوئی باندھ سکتا ہے۔ جمہوریت کے نعروں کی گونج میں اٹھے اس سوال کا جواب ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے سیاست بند گلی میں پھنس گئی ہے۔ اونچ نیچ کے شکار معاشرے میں وسائل کی تقسیم، ظاہر ہے، فطری نہیں۔ کسی طاقت نے لوگوں کے نصیب لکھے ۔ وہ طاقت بدیسی
مزید پڑھیے


سیاست اور معیشت!!

اتوار 27 دسمبر 2020ء
ریاض مسن
پاکستان کو رواں سال کے لیے بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں ایک ارب ستر کروڑ ڈالر کی چھوٹ ملی ہے۔ ظاہر ہے وبا کی وجہ سے ملک کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے امیر ممالک نے ترس کھایا ہے اور وقتی طور پر پر قرضوں کی ادائیگی کا معاملہ التوا میں ڈال دیاہے۔ بہر حال یہ مہلت ہے، معافی نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پالیسی ساز اس مہلت سے فائدہ اٹھا ئیں اور اس قرضے کی ادائیگی کی فکر کریں جو بہر حا ل کرنا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ملک کا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا
مزید پڑھیے


مکالمہ کس بات پر ہو؟

اتوار 20 دسمبر 2020ء
ریاض مسن
پاکستانی سیاست اس وقت سے بدمزگی کا شکار ہے جب سے حکومت اور حزب اختلاف متوازی پٹڑی پر چل رہی ہیں۔ وہ سیاسی استحکام جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں نظر آتا تھا ، قصہ پارینہ بن گیا ہے۔ میثاقی پارٹیوں نے سیاسی بھائی چارے کی آڑ میں حزب اختلاف کا تصور ہوا میں اڑا دیا تھا، کچھ لو اور کچھ دو کے فارمولے پر نہ صرف اٹھارویں ترمیم پاس کر الی تھی بلکہ مقامی حکومتوں اور احتسابی عمل کو بھی منجمد کر دیا تھا۔ وقت نے پلٹا کھایا ہے تو یہ پارٹیاں پارلیمان سے نکل
مزید پڑھیے



ہمیں صرف عدل چاہیے

اتوار 13 دسمبر 2020ء
ریاض مسن
کورونا وائرس کی ناک تلے سیاسی اجتماع ہونا چاہئیں، یہ سوال ہی احمقانہ ہے کیونکہ سماجی فاصلے اور دیگر تدابیر کے بغیر ایسا کرنا آگ سے کھیلنے والی بات ہے۔ انسانی جانوں کو خطریمیں ڈالنے کے علاوہ معیشت کا بیڑہ غرق ہو سکتا ہے ، وبا میں شدت ملک کو مکمل لاک ڈاون کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر کو ایک طرف رکھ دیں پھر بھی وبا کی صورت میں ماہرین صحت کی رائے کو مقدم رکھنا لازم ہے۔ اب اگر اپوزیشن ایسا کرنے پر بضد ہے اور عملی طور پر سیاسی اجتماع
مزید پڑھیے


جھومر

اتوار 06 دسمبر 2020ء
ریاض مسن
جھْمِر رشتہ دار نوجوانوں، یار دوستوں کیطرف سے ڈھول یا نقارے کی تھاپ پر کیا گیا ثقافتی رقص ہے۔ ڈھولچی کے گرد دائرے کی شکل میں منظم انداز میں اسے کھیلا جاتا ہے۔ کھڑاویں، ولہانویں، پھیرویں اس کے کئی روپ ہیں۔ جھمر ہر روپ میں بے ساختہ اور باکمال انداز ہے۔ خوشی کے اظہار کا۔ وہ جھمر ہی کیا جس سے ایک جہاں نہ جھوم اٹھے۔ یہ بڑی محنت اور ریاضت کا کام ہے۔ شروع ہو تو گھنٹوں جاری رہتا ہے۔ ڈھول کی لے تیز ہوتی جاتی ہے اور میدان خالی ہونا شروع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ دو مدِ
مزید پڑھیے


پچھواڑہ

اتوار 29 نومبر 2020ء
ریاض مسن
ہمارے ایک دوست المعروف راڈو بابا، جنکا دھندا ' صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں' کی مثال ہے، آج کل ایک عجیب چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ انکا مانناہے کہ کورونا سے آگاہی کی مہم اگرچہ ازحد ضر وری ہے لیکن اسے ترتیب دینے والوں کی یا تو نیت ٹھیک نہیں یا پھر وہ اس ریچھ کی طرح ہیں جو جنگل سے گزرتے انسان کا دوست بن گیا تھا اور دوست کی نیند میں خلل ڈالنے والی مکھیوں کو بھگاتے اسکا سر کچل بیٹھا تھا۔ جسمانی فاصلے کی بات کرنے کی بجائے سماجی دوریوں کی ’تبلیغ‘ کی جار
مزید پڑھیے


سماجی فاصلہ

اتوار 22 نومبر 2020ء
ریاض مسن
اسلام آباد کا موسم یکدم بدل گیا ہے۔ سردی آئی ہے لیکن بتدریج نہیں ، درجہ حرارت اوسطاً دس ڈگری نیچے آگیا ہے۔ نومبر کے وسط تک موسم خوشگوار رہا سوائے اس کے کہ بارش نہیں ہوئی تھی۔ پھر لوگ بارش کی طرف دیکھنے لگ گئے ، بارش تو آئی لیکن ملک کے شمالی علاقہ جات اور مری میں برف پڑگئی اور وہ بھی معمول سے زیادہ۔ یوں آگے سردی ہی ہے۔ بارشیں اور برفباری سردی کی شدت میں کمی بیشی لائے گی۔ حکومت نے دفتروں میں حاضری کم کرادی ہے، یعنی کچھ لوگ گھر بیٹھے کام کریں گے، کچھ
مزید پڑھیے


عہدِ نو

اتوار 15 نومبر 2020ء
ریاض مسن
وزیر اطلاعات شبلی فراز کے بقول ملک کے کلی معاملات قرضے پر چل رہے ہیں۔ عوام کا بازو مروڑ کر اکٹھے کیے گئے وسائل ان قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں لٹ جاتے ہیں۔ مطلب، حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ حکومت ہر سال اس کرب سے گزرتی ہے۔ زراعت، جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بمشکل عوام کا پیٹ پال پاتی ہے، اس صوبائی شعبے کو بھی وفاق سے سبسڈی کی ضرورت رہتی ہے۔قرضوں کا بوجھ مجموعی قومی آمدنی کے اٹھانوے فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ بیرونی قرضہ ایک مرض تو
مزید پڑھیے