BN

ریاض مسن


مہنگائی: خود مختارصوبے ذمہ داری کا ثبوت دیں!


اس نگوڑی سیاست کا کیاکریں جو کساد بازاری کا بوجھ اسی طبقے پر لاد رہی ہے جسے خود سہارے کی ضرورت ہے؟ ایک چھوٹے سے طبقے کے مفادات کا تحفظ ہو رہا ہے۔اکثریتی آبادی کو حالات کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ یوں نہ تو یہ سیاست معاشرتی امن قائم کرنے میں ممدو معاون ہے۔ اس وقت سردست مسئلہ مہنگائی ہے۔ کیوں؟ عوام کو تو نہیں نا پتہ کہ کتنے بیسیوں سو بنتے ہیں۔ انہیں تو یہ پتہ ہے کہ دالیں، گھی ، گوشت، گندم،چاول اور چنا ان کی قوت خرید سے کوسوں دور جاچکے ہیں۔۔ بقیہ
بدھ 22 جون 2022ء مزید پڑھیے

معافی مشکل، یا رفیق!

بدھ 15 جون 2022ء
ریاض مسن
کہتے ہیں کہ ہاتھی کے پائوں میں جو زنجیر اس کے بچپن میں ڈالی جاتی ہے وہ اسے عمر بھر نہیں توڑتا۔ اگر مالک اس کا مان نہ توڑے تو سر نواڑھے اس کے ساتھ عمر بتا دیتا ہے۔ عزت نفس پامال ہو تو بدلہ لیتا ہے۔ معافی مشکل، یا رفیق! میرا کچھ پکے جیالوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔ شائستہ ، سلجھے ہوئے اور مہم جو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جوانی سے ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہولیے تھے۔ انیس سو ستتر کے الیکشن سے لیکر بی بی رانی کی شہادت تک۔ برسوں سے گوشہ نشین ہیں اس امید
مزید پڑھیے


میثاق معیشت

جمعرات 09 جون 2022ء
ریاض مسن
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے کندھوں پر اس وقت بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ معیشت دگرگوں ہے، بیرونی و اندرونی قرضوں کا بوجھ ہے، تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے اور مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے۔معیشت کی بحالی کے لیے جہاں انہوں میثاق معیشت کی بات کی ہے وہیں پر یہ بھی واضح کردیا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں۔ ایک اتحادی حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے انہوں نے قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے۔ انکی اپنی پارٹی، مسلم لیگ ن، کی ساکھ بھی داو پر لگی ہے کہ
مزید پڑھیے


آپ نے بالکل نہیں گھبرانا

بدھ 01 جون 2022ء
ریاض مسن
ایک تو وہ ہیں کہ جن کے لیے سیاست ایک کھیل ہے۔ داو پیچ مار کر مخالفین کو پچھاڑنے کا فن انکے لیے معنی رکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو ہی دیکھ لیں۔ وفاق میں تیسرے نمبر پر ہے لیکن اپنے ماضی کے رقیبوں کوبہلا پھسلا کر اقتدار میں لائی ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ وزیر اعظم کون ہے، بیساکھیوں کا محتاج ہے۔ اور ان میں سب سے بڑی بیساکھی خود پیپلز پارٹی ہے۔یا حیرت، وہ جو عمران خان کے استعفی اور فوری انتخابات کے پرجوش حامی تھے، آج وہ دھڑلے سے کہہ رہے ہیں کہ انتخابات اپنے وقت یعی
مزید پڑھیے


سیاست بھی قانونِ فطرت کے تابع !

پیر 23 مئی 2022ء
ریاض مسن
اشرافیہ عددی کمتری کے باوجود کسی نہ کسی طرح واپس تو آگئی ہے لیکن ایوان اقتدار پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے بیساکھی کی تلاش میں ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جسے اس نے موقع سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے یہ محض جال ہو کہ ایسی پھنسے کہ لینے کہ دینے پڑجائیں۔ ابھی جو مخمصہ سامنے آیا ہے وہ یہی ہے کہ کمزور معیشت کو پائوں پر کھڑا کرنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ اٹھائے اور اپنی ساکھ کو دھبا لگا لے یا پھر فوری طور پر انتخابات کی طرف جایا جائے
مزید پڑھیے



غذائی خود کفالت کی طرف پہلا قدم!!

هفته 14 مئی 2022ء
ریاض مسن
عرصہ ہوا ضیا بانڈے صاحب سے میری ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ شہروں کے خود کفیل ہونے کی بات کرتے ہیں۔ ایسے نہیں کہ وہ دیہاتوں کو ان کے حال پر چھوڑدیں بلکہ یہ کہ و ہ اس قابل ہوں کہ اپنے قرب و جوار میں بھوک کی بجائے خوشحالی کو فروغ دیں۔ کیسے؟ چھابڑی اور ٹھیلے اور کھوکھے والوں کو اپنے اندر کاروبار کرنے کی اجازت دیں ۔ ایک اتھارٹی بنے جو انہیں سہولت بھی دے اور شکایات کی صورت میں داد رسی بھی کرے۔ اگر اس ملک کے شہر منتخب انتظامیہ کے ماتحت ہوں تو یقیناً یہ
مزید پڑھیے


غربت کی دھول میں اٹے شہر

جمعرات 12 مئی 2022ء
ریاض مسن
میں مناہل کو اپنے گھر سے قدرے قریب سکول میں داخل کرانے کے لیے گیا تو مجھے یہ بات عجیب لگی کہ اس سکول کی انتظامیہ ان بچوں کے بارے میں زیادہ فکر مند تھی جو کرونا کے بعد سے واپس نہیں آئے تھے۔ ایسا بھی نہیں کہ بچوں نے کسی اور سکول میں داخلہ لے لیا تھا۔ وہ سامنے والی گلی میں سارا دن گھومتے پھرتے اور کھیلتے نظر آتے تھے۔ واضح طور پر مہنگائی کا عفریت انہیں سکول سے دور رکھے ہوئے ہے۔ سکول کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان بچوں کی واپسی کی انتظار میں ایک
مزید پڑھیے


ٹیکہ بیماری کا علاج نہیں !!

اتوار 08 مئی 2022ء
ریاض مسن
پاکستان ایک زررعی ملک ہے۔ یہ حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پانچ دریا اور زرخیز میدان ہی ہماری دولت ہیں۔ ساٹھ سے ستر فیصد آبادی ابھی بھی دیہات میں مقیم ہے اور کسی نہ کسی طر زراعت سے وابستہ ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ بھوک کے حوالے پاکستان دنیا کے ایک سو سولہ ممالک میں بانوے نمبر پر آتا ہے۔گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق ملک کی تقریباً 13 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں سے کم از کم 37.6 فیصد سٹنٹ شدہ ہیں، یعنی غذائی قلت کا
مزید پڑھیے


مہنگائی ہی اصل سازش !

اتوار 01 مئی 2022ء
ریاض مسن
پاکستان میں سیاسی کشمکش اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اکثریتی سیاسی پارٹی اقتدار سے باہر ہے اور میثاقی پارٹیاں، جنہوں نے پوری ایک دہائی مل جل کر حکومت کی تھی، دوبارہ حکومت بنا چکی ہیں۔ کوئی پوچھے کہ پچھلے چار سال میں ایسا کرنے میں کونسی رکاوٹ تھی اور اب یہ معجزہ کیسے رونما ہوگیا ہے تو مخالفوں کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ بیرونی ہاتھ۔ لیکن ہم ایسے معاملے میں پڑیں ہی کیوں جس پر نظریہ ضرورت کا اطلاق ہوچکا ہے؟ امریکہ کا نام لیکر کانپیں ٹنگوانے کا فائدہ؟ چوری کے سوال پر نقص امن کا
مزید پڑھیے


اب آپ نے شرمانا نہیں ہے

جمعه 22 اپریل 2022ء
ریاض مسن
وہ جو نہ گھبرانے کا کہتے تھے، ایوان اقتدار سے نکل کر سڑکوں پر آگئے ہیں۔ جنہوں نے انکی جگہ لی ہے وہ اپنے آپ کو 'حقیقت پسندوں' کے قبیلے میں شمار کرتے ہیں۔اصول پسندی یہ ہے کہ کوئی اصول نہیں۔ ممکنات کی سیاست کرتے ہیں۔ ایسی پارٹیاں آپس میں مل بیٹھیں اور ایکا کرلیا جنکی آپس میں شکلیں تو دور کی بات ،آنکھیں تک نہیں ملتیں۔ بس حالات موافق ہوئے اور فطری تقاضوں نے انہیں اتحاد و اتفاق کی لڑی میں پرو دیا۔ آگے کیا ہوگا؟ حقیقت پسند لوگ سمجھوتے کرتے ہیں اور یہی انکی کامیابی کا راز ہوتا
مزید پڑھیے








اہم خبریں