BN

ریاض مسن


خسارہ


خسارے کی معیشت پاکستان کو ورثے میں ملی تھی۔ تقسیم ِ ہند سے پہلے کیے گئے سروے آف انڈیا میں یہ واضح ہوچکا تھا کہ پانی اور زرخیز مٹی کے علاوہ یہاں کچھ نہیں۔ چنانچہ، تاج برطانیہ نے یہاں کھیتی باڑی کو فروغ دیا۔ جنگلات کاٹ کر رقبے نکالے اور انہیں سیراب کرنے کے لیے دریائوں سے نہریں نکالیں۔ گندم بڑی فصل تھی ، اس لیے بجٹ بھی اس کی کٹائی پر بنتا تھا۔ نئے رقبے یا تو بیچے گئے یا پھر تاج برطانیہ سے وفاداری پر انعام میں دیے گئے۔ جاگیریں اور خانقاہوں کو ہبہ کی گئی زمینیں وراثتی
اتوار 20 جون 2021ء مزید پڑھیے

گورکھ دھندہ

اتوار 13 جون 2021ء
ریاض مسن
حزب اختلاف کے روایتی شور شرابے اور احتجاج کی گونج میں اگلے مالی سال کے لیے تقریباً ساڑھے آٹھ کھرب کا بجٹ وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ بجٹ عام شہری کے لیے اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہے، صرف ماہرین ہی حقائق کو قطعی طور پر سمجھنے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ سیاست پر لکھنے والوںکی مگر مجبوری ہے کہ اس پر مغز ماری کرنا پڑتی ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں جب معاشی مفادات سیاست پر حاوی ہوں۔ ٹیکس کتنے لگائے گئے ، کس طبقے اور شعبے پر اور انہیں خرچ کس پر اور
مزید پڑھیے


عدم مرکزیت!

اتوار 06 جون 2021ء
ریاض مسن
اٹھارہویں ترمیم مرکزیت کے خاتمے کے لیے تھی۔ مرکزیت ، تب تک ، ایک مرض کے طور پر سامنے آچکی تھی جس کا خاتمہ قومی اتفاق اور یکجہتی کے لیے از حد ضروری قرار دیا جا چکا تھا۔ مشرف دور جس کو مقامی حکومتوں کے سنہرے دور کے طور پر جانا جاتا ہے وہیں پر ' صوبے مضبوط ، مرکز مضبوط کا نعرہ بھی اسی سے وابستہ ہے۔ اٹھارویں ترمیم کی صورت میں جب اس تصور کو صوبائی خود مختاری کی شکل ملی تو یہ اصول بھی طے پایا تھا کہ اگر نئے صوبے نہیں بنانے تو سیاسی اور مالی
مزید پڑھیے


صراطِ مستقیم

اتوار 30 مئی 2021ء
ریاض مسن
پاکستان کے سیاست پر، اگر تکنیکی حوالے سے دیکھا جائے، جمود سا طاری ہے۔ یعنی یہ تفکراتی موڈ میں ہے۔ کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں تو سیاسی پارٹیوں نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔ یوں کہیں کہ اگلی حکمت عملی تیار ہو رہی ہے۔ ترجیحات کا تعین ہورہا ہے اور نئی صف بندی ہورہی ہے۔ ن لیگ کے کیمپ میں اگر ہلچل ہے تو اس کی وجہ اندرونی کشمکش ہے۔ شہباز شریف اپنے قائدانہ رول کے لیے پر تول رہے ہیں۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو مناتے انہیں اڑھائی سال ہو گئے ہیں کہ درمیانی راستہ
مزید پڑھیے


مشتری ہوشیار باش!

اتوار 23 مئی 2021ء
ریاض مسن
پاکستان کے سیاسی محاذ پر اپوزیشن حالت ِ سکون میں ہے تو بیرونی محاذ پر حکومت غیر معمولی طور متحرک نظر آتی ہے۔ یہ صورت حال پچھلے عام انتخابات کے بعد پیش آئے حالات و واقعات کے برعکس ہے جب سابق حکمران پارٹیاں نئی حکومت کو یکسر ناجائز قراردے کر اسے منہ کے بل گرانے کے لیے مضطرب تھیں۔ بھارت کشمیر ہڑپ کرگیا لیکن نہ تو سوائے چین کے کوئی عالمی ردعمل سامنے آیا۔ اور تو اور، عرب ممالک نے بھی کشمیر کے معاملے پر بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک
مزید پڑھیے



سب کا پاکستان

اتوار 09 مئی 2021ء
ریاض مسن
وزیر اعظم عمران خان کمالِ مہربانی سے عوام کو سیاسی بحث میں لے آئے ہیں جو انکے بقول اشرافیہ کے ظلم وجور کی چکی میں پچھلے چوہتر سال سے پِس رہی ہے۔ بات انہوں نے ٹھیک کی ہے لیکن اگر انکے مخالفین اس الزام سے بری ہونا چاہیں تو وہ اصرار کرسکتے ہیں، جو کہ وہ واقعتاً کرتے ہیں،کہ اشرافیہ اپنی سیاسی جدوجہد سے عوام کو اس مقام پر لے آئے ہیں جہاں ریاستی ادارے انہیں اندھا دھند نہیں روند سکتے۔ آئین ، جمہوریت اور صوبائی خود مختاری اور آزاد عدلیہ کی موجودگی میں وہ بہتر مستقبل کی امید کرسکتے
مزید پڑھیے


فریب

اتوار 02 مئی 2021ء
ریاض مسن
پاکستان میںکورونا وائرس کی تیسری لہر مسلسل شدت پکڑ رہی ہے،مثبت شرح میں مسلسل اضافہ اور وسائل کی کمی نے حکام کو باور کرادیا ہے کہ عوام کو اس موذی وبا سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنا خیال خود رکھیں۔ ویکسین کی فراہمی میں غیریقینی صورتحال کے پیش نظر ایس او پیز کے معاملے میں سختی سے پیش آنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ لوگوں کو ماسک پہننے اور دیگر حفاظتی اقدامات کی پابندی کرانے کے لیے حساس شہروں میں فوجی دستے طلب کیے گئے ہیں تاکہ وہ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کی مدد
مزید پڑھیے


تدبیر

اتوار 25 اپریل 2021ء
ریاض مسن
شیخ سعدی کی وہ مشہور حکایت تو آپ نے سنی ہی ہوگی کہ ایک لومڑی بھاگم بھاگ جارہی تھی، کسی نے پوچھ لیا کہ وہ کس مصیبت کی ماری تھی تو اس نے جواب دیا تھا کہ جنگل میں بادشاہ کے ہرکارے اور پیا دے اونٹوں کو پکڑ رہے ہیں۔ پوچھنے والے نے لومڑی اور اونٹ کی نسبت پر اعتراض کیا تو اس کا جواب تھا کہ اگر کسی بدخواہ نے ہوا ء اڑا دی کہ یہ اونٹ کا بچہ ہے تو وہ کہاں لیے وکیل ڈھونڈتی پھرے گی۔ وفاق اور تین صوبوں میں براجمان حکومت کی حالت بھی اسی
مزید پڑھیے


مشورہ

اتوار 18 اپریل 2021ء
ریاض مسن
ایک دیہاتی دکاندار شہر سے سودا سلف لانے کے لیے روزانہ شہر جایا کرتا تھا۔ایک دن راستے میں اسے ایک شخص ملا ، دعا سلام کے بعد اس نے پوچھا کہ اس نے گدھے پرکیا لادا ہوا ہے۔ دکاندار نے جواب دیا کہ خرزین کے ایک تھیلے میں سودا سلف ہے جبکہ دوسرے میں مٹی کے ڈھیلے ہیں۔ مٹی کے ڈھیلوں کا کیا کروگے کہ انہیں اپنے ساتھ لیے پھرتے ہو ؟ ایک تو یہ کسی کام کے نہیں اور دوسرے گدھے پر بوجھ بھی علیٰحدہ ہے ۔ اجنبی نے اسے مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنا سامان ایک تھیلے
مزید پڑھیے


مفکرِ اعظم

اتوار 11 اپریل 2021ء
ریاض مسن
سقراط کوجمہوری نظامِ حکومت کا مخالف مانا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس پر سب سے بڑا حملہ کارل پاپر کی جانب سے کیا گیا ہے جس نے اسے اپنی مشہور زمانہ کتاب "آزادہ معاشرہ اور اسکے دشمن " میں اسے غیر جمہوری سوچ کا امام قرارد یا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سقراط جمہوریت کو ایتھنز کے وجودکے لیے خطرہ سمجھتا تھا ۔ وجہ یہ تھی کہ ریاستی معاملات پر تجارت پیشہ طبقے کی اجارہ داری تھی اور یہ طبقہ جمہوریت کے لبادے میں اپنے مفادات کو آگے بڑھا رہا تھا ۔ معاشرہ دولت جمع کرنے کی دوڑ میں
مزید پڑھیے








اہم خبریں