BN

ریاض مسن


’’چکنے‘‘ چوروں کا کیا کرنا ہے؟


مہنگائی اور اس پر حزب اختلاف کی حکومت ہٹا و مہم کم تھے کہ کورونا کی واپسی کا بھی ذکر ہونے لگ گیا ہے۔ یہ مرض مکمل طور پر ٹلا نہیں تھا کہ پلٹ کر حملہ کرنے لگا ہے۔ آگاہی مہم میں اور شدت آنے کا امکان ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کے لیے جہاں بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کی تلقین ہے وہیں پر سماجی فاصلہ رکھنے پر بھی زورہے۔ کورونا متعدی مرض ہے، انسان سے انسان تک پہنچتا ہے، احتیاط بنتی ہے۔ کورونا سے کے بارے میں کچھ حقائق کافی دلچسپ
اتوار 25 اکتوبر 2020ء

گوٹھ بخشن خان، مداری اور سیلانی درویش

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
ریاض مسن
مداری کرتب دکھا چکا تو اپنا دامن تماشائیوں کے سامنے پھیلا دیا ، کسی نے کسیرہ دیا ، کسی نے دھیلا۔ اسی دوران ایک درویش مجمع کو چیرتاہوا ، مداری کے سامنے آگیا۔ مداری خوش ہوا کہ انعام ملنے والا ہے اور وہ بھی شاید تگڑا۔ ’’لائیے میرا انعام اور میری جھولی میں ڈال دیجیے‘‘مداری کے لہجے میں پیشہ ورانہ مٹھاس اتر آئی۔ ’’کس چیز کا انعام چاہیے تمہیں، کونسا کارنامہ انجام دیا ہے تم نے؟ ‘‘ درویش نے کڑک کر پوچھا۔ ’’میں مداری ہوں، برسوں کی ریاضت ہے، تماشا دکھاتا ہوں ، لوگ مجھے انعام دیتے ہیں
مزید پڑھیے


ارمان

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
ریاض مسن
عدالت نے میاں نواز شریف کو ایک مخصوص عرصے تک بغرض علاج ایک کیس میں حاضری سے متشنیٰ قراردیا تھا ۔حکومت نے مسلم لیگ ن کے سربراہ کی ضمانت پر انتہائی مستند ڈاکٹروں کی رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے انہیں بغرض علاج باہر جانے کی اجازت دی۔ نہ وہ واپس آئے اور نہ ان کی ضمانت میں توسیع ہوئی ہے۔ سمن لندن بھیجے گئے لیکن جواب ندارد۔ عدلیہ کا ذہن بن گیا ہے کہ میاں صاحب نے ملک سے باہر جانے کے لیے نہ صرف عدالت کو بلکہ پوری قوم کو دھوکہ دیا۔ میاں صاحب جس اعتماد کے ساتھ
مزید پڑھیے


حکمت عملی

اتوار 27  ستمبر 2020ء
ریاض مسن
صدیوں پہلے کی بات ہے چین کو نصف درجن کے لگ بھگ سرکش ریاستوں کا سامنا تھا۔ خطرہ یہ تھا کہ یہ تمام ریاستیں ایک اتحاد بنا کر اس پر حملہ کرسکتی تھیں۔ مسلسل جنگوں سے مرکز کو مالیاتی دشوراریوں کا سامنا تھا، کسی طاقتور دشمن سے سامنا اسکی سلامتی کے لیے خطرنا ثابت ہوسکتا تھا۔ حربی مفکر سن تزو سے صلاح مانگی گئی تو اس نے کہا پہلی بات یہ ہے کہ جنگ ایک نازک کام ہے، کیونکہ یہ ریاست کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگر حکمت عملی کامیاب نہ ہوئی تو لینے کے دینے پڑ
مزید پڑھیے


اداسی

اتوار 20  ستمبر 2020ء
ریاض مسن
اخلاق مزاری ، وادی سندھ کا شاعر ، آجکل اداس ہے۔ دریائے سندھ میں سیلاب آیا ہوا ہے اورسیکڑوں خاندان اس کے کناروں پر کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔ یہی اس شاعر کی اداسی کا سبب ہے۔ یہ منظر وہ اپنے بچپن سے دیکھتا چلا آرہا ہے۔ ایک تاریخ ہے جو اپنے آپ کو دہراتی چلی جارہی ہے۔ میانوالی سے لیکر رحیم یار خان تک اس دریا کے بیٹ اور بیلوں کے مکین ہر سال ، ساون اور بادھوں میں ، کچے کے علاقے سے نکل کر سڑکوں کے کنارے جھگیاں اور خیمے لگا کر
مزید پڑھیے



مقامی حکومتیں، حقیقی سیاست کا نقطہ آغاز

اتوار 13  ستمبر 2020ء
ریاض مسن
پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے اعلان سے صوبے کے طول وعرض میں سیاست کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے۔ اس سیاست کا مقصد جاگیریں اور جائیدادیں بنانا اور انکا تحفظ نہیں بلکہ یہ بنیادی حقوق کی جدوجہد ہے۔ لوگ تعلیم، صحت اور صاف پانی چاہتے ہیں اور بھوک ،بیماری سے نجات۔ ایسی معاشی ترقی چاہتے ہیں جو نہ صرف انکی زندگی میں آسودگی لائے بلکہ آنیوالی نسلیں بھی اس کا فائدہ اٹھائیں۔ جمہوریت کیا ہے، کیوں ہے، ریاست اور ادارے کیوں ضروری ہیں، یہ سوال انکے لیے تب تک بے معنی ہیں جب تک یہ جمہوریت انکی
مزید پڑھیے


ستلج

اتوار 30  اگست 2020ء
ریاض مسن
میں نے خانقاہ شریف کے نواح میں آباد ایک زمیندار سے ایک دفعہ بہاولپورمیں زراعت کے مستقبل پر سوال کیا تو اس نے بغیر کسی توقف کے پانی کی عدم دستیا بی کی بات کی۔ ستلج بیچے جانے کے بعد بہاولپور میں زراعت کاری کے لیے درکار پانی اپرپنجاب سے آتا ہے، المیہ یہ ہے کہ اگر ضلعین کیا پورے پنجاب میں سیلاب آجائے تو بھی بہاولپور کو اتنا ہی پانی ملے گا جو میلسی سائفن سے گزر پائیگا۔ بہاولپور کی میعشت پر یہ تبصرہ اگر چہ تلخ تھا لیکن میں پانی کے مسئلے پر جتنی گہرائی میں سوچتا
مزید پڑھیے


پختہ سیاسی شعور ہی ملکی مسائل کا حل

اتوار 23  اگست 2020ء
ریاض مسن
پچھلے چند سالوں میں جنگلات کے کٹاو اور چوری جیسے گھناونے جرم کی روک تھام کے حوالے سے عوامی شعور بیدار ہوا ہے جسکے اثرات ملکی سیاست پر واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس وقت بلین ٹری منصوبہ اپنے جوبن پر ہے اور پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ملکی خزانے میں چوری کی روک تھام کے لیے حکومت احتساب کا نعرہ لیکر چل رہی ہے ، امید باندھی جاسکتی ہے کہ ان عوامل پر بھی اس کی نظر ضرور پڑے گی جو چوری جیسے عمل کا سبب بنتے ہیں۔انیسویں صدی کے جاتے برسوں
مزید پڑھیے


قفل ٹوٹا خدا خدا کرکے

اتوار 16  اگست 2020ء
ریاض مسن
اگرچہ موجودہ وقت کی ملکی سیاست کو مستحکم قرار نہیں دیا جاسکتا، اس میں ٹھہرائو ضرور نظر آرہا ہے۔ پارلیمان میں ہنگامہ اور شور کی بنسبت بردباری اور رکھ رکھائو کی کیفیت واضح طور پر دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی کراچی میںوفاق کے بڑھتے کردار پر تشویش اپنی جگہ، ملکی سالمیت اور وحدانیت کے لیے درکار آئین سازی پر حکومت کے ساتھ اس کا تعاون ایک حقیقت ہے۔ کچھ یہی صورتحال مسلم لیگ ن کی ہے۔ سابقہ حکمران دونوں جماعتیں اس وقت جس تدبر اور ذہانت کا ثبوت دے رہی ہیں وہ اپنی مثال
مزید پڑھیے