Common frontend top

ڈاکٹر محمد سلیم شیخ


سیاسی حماقتوں میں اضافہ نہ کیجئے !


حالیہ عشروں کی سیاسی تاریخ سے یہ حقیقت تو سامنے آچکی ہے کہ ریاستوں کا وجود اور ان کی بقا کا انحصار اب محض سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہا بلکہ اب ان کا تحفظ داخلی سلامتی ، معاشی ترقی اور عوامی اطمنان سے جڑ چکا ہے۔ ریاست کی دفاعی حکمت عملی کے تصورات بدل چکے ہیں ۔ اب ریاست کے دفاع کا انحصار حربی طاقت کے بجائے معیشت کی ترقی سے وابستہ ہوچکا ہے۔ معاشی ترقی کی جانب بڑھتا ہوا ہر قدم اب ریاست کی سلامتی کی ضمانت بن چکا ہے۔ یہی
بدھ 17 جولائی 2024ء مزید پڑھیے

عوام پر غلط فیصلوں کا بوجھ

بدھ 10 جولائی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کی بحث سے قطع نظر پاکستان میں طرز حکمرانی کی نوعیت ہمیشہ ہی ارتکاز اختیارات کی حامل رہی ہے ۔ غیر جمہوری حکومتوں کے لئے تو یہ رویہ ایک جبر کے طور پر قابل قبول بنالیا جاتا ہے مگر منتخب سیاسی حکومتوں میں بھی جب اختیارات کا ارتکاز کسی خاص منصب تک محدود ہو، پارلیمنٹ،کابینہ اور دیگر نمائندہ ادارے محض تماشائی کا کردار ادا کرنے لگیں تو جمہوری سیاسی نظام اپنی قدر اور افادیت کھو دیتا ہے۔ پاکستان میں جمہوری سیاسی نظام بالعموم شخصی مقبولیت (CHARISMATIC ) پر استوار رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو،
مزید پڑھیے


شکار پور کا رائے بہادرادھو داس

بدھ 03 جولائی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
اس کی ماں بیمار تھی۔ سندھ کے اس چھوٹے سے شہر میں علاج کی مناسب سہولتیں دستیاب نہیں تھیں۔وہ اپنی ماں کو علاج کے لئے بمبئی شہر لے گیا ۔سندھ اس وقت بمبئی کا حصہ تھا ۔علاج کے بعد وہ واپس اپنے اس چھوٹے شہر میں آگیا ۔صحتمند ماں نے اپنے بیٹے سے سوال کیا کہ بیٹا تیرے پاس تو ا تنے پیسے تھے کہ تو اپنی ماں کو علاج کے لئے بمبئی لے گیا ۔ان مائوں کے علاج کا کیا ہوگا جن کے بیٹے انہیں بمبئی نہیں لے جاسکتے۔کیا ان کے علاج کے لئے اس شہر میں کوئی ہسپتال
مزید پڑھیے


درست راستے کی نشاندہی

جمعرات 27 جون 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
ترقی کے لئے اندرونی استحکام، سیاسی جماعتوں اور اداروں میں اشتراک عمل اور سلامتی کی صورتحال کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے ۔یہ وہ صائب مشورہ ہے جو چینی وزیر لیو جیان چائو نے پاکستان کے تین روزہ دورے کے دوران سی پیک سے متعلق ہونے والے پاکستان چائنہ پولیٹیکل پا رٹیزا اور سی پیک پولیٹیکل پارٹیز مشترکہ فورم کے تیسرے اجلاس میں دیا ۔ اس ضمن میں ہونے والے اجلاسوں کی خوش آئند بات یہ تھی کہ اس میں تمام بڑ ی سیاسی جماعتوں بشمول تحریک انصاف کے نمائندوں نے شرکت کی اور پاکستان
مزید پڑھیے


مکالمہ، مفاہمت اور مراجعت

هفته 15 جون 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے، جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔ ساغر صدیقی کا یہ شعر پاکستان کی مجبور ،بے بس اور غریب عوام کی حالت زار پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ر وزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے مسائل،بے یقینی اور ناامیدی میں گھرا سیاسی نظام جو اپنی سمت کھو چکا ہے اور سیاست جیسے بند گلی میں آ چکی ہو۔ ریاستی ادارے باہم برسرپیکار ہو کر عوام کا اعتماد کھو رہے ہیں ۔ریاستی اداروں کا باہم ارتباط کمزور ہو چکا ہے ۔ مداخلت اور بالادستی کی کشمکش نے ان کے اعتبار اور وقار
مزید پڑھیے



قربانی کے تقاضے اور مقصدیت

بدھ 12 جون 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
ذوالحجہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے جو انتہائی اہم اور محترم ہے اور یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کی حرمت بیان کی گئی ہے ۔ (بقیہ تین ذیقعد، محرم اور رجب ہیں) اس مہینے کی آٹھ سے بارہ تاریخ حج کے ایام ہیں ۔یہ ایام عبودیت کی انتہائی تربیت اور اس کے اظہار کے لئے ( صاحب استطاعت مسلمانوں پر ) فرض کئے گئے ہیں ۔ اس ماہ کی دس تاریخ کو عید الاضحی کے موقع پر امت مسلمہ جانوروں کی قربانی دیتے ہوئے اس دینی شعار سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتی ہے۔
مزید پڑھیے


حضرت ادب گلشن آبادی : صوفی ، ادیب اور شاعر

پیر 10 جون 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
کردار کی پختگی ، معاملات میں دیانت داری ،مذہب میں میانہ روی اور معاشرت میں سادگی انسانی شخصیت کی وہ خوبیاں ہیں جو ’مطلوب و مقصود مومن ‘ ہیں ۔یہی انسانی سماج کی ترقی اور اس کے اوج کمال تک پہنچنے کا سیدھا اور واضح راستہ ہے ۔جس پر استقامت کے ساتھ چلنے کی تلقین کی گئی ہے۔اس راہ ہدایت پر کامیابی ان کا ہی مقدر ہوتی ہے جو مقصد زندگی کو سمجھ کر خود بھی اس پر عمل پیرا رہتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی راستے روشن رکھتے ہیں۔ ہدایت کے مراحل کو نصاب زیست
مزید پڑھیے


جمہوری سیاست اور زمینی حقائق

پیر 27 مئی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
جمہوری سیاست میں سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو جن بنیادی باتوں کی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیئے ان میں عوامی مسائل کی سب سے زیادہ اہمیت ہے ۔ عوامی نمائندگی کی بنیادپر حکمرانی حاصل کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ریاست عوامی حقوق کی ضامن ہو ،جان،مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ دار ہو ۔ایساماحول موجود ہو جس میں فرد اپنی معاشی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے میں آزاد ہو ۔ مگر یہ بات باعث حیرت ہے کہ پاکستان کے جمہوری سیاسی نظام میںعوام اور ان کے مسائل کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا
مزید پڑھیے


’’ جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے ‘‘

جمعرات 16 مئی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
ڈاکٹر فاروق عادل کی اس کتاب کے عنوان میں ایک جہان معانی پوشیدہ ہے۔ہر دور میں تاریخ کے ساتھ یہ رویہ رہا ہے ۔سیاست اور سماج کے مقتدر طبقات نے تاریخ لکھے جانے پر ہمیشہ اپنا جبر قائم رکھنے کی کوششیں کی ہیں ۔ جب واقعاتی حقائق مصلحت کی آڑ میں دھندلادیے جائیںاور واقعات کے اسباب و نتائج کو من پسند زاوئیے سے دیکھنا اور دکھانا ضروری سمجھ لیا جائے تب جان لیجئے کہ مئورخ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے مگر مصلحت کی دبیز چادر کی اوٹ میں چھپنے والے فیصلہ ساز شاید اس بات سے بے
مزید پڑھیے


جمہوری سیاست اور مذاکرات

جمعرات 09 مئی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
تین سیاسی جماعتوں ( مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ ) سے مذاکرات نہیں ہونگے۔ وفاق اور تین صوبوں کی حکومتیں تسلیم نہیں کرتے ۔ مذاکرات صرف اسٹیبلشمنٹ سے ہونگے ۔سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اور اسی طرح کے مخمصوں اور الجھنوں میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاست گھری ہوئی ہے۔ آج کچھ بیان اگلے دن کوئی اور بیان ۔ آج کسی ترجمان کی وضاحت اور اس کے بعد کسی اور ترجمان کی جانب سے اس وضاحت کی بھی وضاحت ۔ پا رلیمانی سیاست میں تمام
مزید پڑھیے








اہم خبریں