Common frontend top

ڈاکٹر محمد سلیم شیخ


سیاسی دانائی کا تقاضہ


گزشتہ سال اپریل میں عمران خان کی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سے پاکستان کی سیاست میں پیدا شدہ بحران کسی طور قابو میں نہیں آرہا ۔روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں ،فیصلوں اور قانونی موشگافیوں کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور انتظامیہ تماشہ بنی ہوئی ہیں ۔قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کے بعد تحریک انصاف نے ملک میں عام انتخابات کے لئے جو احتجاج شروع کیا تھا، اس کے اگلے مرحلے کے طور پر پنجاب اور خیبر پختون خوا ،جہاں تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں، اسمبلیوں کی تحلیل کیا جانا شامل
اتوار 15 جنوری 2023ء مزید پڑھیے

وزیر اعظم صاحب ! آپ نے کہا تھا!

جمعرات 12 جنوری 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
پاکستان میں سیاست دان بالعموم بیان بازی میں ایسی بے مقصد باتیں بھی کر جاتے ہیں جن کا پورا کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔اس ضمن میں دلچسپ اور اہم بات یہ کہ اپنی کہی ہوئی بات کو پورا نہ کرنے پر نہ تو انہیں کوئی پشیمانی ہوتی ہے اور نہ اس بات کا کوئی خوف کہ وہ اس پر عوام کا سامنا کیسے کرپائینگے۔ بیان بازی میں نہ سیاسی اخلاقیات کا پاس رہتا ہے ، نہ ہی جمہوری اقدار کا لحاظ اور نہ ہی اپنے کہے گئے الفاظ کی حرمت کا کوئی خیال ! جس سیاسی جماعت
مزید پڑھیے


یہ طرز سیاست آخر کب تک !

پیر 09 جنوری 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
گزشتہ دنوں پاکستان مسلم لیگ ( نواز ) کے صدر شہباز شریف نے ایک حکمنامہ کے ذریعہ نواز شریف کی بیٹی اور اپنی بھتیجی مریم نواز کو جماعت کا سینئر نائب صدر نامزد کردیا ہے۔انہیں جماعت کی تنظیم سازی کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ اس تبدیلی سے یہ تاثر بھی لیا جارہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی ( اگر ملی تو) کے بعد وہ حکومت میں اہم منصب کی امیدوار ہو نگی۔ پاکستان سیاسی جماعتیں جو جمہوریت کے نام پر سیاست کرتی ہیں اور حکومت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتی ہیں
مزید پڑھیے


جمہوری سیاست کے تقاضے

بدھ 04 جنوری 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
پاکستان میں جمہوری سیاسی اداروں کی کارکردگی کو عموماــــــتنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اس تناظر میںطاقتور اسٹیبلشمنٹ ( انتظامی اور عسکری اشرافیہ ) کی موجودگی اور اس کے موثر دبائو کو بنیاد ی رکاوٹ کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔اویہ کچھ غلط بھی نہیں۔تاہم سیاسی اداروں کی قابل تنقید کارکردگی کی ساری ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنا مکمل حقیقت نہیں۔ سیاسی اداروں کی ناقص کارکردگی کے لئے سیاست دان بھی کسی طرح بری الذمہ نہیں ہو سکتے ۔جمہوری سیاسی اداروں کی بہتر کارکردگی کے لئے سیاست دانوں کے رویوں ، جمہوری اداروں سے
مزید پڑھیے


کہانی تو وہی پرانی ہے !!

هفته 31 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
ایک اخبار کو دئیے گئے انٹرویو کے مطابق صدر مملکت جناب عارف علوی نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ 2018ء کے انتخابات کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدد شامل تھی، اسی طرح سینٹ کے انتخابات کے موقع پر بھی وہ اثر انداز ہوئے ۔ ( اگرچہ ایوان صدر کے ترجمان کی جانب سے اس بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اور توڑ مروڑ کر پیش کئے جانے کا روایتی جواز دیا گیاہے) مگر اس کے باوجود جو بات کہی گئی ہے وہ
مزید پڑھیے



خسارے میں مگر کون !!

بدھ 28 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
اسمبلیاں تحلیل ہونی چاہئیں یا نہیں ،پہلے پنجاب اسمبلی ہو یا خیبر پختون خوا کی یا دونوں ایک ساتھ تحلیل ہوں۔قومی اسمبلی کے اراکین اسپیکر کے سامنے اپنے استعفوں کی تصدیق کے لئے اجتماعی طور پر جائیں گے یا الگ الگ انفرادی حیثیت میں پیش ہو ں گے۔چوہدری پرویز الہی کو اعتماد کو ووٹ پہلے لینا ہے یاعدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ پہلے ہوگی۔ گورنر پنجاب کا وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اختیار ہے یا نہیں ۔پنجاب ہائی کورٹ نے پرویز الہی کوجو مہلت دی ہے
مزید پڑھیے


معاشی ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت

هفته 24 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
گزشتہ روز وزیر دفاع جناب خواجہ محمد آصف نے حکومت کی جانب سے توانائی بچت کے سلسلے میں کچھ فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ جن کے مطابق کاروباری مراکز اور ریسٹورنٹ کو رات آٹھ بجے تک جب کہ شادی ھال رات دس بجے تک بند کئے جانے کی تجاویز شامل ہیں ۔ اسی کے ساتھ کچھ اور بھی اقدامات اس بچت مہم میں تجویز کئے گئے ہیں ۔بادی النظر میں اس اعلان میں کئے گئے بیشتر فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہیں ملک کی موجودہ معاشی صورت حال کی بہتری کے لئے یہ فیصلے اور اسی طرح کے مزید فیصلوں
مزید پڑھیے


معیشت کی سیاسی اہمیت

بدھ 21 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
معاشی دائرۂ عمل میں کی جانے والی مسابقتی سرگرمیوں نے انسانی سماج کی نہ صرف ضروریات تبدیل کر دی ہیں بلکہ ٹیکنا لوجی کی تیز رفتار ترقی اور بدلتی جہات کے نتیجے میں اقدار زیست بھی مقامی حدود و قیود سے نکل کر اب عالمی تقاضوں کے مطابق تشکیل پارہی ہیں ۔عالمی تمدن کی اس نمو میں معیشت کو کلیدی اہمیت اور حیثیت حاصل ہے۔زرعی اور صنعتی پیداوار کے لئے نت نئی منڈیوں کی تلاش ،تجارتی کمپنیوں کی فراوانی اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی موجودگی اور زیادہ سے زیادہ منڈیوں پر گرفت کی کوششوں کے نتیجے
مزید پڑھیے


جب پاکستان دو لخت ہوا

جمعرات 15 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
16 دسمبر1971 جب پاکستان دو لخت ہوا تو اس کے قیام کو محض 23 سال ہی ہوئے تھے ۔اتنے کم عرصے میں کسی ریاست کا یوں ٹوٹ جانا سیاسی تاریخ میں ایک تاسف انگیز ، تجزیہ طلب اور سخت احتساب کا واقعہ سمجھا جا تا ہے۔ اور اس کے اسباب و محرکات کا گہرے غور و فکر کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ آ ئندہ اس سے محفوظ رہنے کی حکمت عملی اختیار کی جاسکے ۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اس المناک و اقعہ پر ایسا نہیں ہو سکا۔ ایک کمیشن جسٹس حمود الرحمان کی سربراہی میں
مزید پڑھیے


تاریخ کی درستی

جمعرات 08 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے الوداعی خطاب میں جہاں کچھ اعترافات کئے وہاں انہوں نے قوم سے کچھ شکوہ بھی کیا ۔انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فوج پاکستان کے سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرتی رہی ہے تاہم پچھلے سال فروری سے فوج نے خود کو سیاسی معاملات سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس بات کا شکوہ کیا کہ قوم نے سابقہ مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کے دوران
مزید پڑھیے








اہم خبریں