سجاد میر


خارجہ پالیسی کے نئے تقاضے


یا تو ہم اعلان کر دیں کہ ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ اس کی سب سے کھلی دلیل یہ ہے کہ ہمارے پیارے قدیمی دوست سعودی عرب میں جو ہر مشکل میں ہمارے کام آیا اور جس نے ہر خوشی کے موقع پر دل کھول کرہمیں داد دی‘ اس نے ہم سے اپنا قرض واپس مانگ لیا ہے۔ مانگا ہی نہیں وصول بھی کر لیا ہے۔ یہ قرض اتنا بھی نہ تھا کہ سعودی معیشت کے لئے بوجھ بنتا۔ ہمارے لئے البتہ یہ بہت ضروری اور ناگزیر تھا۔ ایک ارب ڈالر ہمارے لئے بہت اہم تھے۔ یہ ایسا
جمعرات 13  اگست 2020ء

ملک مقدس ہے‘ صوبے نہیں

پیر 10  اگست 2020ء
سجاد میر
میں یہ بات کئی بار لکھ چکا ہوں مگر آج اس پر زور دینے کے لیے گفتگو کا آغاز ہی اس سے کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہ صوبے مقدس نہیں‘ ملک مقدس ہے۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ یہ ملک صوبائی اکائیوں نے مل کر بنایا تھا۔ سچ پوچھئے تو جب یہ ملک بنا تھا تو صوبے تقسیم ہوئے تھے۔ پنجاب اور بنگال دو ٹکڑوں میںبٹے تھے۔ سندھ پہلے ہی تقسیم کے عمل سے گزر چکا تھا وگرنہ وہ ممبئی میں شامل تھا اور خیبر پختونخوا میں تو بہت سا علاقہ وفاق کے ماتحت قدرے آزادانہ حیثیت رکھتا
مزید پڑھیے


کشمیر کی راہ پر

هفته 08  اگست 2020ء
سجاد میر
یہ بات تو ہماری حکومت بھی تسلیم کرتی ہے کہ ہم جو کشمیر پر بھارت کی غضب ناکی کا ایک سال پورا ہونے پر احتجاج کر رہے ہیں، اس کی حیثیت علامتی ہے۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہم ایسا محض دکھاوے کے لئے کر رہے ہیں‘ بلکہ کہنا یہ ہے کہ ہم خاموش رہتے تو دنیا یہ سمجھتی کہ ہمیں کشمیر کے معاملے سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہم اس پر واویلا کر کے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بھارت نے ساری حدیں پار کر دی ہیں اور عالمی ضمیر نے خاموش رہ کر بہت بڑا ظلم
مزید پڑھیے


پولیو کی مہم

بدھ 29 جولائی 2020ء
سجاد میر
اصل تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ لوگ بھی پولیو ویکسین کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں جو ٹھیک ٹھاک پڑھے لکھے ہیں اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ انسان کے رویے اور اس کے فیصلے صرف علم کی دولت کے مرہون منت نہیں ہوتے‘ بلکہ اس کلچر اور اسلوب حیات کا نتیجہ بھی ہوتے ہیں جو وہ اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی معقول عالم دین کو اس کی مخالفت کرتا نہیں پائیں گے مگر وہ لوگ جو طالبان یا اس قبیل کے انداز فکر کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ پولیو ویکسین کی مخالفت کرنا
مزید پڑھیے


دوہری شہریت کا مسئلہ

هفته 25 جولائی 2020ء
سجاد میر
آیا صوفیہ کے مناظر ایسے دلکش ہیں کہ اٹھنے کو دل نہیں چاہتا مگر کالم لکھنے کا وقت گزرتا جا رہا ہے۔ جو موضوع چار چھ دن سے کچوکے لگا رہا ہے‘ وہ دوہری شہریت رکھنے والوں کا مسئلہ ہے۔ اسے خوامخواہ الجھایا جا رہا ہے۔ ملک کی اجتماعی ذہانت نے پارلیمنٹ میں فیصلہ کیا کہ دوہری شہریت رکھنے والے پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہو سکتے۔ پھر سوال اٹھ کھڑا ہوا آیا وہ کابینہ کے رکن ہو سکتے ہیں۔ اگر کابینہ کے رکن ہو سکتے ہیں تو آیا یہ پارلیمنٹ کا رکن ہونے سے کم تر ذمہ داری ہے یا
مزید پڑھیے



نئے صوبوں کا معاملہ

پیر 20 جولائی 2020ء
سجاد میر
یہ کوئی سیاسی کالم نہیں ہے نہ میرا ارادہ اس فیصلے کے حسن و قبح پر بات کرنا ہے۔ صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس فیصلے کے ساتھ کیسے پروان چڑھا۔ پھر بھی میں اسے اگر اپنے بچپن کی یادیں کہوں تو بھی غلط ہوگا۔ قصہ یہ ہے کہ میں منٹگمری کا رہنے والا ہوں جسے اب ساہیوال کہتے ہیں۔ یہ اس وقت ایک ضلع تھا‘ اب تو ڈویژن ہے۔ ہم ملتان ڈویژن کا حصہ تھے اور اس پر مطمئن تھے مگر تعلیمی اور علمی طور پر ہم خود کو لاہور سے وابستہ سمجھتے تھے۔ ڈگری ہمیں پنجاب
مزید پڑھیے


اک اور بھاشا

هفته 18 جولائی 2020ء
سجاد میر
بھانت بھانت کی بولیاں سنتے سنتے ہم تنگ آ چکے ہیں۔ عمران خاں نے بھاشا ڈیم کا ایک ایک بار پھر افتتاح کرتے ہوئے یہ فلسفہ سنا ڈالا ہے کہ پہلے والوں نے ہائیڈرو پاور کے منصوبے شروع نہ کر کے اس ملک میں امپورٹڈ فیول کے مہنگے بجلی گھر کے منصوبے لگا کر ہماری معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ شاید وہ بھول گئے کہ وہ بھی اس منصوبے کا آغاز اقتدار میں آنے کے دو سال بعد کر رہے ہیں جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس ان کی مکمل حمایت میں دنیا بھر سے چکر لگا کر 11ارب
مزید پڑھیے


قتل کریں ہیں کہ کرامات کریں ہیں

پیر 13 جولائی 2020ء
سجاد میر
بعض کام بڑی خاموشی سے ہو رہے ہیں اور ہمیں پتا بھی نہیں چل پاتا کہ کوئی ہماری جڑیں کاٹ رہا ہے۔ ہم اسی بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ میڈیا آزاد نہیں ہے۔ ہمارے تمام نشریاتی ادارے کسی کی انگلیوں کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ ہماری یہاں مراد سیاسی ایجنڈے تک محدود ہوتی ہے اور ہم اسے صرف اپنے ملکی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس پر غصہ نکال کر ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم نے حق گوئی کا حق ادا کر دیا۔ یہ بات بھی غلط نہیں مگر جب میں یہ بات کر رہا ہوں کہ میڈیا
مزید پڑھیے


…اور کلائیاں ٹوٹ جاتی ہیں

پیر 06 جولائی 2020ء
سجاد میر
یہ وہ دور ہے ‘ یہ وہ واقعہ ہے جس کا تجزیہ ضرور ہونا چاہیے۔ ایسا کیا ہوا تھا کہ ہم اپنی ساری جمہوریت پسندی بھول بیٹھے تھے۔ آج ہی برادرم سلیم منصور خالد نے ایک خبرنامہ ارسال کیا ہے جو اس زمانے میں ریڈیو پاکستان پر نشر ہوا تھا۔ ریڈیو پاکستان کے بعض بلیٹن تاریخی ہیں۔ ان میں ایک وہ بلیٹن تھا جو سقوط ڈھاکہ کا اعلان تھا۔دوسرا یہ بلیٹن تو بہت دلچسپ ہے۔ سارے بلیٹن میں ایک ہی خبر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے تفصیل سے بتایا ہے کہ ان کے اور حزب اختلاف کے درمیان معاہدہ ہو
مزید پڑھیے


اے کل کے مددگار‘مدد کرنے کو آئو

هفته 04 جولائی 2020ء
سجاد میر
میں ان کا ہمیشہ سے قدردان رہا ہوں ۔روزنامہ حریت کی ایڈیٹری اور نیوز ایڈیٹری کے دوران کا چرچا سنا۔ وہ مگر لندن بی بی سی میں جا چکے تھے۔ لکھنؤ کی زبان کا اپنا رنگ ہے۔ نقن میاں جب پاکستان ہمارے عہدِشعور میں آئے تو میں نے ان کے دونوں عشرے سننے۔عقیدے کے فرق کے باوجود اس سے بہت کچھ پایا۔زبان کا چسکا صرف زبان کا معاملہ نہیں ہوا کرتا‘ اس کے پیچھے پوری ایک تہذیب ہوتی ہے۔ رضا علی عابدی کی تحریروں میں مجھے اس کی تلاش رہی ہے۔ وہ ہندوستان گئے اور آتے ہوئے اپنے لئے کئی
مزید پڑھیے