BN

سجاد میر



خدمت خلق کے مذہبی ادارے


روز ان پر تبریٰ ہوتا رہتا ہے ‘ آج ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں۔ ہم ہر انتہا پسندی کے ڈانڈے مذہب سے جوڑ کر چیخنے چلانے لگتے ہیں کہ ان جنونیوں نے ملک کا ستیا ناس کر دیا ہے اس کی تازہ ترین مثال ان جنونیوں کی ہے جو گزشتہ دنوں ملک بھر میں دھرنا مار کر بیٹھے ہوئے تھے۔ گزشتہ دور میں بھی انہوں نے دس بارہ دن تک دارالحکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ یہاں میں اس کا تجزیہ نہیں کرنا چاہتا کہ اس صلح جو طبقے میں اس رجحان نے کیوں
جمعرات 15 نومبر 2018ء

اقبال سے عدم برداشت تک

پیر 12 نومبر 2018ء
سجاد میر
ان دنوں خوب میلے سجے ہیں۔ شہر میں کئی تقریبات ہوئیں۔ حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ ایک تو یوم اقبال تھا۔ مرکزیہ مجلس اقبال اسے بڑے اہتمام سے مناتی ہے۔ اس بار فیصلہ ہوا کہ عمران خاں کو زحمت دی جائے۔ وہ پہلے بھی آچکے ہیں۔بلکہ ان کی کتاب کی تقریب رونمائی ایوان اقبال کے اسی ہال میں ہوئی تھی۔ اس دن مجھے اچانک فی البدیہہ تقریر کے لیے بلوا لیا گیا تھا۔ تاہم وزیر اعظم ہائوس سے اطلاع دی گئی کہ وزیر اعظم نے تو خود وزیر اعظم ہائوس میں یوم اقبال کی تقریب رکھی ہوئی ہے۔ جانے
مزید پڑھیے


کوئی مجھے مرا کراچی لوٹا دے

جمعرات 08 نومبر 2018ء
سجاد میر
کراچی یاد آتا ہے اور اکثر یاد آتا ہے۔ بس بہانہ چاہیے ابھی گزشتہ ہفتے الطاف حسین قریشی صاحب کراچی گئے اور انہوں نے اس پر ایک مضمون باندھا۔ اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے۔ کہیں کہیں تو ایسا لگتا تھا کہ ایک اجڑے ہوئے قریے کا کوچہ ہے۔ میں نے کراچی کو اس کے عہد شباب میں دیکھا ہے۔ اس کے گلی کوچوں‘ صبحوں شاموں ‘ اڈوں ٹھکانوں سے ایسے گزرا ہوں کہ کہہ سکتا ہوں کہ کراچی مجھ پر بیتا ہے۔ سارا ملک اس شہر پر فخر کرتا تھا۔ ابھی چند روز پہلے ایک بڑے
مزید پڑھیے


مولانا سمیع الحق

پیر 05 نومبر 2018ء
سجاد میر
میں نے ان کو پہلی بار اکوڑہ خٹک ہی میں دیکھا تھا۔ ان کی وہ تصویر ذہن میں ایسے نقش ہوئی کہ آج تک تازہ ہے۔ ہم اسلام آباد سے غالباً وارسک میں قائم افغان مہاجر کیمپ میں جا رہے تھے کہ اچانک صلاح الدین صاحب نے کہا کیوں نہ راستے میں اکوڑہ خٹک چند لمحوں کے لیے رک جائیں۔ یہ ایک طرح کا مطالعاتی دورہ تھا۔ غالباً میجر ابن الحسن صاحب بھی ساتھ تھے۔ دو چار دوست اور بھی تھے۔ ایسی عمدہ تجویز سے کون انکار کر سکتا تھا۔ افغان جہاد اپنے عروج پر تھا اور دارالعلوم حقانیہ
مزید پڑھیے


کیا ملک یونہی چلتا رہے گا

جمعرات 01 نومبر 2018ء
سجاد میر

 فیض صاحب کے ایک فقرے نے بڑی شہرت پائی احباب کے درمیان گپ شپ ہو رہی تھی کہ کسی نے پوچھ لیا‘ فیض صاحب‘ پاکستان کا کیا بنے گا۔ انہوں نے اپنے مخصوص طریقے سے ذرا توقف کیا اور ایک انداز بے نیازی سے کہا کہ بھئی ہمارے خیال میں تو یونہی چلتا رہے گا کس کو اندازہ تھا کہ ایک شاعر کا یہ فی البدیہہ ’’مصرعہ‘‘ ہمارے آنے والے دنوں کی تاریخ بن جائے گا۔ ہم بار بار خواب دیکھتے ہیں ایک آئیڈیلزم کا شکار ہوتے ہیں‘ پھر اسی ڈگر پر چل نکلتے ہیں جسے بدلنے کا عزم لے
مزید پڑھیے




یہ سب تمہارا کرم ہے آقا…

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
کبھی کبھی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ یقین آ جاتا ہے اس ملک پر خدا کا سایہ ہے۔ سایہ خدائے ذوالجلال۔ حق کی رضا ہے ساتھ تمہارے‘ مری وفا بھی ساتھ تمہارے۔ محسوس یوں ہوتا ہے‘ یہ صرف شاعرانہ خواب نہیں‘ بلکہ ایک الوہی حقیقت ہے۔ شاید اسی وجہ سے کہا گیا تھا کہ یہ مملکت خدا داد ہے۔ اس طویل تمہید کا مطلب مجھے اس وقت سمجھ آتا ہے جب ہم بڑی مشکل میں گھرے ہوتے ہیں اور کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ ہمارے سارے دلدر دور ہو جاتے ہیں۔ ایسا بار بار ہوتا آ رہا ہے اور
مزید پڑھیے


خدا جس سے چاہے، کام لے لے!

هفته 27 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
ہو سکتا ہے یہ بات کسی کو اچھی نہ لگے، مگر سچ کہنے سے اس لیے باز نہیں رہنا چاہیے کہ اس سے کوئی ناخوش ہوگا۔ آج پہلی بار مجھے اس شہرت یافتہ ادارے میں جانے کا اتفاق ہوا جس کا نام پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ ہے۔ سچ کہتا ہوں، میں ششدر رہ گیا۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ عدالت میں اس کے بارے میں کیا بحث جاری ہے اور اس بحث کے کیا کیا پہلو ہیں۔ مجھے تو یوں لگا پاکستان میں ایک یگانہ روزگار ہسپتال تعمیر ہورہا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار
مزید پڑھیے


اب آگے بڑھیے

جمعرات 25 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
جشن منائیں‘ خوشی سے جھوم جھوم جائیں‘ ہماری جھولی بھر دی گئی ہے۔ ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں اس میں یہ پہلی خیر کی خبر ہے جو ہمیں ملی ہے۔ یقینی طور پر اسے حکومت کی فتح گنا جائے گا کہ سعودی عرب نے ہمیں ایک شاندار پیکیج دیا ہے۔ مگر کیا میں اسے پاکستان کی بھی فتح قرار دوں یا عمران خاں کی بھی کامیابی گردانوں۔ ہے تو ایسا ہی‘ مگر ہمارے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ ہم کہاں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ عمران خاں نے درست کہا تھا کہ کیا اچھا لگے گا کہ
مزید پڑھیے


زخم تازہ نہ کیجئے!

هفته 20 اکتوبر 2018ء
سجاد میر

ہوسکتا ہے، اسے چھوٹی سی بات سمجھا جائے، مگر میں اسے قومی کردار کا المیہ سمجھتا ہوں۔ یہ جو پنجاب کے تین شہروں میں ٹرانسپورٹ کی سہولتوں سے زرتلافی واپس لیا جارہا ہے، یہ ہمارے ایک پرانے مرض کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ ظاہری طور پر یہ مرض صرف اتنا ہے کہ جانے والی حکومت نے جو احکامات کئے ہوں، وہ اچھے بھی ہوں تو ان کی مذمت کرنا ضروری ہے۔ وجہ یہ ہوا کرتی ہے مبادا اس کا کریڈٹ جانے والوں کے کھاتے میں چلا جائے۔ نتیجہ مگر اس کا یہ نکلتا ہے کہ اس قوم نے جو
مزید پڑھیے


اصل سوال یہی ہے!

جمعرات 18 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
صبح اٹھا تو اس خیال سے دوچار تھا کہ چند دن سیاست پر لکھنا بند کر دوں۔ دوست احباب بھی مشورے دیتے رہتے ہیں کہ سیاست کے چکر میں ان بہت سے معاملات کو بھول جائو گے جو تمہیں جان سے زیادہ عزیز رہے ہیں۔ شاید کل کا اثر تھا۔ زندگی میں بے شمار بار مقدمات کی کارروائی دیکھنے عدالتوں میں حاضری دی ہے۔ کل مگر شہباز شریف کی پیشی پر جو خواری ہوئی اس سے اندازہ ہوا کہ شاید ہم کسی اور زمانے میں جی رہے ہیں۔ قطار اندر قطار کندھے سے کندھا ملائے‘ جگہ جگہ پر‘ آگے
مزید پڑھیے