سجاد میر



کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے


کہتے ہیں ورلڈ آرڈر بدل رہا ہے۔ عام معانی میں کہیں تو یوں کہا جاتا ہے کہ دنیا اب وہ نہیں رہے گی جو کرونا سے پہلے تھی‘ مگر جب ہنری کسنجریا ٹام چومسکی اس پر غور کرتے ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دوسری جنگ کے بعد 1944ء میں جو عالمی نظام طے ہوا تھا اور جس پر عمل کیا جا رہا تھا وہ اب ختم ہونے کو ہے۔ دنیا کی جیتی ہوئی اقوام نے اس وقت مل کر جو اقتصادی‘ سیاسی اور انتظامی فعالیت کی تھی۔ وہ اب چلنے کی نہیں ۔خیر اس وقت یہ
پیر 06 اپریل 2020ء

بہت ہو گئی

هفته 04 اپریل 2020ء
سجاد میر
دوستو‘ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ایک ایسی جنگ جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کے بعد دنیا ویسی نہیں رہے گی جیسی ہے۔ اس جنگ سے پہلے بھی ایک جنگ ہے۔ کسی نے اس دوسری جنگ کے حوالے سے بہت خوبصورت بات کہی ہے کہ یہ جنگ خوف کے خلاف ہے۔ خوف جو خود ایک وائرس ہے۔ کہنے والے نے مزید کہا ہے کہ یہ جنگ جیتنا ہے تو اس کے لئے وار ٹائم لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ میں بار بار سوچتا ہوں کیا ہمارے پاس ایسی قیادت ہے۔ یہ بات پہلے میں پوری
مزید پڑھیے


کارپوریٹ سیکٹر کا سانڈ

هفته 28 مارچ 2020ء
سجاد میر
کئی دن سے ایسی باتیں میں سن رہا تھا‘ مگر اب اس پر حسین ہارون کی تفصیلی گفتگو سنی ہے تو بات کرنے میں جو ہچکچاہٹ تھی وہ دور ہو گئی ہے۔ سوچتا تھا یہ بات زباں پر نہ لائوں‘ وگرنہ لوگ اسے سازشی تھیوری قرار دے کر طعن و تشنیع شروع کر دیں گے۔ یہ حسین ہارون اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ میرے لئے ان کا تعارف یہ ہے کہ یہ ڈان گروپ کے حمید ہارون کے بھائی ہیں اور تحریک پاکستان کے ممتاز قائد عبداللہ ہارون کے پوتے
مزید پڑھیے


وقت دعا ہے!

جمعرات 26 مارچ 2020ء
سجاد میر
دفتر قائد اعظم کے مزار کے عین سامنے تھا۔یہ بند رروڈ کا ایک سرا ہے۔ یہاں سے ہر طرف سڑکیں نکلتی ہیں۔ بڑا ہی پررونق علاقہ ہے۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سڑک پار کرنا اتنا مشکل تھا کہ لمبا انتظار کرنا پڑتا۔ پھر وہ زمانہ آیا جب کراچی میں روز ہڑتال ہونے لگی‘ کرفیو لگنے لگا۔ ہنستا بستا بلکہ چیختا چلاتا شہر سونا ہونے لگا۔ آپ آرام سے یہ سڑک بھی ایسے پار کر سکتے تھے جیسے اپنے گھر میں ٹہل رہے ہوں۔ یہ تجربہ بار بار ہونے لگا تو ایک دن دل میں ہوک سی اٹھی اور
مزید پڑھیے


کرونا اور انفعالی مدافعت

پیر 23 مارچ 2020ء
سجاد میر
ابھی ابھی اطلاع آئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خاں چند منٹ کے بعد قوم سے خطاب کیا اور ایسا وہ اکثر کرتے رہیں گے۔ خود بھی روز کرونا پر بریفنگ لیا کریں گے تاکہ باخبر رہ کر درست فیصلے کر سکیں۔ حکومت پنجاب نے فوج طلب کر لی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لاک ڈائون ہو سکتا ہے۔ وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے کہ شہباز شریف بھی وطن واپس آ چکے ہیں حالانکہ بڑے بڑے ماہرین اس کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ سیاست پیچھے رہ گئی ہے۔ آسمانوں سے ایسی آفت نازل ہوئی ہے کہ دنیا کے
مزید پڑھیے




فتنۂ عہد جدید

جمعرات 19 مارچ 2020ء
سجاد میر
کئی باتیں اکٹھی ہو گئی ہیں جنہیں میں لکھنا چاہتا ہوں۔ کرونا وائرس کے خطرات، ملک کی معیشت اور سیاست کے اتار چڑھائو سے ہٹ کر بہت ساری باتیں اور ہیں جو کرنا چاہتا ہوں مگر یہاں سب سے پہلے اپنی ایک کوتاہی کا اعتراف کروں گا حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی۔ ڈاکٹر مبشر حسن پر لکھتے ہوئے میں نے ان کے مجید نظامی کے بارے میں نظریات کا تقابل کرتے ہوئے کرنل عابد حسین کا ذکر کیا تھا یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جو مجھے غلط یاد رہی ہو، مگر روا روی اور روانی میں
مزید پڑھیے


ڈاکٹر مبشر حسن

پیر 16 مارچ 2020ء
سجاد میر
میں ان سے زیادہ ملا بھی نہیں اور نظریاتی طور پر تو کبھی ہم خیال بھی نہ تھا۔ مگر ان کے انتقال کی خبر سن کر ایک ایسا دکھ ہوا جو کسی اپنے کے کھو جانے کا ہوتا ہے۔ ان کی عمر بھی کافی تھی‘ ایک صدی کے قریب پہنچ رہے تھے۔ کسی وقت بھی خبر آ سکتی تھی‘ مگر یوں لگا اس عہد نے کچھ کھو دیا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن سے مرا براہ راست رابطہ لاہور واپس آ کر ہی ہوا۔ اس سے پہلے میں نے انہیں ہمیشہ اس نظر ہی سے دیکھا تھا کہ بائیں بازو کے
مزید پڑھیے


اقبال کی دوشیزۂ مریخ

هفته 14 مارچ 2020ء
سجاد میر
گزشتہ دنوں حقوق نسواں کے حوالے سے اقبال کی ایک نظم کا حوالہ دیا تھا جس میں آزادی نسواں کے تصور پر بات کی گئی ہے۔ جاوید نامہ میں اقبال جب فلک مریخ تک پہنچتے ہیں تو وہاں ایک میدان میں انہیں عورتوں اور مردوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے۔ درمیان میں ایک بلند قامت خاتون کھڑی ہیں جس کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ اقبال نے اس کی کیا نقشہ کشی کی ہے آج کی ساری تحریک نسواں سمجھ آ جائے گی۔ سو سال پہلے اقبال کتنی دور کی
مزید پڑھیے


شرم کرو‘ حیا کرو

پیر 09 مارچ 2020ء
سجاد میر
کل ظفر علی خان ٹرسٹ میں ایک غیر معمولی اجتماع تھا۔ حکم ہوا حاضر ہونا ضروری ہے۔ایک دوست نے تو چپکے سے مسکراتے ہوئے کان میں کہا کہ کفر و اسلام کی جنگ ہے۔ خلیل الرحمن قمر یہاں مدعو تھے۔ یہ گزشتہ ایک ماہ میں ان سے میرا دوسرا پبلک آمنا سامنا تھا۔ ظاہر ہے بحث یہی عورت مارچ تھا۔خلیل الرحمن دبنگ آدمی ہیں اور لگی لپٹی نہیں رکھتے۔ مجھے بھی اذن اظہار ہوا۔ میں نے اپنی طرف سے بڑی معصومیت سے ایک بات کہہ ڈالی۔ جب میں نے ٹی وی پر ان کا ماروی سرمد سے ٹاکرا دیکھا تو
مزید پڑھیے


8مارچ کا ہنگامہ

هفته 07 مارچ 2020ء
سجاد میر
میں مدت سے اس بات کا قائل رہا ہوں کہ کسی تہذیب کی تشکیل اس مساوات پر ہوتی ہے جو اس معاشرے میں مردوزن کے درمیان قائم ہو اور مساوات علم حساب والی مساوات (equality)ہے اور اس کا تعلق کسی اور برابری والی مساوات سے نہیں ہے۔ انسانیت نے اس حوالے سے بہت جدوجہد کی ہے۔ مگر آج جو ہمارے ہاں اس کی شکل نظر آئی ہے وہ بہت ہی نچلی سطح کی ہے۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ ہمارے ہاں سول سوسائٹی کے نام سے ایک ایسا کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو قابل
مزید پڑھیے