BN

سجاد میر


تشدد۔اصل حقیقت کیا ہے؟


مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ یہ نوحہ کیسے لکھوں۔کس کا ماتم کروں‘کس کو الزام دوں۔کہنے والے اپنے اپنے انداز میں تجزیے کر رہے ہیں مگر دل مطمئن نہیں ہو رہا۔اس اتوار میں سیالکوٹ میں ایک ذاتی کام سے تھا۔جس محفل میں تھا اس میں شہر کے بہت سے باخبر لوگ موجود تھے۔سب کی رائے تھی کہ فیکٹری مالکان نیک نام لوگ ہیں۔5ہزار کے قریب ملازمین ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس برانڈ کی شہرت ہے، مذہب کے بارے میں بھی مثبت رویہ رکھتے ہیں اور جو فیکٹری منیجر لقمہ اجل بنا ہے‘وہ ایک اچھا تجربہ کار منیجر تھا، دس
جمعرات 09 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

حال بے حال ہوا

هفته 04 دسمبر 2021ء
سجاد میر
کشورِ پنجاب کے فرمانروا چوہدری محمد سرور نے فرمایا ہے کہ آئی ایم ایف نے ہمیں صرف چھ ارب ڈالر دے کر ہم سے سب کچھ لے لیا ہے۔انہوں نے اور بہت سی باتیں کی ہیں ۔مثال کے طور پر یہ کہ پارٹی نے مجھے گورنر بنا کر سائیڈ لائن کر دیا وغیرہ وغیرہ ۔مجھے نہیں معلوم چوہدری صاحب یہ سب کیوں کہتے پھر رہے ہیں‘اگرچہ انہوں نے تردید کی ہے کہ پارٹی نے انہیں عہدہ چھوڑنے کے لئے نہیں کہا تاہم ہر طرح کی خبریں گرم ہو رہی ہیںکہ سرور صاحب بالآخر چاہتے کیا ہیں۔ قطع نظر اس بات کہ
مزید پڑھیے


دعوتِ اسلامی سے تحسین فراقی تک

جمعرات 25 نومبر 2021ء
سجاد میر
وہ ایک خوبصورت شام تھی بلکہ ایک خوبصورت دن تھا‘ اس لیے کہ پہلے تو دوپہر کے کھانے پر دعوتِ اسلامی کے زعما سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے اس جماعت کو بنتے اور پھلتے پھولتے دیکھا ہے۔ ایک سادہ سا آدمی جو میمن برادری کے علاقے میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتا تھا‘ ایک دن اچانک ایک تحریک لے کراٹھا۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جاتا اور کہتا مجھے چھ ماہ کے لیے اپنا بچہ دے دیجئے اسے انسان کا بچہ بنا کر واپس کروں گا۔ بچہ جب گھر آتا تو اب اسے وہ سب دعائیں یاد ہوتیں
مزید پڑھیے


دو بیانئے۔ایک خطرناک بات!

پیر 22 نومبر 2021ء
سجاد میر
ان دنوں دو بیانئے ایسے سامنے آئے ہیں جو قابل غور ہیں۔ایک تو فواد چوہدری کا بیان جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ ریاست اور حکومت شدت پسندی کے خلاف اتنی تیار نہیں ہے جتنا انہیں ہونا چاہیے۔اس بیان کا سنجیدہ تجزیہ ہونا چاہیے۔دوسرا بیان پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد کا ہے جنہوں نے عاصمہ جہانگیر کی یاد میں ہونے والے سیمینار میں اس بات کا اعلان کیا کہ انہیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔اپنے فیصلے وہ خود لکھتے ہیں۔یہ جو عدلیہ کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اسے بند ہونا چاہیے۔اس کانفرنس میں اور بھی بہت
مزید پڑھیے


ایک اونٹ کی کہانی

هفته 20 نومبر 2021ء
سجاد میر
یکم جولائی 1948ء کی بات ہے قائد اعظم اپنی علالت کے باوجود سٹیٹ بنک آف پاکستان کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے تشریف لائے۔اس وقت تک یہ بنک اس عمارت میں تھا جس میں اب سپریم کورٹ کراچی کی رجسٹری ہے۔قائد اعظم نے اپنی اس تقریر میں کئی معرکہ آراء باتیں کہی تھیں مگر اس کا پہلا فقرہ تھا کہ یہ بنک ہماری مالیاتی خود مختاری کی علامت ہو گا۔ یہ جو بل لانے کا منصوبہ ہے کہ اسٹیٹ بنک کو اس قدر خود مختار کر دیا جائے کہ وہ پاکستان کہ صدر‘ وزیر اعظم یا پارلیمنٹ کو قطعاً جواب دہ
مزید پڑھیے



ایک انقلاب کی ضرورت

پیر 15 نومبر 2021ء
سجاد میر
بار بار سوچتا ہوں کہ اس ملک کے مسائل کا حل کس بات میں ہے۔ کیا ہمارے نظام میں کوئی خرابی ہے یا قیادت میں کمی ہے۔ آخر اس کا علاج کیا ہے۔ نظام کیسے بدلا جا سکتا ہے یا قیادت کہاں سے لائی جا سکتی ہے یا پھر ہم بحیثیت قوم ہی ایسے ہیں کہ اسی مقدر کے سزاوار ہیں جوہم پر عذاب الٰہی کی شکل میں مسلط کر دیا گیا ہے۔ ہم کاہل ہیں‘ سست ہیں‘ مذہب سے دور میں‘ بددیانت میں‘ جھوٹے ہیں۔ کیا خرابی ہے ہم میں۔ آخر سوچنا تو ہے ہم کب تک
مزید پڑھیے


سب کچھ میں ہی بتائوں؟

هفته 06 نومبر 2021ء
سجاد میر
اب نہ کسی دلیل کی ضرورت ہے نہ کسی بحث مباحثے کی‘یہ ایک حقیقت ہے کہ مہنگائی عوام کی برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔یہ جو ریلیف پیکیج دیا ہے‘اس کا مذاق تو اسی وقت ظاہر ہو جاتا ہے جب پتا چلتا ہے کہ ملک کی آبادی کا ساٹھ(60) فیصد اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے اور حکومت بھی اسے اتنا ریلیف فراہم کرتی ہے جو 5روپے فی کس روزانہ بنتا ہے۔گنجی نہائے گی کیا ‘نچوڑے گی کیا۔یہ پناہ گاہیں۔یہ دستر خوان ‘یہ ریلیف پیکیج اچھی چیز سہی‘مگر یہ وافر بھی ہوں تو اس سے معیشت کا بھلا نہیں
مزید پڑھیے


تاریخ کا ظالم پہیہ

جمعرات 04 نومبر 2021ء
سجاد میر
کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ریاست کے معاملات ایسے ہی چل رہے ہیں۔ہم عجیب عالم تذبذب میں ہیں۔ایک طرف تو خوشی ہے کہ دھرنا کرنے والوں سے معاہدہ ہو گیا۔خون خرابے کا خطرہ ٹل گیا۔دوسری طرف اس اضطراب میں ہیں کہ سب کچھ ہوا کیسے۔کس نے یہ معاہدہ کرایا اور اسے خفیہ کیوں رکھا گیا۔وزیر اعظم سے ملنے والے علماء اور مشائخ اور تھے اور معاہدہ کی نوید سنانے والے مفتی اعظم دوسرے تھے۔ان کی ملاقات کی تصویریں کہیں اور نظر آئیں۔ان کے ساتھ اور کون کون تھے اور کیوں تھے۔بلا شبہ آرمی چیف نے یہ ذمہ داری براہ راست ادا کی‘مگر
مزید پڑھیے


حق کا راستہ

پیر 01 نومبر 2021ء
سجاد میر
ابھی ابھی میں مفتی منیب الرحمن اور شاہ محمود قریشی کی میڈیا سے گفتگو سن کر اٹھا ہوں۔پوری قوم جذبات کے مقابل چرب زبانوں کے رحم و کرم پر تھی۔یہ کوئی چھوٹی بات نہ تھی کہ جی ٹی روڈ مریدکے‘گوجرانوالہ سے لے کر وزیر آباد تک بند تھی۔اس کے آگے کا راستہ بھی چناب سے لے کر جہلم تک خطرے میں تھا۔راولپنڈی اور اسلام آبادمیں بھی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔سرکار کے چرب زبان اپنی ہانک رہے تھے اور ملک میں سکیورٹی کے شدید خطرات پیدا ہو گئے تھے۔ایسے میں داد دینا پڑتی ہے،ان دھرنا دینے والوں کو
مزید پڑھیے


اللہ کے نیک بندے!

جمعرات 28 اکتوبر 2021ء
سجاد میر
چھوڑیے بڑی بڑی باتیں‘آج ذرا چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا ذکر کرتے ہیں۔عام طور پر جب ہم لوگ کسی کھانے پر اکٹھے ہوتے ہیں تو رشک کرنے والے سمجھتے ہیں ضیافتیں اڑھائی جا رہی ہیں یا لاہوریوں کی زبان میں کھابے کھائے جا رہے ہیں۔تاہم یہ کھانے کی محفلیں بھی اکثر اوقات بڑی بامعنی ہوتی ہیں۔خدا بھلا کرے طیب اعجاز قریشی کا جو ہمارے ڈاکٹر اعجاز قریشی مرحوم کے فرزند اور الطاف قریشی صاحب کے بھتیجے ہیں۔یوں تو اب اردو ڈائجسٹ کے معاملات انہوں نے ہی سنبھال رکھے ہیں اور پوری طرح صحافیانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ کاروباری صلاحیتوں
مزید پڑھیے








اہم خبریں