BN

سجاد میر



متبادل بیانیہ


یوں سمجھئے یہ اس کالم کا فٹ نوٹ ہے جو میں اس موضوع پر لکھنا چاہتا ہوں۔ خورشید ندیم ان دنوں لاہور میں تھے۔ یہاں انہوں نے ایک گفتگو کا اہتمام کر رکھا تھا۔ یہ گفتگو پیغام پاکستان کے بارے میں تھی جسے متبادل بیانیہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ پیغام پاکستان دراصل وہ دستاویز ہے جس پر ملک کے جید علماء نے دستخط کئے تھے اور ملک میں برپا دہشت گرد سرگرمیوں ‘ خودکش حملوں کو اسلام کی رو سے غلط قرار دیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ایک جمہوری عمل کو فلاح کا راستہ بتایا تھا۔ کچھ اس
جمعرات 17 جنوری 2019ء

سچ بول دینا چاہیے!

پیر 14 جنوری 2019ء
سجاد میر
کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اصولی طور پر درست ہوتی ہیں مگر حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ان پر گفتگو نہ کی جائے یا کم از کم یوں کہہ لیجیے کھلے عام انہیں زیر بحث نہ لایا جائے۔ مثال کے طور پر اس پر ایک لمبی بحث چلی ہے کہ قومی ریاستوں کے تصور نے انسانیت کو کیسے بانٹا ہے‘ تاہم ایک خاص تناظر میں جب ہم قومی ریاست یا نیشن سٹیٹ کے خلاف مقدمہ بناتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جغرافیائی حدود میں نہ بانٹوملت اسلامیہ ایک وحدت ہے تو پہلا
مزید پڑھیے


ایک نیا خواب!

جمعرات 10 جنوری 2019ء
سجاد میر
برخوردار حسین حقانی نے ایک دن بڑے مزے کی بات کی۔ جانے وہ نواز شریف کا دور تھا یا آصف زرداری کا۔ یہ سانحہ ان کے ساتھ دونوں زمانوں میں ہوا تھا کہ انہیں اہم مناصب سے ہٹا کر ذرا کم اہم جگہوں پر لگا دیا گیا۔ ایسی ہی کسی صورت میں ان سے ملاقات ہوئی تو ازخود ایسا تبصرہ کیا جو ایسے ذہنوں کا بہترین عکاس ہے۔ کہنے لگا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ملا دو پیازہ ہیں یا بیربل‘ آپ کو بہرصورت دربار میں ہونا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ دربارمیں موجود
مزید پڑھیے


ولی عہد کا دورہ

پیر 07 جنوری 2019ء
سجاد میر
مجھے یہ منظر اچھا لگا کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان پہلی بار کسی غیر ملکی مہمان کو لینے ایئرپورٹ پہنچے اور اسے خود ڈرائیو کرتے ہوئے اس وزیراعظم ہائوس میں لائے جسے عارضی طور پر اس تقریب کے لیے کھولا گیا ہے۔ اب کوئی لاکھ فقرہ بازی کرے کہ کشکول جو بھروانا تھا، اس لیے راہوں میں بچھے جا رہے ہیں مگر یہ ایک ایسا اقدام ہے جسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ کاش ہم نے پہلے اس طرح کی غلطی نہ کی ہوتی۔ نئی حکومت کے آتے ہی سب سے پہلے ہمارے ہاں چین کے وزیر خارجہ
مزید پڑھیے


اسلامیان ہند اور18ویں ترمیم

هفته 05 جنوری 2019ء
سجاد میر
وہ لوگ جو اٹھارہویں ترمیم کے خلاف بول رہے ہیں‘ ان کا دکھڑا کچھ اور ہے۔ تاہم میں نے اس وقت ہی اپنے تحفظات کا اظہار کردیا تھا جب یہ ترمیم کی جارہی تھی۔ ہم دونوں میں کیا فرق ہے‘ اس کاذکر تومیں بعد میں کردوں گا‘ اس وقت میں پہلے چند دوسری باتیںکرنا چاہتا ہوں۔ میرے بھائی اوریا مقبول جان نے اس مسئلے کو چھیڑا ہے تو دل میں گئے دنوں کے کئی سوال تازہ ہوگئے ہیں۔ اوریا کے بارے میں کہا کرتا ہوں کہ وہ قوت ایمانی میں مجھ سے بہت آگے ہیں۔ اگروہ ثابت کرنا چاہیں
مزید پڑھیے




نیا سال آیا…

جمعرات 03 جنوری 2019ء
سجاد میر
نیا سال آ گیا۔ میں نہ گزشتہ سال کا کچا چھٹا چھانٹنے کے لیے بیٹھا ہوں نہ آنے والے سال کے بارے میں کوئی پشین گوئی کا ارادہ ہے۔ اس بار میں نے پہلی بار اپنے ٹی وی پروگرام میں یہ حرکت کی کہ ان افراد کو اکٹھا کیا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مستقبل کے اندھیروں میں نظر ڈال کر بتا سکتے ہیں کہ انہیں کیا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ بقول شیکسپیئر وہ جو مستقبل کی ’’تخم خوانی‘‘ کرسکتے ہیں۔ ان میں کوئی ستارہ شناس ہوتا ہے تو کوئی علم الاعداد کا ماہر، کسی کا دعویٰ ہوتا
مزید پڑھیے


رب کے ارادے یہ نہیں ہیں

هفته 29 دسمبر 2018ء
سجاد میر
میں کوئی ن لیگ تو ہوں نہیں کہ مرا ان دنوں پیپلز پارٹی سے اتحاد ہو اور مجھے ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر ہر حال میں ان کا ساتھ دینا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ جب آصف زرداری جیل میں تھے اور ان کے خلاف یکے بعد دیگرے ایک ایک مقدمہ ختم ہوتا گیا اور آخر میں مجید نظامی نے بھی انہیں مرد حر قرار دے دیا تو میں نے ایک کالم لکھا کہ ساری عمر پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے کا میں نے ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا‘ جب تم کوئی الزام ثابت ہی نہیں کر پا
مزید پڑھیے


سول سروس اکیڈمی

جمعرات 27 دسمبر 2018ء
سجاد میر
ان مقدمات میں رکھا ہی کیا ہے کہ روز ان پر لکھا جائے۔ بس ایک بار کہہ دیا کہ ہماری تاریخ میں ایک اور نازک موڑ آن پہنچا ہے کافی ہے۔ کسی کی جیت یا شکست کا سوال نہیں ہے‘ بلکہ ان ممکنات کا خوف ہے جو اس سیاست بازی سے جنم لے سکتے ہیں۔ اس لئے خیال تھا کہ آج
مزید پڑھیے


خطرناک موڑ

پیر 24 دسمبر 2018ء
سجاد میر
چاہے عدلیہ کتنی بھی آزاد کیوں نہ ہو‘ مگر جب فیصلہ آئے گا تو اس پر جو تبصرے ہوناہیں ان کا تعلق احتساب عدالت کے آزاد یا غیر آزاد ہونے پر نہیں ہو گا۔ فیصلہ نواز شریف کے خلاف آ گیا تو خلق خدا بھی کہے گی کہ حکومت انتقام پر اتر آئی ہے اور اس نے آمرانہ انداز اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اگر فیصلہ نواز شریف کے حق میں آ گیا تو کوئی نہیں کہے گا انصاف ہوا ہے‘ یہی کہا جائے گا کہ مک مکا ہو گیا ہے۔ مخالف تو کہیں ہی گے
مزید پڑھیے


کچھ ہونے والا ہے

جمعرات 20 دسمبر 2018ء
سجاد میر
جتنی باتیں سامنے آ رہی ہیں‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت ایک کروٹ لینے والا ہے۔ جنرل آصف غفور نے ایک چونکا دینے والی بات کی تھی جس کی پرتیں کھلتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ہمیشہ ہی بحران کا شکار رہتے ہیں۔ اب یہ بحران یا ختم ہو جائے گا یا مزید شدت اختیار کر لے گا۔ اس کے لئے انہوں نے چھ ماہ کی مدت مانگی تھی کہ میڈیا اس عرصے میں پاکستان کا مثبت نقطہ ہی دکھائے۔ اس پر طرح طرح کے تبصرے آئے‘ کسی نے کچھ کہا کسی نے
مزید پڑھیے