BN

سجاد میر


جس بات کا ڈر تھا…


جس بات کا ڈر تھا‘ وہ بات بالآخر ہو کر رہی۔ میں وہ آخری ہوں گا جو پاک فوج کے خلاف کسی افترا طرازی کا حصہ بننا چاہوں۔ گوجرانوالہ کے جلسے کو بھی میں سیاست کے اکھاڑے کا ایک شاندار مظاہرہ سمجھ رہا تھا۔ مگر بات آگے بڑھ گئی ہے اس کی وجہ کون ہے نواز شریف پر الزام لگانا پھر ایک غلطی ہو گی وگرنہ سہل پسندی تو یقینی ہے۔ کنٹینر کا سودا اس قدر سر پر سوار تھا کہ آج بھی منہ پر ہاتھ پھیر کر اعلان ہو رہا ہے کہ ’بچو‘ تم سے نپٹوں گا۔یہ جمہوریت کے
پیر 19 اکتوبر 2020ء

نیا آغاز

هفته 17 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
جلسہ جیسا بھی ہو‘ یہ بات طے ہے کہ آج کے بعد اس ملک کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ اس بات کا بھی مجھے اندازہ ہے کہ حکومت بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہی ہے۔ ان کی تلملاہٹ بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ میں اس پر کوئی ایسا خوش نہیں ہوں۔ ویسے تو گزشتہ نصف صدی سے ملک میں تبدیلی کے خواب دیکھ رہا ہوں تاہم گزشتہ ایک عشرے سے کچھ اوپر جب مشرف رخصت ہوئے تو دوبارہ جمہوریت کے سپنے آنے لگے۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ ہم نے ایک طفیلی
مزید پڑھیے


میں پہلے ہی پَر جلا چکا

پیر 12 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
حالات اتنے بگڑتے جا رہے ہیں کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ توجہ کسی اور طرف مبذول کر لی جائے۔ ڈنمارک کی ریاست میں سب کچھ گلا سڑا ہے۔ وطن عزیز میں کیا ہونے والا ہے‘ یہ تو تب سوچوں جب اس بات پر مطمئن ہوں کہ جو ہو گیا وہ کم از کم اطمینان بخش ہے۔ اب تک کیا کچھ نہیں ہو چکا۔ سب لٹ چکا۔ بری طرح لٹ چکا ہے۔ ایسے میں مزاحمتی تحریک بھی صد ہا سوال پیدا کر رہی ہے۔ اس میں آرمی چیف کا کہنا کہ ہم حکومت کے ساتھ ہیں کہ
مزید پڑھیے


الاستاد عبدالغفار عزیز

هفته 10 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کا مقام و مرتبہ کیسے بیان کروں۔منصورہ میں ایسا جنازہ بھی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک قلندر اور درویش جو خاموشی سے اس دنیا سے اٹھ گیا مگر وہ کچھ کر گیا جو بڑے بڑوں کی سوچ سے آگے ہے۔ عالم اسلام میں اس وقت جماعت اسلامی کی کوئی پہچان تھی تو وہ اس شخص کی وجہ سے تھی۔ سراج الحق نے بتایا کہ ہم تو بے تکلفی سے اسے بھائی کہتے تھے مگر اب دنیا میں بڑے بڑے علماء و مشائخ اسے الاستاد اور الشیخ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ ایسے
مزید پڑھیے


گلگت و بلتستان …نیا صوبہ؟

جمعرات 08 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
آج میں ایک ایسے موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں جو مجھے کوئی ہفتہ پہلے چھیڑنا چاہیے تھا۔ ملک میں اتنا کچھ ہو رہا ہے کہ اس پر سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ایک دن اچانک پتا چلے گا کہ ’’قوم‘‘ نے اس کا فیصلہ کردیا ہے۔ یہ ہے گلگت و بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے کا معاملہ۔حفیظ اللہ نیازی کو جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے اس موضوع پر ایک شاندار نشست کر ڈالی۔ بلایا تو کھانے پر تھا اور ۔کھاناان کا بڑا شاندار ہوتا ہے۔ چن چن کر ڈشیں ترتیب دیتے ہیں۔ کہیں کی مچھلی تو
مزید پڑھیے



حماقت کی گنجائش نہیں

پیر 05 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ پاکستان کا نازک ترین دور ہے۔ اس لئے کہ یہ ہم ہر زمانے میں کہتے رہے ہیں۔ تاہم جب میں غور کرتا ہوں اور تاریخ کو اپنی نگاہوں کے سامنے لا کر دیکھتا تو یقینی طور پر یہ پاکستان کی تاریخ کے دو ایک ایسے زمانوں میں سے ہے جب ریاست کے وجود پر ہی شک ہونے لگ جاتا ہے۔ وہ تو خدا کا کرم ہے کہ وہ ہمیں مشکلات سے نکالتا ہے۔ کبھی کبھی سزا بھی دیتا ہے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان سے پہلے بھی ایسی کیفیات
مزید پڑھیے


بلدیاتی نظام اور صوبے

پیر 28  ستمبر 2020ء
سجاد میر
کبھی کبھی تو مجھے گمان ہوتا ہے کہ جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صوبے ہیں۔ ہمارے ہاں جو بھی نظام ہے وہ اپنی روح کے مطابق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک بلدیاتی اور شہری حکومتوں کے الیکشن نہ کرا دیے جائیں۔کہا جاتا ہے اس کی راہ میں رکاوٹ جمہوری حکومتیں ہیں‘ وگرنہ ہر آمریت نے بلدیاتی نظام کو اپنے اپنے انداز سے نافذ کرنے کی کوشش کی۔ یہاں غور کیا جائے تو جمہوری حکومتوں سے مراد صوبائی حکومتیں ہیں۔ اس وقت سندھ اور پنجاب میں خاص طور پر بلدیاتی انتخابات کو لٹکایا جا رہا
مزید پڑھیے


فاروق عبداللہ سے گلگت و بلتستان تک

هفته 26  ستمبر 2020ء
سجاد میر
میں وہمی شخص ہوتا تو جانے کتنے سوال اٹھا دیتا۔ ویسے بھی میں کشمیری نژاد ہونے کی وجہ سے اور ایک متشدد پاکستانی ہونے کے ناتے کبھی شیخ عبداللہ کے خانوادے سے مطمئن نہیں ہوا۔ ان کی تین نسلوں نے مقبوضہ کشمیر پر حکومت کی ہے۔ وہ سونے کے بن کر بھی آ جائیں تو بھی مجھے ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے۔ آدمی کو ویسے اتنا بھی سنگدل نہیں ہونا چاہیے۔کبھی کبھی وہاں سے خیر کی بارش ہو جاتی ہے جہاں سے اس کا گمان تک نہیں ہوتا۔ طائف میں بدترین ظلم کرنے والوں کی ہدایت کی
مزید پڑھیے


فیصلہ کن موڑ

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
سجاد میر
کیا نوازشریف کی تقریر ٹکڑائو کی پالیسی کا اعلان ہے یا اس بات کا اظہار ہے کہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ شیخ رشید نے یہ بیان دے کر کس کی خدمت کی ہے کہ نوازشریف نے اپنا پاسپورٹ خود پھاڑ دیا ہے اور اب ان کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ان کی یہ بات اس تجزیے پر مبنی ہے کہ نوازشریف نے چونکہ ریاست سے ماورا ریاست کا ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان کی لڑائی عمران سے نہیں‘ ان لوگوں سے ہے جو عمران کو لے کر آئے ہیں تو وہ
مزید پڑھیے


سٹالن یا دُرّۂ عمرؓ

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
سجاد میر
ان کی تحریر پڑھ کر بنا پیئے ہی نشہ آ جائے، یہ کم ہوتا ہے یہ معجزہ مگر آج ہوا ہے۔ میں جن سوالوں پر غور کر رہا تھا ان میں بعض کی طرف اشارے ملے ہیں۔ کالم کا عنوان ہے کہ کیمونسٹ ماسکو میں ریپ ناممکن تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ماسکو کی شاموں کا نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کا رعب اور دبدبہ اتنا تھا کہ کوئی راہ چلتی خواتین کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ وہاں وہ آزادیاں نہ تھیں جو جمہوری ملکوں میں ہوتی
مزید پڑھیے