BN

سجاد میر


یوم تکبیر


شہزاد احمد جتنے بڑے شاعر تھے اتنے ہی شاندار فقرے باز بھی تھے۔تخلیق کار میں یہ صلاحیتیں مل جائیں تو کئی بار کمال اظہار پاتی ہیں چنانچہ جب 28مئی کو پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو شہزاد نے اس پر بے ساختہ تبصرہ کیا۔ اب ادب دو طرح کا ہو گا ایک وہ جو 28مئی سے پہلے کا ہے اور دوسرا جو اس کے بعد لکھا جائے گا۔ اس فقرے کو آپ اگر جغرافیائی تقسیم سمجھنے کا گناہ نہ کریں بلکہ ایک تخلیقی تقسیم کے طور پر لیں تو اس کا مفہوم درست طور پر سمجھ آ سکتا ہے۔انسانوں کی
هفته 30 مئی 2020ء

پی آئی اے اور پاکستان

جمعرات 28 مئی 2020ء
سجاد میر
ایک تو کورونا کا عذاب تھا اور دوسرے عید سے ایک آدھ دن پہلے ایک ایسا قومی سانحہ ہو گیا جس نے پوری قوم کو مزید مغموم کر دیا۔ پی آئی اے کے طیارے کو اس نوعیت کا حادثہ پیش آیا کہ ا س نے شہری ہوا بازی کی دنیا میں ایک ہلچل مچا دی۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اسے بھی سیاست کی نذرکر دیتے ہیں۔ ایک تو دکھ اس بات کا تھا کہ اس حادثے پر سربراہ حکومت کی حیثیت سے جو ردعمل عمران خاں کی طرف سے
مزید پڑھیے


مرے مے خانے سلامت رہیں

جمعرات 21 مئی 2020ء
سجاد میر
میں فکر میں پڑ گیا ہوں ہمارے شراب خانے کب کھلیں گے۔ ان پر سے لاک ڈائون کب اٹھے گا۔ ہمارے اقبال نے دہائی دی تھی کہ: تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام ساقی اصل میں ذہن کہیں سے کہیں چلا جاتاہے۔ مضمون میں برطانیہ کے شراب خانوں پر پڑھ رہا تھا جس میں رونا رویا گیا ہے کہ کیا برطانیہ کے شراب خانے کورونا کا وار سہہ سکیں گے۔ برطانیہ والے کہتے ہیں ہمارے شراب خانے پہلے ہی مشکل صورت حال سے دوچار تھے۔ کم از کم گزشتہ تین سو سال
مزید پڑھیے


ڈر لگتا ہے

پیر 18 مئی 2020ء
سجاد میر
ویسے تو ہم نے ہر دور کو کم از کم پاکستان کے حوالے سے نازک دور کہا ہے، مگر موجودہ ایام جو ہم پر بیت رہے ہیں، بلاشبہ نازک ترین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ صدی دو عظیم جنگوں کی صدی تھی، سرد جنگ کے عروج کا زمانہ تھا، اقتصادی کسادبازاری کا دور تھا، اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں ایک زمانہ وہ بھی آیا تھا کہ لوگ جنگِ عظیم کو بھی بھول گئے تھے۔ یہ ایک عالمگیر وبا کے دن تھے جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس سے نکلنے کے
مزید پڑھیے


ارطغرل …ہم حاضر ہیں

جمعرات 14 مئی 2020ء
سجاد میر
خدا خوش رکھے عامرخاکوانی کو کہ اس نے کس نازک مسئلے کی نشاندہی کی ہے وگرنہ نفیسہ شاہ نے کیا وار کیا ہے‘ اس کا پتا تک نہ چلا۔ سچی بات ہے کہ میں تو ہیرو ورشپ یا شخصیت پرستی کو شرک سمجھتا ہوں۔ مگر یہ مقامی اور غیر مقامی ہیرو کیا ہوتا ہے۔ یہ ہم نے اپنے دل کے کعبے میں کیا لات و منات سجا رکھے ہیں ۔اس تقسیم سے تو ہیرو کی حیثیت ہی دو ٹکے کی ہو جاتی ہے۔ آپ کو ارطغرل پر ڈرامے پر اعتراض ہے کہ وہ غیر ملکی ہے اور ساتھ ہی مقامی
مزید پڑھیے



جنگِ زرگری اور محبت کی موت

پیر 11 مئی 2020ء
سجاد میر
وہ خود بھی چھوٹا آدمی نہیں ہے۔ تخلیق کار ہے ۔مگر اس کا باپ اپنی مثال آپ تھا۔ ہماری نسل نے لاطینی امریکہ کے جن دو ایک تخلیق کاروں کی مداحی کی ہے۔ یہ ان میں نمایاں ترین ہے۔ گبریل گارشیا مارکیزصحافی بھی تھا اور درجہ اول کا کہانی کار بھی۔ ریڈر گوگارشیا نے اپنے باپ کو یاد دلایا کہ اس نے ایک ناول لکھا تھا جس کا نام تھا ہیضے کے دنوں میں محبت‘آج جب ہم ایک اور بلا کے ایام میں زندگی گزار رہے ہیں‘ اسے اپنے باپ کا یہ ناول یاد آ رہا ہے۔ یہ شخص طویل
مزید پڑھیے


پہلے کون

جمعرات 07 مئی 2020ء
سجاد میر
آپا دھاپی پڑی ہوئی ہے۔ اسے ایک فلسفے کی شکل دے دی گئی ہے۔ برا نہ مانئے ‘آج کے زمانے میں فلسفے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے جنرل مشرف کو اس طرح کے نسخے ایک یہودی نظریہ باز نے بتائے تھے جسے ہنری کسنجر کہتے ہیں۔ نعرہ خاصا چلا ‘ پہلے پاکستان امریکہ کے صدر ٹرمپ اسی نعرے پر عمل کر رہے ہیں کہ پہلے امریکہ کے لئے یہ نعرہ امریکیوں کے دل کو بھا گیا۔ جب دنیا گلوبل ویلیج کے سحر میں مبتلا تھی‘ ٹرمپ نے اپنے اس رویے سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یورپ جو
مزید پڑھیے


خدمت خلق کے ادارے

پیر 04 مئی 2020ء
سجاد میر
ایک فرض ہے جو میں ہر سال ادا کرتا ہوں۔ ان اداروں کا تذکرہ کرتا ہوں جو خدمت خلق کے کار خیر میں مصروف ہوتے ہیں۔ میں اپنے ایمان کے مطابق گواہی دیا کرتا ہوں کہ یہ وہ ادارے ہیں جو آپ کے عطیات کے منتظر ہیں۔ ان میں ہر سال اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ چند بنیادی ادارے ایسے ہیں جو مبالغے کے انداز میں بیان کروں تو یوں کہوں کہ ازل سے قائم ہیں اور ابد تک انسانیت کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ہر سال کی طرح برادر عزیز عامر خاکوانی بھی اس موضوع پر ضرور لکھتے ہیں۔ ہماری
مزید پڑھیے


اس یوم مئی پر چند سطریں

هفته 02 مئی 2020ء
سجاد میر
جب اچھے اچھے تصورات بھی نعرے بن کر رہ جائیں اور نیکی کے کام کمائی کا ذریعہ طے پائیں تب دنیا سے خیر کا عمل اٹھ جاتا ہے۔ یہ تمہیدی جملہ میں نے اس لئے عرض کیا ہے کہ کل یوم مئی تھا‘ مزدوروں کا عالمی دن۔ عجیب بات ہے کہ شکاگو کا یہ واقعہ اشتراکیوں کا نعرہ بن گیا۔ دنیا بھر کی ٹریڈ یونین اس دن کو بڑی آب و تاب سے مناتیں اور سرمایہ دار دانشور یہ سمجھتے کہ اس سے مزدور کا کتھارس ہو جاتا ہے اور وہ انقلاب کی راہ پر گامزن ہونے سے باز رہتا
مزید پڑھیے


نئی تبدیلی۔خوش آئند تبدیلی

جمعرات 30 اپریل 2020ء
سجاد میر
یہ پہلی تبدیلی ہے جو آنکھوں میں جچ رہی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ایسی اتھل پتھل ہوئی تھی کہ لگتا تھا انقلاب آ گیا ہے۔جہاں بس چلتا ہے۔ بڑے چائو سے لایا ہوا آدمی بدل دیا جاتا ہے۔ پنجاب میں انتظامی سربراہ اور کوتوال اعلیٰ کئی بار تبدیلی کی زد میں آئے ۔ جو بچا تو ایک عثمان بزدار۔ اللہ ان کا اقتدار سلامت رکھے۔ مگر یہ تبدیلی بہتوں کو کھا گئی۔ اب جو تبدیلی آئی ہے وہ کئی لحاظ سے اہم ہے۔ پہلے دن ہی سے جو میڈیا ٹیم بنائی گئی تھی وہ دھینگا مشتی کے لئے تو اچھی
مزید پڑھیے