BN

سجاد میر



خدا پاکستان کی حفاظت کرے


یہ خبر بہت حیرت اور دلچسپی سے سنی گئی کہ وزیر اعظم پاکستان دو دن کی چھٹی پر جا رہے ہیں۔ ملک کے جو حالات ہیں ان کے پس منظر میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ ہمارے ہاں تو دیکھتے دیکھتے خبر سازش بن جاتی ہے اور اسے مرضی کے معنی پہنا دیے جاتے ہیں۔ سیاست کے دو اہم ارکان آپس میں معمول کی ملاقات بھی کریں تو پوچھا جاتا ہے کہ اس کا پس منظر کیا ہو سکتا ہے۔ باڈی لینگوئج جسے اب بدن بولی کہا جانے لگا ہے‘ اس کا جائزہ شروع ہو جاتا ہے۔
پیر 18 نومبر 2019ء

روشِ بندہ پروری

هفته 16 نومبر 2019ء
سجاد میر
تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ اپنے عروج پر تھی۔ ایک طرف صلیبیوں کے بڑھتے ہوئے لشکر تھے اور دوسری طرف مسلمان سپاہ۔ غازی صلاح الدین کو اطلاع ملی کہ دشمن کا نامور جرنیل جسے مسلمان تاریخ دان بھی شیر دل کے لقب سے پکارتے ہیں۔ شدید علیل ہے۔ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے نہ صرف جنگ روک دی بلکہ اپنا شاہی طبیب بھجوانے کی پیشکش کی تاکہ رچرڈ شیردل کا علاج ہو سکے۔ ایک روایت ہے طبیب کو بھجوا دیا اور ایک خبر ہے کہ طبیب کے بھیس میں خود جا پہنچا کہ اس
مزید پڑھیے


کوئی کل سیدھی نہیں

جمعرات 14 نومبر 2019ء
سجاد میر
کوئی ہے جو بتائے اس وقت قوم کا بڑا مسئلہ کیا ہے یا حکومت کی طرح سب کا یہ خیال ہے کہ راوی چین لکھتا ہے‘ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ سب کچھ قانون اوردستور کے مطابق چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ کیا کر لیں گے مولانا فضل الرحمن بیٹھے رہیں اسلام آباد کے مضافات میں ‘خود ہی تنگ آ کر واپس لوٹ جائیں گے اور یہ کہ نواز شریف تو ہمارے رحم و کرم پر ہیں۔ درست ان کی طبیعت خراب ہے‘ مگر اس سے حکومت پر کیا فرق پڑتا ہے اور تیسری بات پیاز ‘ٹماٹر کے
مزید پڑھیے


عشق رسول ؐ اور اقبال

بدھ 13 نومبر 2019ء
سجاد میر
ہفتہ کو یوم اقبال اوراتوار کو عید میلادالنبیؐ تھی۔ گزشتہ برس بھی یوم اقبال ربیع الاول کے مہینے میں آیا تھا مگر اس بار تو بالکل یوم ولادت نبیؐ سے متصل ہے۔ اس بار بھی حسب روایت ایوان اقبال میں یوم اقبال کی تقریب تھی۔ جس میں ہمیشہ بات کرنے کی سعادت ملتی ہے۔ پہلے تو یہ اہتمام نہ ہوتا تھا مگر میں سوچ رہا تھا کہ میں ہمیشہ اس بات کا اہتمام کرتا ہوں کہ اقبال کا جو تعلق قرآن اور عشق رسولؐ سے ہے اس پر ضرور گفتگو کروں۔ اس بار تو گویا موضوع ہی یہی تھا۔
مزید پڑھیے


یہ ایک راہداری ہی نہیں

هفته 09 نومبر 2019ء
سجاد میر
مرے سامنے ایک دعوت نامہ کھلا پڑا ہے۔ یہ کرتار پور راہداری کے افتتاح میں شمولیت کا پروانہ ہے۔ مگر میں نہیں جا پائوں گا۔ اس کی وجہ کوئی سیاسی‘ مذہبی یا قومی نہیں‘ بلکہ یوں کہہ لیجیے اس سفر کی ہمت نہیں کر پائوں گا۔ پھر مرے شہر میں یوم اقبال کی مجلس سجنا ہے اور اس میں شمولیت ہر سال مجھے بہت عزیز رہتی ہے۔ ایک عجیب اتفاق ہے کہ دو دن مرے نبی آقارسولؐ کا یوم ولادت بھی ہے۔ شہر میں خوب روحانیت ہو گی۔ کرتار پور کے بارے میں مری عجیب کیفیت ہے اور مختلف سوال ہیں۔ایک
مزید پڑھیے




کب کی بات کب یاد آئی

جمعرات 07 نومبر 2019ء
سجاد میر
میں جب ٹیلی ویژن پر صبح کا پروگرام بریک فاسٹ ود سجاد میر کیا کرتا تھا۔ تو حالات کے مطابق اپنی آسانی کی کوئی تدبیر اختیار کرتا رہتا تھا۔ میں پروگرام کے ایک حصے میں اسی دن تیرہ چودہ اخبارات میں چھپے کالموں میں سے پانچ چھ کا انتخاب کر کے ان کا خلاصہ بیان کرتا‘ پھر ان کے بعض نکات پر تبصرہ کرتا۔ یہ کام مجھے خود ہی کرنا ہوتا تھا۔ اس میں کوئی میرا مددگار نہیں ہوتا تھا۔ صبح صبح کم وقت میں اپنے لئے ایک بار میں نے یہ سہولت تیار کی کہ اخبارات کے ان کالموں
مزید پڑھیے


جمہوریت بڑے کام کی چیز ہے…

بدھ 06 نومبر 2019ء
سجاد میر
آخر وہ ہمارے حکمران رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سلطنت برطانیہ میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ ہم نے ان کی آن بان دیکھی ہے۔ مہذب دنیا کی بہت سی اقدار اور انسانی ترقی کی ابتدا کا سفر بھی اسی سرزمین سے وابستہ تھا۔ سب سے بڑی قدر جمہوریت سے اور برطانیہ کو آج بھی جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ برطانیہ نے جمہوریت کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اس نے ہٹلر سے ٹکڑا کر خود اپنے وجود کو خطرے میں ڈال دیا اور یہ سب
مزید پڑھیے


تاریخ کا پہیہ

پیر 04 نومبر 2019ء
سجاد میر
مرے ذہن میں یہ سوال کھد بد کر رہا ہے کہ یہ جو دھرنا ورنا ہے یہ درست ہے یا غلط۔ سچ پوچھئے تو اب تک کی جو سرگرمی تھی‘ میں نے بھی اس کا خوب مزہ اٹھایا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاسی بے بسی کا نظارہ بھی کیا ہے اور حکمرانوں کو تلملاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ حکومت نے سمجھ لیا تھا کہ طاقت کا استعمال ممکن نہیں‘ کچھ صلح صفائی سے راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے۔ یہ بات حکمرانوں کے موجودہ سالار کے لئے بہت مشکل تھی مگر لگتا
مزید پڑھیے


یہ قیامتیں جو گزر گئیں!

هفته 02 نومبر 2019ء
سجاد میر
کہتے ہیں سوچ سمجھ کر دعا مانگنا چاہیے۔ بار بار سوچتا تھا کہ یہ دھرنے کا مرحلہ ختم ہو تو کچھ اور بات کروں اور نہیں تو دو چار ایسے موضوعات پر ہی گفتگو کر لوں جن کاتعلق براہ راست اس سیاست اور اس کے فریقین سے ہے۔ کچھ تو ہٹ کر بہت دنوں سے سوئی اسی پر اٹکی ہوئی ہے اور کوئی بات سوجھ ہی نہیں رہی۔ یہ عجیب اذیت کا مرحلہ ہوتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے قومی زندگی ایک بھنور یا گرداب میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ یہ دعا تو قبول ہوئی مگر اس سے
مزید پڑھیے


راستہ دے دو یا راستہ بنا دو

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
سچ پوچھئے تو مجھے اس دھرنے سے بھی اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ شاید اس کی وجہ اس میں طاہرالقادری کی غیر سنجیدہ شمولیت تھی یا اس کا اچانک ابھر آنا تھا۔ کچھ بھی ہو اس لئے اگر میں یہ کہوں کہ مجھے اس دھرنے سے بھی ایسی دلچسپی نہیں ہے تو یہ غیر معقول بات نہ ہو گی۔ پر کیا کروں یہ اب سر پر آن پہنچا ہے۔ اس وقت لاہور میں اپنے وجود کے پورے احساس کے ساتھ موجود ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس کی اٹھان 2014ء والے دھرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ آگے خدا
مزید پڑھیے