BN

سجاد میر

سیاست اور نجات اخروی

پیر 16 جولائی 2018ء
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ سنگین ترین گناہ وہ ہے جسے گناہ گار معمولی جانے۔ میں سوچنے لگا کہ اس گناہ کا کیا درجہ ہو گا جسے گناہ گار معمولی بھی نہ جانے بلکہ بعض اوقات یہ سمجھے کہ اسے اس کا ثواب ملے گا۔ کبھی ہم نے سوچا کہ ہم ایسے گناہ کر رہے ہیں جسے کرتے ہوئے ہم ان کی سنگینی محسوس ہی نہیں کرتے‘ بلکہ بعض اوقات اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمارا عمل ہی حق کا راستہ ہے۔ میں نے ایک بار اسلام کے اس تصور کی وضاحت کی تھی جسے آج کل کبھی
مزید پڑھیے


کچھ نہ لکھنے پر ایک کالم

هفته 14 جولائی 2018ء
ملاعبدالقادر بدایونی ہماری تاریخ کا ایک دلچسپ کردار ہیں۔ یہ دلچسپ کا لفظ میں نے اس باکمال علمی شخصیت کے بارے میں اس لیے استعمال کیا ہے کہ انہیں بڑے مشکل حالات میں اپنے ایمان اور دیانت کو سلامت رکھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ یہ اکبر کازمانہ تھا۔ دین الٰہی کا زور تھا۔ ہر کسی کو اس شاہی دین پر ایمان لانے کے لیے کہا جاتا۔ جو نہ مانتا، وہ گویا ظل سبحانی کی دشمنی مول لیتا۔ ملا بدایونی کو جب اکبر کا یہ دین قبول کرنے کے لیے کہاگیا تو انہوں نے ایک ایسی بات کی جو
مزید پڑھیے


یہ کیسی جمہوریت ہے؟

جمعرات 12 جولائی 2018ء
وہ جو کہتے ہیں کہ اگر آپ جج کو قائل نہ کر سکیں تو اسے انتشار ذہنی کا شکار کر دیں یعنی کنفیوزکر دیں۔ انتخابات کے جج اور منصف تو عوام ہوتے ہیں۔ یوں لگتا ہے عوام کو کنفیوز کیا جا رہا ہے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ کون کر رہا ہے‘ کوئی نادیدہ قوتیں یا تاریخ کے ریلے۔ خلاصہ بہرحال یہ ہے کہ اس وقت کنفیوژن اپنی انتہا کو ہے۔ یہاں تین واقعات کا انتخاب کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں‘ وہ کیا پیام دے رہے ہیں، 1۔مریم اور نواز شریف کی واپسی۔ 2۔زرداری کی عدالتوں میں طلبی۔ 3۔پشاور میں بلور خاندان پر
مزید پڑھیے


بوریت ہی بوریت ہے!

پیر 09 جولائی 2018ء
کیپٹن صفدر تادم تحریر گرفتار نہیں ہوئے۔ وہ مثلاً آگے بڑھ رہے ہیں، گرفتار کرنے والی ٹیم بھی منزلوں پر منزلیں مارتی آگے بڑھتی آ رہی ہے۔ جانے کب فیصلے کی گھڑی آن پہنچے۔ مگر کوئی انتظار کرے۔ یہ بھی کوئی گرفتاری ہے۔ ٹی وی پر دکھایا ہی نہیں جارہا۔ ہوسکتا ہے یہ ریہرسل ہو، نوازشریف کی آمد کو کیسے کور کرنا ہے۔ وہ توٹھیک ہے، ایسے میں اس طرح کی پھیکی گرفتاری کا کون انتظار کرے جبکہ آسٹریلیا کے مقابلے میں دنیا کی نمبر ایک ٹیم کا ٹی 20 میچ اپنے آخری مراحل میں ہے اور ہم کہ
مزید پڑھیے


فیصلہ سن کر

هفته 07 جولائی 2018ء
پہلے تو میں اس بات کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ نیب کا فیصلہ آنے کے باوجود میں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہوں یہ نہیں کہ انہیں ہر معاملے میں بے قصور اور بے خطا سمجھتا ہوں‘ ان سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں‘ تاہم ان کے خلاف جس طرح انصاف کی چاند ماری ہوئی ہے وہ مجھے مطمئن نہیں کر پا رہی۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ اگر بھٹو 77ء میں دھاندلی نہ کرتا تو بھی الیکشن جیت جاتا‘ اسی طرح اس وقت بھی یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اگر نواز شریف کے خلاف یہ
مزید پڑھیے


اقتصادی منشور

جمعرات 05 جولائی 2018ء
بار بار کے تبصروں کی زد میں آنے کی وجہ سے بعض اوقات دل انتخاب سے اچاٹ ہو جاتا ہے۔ کیا ایک طرح کی باتیں‘ ایک طرح کے سوال ‘ بدل بدل کر وہی تبصرے‘ ہر روز بدلتی کیفیت میں ایک طرح کے دھڑکے ‘ ہم ذرا سنجیدہ کیوں نہیں ہو جاتے۔ گزشتہ دنوں یہ توقع پیدا ہوئی تھی کہ پارٹیاں اپنے انتخابی منشور جاری کریں گی تو سوچنے والوں کو کافی ’’فوڈ فار تھاٹ‘‘ ملے گا۔ ابھی تک صرف ایک پارٹی کی طرف سے گھر کے پتے پر مجھے اس کا مطبوعہ منشور ملا ہے۔ ابھی کل ہی تو
مزید پڑھیے


جملہ معترضہ یا جملہ معترفہ

پیر 02 جولائی 2018ء
ایک جملہ معترضہ جس سے میں صرف نظر کرنا چاہتا تھا بیان کیے دیتا ہوں۔ سیاست کے میدان میں بہت کچھ ہو رہا ہے اس میں ایک سجدہ بھی ہے جس پر بہت کچھ لکھا گیا ۔ایک آدھ تو بہت کام کے کالم آئے ہیں‘ ان پر بہرحال میں اب گفتگو نہیں کروں گا۔ مذہبی طور پر میرا تعلق اس مکتب فکر سے ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کے جمہور کا مسلک ہے۔ اسے آج کل کے پڑھے لکھے معاشر ے میں پیر پرستوں اور قبرپرستوں کا مذہب کہہ کر فقرے کسے جاتے ہیں۔ ذرا سنجیدہ گفتگومیں اسے تصوف
مزید پڑھیے


خدا ہمارے ’’گوادر‘‘ کو سلامت رکھے

هفته 30 جون 2018ء
پاکستان میں رہتے ہوئے بھی میں نے گوادر کی بندرگاہ نہیں دیکھی ہوئی۔ البتہ سری لنکا میں وہ جگہ دیکھی ہے جہاں چین کی مدد سے بحر ہند کے گہرے پانیوں میں بندرگاہ بن رہی تھی۔ ان دنوں اس پر کام رکا ہوا تھا۔ وجہ یہ بیان کی جاتی تھی کہ جس صدر نے چین کے ساتھ معاہدہ کیا تھا‘ وہ ذہنی طور پر چین کے قریب گنا جاتا تھا اور ان کا جانشین بھارت کا ہمدرد تھا۔ بھارت کا شدید دبائو تھا کہ وہ چین کو یہ بندرگاہ تعمیر نہ کرنے دے۔ بھارت کے دبائو کا اندازہ ہمیں اس
مزید پڑھیے


طیب اردوان کے لیے دعا

جمعرات 28 جون 2018ء
ایک صدی گزر چکی ہے کہ ہماری نظریں اس سرزمین پر لگی ہوئی ہیں۔ ترکی ہمارے دلوں کی دھڑکن بنا ہوا ہے۔ تب تو یہ بات تھی کہ عالم اسلام کے اس مرکز کو تتر بتر کر دیا گیا۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہم پر کیا کیا بیتی۔ ہم نے اس خاطر کیسے کیسے دکھ سہے۔بلقان بکھرا ہو یا عالم عرب‘ ہم بہت روئے ہم نے بہت واویلا کیا۔ خاک و خوں میں مل رہا ہے۔ ترکمان سخت کوش درد بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی۔ ہم کیسے کیسے تڑپے ہیں۔ خلافت ختم ہوئی تو ہم اس زخم کو
مزید پڑھیے


مفادپرستوں کی دولت مشترکہ

پیر 25 جون 2018ء
پتا نہیں یہ فقرہ کہاں پڑھا ہے۔ شاید مسعود مفتی کا ہے کہ ہمارا ملک جملہ مفاد پرستوں کی دولت مشترکہ ہے اور قوم ان کی یرغمال ہے۔ جوں جوں انتخابات قریب آتے جاتے ہیں، دل ہے کہ بے قرار ہوا جاتا ہے۔ کسی نے اپنے ادبی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ظل الٰہی‘ جرنیل اور ملاکی ازلی و ابدی مثلث کے دبے ہوئے انسانوں کے لیے لکھتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عام طور پر ہر زمانے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ فوج، ملا اور سیاستدانوں کا اتحاد ہی اقتدار
مزید پڑھیے