BN

سجاد میر



ہم زندہ قوم ہیں


سوچتا ہوں سچ دیکھوں یا کالم لکھوں۔ آخر بہت دنوں کے بعد یہ دن نصیب ہوئے ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی ہے‘دہشت گردی میں ہم نے بہت کچھ کھویا ہے۔ ان میں کرکٹ بھی ایک عطیہ خداوندی تھا جو ہم سے چھن گیا۔ ہم تو ان دنوں کو بھولتے جا رہے تھے جب کرکٹ نے اس نوزائیدہ قوم کو عالمی سطح پر روشناس کرایا تھا۔ ٹیم انگلینڈ گئی تو ہمارے پرانے آقائوں نے ازراہ تکلف ہمیں بچہ ٹیم کہا۔ اصل لفظ ہی استعمال کرتے ہیں‘ اس میں مختلف جہت بھی ہے۔ اس بے بی ٹیم نے جب اوول
هفته 22 فروری 2020ء

تبدیلی سے ڈر لگتا ہے

جمعرات 20 فروری 2020ء
سجاد میر
اخبارات سے اطلاع ملی ہے کہ سرکار انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے۔ خبر نگار چونکہ مستند شخص ہے اور ویسے بھی یہ خبر اسی دن سے سنائی دے رہی ہے جب یہ حکومت برسراقتدار آئی ہے۔ عشرت حسین پاکستان کے سینئر بیوروکریٹ ہیں‘ سٹیٹ بنک کے گورنر رہ چکے ہیں‘ ریٹائرمنٹ کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن(آئی بی اے) کے سربراہ کی ذمہ داری نبھائی۔پہلے بھی انہیں یہ کام سونپا جاتا رہا ہے‘ اس لئے توقع کی جا سکتی ہے کہ اس سلسلے میں ضرور کچھ کام ہوا ہے۔ جسے ہم کبھی نوکر شاہی کہتے ہیں۔
مزید پڑھیے


خدا کو مانو‘پولیو کے خلاف ڈٹ جائو

پیر 17 فروری 2020ء
سجاد میر
جب مجھ سے یہ کہا جائے کہ فلاں موضوع پر کالم لکھ دو تو میری اندر کی خودسری حرکت میں آ جاتی ہے کہ کہیں یہ فرمائشی تحریری تو نہیں ہو جائے گی۔ مگر آج جب مجھ سے کہا گیا کہ تم پولیو پر کیوں نہیں لکھتے تو خیال آیا کہ یہ فرمائش نہیں‘ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ کتنے بڑے ظلم کی بات ہے کہ پاکستان ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے۔ دوسرے دو ممالک افغانستان اور نائجیریا ہیں۔ ایٹم بم بنانے والی قوم ایک چھوٹے سے ذرے کے ہاتھوں بے بس ہے۔
مزید پڑھیے


کشمیر ‘تعلیم اور سول سوسائٹی

هفته 15 فروری 2020ء
سجاد میر
ایک عادت سی بنا لی ہے کہ جس تقریب میں مہمان کے طور پر بلایا جائوں اس کی کارروائی رپورٹ نہیں کرتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب قلم ابھی نیا نیا ہاتھ میں آیا تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ بعض منتظمین اس لئے مدعو کرتے تھے کہ خبر بھی چھپ جائے گی۔ یہ رویہ ان کی حوصلہ شکنی کے لئے تھا۔ ہمارے بعض ممدوحین بھی ایسے تھے جن کی اپنی تقریروں اور بیانات سے ان کے جریدے بھرے ہوتے تھے۔ یہ ایک ایسی عادت تھی‘ پیشہ وارانہ طور پر جس کا فائدہ تھا۔ مگر وقت
مزید پڑھیے


سب محفوظ رہے گا

بدھ 12 فروری 2020ء
سجاد میر
میں بعض اوقات صورتحال سے نظریں چرانے لگ جاتا ہوں۔ اقبال تو ہوں نہیں کہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ جو بات مرے دل میں ہے‘ وہ اظہار پا جائے تو جانے کون سی قیامت آ جائے۔ تاہم نقشہ ایسا ہی ہے کہ ذرا ذرا سی بات سے ڈر لگتا ہے اور یہ ڈر بے سبب نہیں ہے۔ ہم ابھی اسی میں الجھے ہوئے ہیں کہ اس وقت ملک میں جو بحران ہے‘ اس کا سبب سابقہ حکمرانوں کی کرپشن ہے یا موجودہ برسراقتدار طبقے کی نااہلیت اور نہیں جانتے کہ ہم کہیں بڑے کھیل میں الجھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیے




مفاہمت نہ سکھا…

هفته 08 فروری 2020ء
سجاد میر
میں اس قول کو بار بار پچھلے کئی سال سے نقل کرتا آیا ہوں۔ ایک زمانے میں اسے میں غلطی سے ایک فرانسیسی معیشت سے منسوب کرتا رہا ہوں‘ مگر جلد ہی یہ بات جان گیا کہ یہ اس شخص کا قول ہے جس نے گویا انگلش لغت نویسی کو بھی ادب بنا دیا۔ سموئیل جانسن کو عام طور پر ڈاکٹر جانسن کہا جاتا ہے۔ہمارے ایک استاد ان کی ڈکشنری کی مشکل مشکل تعریفیں ہمیں سنا سنا کر ہنسایا کرتے تھے کہ بعض اوقات لفظ معنی سے آسان ہوتا تھا اور اس کی تشریح مشکل۔ اسے اب ہمارے وزیر اعظم
مزید پڑھیے


کشمیر کو یاد رکھنا

بدھ 05 فروری 2020ء
سجاد میر
5فروری پر میں نہیں لکھوں گا تو اور کون لکھے گا۔ میں پاکستانی ہوں‘ کشمیری النسل ہوں۔ برس ہا برس سے اس کی آزادی کے لئے لڑ رہا ہوں اور اس برس تو میں نے عہد کر رکھا ہے کہ میں دنیا بھرمیں کشمیر کا سفیر بن کر اس کا مقدمہ لڑوں گا۔ یہ بات مجھ سے حالات نے کہلوائی ہے۔ بھارت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔یہ کوئی 184دن پہلے کی بات ہے‘ دیکھا نا ہمیں دن تک یاد ہے کہ بھارت نے کشمیر کو غصب کر لینے کا اعلان کیا تھا۔ پوری وادی پر کرفیو نافذ کر
مزید پڑھیے


علم والوںکی ضیافت

هفته 01 فروری 2020ء
سجاد میر
کل رات جہاںمیں تھا ‘ وہاں ایک بار پھر مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں نیم راوین ہوں‘ اگرچہ یہ تقریب پنجاب یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں تھی اور میزبان بھی اس کے پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک یونین کے صدر ڈاکٹر ممتاز تھے۔ یہ بہت دلچسپ سمبند ھ تھا۔ اور شاید لاہور کی علمی فضا میں ایک نئے دور کا آغاز۔ یہ جو میں نے خود کو نیم راوین کہا ہے تو اس کی بھی ایک تاریخ ہے۔ گورنمنٹ کالج کے لوگ اس رشتے پر فخر محسوس کرتے تھے۔کراچی میں انہوں نے بھی اپنی انجمن بنا لی۔ کراچی کی
مزید پڑھیے


پروفیسر شریف المجاہد

جمعرات 30 جنوری 2020ء
سجاد میر
میں نے ان سے براہ راست پڑھا ہے نہ سیکھا ہے۔ تاہم مرے لئے وہ استادوں کی جگہ تھے۔عجیب رشتہ تھا‘ شفقت بھی فرماتے اور احترام بھی کرتے۔ پروفیسر شریف المجاہد بلاشبہ ان افراد میں سے تھے جن کا بہت سے لوگوں سے ایسا ہی رشتہ ہو گا۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے۔ اس سال جب پاکستان کا پہلا دستور بنا پاکستان کی اس عظیم درسگاہ میں صحافت کی تدریس شروع کر دی گئی تھی۔ پھر جب حکومت پاکستان نے قائد اعظم اکیڈمی بنانے کا فیصلہ کیا تو وہ اس سے پہلے بانی کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہوا۔ مرا
مزید پڑھیے


ڈیووس کا خرچہ

منگل 28 جنوری 2020ء
سجاد میر
کئی بار ایک بات کے متضاد و متصادم معنی بھی ہوتے ہیں۔ آج کل اسے perceptionپرسپشن کہا جاتا ہے۔ معیشت کیا ہے یہ بات اپنی جگہ مگر اس معیشت سے آپ کیا سمجھتے ہیں یہ بات اہم ہو جاتی ہے ۔ان دنوں اس بات سے ہم روز دوچار ہو رہے ہیں ۔کئی بار یہ تاثر یہ تصور یہ پرسپشن بنایا جاتا ہے اسے خاص انداز میں ڈھالا جاتا ہے۔ ایک وزیر ابھی ابھی ٹی وی پر اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں کہ ڈیووس کے جو دورے نواز شریف ‘ زرداری ‘ یوسف رضا گیلانی نے کئے وہ کتنے
مزید پڑھیے